مسلمانانِ ہند

قبل ازتقسیم بعداز تقسیم!

26 جون 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

محمد سعید اللہ مہراج گنجی
مسلمانوں  کی آمد سے قبل سرزمین ہند پر رجواڑوں کی شکل میں مختلف حکومتیں قائم تھیں، جو نہ صرف آپس میں بر سر پیکار رہتی تھیں بلکہ ان حکومتوں میں کمزور اور پسماندہ طبقات پر ظلم و ستم بھی عروج پر تھا۔ اس ظلم میں نہ صرف اربابِ اقتدار پوری طرح شامل تھےبلکہ مذہبی ٹھیکیدار بھی پیش پیش تھے۔ منووادی نظام کے تحت اس ظلم کو پائیدار بنانے کے لئے سماج کو مختلف طبقات میں تقسیم کرکے سماج طریقے پر ان کی ذمہ داریاں بھی تقسیم کردی گئی تھیں۔ اپنے ہی ہم مذہب انسانوں کے ایک طبقے کو شودر بناکر گونا گوں ظلم واستحصال کا ایک ایسا نظام جاری تھا جس کی پوری تاریخِ انسانی میں کوئی نظیر نہیں ملتی۔ ایسے ہی تاریک دور میں مسلمانوں نے ہندوستان کی سرزمین پر قدم رکھااور اپنے اعلیٰ اخلاقی اوصاف سے یہاں کے دبے کچلے مظلوم باشندوں کے دل جیت لئے۔ انہوں نے’’ الخلق عیال اللہ‘‘( تمام لوگ اللہ کا کنبہ ) کے تحت طبقاتی کشمکش کو ختم کرکے عملی طور پر مساوات قائم کیا، اونچ نیچ کے فرق کو مٹایا، عدل و انصاف کا ایک مستحکم نظام قائم کیا، یہاں کے مختلف رجواڑوں کو ختم کرکے اکھنڈ بھارت کی عملی تصویر دنیا کے سامنے پیش کی اور باشندگانِ ہند کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کے لئے اس قدر جدوجہد کی کہ اس ملک کو سونے کی چڑیا بنا دیا اور اپنی ہزار سالہ تاریخِ حکمرانی میں نہ صرف تاج محل، قطب مینار، لال قلعہ اور جامع مسجد جیسی عالمی شہرت کی حامل عمارتیں ورثے میں چھوڑیں بلکہ تاریخی، علمی، فکری اور تہذیبی و ثقافتی سطح پر ہندوستان کو وہ گراں مایہ دولت عطا کی، جس کا مکمل احاطہ کرنے سے تاریخ کے اوراق قاصر ہیں۔پھر وطن عزیز کی تاریخ میں وہ وقت بھی آیا، جب اس کی مقدس سرزمین پر انگریزوں کے ناپاک قدم آئے، سورت کی بندرگاہ پر وہ اُترےاور یہاں کی دولت و ثروت اور خوش حالی دیکھ کر انگشت بدنداں رہ گئے، سونے کی اس چڑیا کو دیکھ کر ان کی نگا ہیں خیرہ ہونے لگیں۔ چنانچہ انہوں نے سورت میں تجارتی کوٹھیاں قائم کیںاور دن بدن اپنی تجارت کو پروان چڑھاتے رہے، مغل بادشاہ جہانگیر کے دربار میں انہوں نے تجارتی مراعات کی درخواست بھی پیش کی، اس وقت کسی کے حاشیہ ٔ  خیال میں بھی یہ بات نہیں آسکتی تھی کہ یہ انگریز جو آج جہانگیر ی دربار میں کھڑے ہوکر عاجزانہ طریقے پر تجارتی مراعات کی بھیک مانگ رہے ہیں، کل کو اُن کی اولاد اسی جہانگیر کے اخلاف کو قید و قتل کرکے اس کے تخت و تاج پر قبضہ کر لے گی۔
وقت اپنی رفتار کے ساتھ چلتا رہا، جب تک اقتدار پر مغلیہ فرما رواؤں کی گرفت مضبوط رہی، انگریزوں کی دال نہ گلی لیکن ١٧٠٧ء میں اورنگزیب عالمگیر علیہ الرحمہ کے انتقال کے بعد جب آپسی رسہ کشی اور خانہ جنگی کی وجہ سے مرکزی حکومت کمزور ہونے لگی تو انگریزوں کو کھل کر کھیل کھیلنے کا موقع مل گیا۔ انہوں نے اپنی فطری عیاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے بال و پر نکالنے شروع کردیئے، مدراس اور کلکتہ وغیرہ میں موجود اپنی تجارتی کوٹھیوں کو قلعے میں تبدیل کرلیااور امراءکی باہمی چپقلش سے فائدہ اٹھاکر حکومت میں دخیل ہونے لگے۔ سب سے پہلے ان کی سازشوں کو نواب علی وردی خان نواب بنگال نے محسوس کیا، اور ١٧٥٤ءمیں باضابطہ فوج کشی کر کے انہیں شکتِ فاش دی اور فورٹ ولیم پر قبضہ کرکے وہاں سے مار بھگایا۔ انگریز اپنے دوسرے بڑے مرکز ڈائمنڈ ہارپر میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے، لیکن اس سے قبل کہ نواب کلی طور پر ان کا قلع قمع کرتا، پیغامِ اجل آپہنچا۔ تاہم اس دنیا سے جانے سے پہلے اس نے اپنے نواسے اور جانشین نواب سراج الدولہ کو اس فتنے کو بیخ وبن سے اُکھاڑ پھیکنے کی وصیت کردی، چنانچہ نواب سراج الدولہ نے مسندِ اقتدار پر فائز ہونے کے بعد سب سے پہلے اسی چیز کی طرف توجہ مرکوز کی اور نانا کی وصیت کو عملی جامہ پہنانے کے لئے ١٧٥٧ءمیں میدان میں آئے۔ پلاسی کے میدان میں نواب کی افواج اور انگریزوں کے درمیان گھمسان کی جنگ ہوئی اور قریب تھا کہ انگریز شکست کھاکر میدان چھوڑ دیتےکہ پہلے سے طے شدہ پلان کے تحت نواب کے کمانڈر انچیف میر جعفر نے غداری کر دی۔ نواب سراج الدولہ کو اپنی عددی برتری اور اسباب وسائل میں تفوق کے باوجود شکست ہوئی اور پھر وطن عزیز سے وفاداری کے جرم میں جامِ شہادت نوش کر نا پڑا۔اس کے بعد نواب بنگال، نواب اودھ، اور بادشاہ شاہ عالم کی متحدہ افواج ١٧٦٢ءمیں انگریزوں سے مقابلے کے لئے بکسر کے میدان میں جمع ہوئیں، مگر یہاں بھی انگریز اپنی قلتِ تعداد کے باوجود اپنے نظم وضبط کی وجہ سےان متحدہ افواج پر بھاری رہے، اور انہیں ہزیمت سے دوچار کر کے بنگال، بہار اور اڑیسہ پر پوری طرح حاوی ہو گئے۔پھر ١٧٦٥ءکے بعد جنوبی ہند سے دو طاقت ور شخصیتیں نواب حیدر علی اور ٹیپو سلطان کی شکل میں اُٹھیں، انہوں نے سب سے پہلے یہ نعرہ دیا کہ’’ ہندوستان ہندوستانیوں کا ہے‘‘ اور انگریزوں کو وطن عزیز سے نکالنے کا عزم کر لیا، انگریزوں سے لگاتار کئی جنگیں لڑیں اور انہیں شکست سے دوچار کیا۔ ایک وقت وہ بھی آیا جب ان باپ بیٹوں کے فوجی دباؤ سے مجبور ہوکر انگریز مدراس کے اپنے آخری قلعے میں محصور ہونے پرمجبور ہو گئے، اور قریب تھا کہ ہندوستان اسی وقت ان کے ناپاک وجود سے ہمیشہ کے لئے پاک ہوجاتا، مگر صلح کی ان کی عاجزانہ درخواست کو نواب حیدر علی نے اپنی رحم دل طبیعت کی وجہ سے قبول کرلیااور یہ جاتے جاتے رہ گئے۔ ١٧٨٢ءمیں نواب حیدر علی کے انتقال کے بعد ٹیپو سلطان کے زمانہُ اقتدار میں ایک بار پھر انہوں نے اپنے بال و پر نکالنے شروع کئے۔ سلطان نے۱۷۸۲-۸۳ءمیں بر وقت ان پر تادیبی کارروائی کر کے ان کو شکست فاش دی۔ جب انگریزوں کو یقین ہو گیا کہ ہم تنہا سلطان کا مقابلہ نہیں کر سکتےتو انہوں نے اپنی تمام تر عیاری کو بروئے کار لاتے ہوئے جنوبی ہند میں موجود اس وقت کی دو بڑی طاقتوں : نظام اور مرہٹہ کو اپنے ساتھ ملا لیا اور اس طرح یہ متحدہ افواج سلطان کے مقابلے میں آئیں۔ سلطان نے ہر ممکن کوشش کی کہ نظام اور مرہٹے انگریزوں سے الگ ہو جائیں مگر بدقسمتی سے ایسا نہیں ہوسکا۔ ١٧٩٢ء کی اس جنگ میں اپنے بعض امراءاور فوجی افسران کی غداری کی وجہ سے سلطان انگریزوں سے معاہدہ کرنے پر مجبور ہو گئے اور بطورِ تاوان تین کروڑ روپے اور نصف علاقہ دینے کے ساتھ ساتھ انہیں اپنے دو شہزادوں کو یرغمال بھی رکھنا پڑا۔
سلطان اور انگریزوں کے درمیان تیسری بڑی اورآخری جنگ ١٧٩٩ء میں ہوئی۔ اس جنگ میں انگریزوں نے حسبِ سابق نظام اور مرہٹہ کے ساتھ مل کر سلطان کے دارالحکومت سرنگا پٹنم کا محاصرہ کرلیا، مگر اب بھی ان کو اپنی کامیابی کا صد فیصد یقین نہیں تھا۔ چنانچہ اپنی فتح کو یقینی بنانے کے لئے ٹیپو کے امراءمیں ایک بار پھر غدار پیدا کر لئے، کمانڈر انچیف کو توڑ لیا، وزیراعظم پورنیا سمیت متعدد امراءاور اراکین دولت کو اپنا ہم نوا بنانے کے بعد یہ فوجیں آگے بڑھیںاور قلعے پر یلغار کر دیا۔ سلطان نے حتی المقدور مدافعت کی کوششیں کیں مگر اپنوں کی غداری کی وجہ سے ہندوستان کا یہ شیرِ دل فرزند اپنی کوششوں میں کامیاب نہیں ہو سکااور جب اس سے یہ کہا گیا کہ آپ یا تو انگریزوں سے صلح کرلیں یا میدان چھوڑ دیں تو اس نے یہ تاریخی جملہ کہتے ہوئے کہ’’ شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے ‘‘ شہادت کو گلے لگا لیا۔ جب متحدہ افواج کے کمانڈر انچیف جنرل ہارس کو سلطان کی شہادت کی خبر ملی تو بھاگا بھاگا آیا اور سلطان کی لاش دیکھتے ہوئے فرطِ مسرت سے چیخ اٹھا کہ آج سے ہندوستان ہمارا ہے کیونکہ اب وہ سنگِ گراں ہٹ چکا تھا جو اس کے توسیعی عزائم کی راہ میں حائل تھا۔ حقیقت یہی تھی کہ اگر ٹیپو سلطان اپنوں کی سازش کا شکار نہ ہوتے تو ہندوستان کی قسمت کا ستارہ کب کا چمک چکا ہوتا۔
 پھر ١٨٠٣ء  میں جب انگریز کی طرف سے یہ اعلان ہوا کہ خلق خدا کی، ملک بادشاہِ سلامت کا، اور حکم کمپنی بہادر کا تو نازشِ ہند حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمةاللہ علیہ نے ہندوستان کے دار الحرب ہونے کا تاریخی فتویٰ دیا۔ اس فتوے کے نتیجے میں سرفروشانِ وطن میں آزادئ وطن کا ایک طوفانِ بلا خیز پیدا ہوگیا، سید احمد شہیدؒ، شاہ اسماعیل شہیدؒ اور ان کے رفقاء کی شکل میں قافلہ ٔ حریت کی وہ مقدس جماعت وجود میں آئی جس کی نظیر آخری صدیوں میں نہیں ملتی۔ اس قافلے کا مطمحِ نظر ہندوستان سے برطانوی سامراج کا خاتمہ تھا۔ چنانچہ اس نیک مقصد کی خاطر ہجرت کرکے انہوں نے آزادقبائل کا رُخ کیا کہ وہ فاتحین کی گذرگاہ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک محفوظ مرکز بھی تھا، افراد کی دستیابی آسان تھی اور سب سے بڑی بات یہ کہ پشت پر اسلامی مملکتوں کی ایک زنجیر تھی۔ مقصد تو انگریزوں سے نبرد آزمائی تھی مگر بدقسمتی سے پنجاب میں مہاراجہ رنجیت سنگھ اور اس کے کارندوں کا ظلم بطور خاص مسلمانوں پر اپنی تمام حدوں کو پار کرچکا تھا، اور افہام وتفہیم کی تمام تر کوششیں رائیگاں ثابت ہورہی تھیں۔ چنانچہ سید احمد شہیدؒ اور ان کے رفقاء نے سب سے پہلے اس فتنے کا قلع قمع کرنا چاہا، کئی جنگوں میں انہیں شکست سے دوچار کیا۔ ادھر انگریز بھی اس جماعت کی بڑھتی ہوئی طاقت اور اس کے مقاصد سے غافل نہیں تھے، چنانچہ انہوں نے ایک طرف غلط پروپیگنڈوں کے ذریعے آزاد قبائل کو ان مجاہدین سے برگشتہ کیا، دوسری طرف سکھوں کے ساتھ مل کر متحدہ جنگی حکمت عملی تیار کی اور پھر ١٨٣١ء کی وہ منحوس ساعت آئی جب بالا کوٹ کی پہاڑیوں پر ایک غدار کی مخبری کی بنا پر اس جماعت کو چاروں طرف سے گھیر لیا گیا، مجاہدین نے جم کر مقابلہ کیا لیکن انہیں شکست ہوئی۔ سید احمد شہیدؒ، مولانا اسماعیل شہید ؒسمیت اکثر مجاہدین شہید کردئے گئے۔ اس جماعت کے بچے کھچے لوگ اپنے مقصد کی تکمیل کی خاطر ایک لمبے زمانے تک جدوجہد کرتے رہے، اور ہر طرح کی قربانیاں دے کر سر فروشی کی تاریخ میں ایک زریں باب کا اضافہ کیا۔
 اس کے بعد ١٧٥٧ء  کا وہ خونی معرکہ پیش آیا، جس کے ذکر سے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں، آخری مغل فرماں روا بہادر شاہ ظفر کی قیادت میں لڑی جانے والی یہ جنگ نہایت قیامت خیز تھی، جنرل بخت خان کے زیر کمانڈ مجاہدین نے اپنے تمام تر وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنی تمام تر کوششیں صرف کردیں کہ غلامی کی زنجیروں کو کاٹ کر سر زمین ِ ہند کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئےانگریز کے فتنے سے پاک کرلیا جائے۔ چنانچہ دہلی سمیت متعددمقامات پر ہنگامہُ کارزار گرم ہوا۔ تھانہ بھون میں حاجی امداداللہ مہاجر مکیؒ، مولانا محمد قاسم نانوتوی ؒاور ان کے رفقاء سینہ سپر تھے، تو ہردوئی، شاہجہاں پور اور لکھنو وغیرہ میں شہزادہ فیروز شاہ، مولانااحمداللہ شاہ مدراسی، اور بیگم حضرت محل وغیرہ، اسی طرح دوسری جگہوں پر دوسرے مجاہدین برسرپیکار، ۔ لیکن قدرت کو ابھی ہندوستان کی آزادی منظور نہیں تھی، چنانچہ یہ جنگ آزادی بھی ناکام ہوئی، انگریز غالب آیا، اور ظلم وستم کا وہ سیاہ باب رقم کیا، جس کے سامنے چینگیز و ہلاکو کی داستانِ ظلم بھی پھیکی پڑ گئی۔ صرف تین دن میں چودہ ہزار علماء کو شہید کر دیا گیا، چاندنی چوک سے لے کر خیبر تک کوئی درخت ایسا نہیں تھا جس پر علماء کی لاشیں نہ لٹک رہی ہوں، بادشاہی مسجد لاہور میں ایک ایک دن میں چالیس چالیس علماء کو پھانسیاں دی گئیں، انہیں توپ کے دہانے سے باندھ کر توپ چلا دیا جاتا، جس سے ان کے جسم کے پرخچے اُڑ جاتے تھے، انہیں زندہ آگ میں جلایا گیا، ہزاروں کو کالے پانی کی سزا سنائی گئی، بے شمار لوگوں کو نذرِ زنداں کیا گیا، ان کے املاک کو ضبط کر لیا گیا۔ الغرض ظلم وستم کا ایک سیاہ دور جاری تھا، خود قائدِ حریت بہادر شاہ ظفر کو ہمایوں کے مقبرے سے گرفتار کرکے لال قلعہ میں نظر بند کردیا گیا، ان کے تین جوان بیٹوں کو جنرل ہڈسن نے گرفتار کرنے کے بعد خونی دروازے پر شہید کیا، ان کی نعشوں کو وہاں لٹکایا، اور سر کاٹ کر ایک طشتری میں رکھ کر بوڑھے بادشاہ کے سامنے پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ تحفہ قبول کیجئے۔ بادشاہ نے کپڑا ہٹایا تو سامنے بیٹوں کے کٹے ہوئے سر تھے مگر آفریں ہے بہادر شاہ ظفر پرکہ انہوں نے آنسو بہانے کے بجائے فخریہ طور پر کہا’’ الحمدلله تیمور کی اولاد ایسے ہی سرخرو ہوا کرتی ہے‘‘ ۔ پھر ١٨٥٨ ءمیں خاندانِ مغلیہ کے اس آخری تاجدار کو جلا وطن کر کے بعدرنگون بھیج دیا گیا، جہاں ١٨٦٢ء میں انہوں نے جان جانِ آفریں کے سپرد کی۔
اس کے بعد ١٨٦٧ء میں دارالعلوم دیوبند کی بنیاد پڑتی ہے۔ کیا یہ فقط درس وتدریس اور تعلیم وتعلم کا ایک مرکز تھا؟ جی نہیں، بلکہ اسے ١٨٥٧ء کی جنگ آزادی میں ناکامی کی تلافی کے لئے قائم کیا گیا تھا۔
(بقیہ جمعرات کے شمارے میں ملاحظہ فرمائیں)

تازہ ترین