تازہ ترین

ایک یادگار سفر

افسانہ

4 اگست 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

عادل نصیر
چند روز قبل ایک دوست کے ہمراہ سوپور جانے کا اتفاق ہوا ۔ موسم گرما کی جھلسا دینے والی دوپہر تھی ۔ ہم پسینے سے شرابور کالی سڑک کے سینے پر دن بھر رینگتے رہے۔ اپنا کام انجام دینے کے بعد جب واپسی کا ارادہ کیا تو عزیز دوست کو اس گرمی میں بھی شرارت سوجھی کہ کیوں نہ واپسی کا سفر لفٹ مانگ کر کیا جائے ۔ اگر آپ یہ سوچ رہے ہیں کہ ہمارے پاس پیسے نہیں تھے تو یقین مانئے کہ آپ غلط فہمی کے شکار ہیں ۔ موصوف نے یہ سفر تجرباتی بنیادوں پر تجویز کیا تھا تاکہ نہ جان سکیں کہ آج کے سائینسی دور کے انسان میں کس قدر ہمدردی کا جذبہ باقی رہا ہے۔ میرے فاضل دوست نے اپنی یہ تجویز ایسے پُراثر اور اس قدر فلسفیانہ انداز میں سامنے رکھی کہ بادل ناخواستہ مجھے قائل ہونا ہی پڑا۔ 
بہرحال ہم مصروف ترین شاہراہ کی بائیں طرف ہر آتی گاڑی کو روکنے کی کوشش میں لگ گئے ۔ کافی دیر جب سینکڑوں گاڑیاں ہمیں اَن دیکھا کرکے چلی گئیں اور ہم دونوں تھک ہار گئے تو ہم نے باری باری گاڑیاں روکنے کی کوشش کی ۔ آخر کار کافی مدت کے بعد ایک بڑی سی مال بردار گاڑی، جسے ہم عرف عام میں بارہ چکی یا ٹرالر کہتے ہیں، ہمارے سامنے رک گئی ۔ آپ ہماری خوشی کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ اس گاڑی کا نوجوان ڈرائیور سیگریٹ نوشی اور لاوڈ میوزک کے باوجود بھی مجھے نہایت نیک اور صالح محسوس ہوا اور میں نے دوران سفر ہی ڈرائیور صاحب کو دل ہی دل میں مرزاغالبؔ کا یہ مصرعہ نذر کیا ؂ 
تجھے ہم ولی سمجھتے جو نہ بادہ خوار ہوتا 
آپ یہ بھی سوچ رہے ہونگے کہ ہم کنجوس ہیں ۔ جی نہیں! بالکل نہیں ۔ ۔ ہم نے دوران سفر کئی جگہوں پر مشروبات وغیرہ نوش کئے۔ کچھ مسافت اس بڑی گاڑی میں طے ہوئی اور ہم اتر کر پھر ایک بار اپنے عمل پر لگ گئے ۔ سچ پوچھئے تو مجھے اس دوران اپنا آپ مفلسی کی چرن سیما کو پار کیا ہوا محسوس ہوا اور یہ جو نئی اور مہنگی گاڑیوں میں ہمارے سامنے سے تیز رفتاری سے گزرتے جارہے تھے کافی سنگ دل اور گنہ گار معلوم ہوئے مگر فیضؔ صاحب کے مشہور شعر کا یہ مصرعہ اُولیٰ مجھے حوصلہ دیتا رہا ۔ ؂
دل ناامید تو نہیں ناکام ہی تو ہے 
آخر کچھ انتظار کے بعد ایک اور مال بردار گاڑی، مگر گزشتہ سے چھوٹی، جسے ہم عرف عام میں ٹاٹا موبائیل کے نام سے جانتے ہیں ہماری مدد کو حاضر ہوئی اور تیز ہواؤں کو چیر کر جو مسافت ہم نے طے کی نہایت رومانچک تھی۔ ایک مقام پر ہم پھر اُترے اور نئی گاڑی کی تلاش میں چلتے رہے۔ اس بار تھوڑا سا انتظار کرنا پڑا۔ مگر ایک نئی ،مہنگی اور نجی گاڑی رکی اور کافی تیز رفتاری سے ہمیں اپنی منزل پر چھوڑ کر چلی گئی ۔ کافی یادگار دن تھا ۔ 
آخر اپنے شبستان میں جب ہم نے اپنی رپورٹ تیار کرنا شروع کی تو ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ صرف دو طبقوں میں ابھی رحم اور ہمدردی باقی ہیں اور ان کی تفصیل یوں ہیں:
اول وہ نوجوان جن کی عمر اٹھارہ سال سے اٹھائیس سال تک ہے ان میں کافی ہمدردی پائی جاری ہے ۔ 
دوم مال بردار گاڑیوں کے ڈرائیور صاحبان میں کافی ہمدردی ہیں اور وہ ہمیشہ درماندہ مسافروں کی مدد کرتے ہیں ۔ 
آخر میں نے اپنی رپورٹ لکھ کر آخر میں درد کا یہ شعر حاشیے پر رقم کر دیا ؂
درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو 
ورنہ طاعت کیلئے کچھ کم نہ تھے کروبیاں
 
ہندوارہ ،کشمیر
موبائل نمبر؛7780912382