حدِ متارکہ کے متاثرین سے بھی انصاف ہو !

26 جون 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

مرکزی حکومت کی طرف سے جموں و کشمیر میں بین الاقوامی سرحد پر رہائش پذیرآبادی کو براہ راست بھرتی میں ریزرویشن، ترقیاں اور پیشہ ورانہ تعلیمی اداروں میں داخلوں سے متعلق مراعات دینے کی تیاریاں کی جارہی ہیں جس کیلئے لوک سبھا میں بل بھی پیش کیاگیاہے ۔ اس سے قبل اسی سرحدی آبادی کی فلاح و بہبودکیلئے حکومت نے کئی دیگر اقدامات بھی کئے ہیں جن میں بنکروں کی تعمیر اور موبائل ٹاوروں کی تنصیب قابل ذکر ہے ۔ واقعی بین الاقوامی سرحد پر بس رہی آبادی بے پناہ مشکلات کاسامناکررہی ہے اور جب ہندوپاک کے درمیان فائرنگ اور گولہ باری کا تبادلہ ہوتاہے تو اس وقت لوگوں کو گھر بار چھوڑ کر کبھی ایک جگہ تو کبھی دوسری جگہ پناہ لیناپڑتی ہے ۔سرحدی کشیدگی کے دوران اس آبادی نے بار بار تباہی بھی برداشت کی ہے چاہے، وہ جانی صورت میں ہو یا مالی صورت میں ۔اس مصیبت زدہ عوام کیلئے حکومت کی طرف سے اقدامات کیاجانا قابل سراہنا اقدام ہے لیکن یہ بات دیکھی گئی ہے کہ مرکز کے ان اقدامات کا دائرہ کاربین الاقوامی سرحد پر بس رہی آبادی یعنی جموعہ ، کٹھوعہ اور سانبہ اضلاع تک ہی محدود رہتاہے اور حد متارکہ پر دونوں ممالک کی لڑائی کے درمیان پس رہی آبادی کو وہ سہولیات بھی فراہم نہیں کی جارہی جن کے بارہا وعدے کئے جاچکے ہیں ۔حالیہ برسوں کے دوران سرحدی کشیدگی کے اعدادوشمار سے یہ ثابت ہوتی ہے کہ بین الاقوامی سرحدسے زیادہ کشیدگی حد متارکہ پررہی ہے جہاں آج بھی آئے روز فائرنگ اور گولہ باری کا تبادلہ ہوتارہتاہے ۔اگرچہ حد متارکہ پر رہائش پزیرلوگوں کو بھرتیوں میں ریزرویشن دی گئی ہے لیکن باقی معاملات میں ان کو نظرانداز کردیاگیاہے ۔ کشیدگی کے دوران حفاظت کے لئے بنکروں کی تعمیر کے معاملے میں بھی اس آبادی کے ساتھ ناانصافیاں ہورہی ہیں اور بڑے بڑے دعوئوں کے باوجود آج تک گنے چنے بنکر ہی بن پائے ہیں ۔اسی طرح سے بین الاقوامی سرحد کے مکینوںکو موبائل نیٹ ورک خدمات فراہم کرنے کیلئے مرکزی حکومت نے حال ہی میں موبائل ٹاوروں کی تنصیب کو منظوری دی ہے لیکن حد متارکہ پر رہ رہے عوام پہلے سے دستیاب یہ سہولت بھی چھین لی گئی ہے ۔ واضح رہے کہ حد متارکہ پر دوردور تک موبائل نیٹ ورک کا نام و نشان نہیں ہے جس کی وجہ سے اس جدید دور میں لوگ بقیہ دنیا سے پوری طرح سے منقطع ہوکر رہ گئے ہیں ۔حالانکہ پہلے کچھ گھروں میں ڈبلیو ایل ایل فون لگائے گئے تھے لیکن وہ بھی کچھ ماہ قبل بند کردیئے گئے، جس کے بعد اب صورتحال انتہائی پریشان کن ہے ۔ حد متارکہ کے عوام کی ایک پریشانی یہ بھی ہے کہ ان میں سے کئی کواپنی ہی زمینو ں میں جانے کیلئے فوج سے اجازت لیناپڑتی ہے جبکہ تاربندی کے اند ررہ رہے لوگوں کو ہر کام یہاں تک کہ مریضوں کو ہسپتال منتقل کرنے کیلئے بھی اجازت درکار ہوتی ہے، جس دوران رات کو ہنگامی صورتحال پیدا ہوجانے پر وہ مکمل طور پر حالات کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں ۔مجموعی طور پر حد متارکہ کے لوگوں کئی سارے مسائل سے دوچار ہیں جن کوبھی حل کرنے کی ضرورت ہے ۔بین الاقوامی سرحد کے مکینوں پر مرکزی حکومت کی مہربانیاں اچھی بات ہے لیکن ساتھ ہی حد متارکہ کے عوام پر بھی رحم وکرم کیاجاناچاہئے جو کشیدگی کیا عام حالات میں بھی سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں ۔ امید کی جانی چاہئے کہ سرحدی متاثرین کے حوالے سے مرکزی حکومت کی نظریں سانبہ ، کٹھوعہ اور جموں اضلاع تک محدودنہیں رہیں گی بلکہ راجوری، پونچھ ، اوڑی  اورکرناہ کے ساتھ بھی بین الاقوامی سرحد ی متاثرین جیسا سلوک کیاجائے گا۔
 

تازہ ترین