تازہ ترین

مزید خبریں

12 جولائی 2019 (52 : 11 PM)   
(      )

نیو ڈسک

پالی تکنیک کالجوں کی تعمیر |  کالج عمارتوں کی تکمیل کیلئے نومبر 2019ء کی ڈیڈ لائن مقرر

سر ینگر//گورنر کے مشیر خورشید احمد گنائی نے یہاں ایک میٹنگ طلب کر کے ریاست میں پالی تکنیک کالجوں کے تعمیراتی کام کا جائزہ لیا اور عمل آوری ایجنسیوں کو یہ پروجیکٹ نومبر 2019ء تک مکمل کرنے کی ہدایت دی۔میٹنگ میں جے کے پی سی سی کے منیجنگ ڈائریکٹر ایم راجو ، تکنیکی تعلیم کے سیکرٹری زبیر احمد ،محکمہ ایڈیشنل سیکرٹری نیرج کمار ، ڈائریکٹر ٹیکنیکل ایجوکیشن ڈاکٹر روی شنکر شرما، چیف انجینئر تعمیرات عامہ سمیع عارف ، چیف انجینئر تعمیر ات عامہ جموں ناصر گونی اور جنرل منیجر جے کے پی سی سی ہر کیول سنگھ کے علاوہ دیگر افسران بھی موجود تھے۔میٹنگ کے دوران مشیر موصوف نے ریاست میں تعمیر کئے جارہے ہر پالی تکنیک کالج پر جاری کام کی پیش رفت کے بارے میں تفصیلات طلب کیں۔ انہیں بتایا گیا کہ 18کالجوں میں سے 10کا کام جموں وکشمیر پروجیکٹس کنسٹرکشن کارپوریشن ، 6کا کام تعمیرات عامہ اور ایک ایک کالج کی تعمیر کا کام اسلامک یونیورسٹی اور بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی کو تفویض کیا گیا ہے۔ان کالجوں پر جاری کام کے تعلق سے سول اور میکنیکل معاملات کا بھی میٹنگ کے دوران جائزہ لیا گیا۔ خورشید احمد گنائی نے رقومات کا استعمال پہلے سے ترتیب دئیے گئے منصوبے کے مطابق کرنے کی ہدایت دی ۔انہیں بتایا گیا کہ کچھ کالجوں پر تعمیر کا کام پہلے ہی مکمل کیا گیا ہے اور ان کالجوں کو تکنیکی تعلیم محکمہ کی تحویل دیا گیا ہے۔سیکرٹری تکنیکی تعلیم نے میٹنگ میں بتایا کہ محکمہ کی تحویل میں دئیے گئے کالجوں کو کارگر بنایا جاچکا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایسے کالجوں کے لئے سازو سامان خریدنے کا عمل شروع کیا جاچکا ہے۔پروجیکٹس کنسٹرکشن کارپوریشن کے منیجنگ ڈائریکٹر نے جانکاری دی کہ اودھمپور ، کپواڑہ اور بانڈی پورہ کے کالجوں کو اس برس 15اگست تک تکنیکی تعلیم محکمہ کی تحویل میں دیا جائے گا۔ متعلقہ چیف انجینئروں نے یقین دلایا کہ پالی تکنیک کالجوں کی تعمیر کا کام نومبر 2019ء تک مکمل کرنے کے لئے مناسب اقدامات کئے جائیں گے۔میٹنگ میں جانکاری دی گئی کہ ہر کالج پر 13کروڑ روپے کی رقم خرچ کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا تاہم کچھ معاملات کی وجہ سے چند ایک کالجوں کے تعلق سے اخراجات میں اضافہ ہواہے ۔ مشیر موصوف نے اس طرح کے ہر معاملے کے تعلق سے تفصیلی رپورٹ طلب کی۔مشیر موصوف نے کہا کہ ریاست میں پیشہ ور اور ہنر مند افراد پیدا کرنے میں ان کالجوں کا بنیادی رول بنتا ہے ۔انہوں نے افسروں سے تلقین کی کہ وہ پالی تکنیک کالجوں میں ایسے کورسز متعارف کرائیں جن کو حاصل کرنے سے طالب علم اپنے لئے روزگار کے وسائل پیدا کرنے کے اہل بن سکیں۔
 
 
 

گورنر راج کے دوران شکایات کا نمٹارہ

سر ی نگر//ریاست میں 20جون 2018 سے گورنر رول کے نفاذ سے لے کر12 جولائی2019 تک گریوینس سیل کو77065شکایات موصول ہوئیں جن میں سے76682 ( بشمول گورنر رول سے قبل موصول ہوئی) شکایات کو نمٹارے کے لئے متعلقہ محکموں کو بھیجا گیا جبکہ 383شکایات کو نمٹانے کا عمل جاری ہے۔اسی طرح گورنر کی ہدایت کے مطابق چاروں مشیر سرینگر اور جموں میں شیڈول کے مطابق وفود اور افراد کے ساتھ ملاقات کر کے اُن کے مسائل کے بارے میں جانکاری حاصل کرتے ہیں اور ان شکایات کے ازالہ پر متعلقہ محکموں کے ساتھ نظر گذر رکھتے ہیں۔
 

مطالبات کے حق میں16جولائی کو انجینئراحتجاج کریں گے

سرینگر//گریجویٹ انجینئرنگ انجمنوں کی مشترکہ تنظیم سٹیٹ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کایک روزہ کنونشن کھنہ بل میں آج منعقد ہوا جس میں انجینئروں کے ساتھ رواسوتیلی ماں کے سلوک پر تبادلہ خیال کیاگیا۔کنونشن میں جنوبی کشمیر نے تمام انجینئروں نے شمولیت کی اور انجینئروں کودرپیش مسائل حل کرنے میں حکومت کی غیرسنجیدگی پر مایوسی کااظہار کیاگیا۔کنونشن میں فیصلہ کیاگیا کہ مطالبات کے حق میں انجینئر16 جولائی کو ریاست بھر میں احتجاجی رخصت پر جائیں گے اور انجینئرنگ کمپلکس بمنہ سرینگر کے علاوہ لداخ اورجموں میں احتجاج کریں گے۔
 
 

بھاجپاحکومت آنجہانی واجپائی کے نظریہ سے کوسوں دور:سوز

سرینگر//سینئر کانگریس لیڈر پروفیسر سیف الدین سوز نے کہاہے کہ مرکزی حکومت سابق وزیراعظم آنجہانی اٹل بہاری واجپائی کی مصلحت اندیش پالیسی سے کوسوں دور ہوچکی ہے۔ وزیر مملکت وی ۔ مرلی دھرن کی جانب سے لوک سبھا میں دئے گئے بیان کہ،پاکستان کے ساتھ مسائل پر مذاکرات کیلئے مناسب ماحول بنانے کی ذمہ داری صرف پاکستان پر ہے ، آنجہانی واجپائی کی ہمسایوں سے متعلق سوچ واپروچ سے یکسر برعکس ہے۔سوز نے کہاکہ اٹل بہاری واجپائی کو میں قریب سے جانتا تھا اور میرا خیال ہمیشہ سے یہ رہا ہے کہ اگرچہ وہ اپنی سیاسی سوچ میں آر ایس ایس کی کوکھ سے ہی پرورش پا چکے تھے ،پھر بھی وہ اپنے ہمسائیہ ممالک کے ساتھ اچھی ہمسائیگی کے تعلقات پر اپنی منفرد سوچ رکھتے تھے ۔واجپائی کی وہ مصلحت پسندانہ سوچ پورے برصغیر کیلئے بڑی امید افضاء تھی اور اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اکتوبر 1999ء؁ میں کرگل کی جنگ جس کی ذمہ داری اُس وقت کے پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف نے جنرل مشرف پر ڈالی تھی، اُس جنگ کے باوجود یہ ممکن ہو سکا تھا کہ واجپائی جی لاہور گئے اور 21 فروری 1999ء؁ کو اپنے ہم منصب نواز شریف کے ساتھ بیٹھ کر لاہور معاہدہ پر دستخط کئے !آج کی ہندوستانی لیڈرشپ کو جان لینا چاہئے کہ اُن کے پاس اپنے ہمسائیوں کے ساتھ تعلقات میں اٹل بہاری واجپائی کی سوچ سے بہتر کوئی اور چیز نہیں ہے!واجپائی جی نے 8 جون 2003ء؁ کو لوک سبھا کو بتایا تھا کہ پاکستان کے ساتھ ہمیشہ ہندوستان کو دوستانہ تعلقات رکھنے چاہیں کیونکہ دوستوں کو تو بدلا جا سکتا ہے لیکن ہمسائیوں کو نہیں !۔واجپائی جی نے اسی سوچ کے مطابق اپنے ہمسائیوں کے ساتھ تعلقات استوار کئے تھے۔واجپائی جی نے اپنے ہم منصب کے ساتھ اسلام آباد میں 6 جنوری 2004ء؁ کو جو ملاقات کی تھی اُس میں بھی یہی جذبہ کار فرما تھا اور اُس کے بعدجتنی ملاقاتیں ہوئیں، اُن میں بھی یہی سوچ کار فرما رہی۔سوز کے مطابق ہمسائیگی کے تعلقات کو صحیح ڈھنگ سے منظم کرنے کی واجپائی جی کی جو سوچ تھی اُس سے بہتر مودی سرکار کیلئے ہمسائیگی کو مضبوط بنانے کا کوئی اور بہتر نسخہ نہیں ہے!‘‘
 
 
 
 

پنڈتوں کی واپسی کیلئے کئی محاذوں پر کام جاری:بھاجپا

سری نگر//بی جے پی لیڈر اویناش رائے کھنہ نے بتایا کہ پنڈتوں کی کشمیر واپسی بی جے پی کے ایجنڈے میں ابتداء سے ہی درج ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی ان کی واپسی کیلئے کئی محاذوں پر کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔اویناش رائے کھنہ نے بتایا کہ کشمیری پنڈتوں کی وادی واپسی بی جے پی کے ایجنڈے میں ابتداء سے ہی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنڈتوں کی کشمیر واپسی پارٹی غافل نہیں ہے بلکہ اس کو یقینی بنانے کیلئے پارٹی کئی محاذوں پر کام کررہی ہے۔ کھنہ کے مطابق پنڈتوں کی وادی واپس لانے کے بعد انہیں معقول سیکورٹی فراہم کرنے کیساتھ ساتھ ان کی بازآبادکاری سے متعلق ٹھوس اقدامات اُٹھانے کی ضرورت ہے جس کیلئے پارٹی کئی محاذوں پر کام جاری رکھے ہوئی ہے۔اس دوران انہوں نے کہا کہ پارٹی کی طرف سے وادی کشمیر میں شروع کی گئی ممبرشپ ڈرائیور میں لوگوں کا کافی جوش و خروش پایا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی نے 6جولائی سے ممبر شب ڈرائیور شروع کی جو 11اگست کو اختتام پذیر ہوگی۔ 
 
 

کشمیری پنڈت قوم کا جز لاینفک: آغا حسن

الگ ہوم لینڈ کشمیریت کے منافی 

سرینگر//انجمن شرعی شعییاں سربراہ آغا سید حسن نے کہا کہ کشمیری پنڈت اس قوم کے جز لا ینفک ہے کشمیری قوم برسوں سے انکی گھر واپسی کے منتظر اور متمنی ہیں۔ انھوںنے کہا کہ کشمیری پنڈتوں کی گھر واپسی کا ہر سطح پر خیر مقدم کیا جائے گا تاہم انکے لئے کسی الگ ہوم لینڈ کا تصور بھی کشمیریت کی عزت اور شان کے منافی ہے۔آغا حسن نے وادی میں منشیات کی بڑھتی وبا پر سخت تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس صورتحال کا سب سے بڑا محرک نا مساعد حالات ہے ،نامساعد حالات کی وجہ سے نوجوان طبقہ ذہنی انتشار میں مبتلا ہو چکا ہے اور وہ منشیات کی طرف راغب ہو رہے ہے ۔ انھوں نے کہا کہ جو بھی ادارہ سرکاری یا غیر سرکاری وادی میں منشیات کے خلاف مہم چھیڑے گا اس کا تہہ دل سے خیر مقدم کیا جائے گا۔ دریں اثنا تنظیم کے اہتمام سے وادی میں  منعقد ہونے والے جمعہ اجتماعات پر بھی ائمہ جمعہ نے وادی میں منشیات کی بڑھتی ہوئی وبا کے اثباب پر تفصیلی روشنی ڈالی اور عوام سے اپیل کی کہ وہ اس لعنت کے خاتمے کے لئے اپنی ذمہ داریاں ادا کریں ۔ائمہ جمعہ نے والدین سے اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں پر کڑی نظر رکھیں جن مقامات پر ائمہ جمعہ نے عوام کو منشیات کے منفی اثرات اور اس وبا سے نمٹنے کے تدابیر سے روشناس کیا۔ ان میں قدیمی امام بارہ حسن آباد ،امام بارگاہ یاگی پورہ ماگام،جامعہ مسجد سونہ پاہ بیرو ،جامعہ مسجد آبی گزر سرینگر ،آستان میر اراکیؒ چاڈورہ، امام باڑہ گامدو گاڑکھوڑ وغیرہ شامل ہے ۔
 
 
 

سوپور میں جیش کا بالائے زمین کارکن گرفتار

سوپور//سوپور قصبہ میں سیکورٹی فورسز نے جمعہ کی صبح ایک ناکے کے دوران جنگجوئوں کے بالائے زمین کارکن کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا۔ سیکورٹی ذرائع سے معلوم ہوا کہ سوپور کے پرے پورہ رفیع آباد علاقے میں سیکورٹی فورسز نے مصدقہ اطلاع ملنے کے بعد ایک ناکہ لگایا جس کے بعد یہاں سے گزرنے والے راہ گیروں اور گاڑیوں کی باریک بینی سے تلاشی کا سلسلہ شروع کیا گیا۔ اسی اثنا میں توحید احمد لون نامی نوجوان کی مشکوک حرکت کو دیکھتے ہوئے سیکورٹی فورسز نے ان کی تلاشی لی جس دوران نوجوان کی تحویل سے ایک پستول، ایک میگزین اور گولیوں کے کئی رائونڈ ضبط کئے گئے۔ ذرائع نے بتایا کہ گرفتار شدہ نوجوان نے دوران تفتیش اس بات کا اعتراف کیا کہ وہ جیش محمد نامی عسکری نتظیم کیلئے بالائے زمین کارکن کی حیثیت سے ذمہ داریاں انجام دے رہا تھا۔ ادھر پولیس نے واقعے کے حوالے سے ڈنگی وچھ پولیس اسٹیشن میں ایک ایف آئی آر زیر نمبر 114/2019 درج کرتے ہوئے مزید تحقیقات شروع کردی ہے۔
 
 
 

فضائی حددو پرپابندی میں26جولائی تک توسیع

 ہندوستان لڑاکا طیارے پیچھے ہٹائے:پاکستان

نئی دلی// پاکستان نے ہندوستان کی سفارش پرجواب دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کی جانب سے کشیدہ صورتحال معمول لانے تک وہ ہندوستان کے طیاروں کے لیے اپنی فضائی حدود کے استعمال کی اجازت نہیں گے گا۔پاکستان نے ایک بارپھر ہندوستان کے سفارش کو مستردکردیاہے۔ پاکستان نے ہندوستان کی سفارش پرجواب دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کی جانب سے کشیدہ صورتحال معمول لانے تک وہ ہندوستان کے طیاروں کیلئے اپنی فضائی حدود کے استعمال کی اجازت نہیں دے گا۔پاکستان کے سیکریٹری ایوی ایشن نے قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران بتایاکہ ہندوستانی حکومت نے پاکستان سے فضائی حدود کھولنے کی سفارش کی تھی۔ تاہم انہیں آگاہ کیاہے کہ پاکستان اپنے پرانے موقف پرقائم ہے اورہندوستان کی جانب سے کشیدگی کم کرنے کے اقدامات کے بعد کچھ پیشترفت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان ،اپنے لڑاکا طیاروں کو آگے کی پوزیشن سے واپس بلائے۔پاکستان کی جانب سے اپنی فضائی حدود کو عالمی پروازوں کے لیے بند کرنے سے سب سے زیادہ نقصان ایئرانڈیا کوہورہاہے۔ہندوستان اورپاکستان کے درمیان کشیدگی کے سبب 27 فروری سے پاکستان نے بین الاقوامی پروازوں کے لیے اپنی فضائی حدود کو بند کردیا تھا جس کے نتیجے میں 400 پروازیں یا تو منسوخ ہوگئیں یا ان کے روٹ میں تبدیلی کردی گئی لیکن اس عمل سے سب سے زیادہ نقصان ایئرانڈیا کو ہوا۔ہندوستان سے پاکستان کے راستہ ہفتے میں 66 پروازیں یورپ اور 33 پروازیں امریکا کے لیے جاتی تھیں۔ وہ یا تو منسوخ کردی گئیں یا ان کے روٹ میں تبدیلی کردی گئی جس سیایئرانڈیا کو مجموعی طور پر60 کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔ ایئرانڈیا کی پروازوں کو اب گجرات سے جنوبی موڑ لیتے ہوئے بحریہ عرب کے اوپرسے اپنی منزل مقصود کی جانب سفر کرنا ہوتا ہے جس سے اخراجات میں بھاری اضافہ ہوگیاہے جس کے سبب ایئر انڈیا کی واشنگٹن، نیویارک اور شکاگو جانے والی پروازوں کو سب سے زیادہ مشکلات کا سامنا ہے۔پاکستان نے فضائی حدود کی پابندی پر 26جولائی تک توسیع کی ہے۔ 
 
 

راجوری کے نوجوان کی چندی گڑھ میں موت 

اہل خانہ کا ہجومی تشدد کے ذریعہ قتل کا الزام، تحقیقات کا مطالبہ 

محمد بشارت 

کوٹرنکہ //راجوری بدھل کے ایک نوجوان کی چندی گڑھ میں پراسرار طور پر موت ہوگئی ہے جس پر اہل خانہ نے تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ نوجوان کو ہجومی تشدد کے ذریعہ قتل کیاگیاہے ۔بدھل کی پنچایت ترگائیں سے تعلق رکھنے والا نعیم شاہ ولد جنید شاہ چندی گڑھ کے ایک پرائیویٹ کالج میں ڈینٹل سرجری کا کورس کررہاتھا جہاں اس کی پراسرار طور پر موت واقع ہوگئی ۔اہل خانہ کے مطابق نعیم شاہ صبح جم سے واپس اپنے ہوسٹل جارہاتھا جس دوران اس کی گاڑی کی ٹکر سے ایک شخص معمولی زخمی ہواجس پر ایک ہجوم اس پر ٹوٹ پڑا جس کے ہاتھوں شدید مار پیٹ سے وہ دم توڑ گیا ۔نعیم کے والد جنید شاہ نے بتایاکہ ان کا بیٹاانتہائی شریف تھا اور وہ کوئی نشہ بھی نہیں کرتاتھا ،وہ جم سے واپس ہوسٹل جارہاتھا جس دوران گاڑی کی ٹکر سے راہ چل رہاایک شخص معمولی زخمی ہواجس پر ایک ہجوم نے ان کے بچے کی جان لے لی ۔ انہوں نے کہاکہ اس واقعہ کی تحقیقات کروائی جائے اور انہیں انصاف دیاجائے ۔نعیم کے چچازاد بھائی نے کشمیرعظمیٰ سے بات کرتے ہوئے کہاکہ 9تاریخ کی شام کو گھر والوں کی اس کی آخری مرتبہ بات ہوئی تھی جس کے دوسرے روز یعنی دس تاریخ کو یہ واقعہ رونماہوا اور انہوں نے سوشل میڈیا و ٹی وی چینلوں کے ذریعہ موت کی خبر سنی۔راجوری پولیس کے ایک افسر نے بتایاکہ اس معاملے کو دیکھاجائے گا۔
 
 
 
 

سکول بس سیفٹی رول:شاہد اقبال کی پرائیویٹ سکول ایسوسی ایشن سے میٹنگ

۔26جون کے حکمنامے پر عملدرآمد کرنے کی ہدایت 

سرینگر //ڈپٹی کمشنر سرینگر ڈاکٹر شاہد اقبال چوہدری نے سرینگر کی پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشن کے نمائندوں کے ساتھ ایک میٹنگ طلب کر کے سکول بس سیفٹی رولز سے متعلق26 جون کے حکم نامے پر عملدرآمد کے بارے میں تفصیلات طلب کیں۔ڈپٹی کمشنر نے متعلقین پر زور دیا کہ وہ سکولی بچوں کی محفوظ ٹرانسپورٹیشن کو یقینی بنائیں۔انہوں نے کہا کہ26 جون کو اس سلسلے میں جو حکم نامہ جاری کیا گیا ہے وہ سکول بسوں سے متعلق عدالت عظمیٰ کے رہنما خطوط کے مطابق ہے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کاروائی کی جائے گی۔میٹنگ میں سرینگر ضلع کے سکولوں کے ٹرانسپورٹ سے جڑے دیگر کئی معاملات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ایسوسی ایشن کی درخواست پر سرینگر ضلع انتظامیہ نے سکول ٹرانسپورٹ بس فیس کا تعین کرنے کے لئے کمیٹی تشکیل دینے سے اتفاق کیا۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ سرینگر ضلع میں تمام سکولوں کو سکول بس سیفٹی رولز پر عمل کرنے کی سخت ہدایات دی گئی ہیں۔26 جون کے حکم نامے کے سلسلے میں پرائیویٹ سکولوں کو15 جولائی تک اپنی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔میٹنگ میںاے ڈی سی سرینگر کے کے سدھا، آر ٹی او کشمیر اکرام اللہ ٹاک، ایس ایس پی ٹریفک سرینگر طاہر گیلانی اور ایس پی ہیڈ کوارٹرس ماجد ملک بھی موجود تھے۔
 
 

حق وراثت کا معاملہ ؔ مفتی وائمہ حضرات جامع لائحہ عمل اپنائیں:مولانا حامی

سماسرینگر//کاروانِ اسلامی انٹرنیشنل کے امیر علامہ غلام رسول حامیؔ نے لولی پورہ چاڑورہ میں ایک بھاری عوام اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ معاشرے میں چند خود غرض عناصر دولت کے حرص میں اپنے پوتوں ، بیوائوں اور بہوئوں کو فتاویٰ کی آڑ میں ان کو حق وراثت سے محروم کر رہے ہیں ایسے درجنوں واقعات اسلامی اقدار اور انسانی اصولوں کو تارتار کر رہے ہیں انہوںنے تمام مفتیان کرام سے گذارش کی کہ ایسے نازک معاملات پر سنجیدگی اور غور وفکر کرنے کے بعد تمام حقائق اسلامیہ کو سامنے رکھ کر فتاویٰ اجراء کیا کریں تاکہ دین اسلام کو ہدف تنقید بنانے والوں اور اسلام کے تئیں تعصب رکھنے والوں کے غلط عزائم نا پید ہوجائیں۔ سماج میں پھیل رہی مختلف قسم کی بے راہ روی ، منشیات اور شراب کا مکمل خاتمہ کرنے کے لئے انسانیت میں یقین رکھنے والے تمام لوگوں کو یک جُٹ ہوکر کام کرنے کا وقت آچکا ہے۔ سماج کے مختلف طبقات سے وابستہ افراد پر یہ لازمی ہے کہ ان نازک ترین حالات کے اندر پنپ رہے جرائم اور بے راہ روی کے ناسور جومعاشرے کے ہر حصے کو متاثر کر رہاہے ملکر منشیات اور شراب 
مافیہ کو ختم کرنے کے لئے ہر شہر اور دیہات میں یکسوئی کے ساتھ کام کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
 
 

 منشیات کی جانب بڑھتا ہوا رحجان افسوسناک: مولانا مسرور انصاری

سرینگر// جموں و کشمیر اتحاد المسلمین کے صدر اور حریت رہنما مولانا مسرور عباس انصاری نے وادی میں منشیات کی جانب بڑھتے ہوئے رحجان پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے اسلامی تہذیب و تمدن کیلئے سم قاتل قرار دیا ہے۔ چھتہ بل سرینگر میں خطبہ نماز جمعہ کے دوران انہوں نے کہا کہ اس ناسور میں بڑی تعداد میں نوجوانوں کا مبتلا ہونا ایک نہایت تشویشناک امر ہے اور اس کا کاروبار کرنے والوں کو کھلی چھوٹ دینا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ یہاں کی نوجوان نسل کو اپاہج بنانے اور کشمیر کی اسلامی تہذیب و تمدن کو کھوکھلا کرنے کیلئے ایک خطرناک کھیل کھیلا جارہاہے جس کا توڑ کرنے کیلئے سماج کے ہر طبقے کواور ایک ایک فرد کو عملی میدان میں آنے کی ضرورت ہے۔ 
 
 
 

 تنازعہ کشمیر کاپر امن حل ضروری:جاوید میر

 سرینگر// لبریشن فرنٹ ایچ چیرمین جاوید احمد میر نے 13 جولائی 1931؁ء  کے شہدائے کشمیر کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر میں جمہوریت کے نام پر سیاست کا جنازہ نکالا جا رہا ہے۔ جاوید احمد میر نے کہا جموں کشمیر کے عوام کے دل جیتنے اور تنازعہ کشمیر کے پر امن حل کے لئے کو ہمالیہ دِ ل جیسے جرت مندانہ فیصلے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ کشمیری عوام اور تنازعہ کشمیر کے پر امن حل کے حوالے سے دبائو ،دھونس ظلم و جبر اور قدغن کی پالسی 1947؁ء سے مکمل طور نا کام ہو چکی ہے۔ جبکہ اس وقت دہلی کے تہاڑ جیل میں کشمیری حریت پسند قیادت محمد یاسین ملک ، شبیر احمد شاہ ، آسیہ اندرابی، محمد الطاف شاہ اور دوسرے رہنمائوں کو کیوں بدلے اور ظلم و جبر کی سیاست کے ذریعے عتاب کا نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ تواریخ گواہ ہے کہ لبریشن فرنٹ کے قائد محمد یاسین ملک نے ہی 1995؁ء میںجنگ بندی کر کے ہند و پاک کے ساتھ ساتھ عالمی برادری کو تنازعہ کشمیر کو جنگ و جدل ، خون خرابے کے بغیر حل کرنے کا مشورہ دیا تھا۔