تازہ ترین

ریاست کی خصوصی پوزیشن کو زک پہنچانے کی کوششوں کا ڈٹ کر مقابلہ ہوگا

این سی سیاسی امور کمیٹی اجلاس میں وزیر اعظم اور گورنر کے ساتھ روابط پر تبادلہ خیال

4 اگست 2019 (02 : 10 PM)   
(      )

نیو ڈسک
سرینگر//نیشنل کانفرنس دفعہ35اے اور 370کو زک پہنچانے کی کسی بھی کوشش کا ڈٹ کر مقابلہ کریگی کیونکہ یہی وہ واحد عوامی نمائندہ جماعت ہے جو لوگوں کے مفادات اور احساسات کے تحفظ کیلئے ہمیشہ سب سے آگے کھڑی رہی ہے۔ مرکز کو چاہئے کہ حالات بگاڑنے کے بجائے جموں وکشمیر کے لوگوں کا اعتماد اور بھروسہ حاصل کرنے کیلئے اعتماد سازی کے اقدامات اٹھانے چاہئیں۔ ان باتوں کا اظہار نیشنل کانفرنس کی سیاسی امور کی کمیٹی کی میٹنگ میں کیا گیا۔ میٹنگ میں کمیٹی سے وابستہ ریاست کے تینوں خطوں کے 22ممبران نے شرکت کی۔ میٹنگ کی صدارت پارٹی نائب صدر عمر عبداللہ نے کی۔ 4گھنٹے طویل میٹنگ میں ریاست کی موجودہ صورتحال خصوصاً زمینی سطح پر پائی جارہی بے چینی، خوف و ہراس اور غیر یقینیت کے بارے میں تبادلہ خیالات کیا گیا۔ اس دوران حالیہ دنوں میں نیشنل کانفرنس کی سرگرمیوں کے بارے میں بھی اجلاس کو باخبر کیا گیا۔ اجلاس کو وزیر اعظم کے ساتھ پارٹی صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی قیادت میں ملاقی ہوئے وفد کی طرف سے وزیراعظم کے سامنے رکھے گئے نکات اور وزیرا عظم کی طرف سے دی گئی یقین دہانی کے علاوہ پارٹی کے رکن پارلیمان کی طرف سے لوک سبھا میں موجودہ حالات کے تناظر میں اُٹھائے گئے اقدامات کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ اجلاس کو پارٹی وفد کی گورنر سے ملاقات اور گورنر کی طرف سے دی گئی یقین دہانیوں سے بھی باخبر کیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ نیشنل کانفرنس ریاست کے مفادات کے دفاع کیلئے کوئی بھی دقیقہ فروگذاشت نہیں کررہی ہے اور ہماری جماعت ہر سطح اور ہر سٹیج پر برسر جہد ہے۔ اس دوران اس بات کی بھی جانکاری دی گئی کہ پارٹی صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ ناساز طبیعت ہونے کے باوجود ملک کی اپوزیشن لیڈران کیساتھ گذشتہ دنوں سے مسلسل رابطے میں ہیں اور انہیں جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن کے دفاع میں اپنا رول نبھانے کیلئے قائل کررہے ہیں۔ اجلاس میں مرکزی حکومت پر زور دیا گیا کہ ایسا کوئی بھی اقدام اُٹھانے سے گریز کیا جائے جس سے یہاں کی خصوصی پوزیشن کو زک پہنچنے اور آگ لگنے کا احتمال ہو۔ اس دوران اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ نیشنل کانفرنس ریاست کی خصوصی پوزیشن کے دفاع کیلئے کوئی بھی قربانی دینے سے گریز نہیں کریگی۔ اجلاس میں پارٹی جنرل سکریٹری علی محمد ساگر، معاون جنرل سکریٹری ڈاکٹر شیخ مصطفیٰ کمال، صوبائی صدور دیوندر سنگھ رانا، ناصر اسلم وانی، اراکین پارلیمان محمد اکبر لون، جسٹس حسنین مسعودی ، سینئر لیڈران عبدالرحیم راتھر، محمد شفیع اوڑی، چودھری محمد رمضان، میاں الطاف احمد، نذیر احمد خان گریزی، سجاد احمد کچلو، سکینہ ایتو، مبارک گل، آغا سید روح اللہ مہدی، شمی اوبرائے، اجے سدھوترا، جاوید رانا، ایس ایس سلاتیہ، میر سیف اللہ اور حاجی حنیفہ جان موجود تھے۔ 
 
 
 

ریاستی اِنتظامی کونسل کے فیصلہ جات

 ایس پی اوز کے مشاہرے میں اضافہ

 سری نگر//گورنر ستیہ پال ملک کی صدارت میں منعقدہ ریاستی اِنتظامی کونسل میٹنگ کے دوران ریاست کے سپیشل پولیس افسران کے حق میں واگزار کئے جارہے مشاہرے میں اضافہ کرنے کے عمل کو منظور ی دی۔حکومت ہند کے تعاون سے ریاستی اِنتظامی کونسل نے جموں وکشمیر پولیس کے ایس پی اوز کے مشاہرے میں اضافہ کو منظوری دی۔اِس فیصلے کے تحت جن ایس پی اوز نے تین برس سے کم مدت کے لئے اپنے خدمات دیں ہوں گی کو اب 6000روپے کا ماہانہ مشاہراہ فراہم کیا جائے گا جبکہ دیگر ایس پی اوز جنہوں نے تین برس کی خدمات مکمل کی ہوں کو ماہانہ  9000روپے مشاہراہ دیا جائے گا۔ اسی طرح جن ایس پی اوز نے پانچ برس اور دس برس کی ملازمت انجام دی ہو کو بالترتیب 12000اور 15000روپے ماہانہ مشاہراہ دیا جائے گا۔جن ایس پی اوز نے 15برس بطور ایس پی او کام کیا ہو کو ماہانہ 18ہزار روپے مشاہراہ ماہانہ دیا جائے گا۔اِس فیصلے کی بدولت ریاست کے 30,000ایس پی اوز مستفید ہوں گے۔