تازہ ترین

سی سی ڈی کے مالک سدھارتھ کی لاش نیتراوتی ندی سے برآمد، آخری رسوما ت آج

1 اگست 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

بنگلور//ایشیاکے سب سے بڑے کافی چین ‘کیفے کافی ڈے ’ (سی سی ڈی) کے بانی وي جي سدھارتھ کی لاش 36 گھنٹے کی تلاشی مہم کے بعد بدھ کو نیتراوتي ندی سے برآمد کئی گئی۔ووہ سابق وزیر خارجہ اور کرناٹک کے سابق وزیر اعلیٰ ایس ایم کرشنا کے داما د ہیں۔قابل ذکر ہے کہ وہ پیر کی رات سے لاپتہ تھے ۔. منگلور پولیس کمشنر سندیپ پاٹل نے بتایا کہ بدھ کی صبح لاش دریا میں بہتی ہوئی دیکھی گئی۔ لاش کو دریا سے باہر نکالنے کے بعد وین لاک اسپتال بھیج دیا گیا ہے ۔ مسٹر پاٹل نے کہا کہ اس سلسل میں اہل خانہ کو مطلع کر دیا گیا ہے ۔ اطلاعات کے مطابق مسٹر سدھارتھ کی لاش الال سے پانچ کلومیٹر کے فاصلے سے برآمد کی گئی، جہاں انہیں آخری بار دیکھا گیا تھا۔ سی سی ڈی کے مالک کے ڈرائیور کے بیان کے بعد ان کے دریا میں کود کر خود کشی کرنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا۔ کوسٹ گارڈ کی ٹیم اور دیگر ایجنسیوں کے 200 سے زیادہ اہلکار منگل کی صبح سے مسٹر سدھارتھ کی تلاش کر رہے تھے ۔ پولیس کے مطابق کوسٹ گارڈ فورس، بحریہ، غوطہ خور، نیشنل ڈیزاسٹر ریسکیو فورس اور ایئر فورس کے ہیلی کاپٹر کو مسٹر سدھارتھ کی تلاش میں لگایا گیا تھا۔ سابق وزیر خارجہ نے ایک پیغام میں کہا کہ مسٹر سدھارتھ کے لاش کو چکمنگلور کے پاس ان کے دفتر ‘اے بی سی سی’ میں دو بجے سے ساڑھے چار بجے تک رکھا جائے گا۔ ان کی آخری رسومات آج شام کو ان کے گاؤں چیتنہالی میں ادا کی جائیں گی۔ وزیر اعلیٰ بی ایس یدی یورپا، سابق وزیر اعلیٰ کماراسوامی اور سدھارمیا سمیت سیاسی اور تجارتی دنیا کی اہم شخصیات نے سی سی ڈی کے بانی کی موت پر افسوس کا اظہار کیا ہے ۔ وزیر اعلیٰ مسٹر سدھارتھ کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے چکمنگلورو جائیں گے ۔ مسٹر کرشنا اور ان کی بیوی پریما کرشنا آخری رسومات میں شامل ہونے کے لیے ہیلی کاپٹر سے مسٹر سدھارتھ کے گاؤں روانہ ہو چکے ہیں۔ کرناٹک کے پلانٹرس اسوسی ایشن نے مسٹر سدھارتھ کی تعزیت میں چکمنگلورو، کوڈاگو اور ہاسن کے باغان اہلکاروں کے لیے آج چھٹی کا اعلان کیا گیا ہے اور مسٹر سدھارتھ کے گاؤں قریب شہر مودیگیڑے میں بند کی کال دی گئی ہے ۔طسابق وزیر خارجہ اور کرناٹک کے وزیر اعلی رہ چکے ایس ایم کرشنا کے داماد مسٹر سدھارتھ (60) کو آخری بار پیر کی شام جنوبی ضلع کنڑ کے کوٹے پورہ علاقے میں نیتراوتي پر بنے پل پر دیکھا گیا تھا۔ وہ پیر کی دوپہر بنگلور سے ضلع ہاسن کے لئے گاڑی سے روانہ ہوئے تھے ۔ راستے میں انہوں نے ڈرائیور سے منگلور چلنے کو کہا اور نیتراوتي ندی کے پل پر پہنچنے پر کار روکنے کے لئے کہا۔ انہوں نے اس کے بعد ڈرائیور سے کہا کہ وہ ٹہلنے جا رہے ہیں، وہ ان کا انتظار کرے ۔ ڈرائیور نے دو گھنٹے بعد ان کے نہ لوٹنے پر پولیس سے رابطہ کیا۔جنوبی کنڑ ضلع کے ڈپٹی کمشنر سینتھل ششی کانت کے مطابق ڈرائیور نے پولیس سے رابطہ کرکے ان کے لاپتہ ہونے کی شکایت درج کرائی۔ منگور پولیس کے ذرائع نے بتایا کہ مسٹر سدھارتھ کا فون بند ہونے سے پہلے اس سے تین کال کیے گئے تھے ۔ دو کالز ان کے پرائیویٹ سکریٹری اور ایک کال ان کے ممبئی کے دوست کو کیا گیا تھا۔ ان کے لاپتہ ہونے کی خبر کے بعد بنگلور میں لوگ مسٹر کرشنا کے گھر پہنچنے لگے تھے ۔ مسٹر سدھارتھ، بیوی مالوِکا اور بچوں کے ساتھ بنگلور کے پاش علاقے سداشیونگر میں رہتے تھے ۔ کرناٹک کے وزیر اعلی بی ایس یدی یورپا، کانگریس لیڈر ڈی شیو کمار اور بی ایل شنکر بھی مسٹر کرشنا کے گھر پہنچے تھے ۔ وزیر اعلی نے مسٹر کرشنا کو ان کے داماد کو ڈھونڈنے کے لئے ہر ممکن مدد کی یقین دہانی کرائی تھی۔ اس درمیان مسٹر سدھارتھ کا ایک خط سامنے آیا جس میں انہوں نے ایک انکم ٹیکس کے افسرکے ذریعے پریشان کرنے کی بات کی جارہی ہے ۔ انہوں نے خط میں لکھا ہے کہ وہ اتنی محنت کے بعد بھی اپنے کاروبار کو ایسا نہیں بنا سکے کہ اس سے بہتر منافع کمایا جا سکے ۔ اس سے وہ بے حد پریشان ہیں۔ انہوں نے لکھا ہے کہ وہ بس اتنا کہناچاہتے ہیں کہ انہوں نے منافع کمانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی ۔ انہوں نے کہا،‘ میں ان تمام لوگوں سے معافی مانگنا چاہتا ہوں جنہوں نے مجھ پر بھروسہ ظاہر کیا۔ میں طویل عرصے سے لڑ رہا تھا لیکن آج میں نے امید چھوڑ دی ہے کیونکہ میں اس سے زیادہ تناؤ نہیں برداشت کر سکتا۔ کافی ڈے انٹرپرائیزز کی کمپنی کی سکریٹری سنجنا پجاری نے بی ایس ای اور این ایس ای کو مطلع کیا تھا کہ کمپنی کے صدر اورمینیجنگ ڈائریکٹر پیر کی شام سے لاپتہ ہیں۔ کمپنی ان کی تلاش کے لیے متعلقہ افسران سے مدد لے رہی تھی۔ بتایا جارہا ہے کہ انکم ٹیکس کے افسران کے دباؤ سے پریشان ہوکر مسٹر سدھارتھ نے حال میں مائنڈٹری لمیٹید میں اپنی 20 فیصد حصہ داری لارسن اینڈ ٹوبرو کو بیچ دی۔ وہ کوکا کولا کمپنی کے ساتھ بھی رابطے میں تھے اور بہت ممکن ہے کہ وہ اپنی کمپنی کا کچھ حصہ داری اسے بیچنے کا منصوبہ بنارہے ہوں۔یواین آئی