تازہ ترین

خواتین کا وقار۔۔۔ عروج عالم کی دلیل

تلخ حقائق

12 مارچ 2020 (00 : 01 AM)   
(      )

مُسکان گل،چیوڈارہ،بیروہ بڈگام
ہر برس8مارچ عالمی یوم خواتین کے طور پر منایا جاتا ہے۔رواں سال بھی منایا گیا اور عالمی سطح پر بڑی تعداد میں  سمینار ،کانفرنسیں ،ٹاک شو ز،اور دیگر کئی پروگراموں کا اہتمام ہوا۔ صبح سے شام گئے تک ان پروگرامز کی گہماگہمی میںخواتین کی صورت حال پیش کی گئی۔خواتین کے باوقار وجود کا اعتراف کیا گیا ،ان کی قابلیت کے چرچے کئے گئے، ان کے حقوق کی باتیں زور و شور کے ساتھ کی گئیں اور ان کی عزت و آبرو اور احترام پر زور دیا گیا۔اس کے بعد پھرایک اور برس تک ان کے ساتھ وہی سلوک کیا جاتا ہے جو قدیم زمانے سے ہوتا چلا آرہا ہے۔ان کی عزت نفس کو ٹھیس پہنچانے کے لئے طرح طرح کے بدترین ہتھکنڈے استعمال کئے جاتے ہیں،انہیں مارا پیٹا جاتا ہے ، یہاں تک کہ انہیں قتل بھی کیا جاتا ہے۔کہتے ہیں کہ الفاظ کی کاٹ تلوار سے بھی تیز ہوتی ہے ۔ہاں! تلوار پھر بھی تلوار ہے جوایک پل میںگردن کو جسم سے جدا کردیتی ہے اور انسان کو ہمیشہ کے لئے خاموش کردیتی ہے ،لیکن لفظوں کی تلوارہمیشہ چلتی ہی رہتی ہے،جس کی کاٹ سے انسان کی روح بھی مجروح ہوتی رہتی ہے اور یہ تلوار خواتین کے سروں پر ہر وقت لٹکتی ر ہتی ہے۔ایک طرف جہاں خوبصورت الفاظ میںخواتین کو اونچے درجوں پر بٹھایا جاتا ہےوہیں دوسری طرف مختلف انداز میں اس کی تذلیل کرکے اُسے پستی کے غار میں دھکیلا جاتا ہے ۔ کبھی اسے مارا پیٹا جاتا ہے ،کبھی اس کے بالوں کو پکڑ کر اسے گھسیٹا بھی جاتا ہے اور کبھی تیزاب سے اس کی شکل و صورت کو مسخ کیا جاتا ہے۔یہاں تک کہ ایک ماں کی شکل میں بھی اسے در در کی ٹھوکریں کھانے  کے لئے چھوڑ دیا جاتا ہے یا پھر مرنے کے لئے اولڈ ہاوس میں بھیجا جاتا ہے ،بیوی اور بہو کی شکل میں کسی بھی معمولی بات پر اسے رسوا کے اس کی غیرت کو للکارا جاتا ہے۔ بیٹی اور بہن کی صورت میں بھی اس کی جائیداد ہڑپ کی جاتی ہے۔ماں باپ کی خواہشوں کے مطابق اس کی خواہشوں کا خون کیا جاتا ہے یہاں تک کہ ان کی خریدو فرخت تک سے بھی گریز نہیں کیا جاتا ہے۔گویا سال کے تقریباً سبھی دنوں میں اس کو کسی نہ کسی طریقے سے قربان ہونا پڑرہا ہے اورہر دن کے چوبیس گھنٹے اسے اپنے بقا کی جنگ خود لڑنا پڑتی ہے۔اِدھرزیادہ تر خواتین کی یہ صورت حال ہے اور اُدھر خواتین ڈے پر اُسے سلیوٹ کیا جاتا ہے۔اس کی تعریف کی جاتی ہے اور اسے وقار سمجھا جاتا ہے اور اس طرح کی یہ دو رُخی پالیسی ایک لمبے عرصہ سے چلی آرہی ہے۔ 
یہ بات تو قابل ذکر ہے کہ ہمارے یہاں کے معاشرے میںزیادہ تر گھروں میںجب بیٹی جنم لیتی ہے توگھر کے بڑے بزرگ اور بچی کے والدین زبان سے اسے رحمت توکہتے ہیں لیکن دل سے مانتے نہیں۔ کیونکہ وہ لڑکی کو شروع سے ہی پرایا مال سمجھتے ہیںاس لئے اس پرایا دھن کی زندگی کے تمام فیصلے خود کرتے رہتے ہیںاور اگر کوئی لڑکی اپنے بڑے بزرگوں کے کسی فیصلے پر اعتراض کرے تو پھر اسے طرح طرح کے طعنوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور پھرجب اپنے  اس پرائے دھن کو شادی کے نام پر دوسروں کے حوالے کردیتے ہیں وہاں بھی بہو اور بیوی کے روپ میں اُسے اپنے کسی فیصلے کا اختیار نہیں دیا جاتا اور اس طرح اسے زندگی بھر مظلوم بن کر ہی جینا پڑتا ہے۔جس کے نتیجہ میںکئی گھریلو مسائل کے پیدا ہوجاتے ہیں اور پوری زندگی تفکرات وآلام میں گزر جاتی ہے۔ گھریلو زندگی میں سب سے زیادہ مسائل ازدواجی تعلقات کے خوشگوار ہونے کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔ کیونکہ جب شوہر اور بیوی کے مابین افہام وتفہیم نہیں ہوتی ، معمولی باتوں پر شکایتوں اور جھگڑوں کی نوبت آتی رہتی ہے تو دونوں ہی کی زندگی سکون سے محروم ہوجاتی ہے۔ پھر یہی عدم سکون زندگی کے دوسرے پہلوؤں پر بھی اثر ڈالتا ہے۔اس میں کوئی شک نہیںکہ انسان ہونے کے لحاظ سے مرد اور عورت کے درمیان مساوات ہے، مگر کچھ وجوہات کے سبب عورتوں پر مردوں کو ایک درجہ فضیلت دی گئی ہے۔ مگر فضیلت کایہ مطلب ہرگز نہیں کہ مرد عورتوں کو ستاتے رہیں، دباتے رہیں، ان پر ظلم وتشدد کرتے رہیں ا ور ان کی حق تلفی کرتے رہیں۔ بعض مقامات پر ایسا بھی دیکھنے سننے کو ملتاہے کہ بعض مرد حضرات،باپ ،شوہر،بھائی غرض ہر روپ میںخواتین پرز یادتی کرتے رہتے ہیں، ان کی حق تلفی کرتے ہیں اور ان کو مارتے پیٹتے ہیں۔ شاید وہ یہ سمجھتے ہیں کہ مردہونے کی وجہ سے انہیں خواتین کے ساتھ کسی بھی طرح کے سلوک کرنے کاحق حاصل ہے۔ مگر یہ سراسر زیادتی ہے اور غلط فہمی ہے۔ اسلام ہرگز کسی کو ایسا کرنے کی اجازت نہیں دیتا بلکہ نیک سلوک کی تاکید کرتاہے۔ اگر خدا نخواستہ کسی  والد کو اپنی بیٹی ،اگر کسی شوہرکو اپنی بیوی  اور اگر کسی بھائی کو اپنی بہن کی کوئی بات یا کوئی طرز عمل پسند نہ آئے یا اسے اپنے معیار کے مطابق دکھائی نہ دے تو بھی صبر و تحمل سے کام لینے کی ہدایت کی گئی ہے۔ طعنہ کسنے ، گالی گلوچ کرنے اورالزام لگانے کی ہرگز اجازت نہیں دی گئی۔ حتیٰ الامکان مردوں کو خواتین کے ساتھ اچھا معاملہ کرنے ، خوش گمانی سے کام لینے اور مصالحت کی راہ اختیار کرنے کی تلقین بھی کی گئی ہے۔ خواتین کا عالمی دن منانا ٹھیک ہے ،اس سے زیادہ ضروری یہ ہے خواتین کے تئیں مردوں کے نظریے میں تبدیلی آئے۔ اس کیلئے کوشش کرنے کی ضرورت ہے لیکن اسی کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے خواتین اور لڑکیوں کو اپنی عزت وعفت کے تئیں زیادہ حساس ہونا ہوگا ۔عورت کے وجود سے کائنات کا حسن باقی ہے۔عورت ماں بھی ہے۔عورت بہن بھی ہے۔عورت بیوی بھی ہے اور عورت بیٹی بھی ہے۔عورت کے بغیر نظام زندگی چل ہی نہیں سکتاتوپھرکیوں صدیاں بیت جانے کے بعد بھی ان کے ساتھ ظلم کرنے کی رسم قائم ہیں؟ 
جب سے دنیا قائم ہے مرد کے ساتھ زن بھی اس دنیا کو سجانے سنوارنے میں یکساں کردار ادا کیا ہے۔ وہ تمام شعبہائے حیات میں اپنا کردار ادا کرتی آر ہی ہیں خواہ وہ پتھر کا زمانہ ہو یا لوہے کا یا مہذب دنیا۔عورت آج بھی ہر میدان میں اپنا پرچم بلند کر رہی ہے۔
 خواتین کے عالمی دن منانے کے ساتھ جب تک ہم اپنے نظریے میں تبدیلی نہیں لاتے یا اپنی ذہنیت نہیں بدلتے اس وقت تک اس سیمنار اور مباحثے اورمذاکرے سے کوئی فرق نہیں پڑنے والا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ جہاں تمام سطحوں پر خواتین کی عزت و آبرو اور وقار کی ضمانت دی جائے وہیں خواتین پر زور دیا جائے کہ وہ تہذیب کے دامن اور خواتین کے وقار کے خلاف ایسا کوئی کام نہ کریں جس کی سزا دوسروں کوبھگتنی پڑے۔