تازہ ترین

علاجِدنداں اخراجِ دنداں

ہلکی پھلکی

21 جولائی 2019 (05 : 11 PM)   
(      )

ڈاکٹر شمس کمال انجم
اللہ رب العالمین کی عطا کردہ ہر جسمانی نعمت، نعمت بے بہا اور عطیۂ بے بدل ہے۔اس کی منجملہ نعمتوں میں سے ایک، انسان کے منہ میں دیے گئے دانت بھی ہیں۔رب العالمین نے جانوروں میں سے بعض کو ایک دانت تو بعض کو دو اور بعض کو متعدد دانت دیے ہیں۔بعض کو صرف اوپر اور بعض کو صرف نیچے اور بعض کو اوپر نیچے دونوں حصوں میں لیکن حضرت انسان کو رب العالمین نے اوپر نیچے تیس سے بتیس دانت عنایت کیے ہیں۔
بزرگوں نے کہا ہے کہ جن کے منہ میں بتیس دانت ہوتے ہیں وہ کچھ عظیم خوبیوں کے مالک ہوتے ہیں۔ اردو کی مشہور کہاوت ہے۔ ’کس کے منہ میں بتیس دانت ہیں ‘جو ایسا ویسا کرنے کی جرات کرے۔یعنی مردوں میں بتیس دانت شجاعت وبہادری کی علامت مانے جاتے ہیں۔ عورتوں میں بتیس دانت سے منہ بڑا ہوجاتا ہے جس سے خوب صورتی میں اضافہ ہوجاتا ہے۔
یہ دانت نہ ہوں توحضرت انسان رب العزت کی بے شمار نعمتوں کے ذائقے سے محروم ہوجائے۔ یہ دانت نہ ہوں تو جوہر خطابت کا اظہار تو کجا حضرت انسان اپنے مافی الضمیر کے ابلاغ و ترسیل سے بھی عاجز وقاصر ہوجائے۔ یہ دانت نہ ہوں تو انسان کھلکھلا کر ہنس بھی نہ سکے۔ یہ دانت نہ ہوں تو دل سے انسان مسکرا بھی نہ سکے۔ یہ دانت ہوں تو ہر نعمت کا ذائقہ با کمال ہے۔ یہ دانت ہوں توہر شکل انسانی کا جمال بے مثال ہے۔ پرکشش دانتوں والے محبوب کی ہلکی سی مسکان راحت روح اور وجہ انبساط جاں ہے۔ انسان کے حسن وجمال اور اس کی شکل وصورت کو پرکشش بنانے میں دانتوں کی بناوٹ کا کافی دخل ہے۔جس طرح چوہے سے چھوٹے چھوٹے دانت بدصورتی پیدا کرتے ہیں اوربڑے بڑے لمبے لبمے بھدے بھدے، کشادہ کشادہ اور اوپر کی طرف ابھرے ہوئے دانت بھی انسان کی شکل وصورت کو بدصورت بنا دیتے ہیں۔اسی طرح پاؤں سے پاؤں ملاکر، کندھا سے کندھا ملاکر ایک ساتھ مل جل کر رہنے والے موتیوں سے صاف شفاف، اجلے اجلے دنداں خوب صورتی میں اضافے کا باعث ہوتے ہیں ۔
 زمانۂ جاہلیت کے شعراء محبوب کے صاف شفاف دانتوں کو موتیوں سے ، اولے سے اور صاف شفاف بدلیوں سے تشبیہ دیتے تھے۔اردو کے بھی شعراء محبوب کے دانتوں کی تصویر کشی سے پیچھے نہیں رہے۔ کسی شاعر نے کہا ہے         ؎
لب ترے لعل ہیں بدخشاں کے
دانت تیرے ہیں لولوئے لالہ
کسی دوسرے شاعر نے کہا ہے       ؎
تمہارے دانت نہیں ہیرے کی ہیں کنیاں
تمہارے سامنے موتی کی آبرو کیا ہے
ارشد خاں قلقؔ کا شعر ہے     ؎
نہیں چمکے یہ ہنسنے میں تمہارے دانت انجم سے
نکل آئی تڑپ کر برق آغوش تبسم سے
ہمارا ایک افریقی ساتھی جب بات کرتا تھا یا مسکراتا تھا تو ا س کے سیاہ پرکشش ٰچہرے سے وہ کرن نمودار ہوتی تھی جس کے آگے کولگیٹ کا پرچار کرنے والیوں  کے دانت کی دمک بھی پھیکی پڑ جائے۔
عربی وہ واحد زبان ہے جس میں حضرت انسان کے دانتوں کے مختلف نام ہیں۔سامنے کے دو دانتوں کو ثنایا(Central incisor) کہاجاتا ہے۔ اوپر نیچے ملاکر ان کی تعداد چار ہے۔ ان کے دونوں طرف کے دو دانتوں کو رباعیات (lateral incisor)کہا جاتا ہے۔ ان کی بھی تعداد چار ہے۔ ان کے دونوں طرف کے دو دانتوں کو انیاب(canine)  کہا جاتا ہے۔ ان کی بھی تعداد چار ہے۔ان کے بعد دونوں طرف کے دو دانتوں کو ضواحک کہا جاتا ہے۔ ان کی بھی تعداد چار ہے۔ ان کے بعد آخر کے تین تین دانتوں کو طواحن ( premolar and molar)کہا جاتاہے۔ ان کی تعداد بارہ ہے۔ اور سب سے آخر میں دونوں طرف ایک ایک دانت کو نواجذ(molar) کہا جاتا ہے۔ ان کی بھی تعداد اوپر نیچے ملاکر چار ہے۔ اسے عقل کا بھی دانت کہتے ہیں۔ یہی جن کو آجاتے ہیں تو اسے بتیس دانت ہوجاتے ہیں۔
 ان دانتوں کی دیکھ بھال اور انہیں سنبھال کر رکھنا ضروری ہے۔ اسی مطمح نظر سے گذشتہ دنوں دہلی میں واقع ایک ڈنٹل کلینک میں ہم چلے گئے۔ ارادہ تھا کہ دانتوں کی تھوڑی سی cleaningکرالی جائے۔ ڈاکٹر نے دانت کو چیک کرکے فرمایا: آپ کے دانت میں cavityہے۔ میں نے کہا ہاں مجھے معلوم ہے۔ کہا:Filling کروالیجیے۔ میں نے کہا مجھے دانتوں کا بہت زبردست experienceہے۔ جب کسی بھی دانت سے چھیڑ چھاڑ ہوئی تو سمجھیے کہ’ مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی‘ والا نسخہ اس پر بہت فٹ آتا ہے۔ ڈاکٹر نے کہا نہیں ۔ بالکل نہیں! اب توLaser filling کا زمانہ آگیا ہے۔ میں نے اشتہار دیکھا۔ سوچا cavity کو Fill  کراہی لیتے ہیں۔ اب میں نے دانت کو ڈاکٹر کے حوالے کردیا۔اور میں نے ڈاکٹر کو فارسی کا یہ شعر سنایا       ؎
سپردم بہ تو مایۂ خویش را تو دانی حساب کم وبیش را
 ڈاکٹر نے فلنگ کی تو فرمایا کہ ایک اور دانت میں فلنگ کی ضرورت ہے۔ میں نے وہ بھی کرالی۔ دو دن درد رہا۔ خدمت میں دوبارہ حاضر ہوا۔ رپورٹ پیش کی تو جواب ملا۔ کچھ دن میں ٹھیک ہوجائے گا۔ ایک ہفتے کے بعد پھر حاضر ہوا۔ بڑا ڈاکٹر آیا۔ اس نے فلنگ کو نکالا اور دوبارہ فلنگ کی۔ اگلے دن میں راجوری آگیا۔ اب گاہے بگاہے یہ دو دانت مجھے اپنی موجودگی کا شدید احساس دلاتے ہیں۔ کبھی ٹھنڈا کھاتے وقت کبھی گرم۔ کبھی ٹیس بھی مارتے ہیں۔ کبھی ہلکا ہلکا درد بھی دیتے ہیں۔یوں سمجھئے کہ وہ ڈاکٹر روز یاد آتے ہیں۔ ڈاکٹر سے واٹس اپ پر بات کی۔ انھوں نے فرمایا۔ آپ پانچ دن دوا کھائیں اگر نہیں ٹھیک ہوا تو RCT یعنی روٹ کنال کرنا پڑے گا۔ میں نے کہا ڈاکٹر ! میں نے آپ سے پہلے ہی کہہ دیا تھا۔ میرے دانتوں کو ویسے ہی رہنے دیجیے۔ ورنہ اس کا ٹریٹ منٹ شروع ہوا تو سمجھیے اسے شہید کرکے ہی دم لینا پڑے گا۔ کیونکہ کسی بزرگ نے فرمادیا ہے   ع
؏علاجِ دنداں اخراجِ دنداں
؏مجھے لگتا ہے یہ مقولہ ایک بار پھر ثابت ہوکر رہے گا۔ کچھ دن اگر دانت کو بابری مسجدکی طرح بچالے گئے تو خیر ورنہ اسے شہادت سے کوئی بچا نہیں سکتا۔
رابطہ :صدر شعبۂ عربی / اردو / اسلامک اسٹڈیز بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری جموں وکشمیر
9086180380