تازہ ترین

سیاسی بحران | جیوتیرادتیہ سندھیا مستعفی،کانگریس کو سب سے بڑا جھٹکا

بھاجپامیں شامل ہونگے، مرکزی کابینہ میں لینے کا امکان،21اراکین اسمبلی بھی پارٹی چھوڑ گئے

11 مارچ 2020 (00 : 12 AM)   
(      )

یو این آئی
نئی دہلی// مدھیہ پردیش میں سیاسی گھمسان کے درمیان کانگریس کے ناراض لیڈر جیوتیرادتیہ سندھیا نے منگل کے روز وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ سے ملاقات کرنے کے بعد کانگریس سے استعفی دینے کا اعلان کر دیا۔انکے مستعفی ہونے کیساتھ ہی مدھیہ پردیش میں کانگریس پارٹی کے 21اراکین اسمبلی نے استعفیٰ دیا اور یوں کمل ناتھ کی حکومت شدید خطرے میں آگئی ہے۔سندھیا، جو 18سال تک کانگریس کیساتھ وابستہ رہے، نے صبح پہلے وزیر داخلہ امت شاہ کے گھر جاکر ان سے ملاقات کی اور پھر شاہ اور سندھیا  مودی سے ملاقات کرنے وزیراعظم کی رہائش گاہ گئے ۔ تقریباً ایک گھنٹے تک جاری  ملاقات کے کچھ دیر بعد سندھیا نے ٹوئٹر پر کانگریس صدر سونیا گاندھی کو ارسال کردہ اپنے استعفی کو پوسٹ کر دیا۔ استعفی پر پیر کی تاریخ درج ہے ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہوں نے شاہ اور  مودی سے ملنے سے پہلے ہی کانگریس سے استعفی دے دیا تھا۔ سندھیا نے مسز گاندھی کو بھیجے گئے خط میں لکھا ‘‘میں گزشتہ 18 برسوں سے پارٹی کا ابتدائی رکن تھا اور اب وقت آ گیا ہے کہ میں پارٹی سے الگ اپنی راہ لوں،میں پارٹی کی ابتدائی رکنیت سے اور انڈین نیشنل کانگریس سے استعفی دے رہا ہوں‘‘۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کا مقصد اور ہدف ملک اور اپنی ریاست کے لوگوں کی خدمت کرنا ہے ۔ انہیں محسوس ہو رہا ہے کہ وہ کانگریس کے اندر وہ یہ کام آگے نہیں بڑھا پائیں گے ۔استعفی میں ماضی میں لوک سبھا انتخابات میں گنا شوپري سیٹ پر ان کی شکست کا درد بھی چھلک گیا جس کے لئے وہ کانگریس کی ریاستی قیادت کی سازش کو ذمہ دار مانتے ہیں اور یہ بھی اشارہ دیا تھا کہ اس سے مجروح ہو کر وہ گزشتہ برس سے ہی کانگریس سے باہر جانے کی سوچ رہے تھے ۔ سندھیا کے استعفی سے مدھیہ پردیش کی سیاست پر دور رس اثرات مرتب ہونے یقینی ہیں۔ گوالیار۔چمبل اور شمالی مالوا علاقے میں سندھیا کے اثر کی وجہ سے گزشتہ اسمبلی انتخابات میں کانگریس کو سب سے زیادہ کامیابی ملی تھی۔ مانا جا رہا ہے کہ مدھیہ پردیش میں تقریباً 4 سے 6 وزیر اور 21سے زیادہ ممبران اسمبلی سندھیا کی حمایت میں استعفی دیا ہے ۔ ان کے جیسے بڑے اور ذاتی طو ر پر عوام میں مقبول لیڈر کانگریس اور بی جے پی کسی بھی پارٹی میں نہیں ہے ۔ ان کے کانگریس چھوڑنے سے مستقبل میں مدھیہ پردیش کی سیاسی سطح پر کانگریس کے وجود کے لئے سنگین بحران پیدا ہو سکتا ہے ۔کہا جارہا ہے کہ سندھیا بھاجپا میں شامل ہونگے جس کا اعلان ایک ہفتے کے اندر کیا جاسکتا ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ انہیں راجیہ سبھا کا رکن بنانے کی تجویز ہے اور بعد میں انہیں مرکزی کابینہ میں لیا جائیگا۔