تازہ ترین

اجنبی لڑکی

کہانی

13 جولائی 2019 (01 : 10 PM)   
(      )

رحیم رہبرؔ
صبح سویرے جوں ہی بازار کُھلتا تھا وہ نوجوان خوبصورت لڑکی چوک میں نمودار ہوجاتی تھی۔ اُس کے کُھردرے سنہرے بال، اُسکی ہرنی جیسی چال اور نازک بدن پر وہ پھٹے پرانے کپڑے آج بھی میرے اِدراک کے دریچے پر دستک دے رہے ہیں! وہ غریب حسینہ آج بھی میرے محسوسات کی دُنیا پر حکمرانی کررہی ہے۔
اُس کی غزالی آنکھوں میں مانسبل کی جھیل سُکڑ سمٹ رہی تھی۔ اُس کے پاس ٹوٹے پھوٹے الفاظ کے سوا اور کچھ نہیں بچا تھا۔ اُس کے ہر ادا نرالی تھی۔ پتھریلی زمین اُس کے ننگے پیروں کو چومتی تھی۔ اُس بھرے بازار میں صرف میں ایک تھا جسکی سوچ کو سِیاہی چوس کی طرح اس جوان لڑکی نے چوس لیا تھا۔
 میں اس لڑکی کے بارے میں اتنا فکر مند کیوں ہوں؟ میرا اُس سے کیا رشتہ ہے؟ ایسے ہی اور بھی کچھ سوالات میری سوچ کی تختی پر اکثر ابھرتے تھے۔ تیز دھوپ جب اُس کا گورا بدن جھلس جاتا اور اُس کے پھیلے ہوئے نرم خوبصورت ہاتھ تھر تھرانے لگتے تو وہ تھک ہار کر چوک میں اُس کھمبے کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ جاتی جس پر وہ دلفریب پینٹنگ آویزان تھی۔ اُس پینٹنگ کے دامن پر پینٹر کا نام کبیر رقم تھا۔ وہ اس پینٹنگ کو دیر تک تکتی رہتی ! شائد اس میں اپنے جیون کی سرحدیں تلاشتی تھی۔
اُس پیٹنگ کے ساتھ اُس کا کوئی جذباتی رشتہ لگتا تھا، جبھی وہ کچھ دیر پیٹنگ کے سامنے استادہ ہونے کے بعد پھر بازار میں راہیگروں کی بھیڑ میں گُم ہوجاتی تھی۔ اور پھر شام ڈھلے بھیڑ سے الگ ہوکر انجام راہوں میں کھو جاتی تھی۔ اُس دن میں گھر سے یہ ارادہ باندھ کر نکلاتھا کہ میں آج ضرور دیکھ ونگا کہ یہ لڑکی شام ڈھلتے ہی کہاں جاتی ہے۔ میں نے ایسا ہی کیا۔ اُس دن جونہی شام کے سایوں نے بازار میں اپنا ڈیرہ جما لیا، میں نے اُس کا پیچھا کیا۔ اور اُس جگہ پہنچ ہی گیا جہاں پر اُس کا مسکن تھا۔ بازار سے تقریباً آدھے کلومیٹر کی دوری پر ایک خستہ حال پارک میں کچھ خیمے لگے تھے۔ انہی خیموں میں ایک خیمے میں لالٹین کی مدھم سی روشنی دعوتِ فکر دے رہتی تھی۔ میں نے خیمے کے اندر جھانکا تو یہ دیکھ کر میں پسینے میں غرق ہوا کہ لالٹین کی دھیمی روشنی میںایک بزرگ شخص کینواس پر کچھ بنا رہا ہے۔ اُس نے مجھے دیکھا پر میری طرف کوئی دھیان نہیں دیا۔
وہ کینواس پر لکیریں کھینچنے کے ساتھ باتیں کررہا تھا۔ اجنبی لڑکی مجھے یوں اچانک اپنے پاس دیکھ کر مسکرائی۔ شائد وہ مجھ سے یہی اُمید رکھتی تھی!
’’بیٹی! یہ ۔۔ یہ بزرگ شخص کون ہے!؟‘‘ میں نے اُس لڑکی کو تعجب سے پوچھا۔ میرا سوال سُن کر اُس کی غزالی آنکھوں میں بے اختیار آنسو اُمڈ آئے۔ آنسوئوں سے اُس کا گرد آلودہ چہرہ دُھل گیا جیسے بادلوں سے چودھویں کا چاند نکل آیا!
’’یہ ۔۔۔یہ میرے بابا حضور کبیر ہیں‘‘۔ لڑکی بڑے ہی انہماک سے بولی۔
کبیر نام سُنکر میرے پیروں تلے زمین کھسک گئی۔ کیونکہ اُس بڑے پینٹر کے بارے میں میں نے بہت کچھ سُنا تھا۔ میں اُس کی مصوری کا عاشق تھا۔ اُس کی ہر پینٹنگ حقیقتِ حال بیان کرتی تھی۔
’’چوک میں لگی وہ خوبصورت پینٹنگ میرے بابا حضور کی ہے‘‘۔ لڑکی فخر سے بولی۔
’’چوک میں وہ عالیشان آرٹ گیلری تھی؟‘‘میں نے پوچھا۔
’’ہاں۔ ہاں۔ اُس رات اُس بھیانک آگ میں وہ آرٹ گیلری بھی خاکستر ہوئی۔ میرے بابا حضور کی دُنیا اُجڑ گئی۔ اُس آرٹ گیلری کو بنانے کے لئے میرے بابا نے اپنا مکان بھیج ڈالا اور خود اس خیمے میں رہنے لگا۔ ہم نانہِ شبینہ کو محتاج ہوگئے۔ کوئی بابا کی مدد کے کئے آگے نہیں آیا۔ تمام جانے پہچانے چہرے پرائے ہوگئے‘‘۔
میرے پاس اس اجنبی لڑکی کو کہنے کے لئے الفاظ نہیں تھے۔ اس لئے میں نے واپسی کا ارادہ کرلیا۔ میں نے لڑکی سے اجازت مانگی۔
’’نہیں ٹھہر جائو بیٹے‘‘۔ بزرگ پینٹر نے کہا
’’میں لوٹ کر واپس آئوں گا‘‘۔ میں نے جواب دیا
’’بیٹے تم ضرور آئو گے پر اُس دِن اس مقام پر میری یہ تصور ہوگی۔ لوگ اس تصویر کو پھولوں کی مالائیں پہنائیں گے۔ پھر یہ تصویر نمائش میں نیلام ہوگی۔ میرے مرنے کی خبر اُونچے داموں کیش ہوگی!‘‘۔
میں نے تصویر دیکھی۔ یہ کبیر کی خود کی تصویر تھی۔ جس میں اُس نے اپنے دائیں ہاتھ میں ٹوٹا ہوا برش اور بائیں ہاتھ میں خالی کشکول دکھایا تھا۔ تصویر دیکھ کر میرے تصورات کی دنیا میں ہلچل سی مچ گئی۔
رابطہ: آ?زاد کالونی پیٹھ کا انہامہ
9906534724