القاعدہ کی دھمکی کو سنجیدگی سے نہ لیا جائے: وزارت خارجہ

12 جولائی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

نیوز ڈیسک
نئی دہلی // مرکزی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ القاعدہ سربراہ کے کشمیر سے متعلق دی گئی دھمکی کو سنجیدہ نہ لیا جائے کیونکہ بھارت اتنی طاقت رکھتاہے کہ وہ اپنی سر زمین کا دفاع کر سکے۔وزارت خارجہ ترجمان رویش کمار نے کہا’’ بھارت کے پاس اتنی طاقت ہے کہ وہ اپنی سالمیت اور خودمختاری کی حفاظت کرسکے، لہٰذا القاعدہ چیف ایمن الزاوہری کی طرف سے کشمیر پر دی گئی دھمکی کو سنجیدہ لینے کی ضرورت نہیں ہے‘‘۔ ایک سوال کے جواب میں رویش کمار نے کہا’’ ہم ایسی دھمکیاں سنتے رہتے ہیں، ایسا پہلی بار نہیں ہوا کہ ہمیں ایسی دھمکیاں سننے کی ملی ہیں، مجھے نہیں لگتا انہیں زیادہ سنجیدہ لیا جائے‘‘۔انکا کہنا تھا کہ القاعدہ اقوام متحدہ کی طرف سے ایک دہشت گرد تنظیم قرار دی گئی ہے، اور اسکا لیڈر عالمی دہشت گرد قرار گیا ہے،ہمارے سیکورٹی فورسز میں اس قدر قوت اور طاقت ہے کہ وہ اپنی سر زمین کا دفاع کرسکے،گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں، ملک کی سالمیت کا دفاع کیا جائیگا۔کشمیر سے متعلق القاعدہ سربراہ ایمن الزاوہری کے ویڈیو پیغام، (کشمیر کو مت بھولیں)جو القاعدہ کی چینل ’اصحاب‘ پر جاری کیا گیا، میں وہ جنگجوئوں سے کہہ رہا ہے کہ وہ مرکزی تنصیبات کے علاوہ فوج پر حملے کریں۔ویڈیو میں وہ کہہ رہا ہے’’ میرے خیال میں  کم سے کم اس وقت ،کشمیر میں جنگجو صرف اس بات پر توجہ مرکوز رکھیں کہ وہ حکومت اور بھارتی فوج کو نقصان پہنچایا جاسکے،تاکہ بھارت کی اقتصادیات کو متاثر کیا جائے جس سے بھارت کو برے پیمانے پر نقصانات سے دوچار کیا جاسکے۔القاعدہ سربراہ کو ویڈیو پیغام میں یہ کہتے سنا جاسکتا ہے ’’ پاکستان اور اسکی فوج امریکہ کے پٹھو ہیں، لہٰذا جنگجو اس جال میں نہ پھنسے، پاکستان اور وہاں کی فوج کو صرف اس بات میں دلچسپی ہے کہ جنگجوئوں کا نام استعمال کر کے سیاسی مقاصد حاصل کئے جاسکیں،پاکستان کا بھارت کیساتھ تنازعہ جغرافیائی ہے نہ کہ مذہبی۔انہوں نے جنگجوئوں سے کہا کہ وہ پوری دنیا میں مسلمان بھائیوں کیساتھ مضبوط رابطے قائم کریں اور کشمیر میں مساجد، بازاروں اور مسلمانوں کے اکھٹے ہونے  کے مقامات پر حملے نہ کریں۔
 

تازہ ترین