کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

6 مارچ 2020 (00 : 01 AM)   
(      )

مفتی نذیراحمد قاسمی
سوال:اگر کوئی آدمی کہیں پر پڑی ہوئی کوئی رقم یا کوئی چیز اٹھائے،اس کے متعلق شریعت کا کیا حکم ہے؟راقم نے پڑھا ہے کہ اگر اس کا مالک نہ ملے تو اس کو اصلی مالک کے نام پر صدقہ دے۔مالک معلوم نہ ہو تو یہ بھی ممکن ہے کہ اس کا مالک غیر مسلم بھی ہو سکتا ہے ۔کیا ایسے مالک کو صدقہ کا کچھ فایدہ ہوگا ،اگر نہیں تو ایسے رقم یا چیز کا مصرف کیا ہے؟
ابو عقیل ۔دارہ پورہ ،زینہ گیر سرینگر
کوئی رقم یا چیز اٹھائی جائے تو کیا کیا جائے؟
 
جواب:جب کوئی شخص کسی جگہ سے کوئی گری پڑی چیز اٹھائے یا کوئی رقم اٹھائے تو شریعت میں اس چیز کو لقطہ کہتے ہیں۔اس لُقطہ کا حکم یہ ہے کہ اٹھاتے وقت مالک تک پہنچانے کی نیت سے اٹھائے ،اگر اُس نے خوش ہوکر اپنے استعمال کی نیت سے اُسے اٹھالیا تو اس نیت کی وجہ سے وہ گنہ گار ہوگا اور پھر وہ شخص اس چیز کا ضامن بن جائے گا پھر ضمان کے احکام اس پر جاری ہوں گے جو الگ سے سمجھنے ضروری ہیں ۔اگر اٹھاتے وقت اس کی نیت درست تھی تو یعنی مالک تک پہنچانے کی نیت تھی تو امید ہے اُسے اِس دیانت داری پر اجر ملے گا ۔اب چیز اٹھانے کے بعد وہ اعلان کرے کہ میں نے فلاں چیز اٹھائی ہے ،جس شخص کی ہو وہ علامت بتاکر وصول کرے۔یہ اعلان تحریری بھی ہو اور تقریری بھی یعنی زبان سے بھی۔اعلان کی مدت کم سے کم دس دن ہے اور زیادہ سے زیادہ ایک سال۔اگر یہ چیز یا رقم ایک مرغی کی قیمت کے بقدر ہو تو اعلان دس دن ،اگر ایک بھیڑ بکری کے قیمت کے بقدر ہو تو اعلان چھ ماہ یا سال بھر تک کرنے کا حکم ہے۔
اب اگر مالک آگیا اور چیز اٹھانے والے شخص کو یقین ہوگیا کہ واقعتاً مالک یہی ہے تو پھر دو اشخاص کو گواہ رکھ کر یہ چیز اُس کے حوالے کردے ،اگر اس چیز کی حفاظت میں کوئی رقم خرچ ہوئی ہے مثلاً جو چیز لُقطہ تھی وہ کوئی جانور تھا ،اُس کی حفاظت اور گھاس وغیرہ میں کوئی رقم خرچ ہوئی ہے تو مالک سے وہ رقم وصول کرے اور مالک خوشی خوشی وہ رقم ادا کرے۔اس لئے کہ اس طرح کا خرچہ تو خود مالک کو بھی کرنا تھا اگر جانور اُسی کے پاس ہوتا ۔اگر مالک اس عرصہ میں نہ آیا تو پھر یہ لُقطہ اٹھانے والا شخص اگر خود مستحق زکوٰۃ و صدقات ہے تو صدقہ کی نیت سے یہ چیز خود رکھ لے ،اگر بعد میں مالک آگیا تو وہ چیز اُس کے حوالے کردے اور وہ مالک کو یہ بھی کہہ سکتا ہے یہ چیز مدت ِ اعلان گذرنے کے بعد اُس نے اپنے استعمال میں صدقہ کی نیت سے لائی ہے۔اگر مالک نے اس صدقہ کو برقرار رکھا تو بہتر ،اگر اُس نے چیز کا مطالبہ کیا تو وہ چیز اُس کے حوالے کردے وہ خودبری ہوگااور اگر یہ چیز کسی مالدار مسلمان نے اٹھائی ہے تو پھر مدت اعلان کے بعد وہ شخص دو آدمیوں کو گواہ بناکر غریبوں میں سے کسی زیادہ غریب و مفلس کو صدقہ کی نیت سے دے دے۔اگر اُس کے بعد مالک آگیا تو گواہوں کے بیانات سُناکر اُس کو صدقہ کرنے کی اطلاع دے دے۔یہ لُقطہ اگر کسی مسلمان کا تھا تو یہ یہ اُس کی طرف سے صدقہ ہوگا اور اس صدقہ کا اجراُسے آخرت میں ملے گا۔اور اگر بالفرض یہ کسی غیر مسلم کا تھا تو بھی۔ 
سوال: آج کل سارے پرفیوم ایسے پائے جاتے ہیں جن میں الکحل شامل ہوتا ہے ،جیسے ڈیورنٹ ۔کیا ایسے الکحل ملے ہوئے پرفیوم کے استعمال کی اجازت ہے اور کیا اس سے نماز میں کوئی حرج تو نہیں؟
محمد عرفان ۔لال بازار سرینگر

بازار میں دستیاب پرفیوم ۔۔۔ چند شرعی مسائل

 
جواب:الکحل موجودہ دور میں دوائوں اور غذائوں میں کثیر استعمال ہونے والا ایک جدید پروڈکٹ ہے۔یہ دو قسم کی اشیاء سے عموماً تیا رکیا جاتا ہے ۔ایک قدرتی اشیاء جیسے پھل ،پھول اور نباتات سے ،اس کو Natural Alcohalکہا جاتا ہے ۔دوسرے پٹرول اور دوسرے کیمیکلز سے ،اس کو Senthetic Alcohalکہتے ہیں۔یہی الکحل زیادہ تر استعمال کیا جاتا ہے مگر عطر یات ،تیلوں اور پرفیومز میں عموماً پھلوں پھولوں سے تیار شدہ الکحل استعمال ہوتا ہے ،پھلوں میں بھی انگوراور کھجور کا تیار کردہ الکحل نہایت قیمتی ہوتا ہے ،اس لئے اس کا استعمال نسبتاً بہت کم ہوتا ہے ۔زیادہ تر نیچرل الکحل سبزیوں اور کھجور و انگور کے علاوہ دیگر پھلوں سے کشیدہ کردہ استعمال ہورہا ہے ۔الکحل کا استعمال دو طرح سے ہوتا ہے ۔خارجی استعمال ،داخلی استعمال۔خارجی استعمال جسیے خوشبوئوں میں،روشنائی ،پینٹ ،رنگ و روغن میں۔نیز مختلف کریم لوشن اور پرفیومز میں۔اور اس کا داخلی استعمال کھانے پینے کی چیزوں مثلاً آئس کریم ،  بسکٹ ،چاکلیٹ ،کیک اور بہت ساری دواوئوںمیں خاص کر طاقت پیدا کرنے والے ٹانک اور پینے کی دوائوں میں اس کا بکثرت استعمال ہوتا ہے۔
خارجی استعمال میں جو الکحل شامل اشیاء ہیں، اُن میں چونکہ ابتلائے عام ہے اس لئے امام ابو حنیفہ ؒ کی رائے کے مطابق اس الکحل ملی ہوئی اشیاء کے استعمال کی اجازت ہے۔دراصل حقیقت یہ ہے کہ وہ الکحل جو انگور اور کھجور سے تیار ہوتا ہے اُس کے ناپاک اور حرام ہونے پر تو اتفاق ہے مگر ان دو چیزوں کے علاوہ دیگر پھلوں ،سبزیوں اور ناجوں سے جو الکحل تیار ہوتا ہے اُس کے متعلق دو آرا ہیں۔امام ابو حنیفہ اور امام ابو یوسف کی رائے میں وہ ناپاک نہیں ہوتا اور بقیہ ائمہ مجتہدین کی راے میں وہ بھی ناپاک ہیں۔
اب زیر نظر مسئلہ میں عموم بلوی یعنی ابتلائے عام کی وجہ سے آج کے تمام اہلِ علم و اہلِ فتویٰ نے امام ابو حنیفہ کی رائے اختیار کرکے خارجی استعمال میں جو اشیاء آتی ہیں اُن میں گنجائش دی ہے ۔چنانچہ مسلم شریف کی شرح تکملہ الملہم میں ہے۔آج کل جو الکحل استعمال ہوتا ہے وہ عموماً مختلف قسم کے اناجوں پھلوں کے چھلکوں اور پیٹرول سے تیار ہوتا ہے ،اس لئے عموم بلوی کی بنا پر امام ابو حنیفہ کی رائے اختیار کرتے ہوئے ایسی چیزوں کے استعمال کرنے کی گنجائش ہے۔لہٰذا اوپر کی تفصیل کی بنا پر ایسے پرفیوم استعمال کرنے میں حرج نہیں جس میں الکحل شامل ہواور اس سے نماز میں کوئی فرق نہیں پڑے گا ۔داخلی استعمال میں جو اشیاء الکحل شامل کی ہوئی ہیں۔ اُن غذائوں میں ہو تو وہ غذا استعمال کرنا حرام ہیں ۔مثلاً وہ کیک ،بسکٹ،چاکلیٹ ،آئس کریم وغیرہ ۔۔۔۔اور دونوں کے متعلق حکم ہے کہ اگر متبادل دوا موجود ہو تو الکحل ملی ہوئی دوا استعمال کرنا جائز نہیں ۔اگر متبادل دوا موجود نہ ہو تو صرف بقدر دوا استعمال کی اجازت ہے۔
سوال: مچھلی ایک حلال جاندار ہے۔ تمام حلال جاندار جانوروں کو ذبح کیا جاکر کھاتے ہیں۔ جبکہ مچھلی کے سلسلے میں ایسا نہیں کیا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں قرآن و سنت کا کیا حکم ہے؟

 مچھلی کے ذبح کی ضرورت نہیں

 
جواب: ہر جانور اللہ کی مخلوق ہے ان جانوروں میں سے جو جانور انسان کی صحت اخلاق اور مزاج کے لئے مفید تھا اس کو حلال کیا گیا اور جو جانور کسی بھی طرح مضر تھا اُس کو حرام کردیا گیا۔ پرجو جانور حلال کئے گئے ہیں ان کو ذبح کرنے کا حکم دیا گیا تاکہ جانوروں کے جسم میں جو خون ہے وہ گوشت سے الگ ہوجائے۔ خون میں طرح طرح کے تیزابی مادے اور انسانی صحت کو سخت نقصان پہنچانے والے اجزاء ہیں۔ اس لئے خون کو حرام کردیا گیا ہے۔ قرآن کریم میں ارشاد ہے۔ تمہارے لئے خون اور مردار اور خنزیر حرام کردیا گیا۔ گویا حلال جانوروں میں مضر صحت حرام اور نجس خون کو گوشت سے الگ کرنے کے لئے ذبح کرنے کا حکم دیا گیا۔ یہ حکم نہایت درجہ حکمت اور اعلیٰ بصیرت کا شاہکار ہے اور پیغمبر اسلامؐ کی صداقت کی دلیل!
مچھلی بھی اللہ کا پیدا کردہ جانور ہے اس کو ذبح کئے بغیر کھانے کا حکم دیا گیا ۔کیوں؟ اس لئے کہ ذبح کا مقصد خون کو نکال دینا ہے اور مچھلی میں خون ہوتا ہی نہیں ہے۔ خون کے لئے رگوں کا طویل اور پیچیدہ نظام ہوتا ہے جو دوران خون کو برقرار رکھنے کے لئے ضروری ہے۔ جبکہ مچھلی نظام ورید NERVES SYSTEMسے محفوظ اور بغیر خون کے بے شمار فائدوں سے بھر ا ہوا قیمتی گوشت ہے۔ اس لئے بغیر ذبح کے اس کو حلال قرار دیا گیا اور یہ ٹھیک عقل کے مطابق ہے۔ ورنہ سوال یوں پیدا کہ خشکی کے جانور کو ذبح کرکے کھانے کا حکم دیا گیا کیونکہ اُن میں خون ہے۔ مچھلی میں جب خون نہیں تو ذبح کا کلمہ کیوں دیا گیا۔ اس معقول سوال کا کوئی جواب نہ ہوتا۔ اس لئے مچھلی کو بغیر ذبح کے حلال قرار دیا گیا۔ اور قرآن کریم میں ارشاد ہے۔ وہی اللہ ہے جس نے سمندر کو تمہارے لئے مسخر کردیا جس سے تم تازہ تازہ گوشت نکالتے ہو۔ مچھلی کو لحماً طریاً کہا گیا۔حضرت نبی کریم ؐ نے ارشاد فرمایا ہمارے لئے دو جانور ذبح کے بغیر حلال کئے گئے اور دو خون بھی حلال کئے گئے۔ دو جانور چاہے وہ مرے ہوئے مردار ہی کیوں نہ ہوں پھر بھی حلال ہیں۔ ایک مچھلی دوسرے ٹڈی۔ اور دو خون یہ ہیںایک کلیجی دوسرے تلِّی۔
اس تلی کو کشمیر ی عرف ’’پوح‘‘ کہتے ہیں بہرحال مچھلی بغیر ذبح کئے حلال ہے اور یہ حکم نہایت معقولیت اور بصیرت و بالغ نظری مشتمل ہے۔
 سوال:۔ ہر خا ص و عام کو مقبرہ جانے کی ضرورت پڑتی ہے اور یہ دینی فریضہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ مقبرہ جانے کے اسلامی آداب کیا ہیں کیا مقبرہ میں ہاتھ اُٹھا کر دُعا کرنے کی اجازت ہے؟ براہ کر م باحوالہ تفصیل سے جواب عنایت فرمائیں؟
سہیل احمد خان رعناواری سرینگر 

زیارت قبور کا شرعی طریقہ

 
جواب:۔زیارت قبور کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ قبرستان میں داخل ہو کر یہ کلمات پڑھے جائیں۔ السلام علیکم یا اہل القبور الی آخرہ ۔ یہ پوری دعا ءدعائوں کی کسی کتاب سے یاد کر لی جائے۔مخصوص قبر مثلاً والدین ،اقارب میں سے کسی کی قبر پر خصوصی طور سے فاتحہ پڑھنا ہو تو قبر کے پاس اس طرح کھڑے ہوں کہ کھڑے ہونے والے شخص کا چہرہ میت کے سر کے سامنےآئے ۔ پھر دعا و استغفار کرے۔ ہاتھ اُٹھا کر بھی دُعا کرنا درست ہے۔ حضرت رسول اکرم ﷺ نے مدینہ المنور ہ کے مقبرہ جنت البقیع میں کھڑے ہاتھ اُٹھا کر دعا فرمائی۔ یہ حدیث مسلم ، نسائی اور مسندِ احمد میں ہے۔ البتہ بہتر ہے کہ جب دعا کرنے کےلئے ہاتھ اُٹھائے جائیں تو  ربرو قبلہ ہو کر دُعا ءکریںتاکہ کسی کو یہ شبہ نہ ہونے پائے کہ صاحب قبر سے طلب حاجت کےلئے ہاتھ اُٹھائے گئے ہیں۔ قبرستان میں گزرتے ہوئے اس کا اچھی طرح اہتمام کیا جائے کہ قبروں پر پائوں نہ پڑے۔ قبرستان میں چلنے کےلئے جو راستہ بنایا گیا ہو اُس راستے میں جوتا پہن کر چلنے میں کوئی حرج نہیں۔ البتہ دو قبروں کے درمیان جوتے پہن کر نہ چلے۔
مقبرے میں پہنچ کر سب سے اہم کام اپنی موت کو یاد کرنا ہے۔ جو بلا شبہ یقینی چیز ہے اور جس طرح مقبرہ میں مدفون لوگ سبھی ہماری طرح اس زمین پر رہتے سہتے اور زندگی کی دوڑ دھوپ میں سرگرم تھے مگر آج خاک کے نیچے آسودہ ہیں۔ اس طرح ہمارا بھی ہونا طے ہے۔
اس تصور اور خیال کے نتیجے میں اپنی آخرت کی فکر کی جائے۔ احادیث میں ہے کہ زیارت قبور سے منع کیا گیا تھا پھر اجازت دے دی گئی، اسلئے کہ یہ آخرت کی یاد دلائے گی۔
دوسرے مقبرے میں کوئی غیر شرعی حرکت نہ کی جائے۔ یہ غیر شرعی حرکات کچھ از قبیل بدعات ہیں اور کچھ از قیبل رسوم و رواجات ہیں۔ ان کو جاننا بھی ضروری ہے اور ان سے پرہیز کرنا بھی ضروری ہے۔
 

تازہ ترین