کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

5 جولائی 2019 (00 : 01 AM)   
(   صدر مفتی دارالافتاء دارالعلوم رحیمہ بانڈی پورہ    )

مفتی نذیر احمد قاسمی
 سوال:۔ اس وقت ہماری زندگی میں جن مصنوعات کا روزمرہ استعمال ہو رہاہے، اُن میں عام طور پر مختلف اقسام کے پلاسٹک اور پالی تھین کی پیکنگ کی گئی ہوتی ہے۔ وہ کھانے پینے کی اشیاء ہوں، پہنے اُوڑھنے کی چیزیں ہوں یاعلاج معالجہ کےلئے ادویات ۔ غرض کوئی بھی شے ایسی نہیں جو پلاسٹک یا پالی تھین کی پیکنگ سے خالی ہو، حتیٰ کہ پینے کےلئے پانی، جو زندگی کی بنیادی ضرورت ہے ،بھی پلاسٹک کی بوتلوں میں فراہم کی جاتی ہے۔ ظاہر بات ہے کہ استعمال کے بعد یہ اشیاء پھینک دی جاتی ہیں۔ نتیجتاً اس وقت دنیا بھر میں کروڑوںٹن پالی تھین اور پلاسٹک کوڑے کرکٹ کی صورت میں پڑا ہوا ہے ۔ جس سے نہ صرف اراضی کی بڑے پیمانے پر  تباہی واقع ہو رہی ہے بلکہ چھوٹے بڑے سمندروں، جھیلوں اور آب گاہوںمیں آلودگی کی حدود انتہا کو پہنچ گئی ہیں۔ ماہرین اسے موسمیاتی تبدیلی کے لئے بنیادی وجہ گردانتے ہیں اور اس موسمیاتی تبدیلی کے نتیجہ میں زرعی سرگرمیوں کو بے بیان نقصان پہنچ رہا ہے۔ اب سوال یہ ہےکہ کیا ایسی اشیاء کا استعمال، جو ماحولیاتی آلودگی کا سبب بن جائیں، شرعی اعتبار سے درست ہے؟ یہ بھی خیال رہے کہ ان اشیاء کے ساتھ دنیا بھر میں بہت بڑی صنعت وابستہ ہے، جس میں کھربوں روپے کی سرمایہ کاری ہوتی ہے اور لاکھوں لوگ روز گار حاصل کر رہے ہیں۔
شوکت احمد
فردوس آباد بٹہ مالو سرینگر
 

 کرّ ۂ ارض پر پلاسٹک مصنوعات کے ضرر ِ رساں اثرات ۔۔۔۔۔۔متبادل کے تلاش کی ضرورت

 
جواب:۔ شریعت اسلامیہ کے دو اصول، جو زیر نظر اہم مسئلہ کے لئے اساس بن سکتے ہیں، ملاحظہ ہوں۔ ایک اصول کو اِختیَارُ اَھو’نِ بَلیِتَن کہتے ہیں۔ ا س کا مفہوم یہ ہے کہ جب کسی معاملے کے دو پہلوں ہوں اور دونوں میںکچھ نہ کچھ مضرتیں ہوں تو کم مضرت والے پہلو کو اختیار کیا جائے۔دراصل بہت سارے معاملات ایسے ہوتے ہیںجن کے ایک سے زیادہ پہلو ہوتے ہیں اور ہر پہلو اپنے اندر کچھ فوائد بھی رکھتا ہے اور کچھ مفاسد بھی ! مثلاً ایک خاتون کےوضع حمل کا مسئلہ ہو۔ اگر طبی ولادت نہ ہوپا رہی ہو تو کیا کیا جائے؟اس صورتحال میں دو ہی ممکنہ راستے ہیں یا تو سیزر ین یعنی عمل جراحی کے ذریعہ بچہ نکالا جائے یا پھرفطری ولادت کا انتظار کیا جائے، جس میںشدت اذیت کے ساتھ ساتھ موت واقع ہونے کا اندیشہ بھی ہوسکتاہے۔دونوں میںمنافع ومفاسد جمع ہیں۔ اب جس صورت میں مضرت کم ہو، وہ اختیار کی جائے۔ اسی طرح مثلاً ایک شوگر کے مریض کو دانت نکالنا ہے۔ اگر دانت نکالا جائے تو زخم ہراہی رہے گا اور اگر دانت نہ نکالا جائے تو درد و تکلیف برداشت کرنا پڑےگا۔ ان دونوں صورتوں میں کم نقصان والی شکل اختیار کی جائے،۔ مسئلہ کی یہ صورت چھوٹی سطح پر انفرادی طو پر بھی پیش آسکتی اور بڑے پیمانے پر اجتماعی سطح بھی درپیش ہوتی ہے۔
دوسر ااصول یہ ہے کہ ضررِ محدود کو گورا کرنا ہی ضروری ہے جب ضررِ عام سےبچنے کا مرحلہ درپیش ہو۔ یعنی کسی معاملے میں د وپہلو ہوں ایک نجی یا محدود دائرے تک ہی منحصر ہو اور دوسر اپہلو عوام کو محیط ہو تو ضرر ِمخصوص کو برداشت کر لیا جائے تاکہ ضررِ عام سے تحفظ ہو پائے۔
مثلاًاایک نااہل شخص لوگوں کا علاج معالجہ کرنے لگے جس سے عوام کو ضرر ِپہونچے تو ایسے شخص کو علاج  کرنے سے روک دیا جائے، حالانکہ یہ اُ س کے روزگار کا مسئلہ ہے۔ مگر عوام کو ضرر سے بچانا اہم ہے بمقابلہ اس کے کہ ایک شخص کا ذریعہ آمدنی بچایا جائے۔۔۔ اور لوگوں کو نقصان پہنچے۔ اسلامی فقہ میں ان دونوں قواعد کی بے شمار مثالیں لکھی ہوئی ہیں۔
ان دونوں قواعد کی روشنی میں زیر نظر مسئلہ پر غور کیا جائے۔ پلاسٹک اور پالی تھین کا استعمال جس کثرت سے ہو رہا ہے۔ اُس کے خطرناک مضر اثرات عالمی سطح پر بھی اور ملکوں ، خطوں کی سطح پر بھی اور مقامی سطح پر بھی جتنے ہمہ گیر اور متنوع ہیں، اس کے سلسلے میں ماہرین اکثر متنبہ کرتے رہتے ہیں اور اخبارات بھی اس سلسلے میں متوقع خطرناک اثرات کی تفصیلات شائع کرتے ہیں۔
پلاسٹک اور پالی تھین کی اس عالمگیر انڈسٹری کے اب د وپہلو ہیں ۔اگر اس صنعت سے وابستہ لاکھوں انسانوں کے روزگار کو بچانے کی نیت سے اس کو قانوناً و شرعاً جواز کا حکم دیا جائے تو اس کے اُن مضر اثرات کا خدشہ ہی نہیںبلکہ وقوع بھی طے ہے اوراگر ان مضر اثرات جو زمین، پانی، خشکی، سمندر، حیوانات اور موسمی تغیرات و احوال سب پر مرتب ہو نگےتو اُن اثرات سے بچنے بچانے کی بنا پر اس پر قانونی پابندی اور شرعی قانون کا حکم جاری کیا جائے تو اُن افراد کاروزگار ختم ہوگا جو اس صنعت کا خاتمہ ہوگا ،جو بے شمار آسانیوں کا سبب ہے اوربے شمار لوگوں کی معیشت کا ذریعہ ہے نیز بعض ضروری صورتوں کا خاتمہ مشکلات کا ذریعہ ہے ،مثلاً پینے کے پانی کی بوتلیں وغیرہ ۔جب مضر اثرات کا دائر دیکھا جاتا ہے تو ماہرین کی تحقیقات کے مطابق یہ نقصان دہ اثرات انسانوں ،جانوروں، تمام سمندری مخلوقات، خشکی میں تمام نباتات، زمین سے پید اہونے والی تمام اجناس اور جنگلی جانوروںحتیٰ کہ پرندوں کو نیز پھلوںو سبزیوں تک وسیع اور محیط ہیں۔
اس وسیع نقصان اور عالمگیر و ہمہ گیر خرابی سے بچائو او رماحولیات کو محفوظ رکھنے کا تقاضا یہ ہے کہ اس پوری انڈسٹری کو قانوناً ممنوع قرار دیا جائے۔ظاہر ہے کہ یہ کام حکومتوں اور قانونی اداروں کا ہے مگر اس کےلئےضروری ہے کہ ماہرین کی تحقیقات کی روشنی میں اس کے اثرات و نقصانات کو تفصیل کے ساتھ بذریعہ میڈیا عام کیا جائے۔ اس کےلئے عوامی اجتماعات، سمینار، سمپوزیم کئے جائیں اور اس کے ذریعہ پھیلنے والی خرابیوں کا مشاہدہ کرانے والے پریزنٹیشن (PRESENTATION)پیش کئے جائیں۔ا سے قانوناً جرم قرار دے کر سختی سے نافذ کیا جائے۔ اگر پلاسٹک اور پالی تھین کی اُن مصنوعات، جو استعمال کے بعد پھینک دی جاتی ہیں، کو قانوناً ممنوع قرار دیا گیا تو اس کےلئے اولاً اُن فیکٹریوںکو ہی پابند بنانا ہوگا جو اس طرح کی استعمال استعمال کی اشیاء بناتی ہیں۔اب مسئلہ رہے گا پانی کی اُن بوتلوں کا جو ہلکے پلاسٹک سےتیار ہوتی ہیں اور پانی کے استعمال ہونے کے بعد اُن کو پھینک دیا جاتا ہے ۔ا س کے لئے ضروری ہے کہ ماہرین ایسی بوتلوں کے تیار کرنے کےلئے ریسرچ کریں جو استعمال ہونے کے بعد جلد سے جلد تحلیل ہو جائیںیا زمین کے لئے کھا د بن سکیں۔ جب تحقیق جاری رہے گی تو ضرور ایسی بوتلوں کی صنعت وجود میں آئے گی جو ان مضر اثرات سے نسبتاً محفوظ ہوںگی۔
اس ہمہ گیر اثرات کے حامل مسئلہ کے متعلق اسلام کا مؤقف واضح کرنے کےلئے ابتداء میں ذکر کردہ د واصول ملحوظ رکھے جائیں تو نتیجہ یہ نکلے گا کہ کم تر ضرر جس صورت میں ہو وہ اختیار کیا جائے۔ اور اسی طرح نسبتاًمحدود ضرر والی صورت اختیار کی جائےتاکہ بڑے اور عالمگیر ضرر سے بچائو ہو سکے۔ دراصل حقیقت یہ ہے کہ اس طرح کے نئے اور وسیع اثرات کے حامل مسائل کےلئے آج کے دور میں اجتماعی و سوائی اجتہاد کا طریقہ کار اختیار کیا جاتا ہے۔ چنانچہ اس مسئلے کےلئے ایک سے زیادہ پہلو زیر نظر رکھ کر فیصلہ کیا جائےگا اس کے نقصانات کی تفاصیل ماہرین کے توسط سے مہیا کی جائے گی اور روزانہ زمین اور پانی میں شامل ہونے والے پلاسٹک و پالی تھین کا ایک محتاط تخمینہ سامنے رکھ کر مستقبل میں زمین، پانی، ہوا کےلئےہر ممکنہ مضر اثرات کا خاکہ پیش کیا جائے گا اور پھر شرعی قواعد جو اوپر درج کئے گئے اور اس سے ملتے جلتے دوسرے اصولی احکام کو سامنےرکھا جائے گا اور پھر علماء، فقہا اور ماہرین کے اجتماعی بحث و تمحیص کے بعد شریعت اسلامیہ کا حتمی فیصلہ سامنے آئے گا اور وہ فیصلہ جہاں مسلم ممالک کے لئے حکم کا درجہ رکھے گا اوراس لئے کہ خود مسلمانوں کے ہاتھوں میں نظام حکومت ہے اور اسلام کاحکم ہوگا اور غیر مسلم ممالک اور معاشروں کےلئے قابل غور، قابل تقلید و قابل استفادہ رہنمائی کا مؤقف ہوگا۔ کیونکہ یہ تمام انسانی برادری کامسئلہ ہے۔ راقم الحروف اس سلسلے میں طویل غور وخوض اور متعدد علما ء و ماہرین سے بحث و گفتگو کے بعد جو کچھ سمجھ سکا اور جس نتیجہ پر پہنچا وہ پیش کر دیاکہ اس پر ممانعت کا قانون جاری کیاجائے۔ اور جہاں اس کا استعمال لابدی ہے اس کےلئےماہرین سے متبادل مہیا کرنے کی اپیل کی جائے۔
.................................
سوال:۱-چست لباس پہننے کا رجحان عام ہورہاہے ، خاص کر زین پینٹ،جس میں بیٹھ کر پیشاب پھیرنا مشکل ہوتاہے تو لوگ کھڑے ہو کر پیشاب پھیرتے ہیں ۔ اس کے بارے میں شرعی حکم کیا ہے ؟
سوال:۲-متعدد لوگ پیشاب پھیرتے وقت اس بات کا خیال نہیں کرتے کہ جس طرف منہ کرکے وہ پیشاب کررہے ہیں کہیں اس طرف قبلہ تو نہیں ؟اس کے بارے میں کیا حکم ہے ۔
فاروق احمد خان …سرینگر

چست لباس کے بارے میں شرعی حکم 

جواب:۱-ایسا تنگ لباس جس میں جسم کا حجم خاص کر ران اور سرین کا پورا نشیب وفراز ظاہر ہو یہ لباس غیر شرعی ہے۔اس غیر شرعی لباس کا ایک خطرناک نقصان یہ ہے کہ جب پیشاب کرنا ہو تو چونکہ سخت چست ہونے کی وجہ سے بیٹھنا مشکل ہوتاہے اس لئے کھڑے ہوکر ہی پیشاب پھیرنا پڑتاہے ۔ اب دیکھئے حدیث میں کیا ہے ۔
بخاری شریف میں حدیث ہے کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دوقبروں کے پاس سے گزرے۔ پھر آپ نے ان دونوں قبروالوں کے متعلق فرمایا ان کوعذاب ہورہاہے۔ایک کو اس وجہ سے کہ یہ پیشاب کی چھینٹوں سے بچنے کا اہتمام نہیں کرتا تھا ۔کھڑے ہوکر پیشاب کرنے پر لازماً کپڑوں اور پائوں پر چھینٹیں آتی ہیں اور اس طرح وہ عذاب کا مستحق ہوجاتا ہے۔دوسری حدیث جو ترمذی میں ہے کہ حضرت عائشہ ؓ نے روایت کی کہ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ جناب رسول اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوکر پیشاب کرتے تھے تو ہرگز یہ بات مت ماننا۔حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ بیٹھ کر پیشاب کرتے تھے ۔ حضرت علامہ انورشاہ نے فرمایا کھڑے ہو کرپیشاب کرنا کفار کا شعارہے ۔ اس لئے مسلمانوں کے لئے  ہرگز یہ جائز نہیں کہ وہ دوسری قوموں کا شعار اختیار کرکے کھڑے ہوکرپیشاب کریں۔

قبلہ رو ہوکرپیشاب پھیرنا حرام 

جواب:۲- بخاری ، مسلم ، ترمذی، ابودائود ، نسانی ، ابن ماجہ اور دوسری تقریباً تمام حدیث کی کتابوں میں ہے ۔
حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم غائط (پیشاب پاخانہ کی ضرورت پوری کرنے کی جگہ) میں جائو تو نہ تو قبلہ کی طرف منہ کرنا اور نہ اس کی طرف پیٹھ کرنا۔
اس لئے جب گھروں میں یا دفتروں میں پیشاب خانے یا بیت الخلاء بنائے جائیں تو وہ شمالاً جنوباً بنائے جائیں تاکہ قبلہ کی طرف نہ تو منہ ہو جائے نہ پیٹھ ہو۔ اسی طرح جب کوئی کھلی جگہ پر پیشاب کرے تو قبلہ کی طرف نہ استقبال کرے نہ بیٹھ کر کرے۔حدیث کی ممانعت کی وجہ سے یہ حرام ہے اور شعائر اللہ کعبہ کی توہین کی وجہ سے یہ زیادہ خطرناک ہے ۔
قارئین نوٹ فرمائیں!
سوال ارسال کرنے والے حضرات اپنا نام ومکمل پتہ اور فون نمبر تحریر کیا کریں ۔ ان کا نام وپتہ ، اگر ان کی خواہش ہو ، پوشیدہ بھی رکھا جا سکتا ہے ، تاہم ادارہ کے پاس مکمل نام و پتہ ہونا لازمی ہے ۔ ترکہ اور وراثت کے معاملات میں ، جو حضرات استفسار کرنے کے خواہاں ہوں ، وہ اپنے شناختی کارڈ کا فوٹو سٹیٹ خط کے ساتھ ضرور رکھیں ۔ بصورت دیگر ادارہ سوال کی اشاعت کا مکلف نہیں ہوگا۔    (ادارہ)
 

تازہ ترین