عالم میں تین دُنیائیں

تفریق و تضادات کی گرد ش جاری

25 جون 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

کامریڈکرشن دیو سیٹھی
آج  کل امریکی سامراج کی طرف سے ایران کے خلاف جارحیت کے عزائم اسرائیل کے تمام جارحانہ عزائم کی حمایت لاطینی امریکی ممالک میکسکو اور وینزویلا میںمسلح مداخلت کے ارادے اور امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی جنگ سے ظاہر ہے کہ یہ خطے باقاعدہ جنگ کے دہانے پر کھڑے ہیں۔ اس سلسلہ میں ضروری ہے کہ امریکی سامراج جو کہ اس وقت پہلی دُنیا کہلاتاہے کی طرف سے تیسری دُنیا کے ممالک کے خلاف غلبہ اور جارحیت کا جائزہ لیا جائے اور تاریخی پس منظر میں اس حقیقت سے بخوبی سمجھا جائے کہ سارا عالم آج بھی تین دُنیائوں میں تفریق اور تین تضادات کے گرد گھوم رہا ہے۔ کامریڈ مائوزے تنگ نے ’’تین دنیائوں‘‘ کا تصور پیش کیاتھا اور کہاتھا کہ دنیابھرمیں عوام کو متحد ہوکر پہلی دنیا یعنی بڑی سامراجی طاقتوں کے خلاف جدوجہد کرنی چاہیے۔ دنیا اسی تصور کے مطابق گھوم رہی ہے۔موجودہ عالمی صورت حال کو صحیح طورپر سمجھنے کے لئے مناسب ہوگا  کہ کرئہ ارض کی تین دنیائوں میں تفریق اور دنیا میںتین بڑے تضادات کے نظریات کو مختصر سا جائزہ لیا جائے۔ جب تین دنیائوں کی تفریق کا نظریہ پیش کیا گیا تھا اور اس وقت سوویت یونین اور امریکہ دو برتر طاقتیں جو ایک دوسرے کا گلا کاٹنے کے لئے گتھم گتھا تھیں اور سرگرمی سے نئی جنگ کے لئے تیار ی کررہی تھیں۔ پہلی دنیا کی تشکیل کرتی تھیں۔وہ سب سے بڑے بین الاقوامی ظالم ، جابر اور جارح اور استحصالی اور دنیا کے عوام کے مشترکہ دشمن کے طورپر وجود میںآچکی تھیں۔ دونوں کے درمیان دُشمنی لازماً نئی عالمی جنگ کی طرف لے جارہی تھی۔ دونوں میںعالمی برتری کے لئے لڑائی تمام ملکوں کے لئے خطرہ بنی ہوئی تھی۔۔۔ سوؤیت یونین اب زوال پذیر ہوچکی ہے۔۔ ۔۔اب صرف امریکہ ہی سپر پاور کی حیثیت سے باقی ہے جو بدستور ایک خطرہ ہے اور عوام اس کے خلاف مزاحمت کررہے ہیں ۔ یہ آج کی عالمی سیاست کے لئے ایک مسئلہ بن چکاہے۔ 
دوسری دنیا: ترقی یافتہ ممالک جاپان، یوروپ، اور کنیڈادرمیانی سیکشن کا تعلق دوسری دنیا سے ہے۔ یہ ملک تیسری دنیا کی مظلوم اور مجبور قوتوں پر ظلم و جبر کرتے ہیں اور ان کااستحصال کرتے ہیں،جب کہ امریکہ اور اس وقت کی سوویت یونین دوسری دنیا کے ملکوںکوبھی ڈراتے دھمکاتے اور کنٹرول کرتے تھے۔۔۔ لیکن سوویت یونین کے زوال کے بعد امریکہ واحد سپر پاور کی حیثیت سے انہیں اب بھی ڈراتا دھمکاتارہتاہے اور کنٹرول کرتاہے۔ لہٰذا دوسری دنیا کے ملکوں میں جاپان ، یوروپ ، کینیڈا کا کردار داخلہ ہے۔ ان کا تضاد پہلی اور تیسری دنیا کے ساتھ بنتاہے۔۔۔ لیکن پھر بھی وہ ایک طاقت ہیں جنہیں اپنی طرف جیتا جاسکتاہے یا جن کے ساتھ سپر طاقت امریکہ کے خلاف جدوجہد میں اتحاد کیا جاسکتاہے۔
 تیسری دنیا : ہم تیسری دنیاہیں۔تیسری دنیا ایک بہت بڑی آبادی کی دنیا ہے۔۔۔ سوائے جاپان کے ایشیاء کا تعلق تیسری دنیا سے ہے۔۔ سارا افریقہ تیسری دنیامیں ہے اور لاطینی امریکہ بھی۔ دیگر مظلوم و مجبور قومیں جو دنیا کی گنجان ترین آبادی والی قوموں میںشمار ہوتی ہیں اورنہایت بری طرح استحصال زد ہ ہیں، مل کر تیسری دنیا کی تشکیل کرتی  ہیں۔ ۔۔۔ سوویت یونین کے علاوہ مشرقی یوروپ کی ریاستوں کے زوال کے بعد طاقت کے توازن کا جھکائو زیادہ ترامریکہ کی طرف بڑھ گیاہے اور اب برتر طاقت امریکہ کے خلاف عالمی جدوجہد میںتیسری دنیا سب سے اہم قوت کی حیثیت سے آمنے سامنے کھڑی ہے۔ 
دنیا کے تین بڑے تضادات:
کامریڈ لینن نے جن تین بڑے تضادات کا ذکر کیاتھا اور اب بھی وہ دنیا میںتین بڑے تضادات اور ان میںسے اصل یا بنیادی تضاد کی نشاندہی بھی کی گئی تھی جو ذیل میںدرج ہے۔
 (۱) ۔ سرمائے اور محنت کے درمیان تضاد
(2)۔ سامراجی طاقتوں کے مابین تضاد
(3)۔ سامراج اور دنیا کے مظلوم و مجبور عوام اور قوموں کے درمیان تضاد
تین بڑے تضادات میںسے آخری تضاد اصل تضاد ہے لیکن کیا ان تضادات میںکوئی تبدیلی آئی ہے یا آج کی دنیامیں یہ تضادات کس طرح کام کررہے ہیں؟ اس حوالے سے جب ہم مغربی ممالک میںبھی حقیقت پر ایک نگاہ ڈالتے ہیں تو بس یہی بات سمجھ میںآتی ہے کہ (اگر کوئی نوآبادیتی یا نیم آبادیاتی ملکوں کی بات کرناہے تو کرنے دیجئے ) وہاں کے محنت کش طبقے پر نہایت منصوبہ بندی اور منظم طریقے سے حملہ کیا جارہاہے۔ سماجی بہبود ، سلامتی اور پنشن کے فوائد اور اسی طرح کے دیگر فوائد محنت کش طبقے کو فیاضیانہ تحائف کے طورپر نہ دئے گئے تھے بلکہ یہ عشروں کی جدوجہد اور جانفشانی کے بعد حاصل کئے گئے تھے۔ اب ہر شئے حملوں کی زد میںہے اور موجودہ حقوق پر حملے ہورہے ہیں۔ نام نہاد نئی معیشت (نئی مشقت) محنت کش طبقے کے حقوق خواہ وہ کتنے بھی معمولی کیوںنہ ہو واپس چھیننے کے لئے برسرپیکار ہے۔ مشرقی یوروپ کے عوام کے ایک خاصے حصے کو یہ ُامید تھی کہ ان کا مستقبل ڈالر اور یورو کے باعث روشن ہوجائے گا۔ سامراجی مجرموں نے غربت اور بے روزگاری  سے فائدہ اٹھا کر اقلیتوں کے خلاف بدترین شکل کے تشدد کو ایجاد کیا۔ لیکن آپ دیکھ سکتے ہیں کہ ایسے واقعات اب ماضی کاقصہ بننا شروع ہوگئے  ہیں۔ زندگی اپنے آپ کو منوارہی ہے۔ مشرقی یوروپ کا محنت کش طبقہ جس نے مغرب کو فریب نظر کے باعث قبول کرلیاتھا۔ اسے اب حقیقت کاسامنا کرنا پڑ رہاہے ا ور ’’محنت  بالمقابل سرمایہ‘‘ کا تضاد جاری ہے۔
 2۔ سامراجی طاقتوں کے درمیان تضاد:
 ساری دنیا کو باور کرایاگیاہے کہ روس کے زوال کے بعد سرد جنگ ختم ہوگئی ہے۔ سامراجی طاقتوں کے درمیان کوئی تضاد باقی نہیںرہاہے۔ گویا سب کچھ غیر مختلف اور یکساں ہے۔ جس طرح برطانیہ مانی سے انکل سام کی پیروی کرتاہے ۔ اگر ایسا ہی ہے تو پھر نیٹو کی توسیع کا کیا مقصد ہے؟۔۔۔۔ یورو فوج جس کی بعض ممبران نے ابھی کمزوری تجویز پیش کی ہے اور جس کی تیار ی ابھی حقیقت سے بہت دور ہے۔ اس کی وجہ تسمیہ کیا ہے ؟۔۔۔ یوروپی یونین کے لئے فرانس اورجرمنی کے درمیان کیا رشتہ ہے؟۔۔۔۔یورو جس کا بہت چرچا کیاگیا ہے۔ یوروپ کے تمام ملکوں نے اسے قبول کیوںنہیںکیا ؟۔۔۔۔ شک پر ستوں اور سٹہ بازوں نے نیٹو کی توسیع کے سلسلے میں ٹرمپ اور پیوٹن کے درمیان معاہدے کے متعلق اپنے تجزئیے کے ذریعے ایک پہلے سے ہی ہوا کر خراب کرنا شروع کردیا ہواہے لیکن یہ معاہدہ ’’کچھ لو اور کچھ دو‘ ‘ اصل میںکیاہے؟ روس کے ساتھ معاہدہ کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ صرف اس معاملے میں ہی نہیں بلکہ کئی دیگر صوبوں میںبھی ایسے معاہدے  کئے گئے، جب کہ روس کے زوال کے بعد بہت کمزور  ہوچکاہے ۔ بایں ہمہ اس حقیقت کی وجہ ہے کہ روس اب بھی دو برترایٹمی طاقتوں میںسے ایک ہے۔
مختصراً ’’سامراج کا مطلب ہے جنگ ‘‘ جب تک سامراج باقی ہے ۔ جنگ کانعرہ بھی باقی ہے اور یہ جب اپنے انتہائی عروج کی شکل میں عیاںنہیںہوتا تب بھی کمزور صورت میں اپنے مقامی خدمت گاروں کے توسط سے قائم مقام جنگیں جاری رکھتاہے۔ بعض اوقات یہ ممکن ہے کہ وہ یا ان میں سے کچھ ساز باز کرلیںلیکن سامراجیوں کے آپس میں تعلقات میںلڑائی جھگڑے کو بنیادی خدوخال کی حیثیت حاصل ہے ۔گو1980اور 1970کی طرح مقابلے کی صورت کو جو فوقیت حاصل تھی اب نہیںہے لیکن سامراج طاقتوں کے مابین ابتدائی تضاد ہر طرف سے موجود ہے۔ 
3۔ جدید دنیا میںہم ترین اصل تضاد اب بھی وہی ہے جس کی نشاندہی کئی عشرے قبل کی گئی تھی یعنی ایک طرف ساری دنیا کے مظلوم ومجبور عوام اور اقوام اور دوسری طرف امریکی سامراج کی سربراہی میں سامراج ۔ کہاجاتاہے کہ یوگو سلاویہ اور کسوو کے خلاف جنگ گزشتہ صدی کی آخری جنگ اورافغان جنگ کے ملنیم کی پہلی صدی کی پہلی جنگ ہیںلیکن کیا یہ سچ ہے؟ اگر ایسا ہے تو پھر تمام فلسطینی عوام اور فلسطینی قوم کے خلاف نسل کشی کی جنگ کو کون سی جنگ کہنا چاہیے؟ اسے کون جاری رکھے ہوئے ہے؟ پوری دنیا جانتی ہے کہ اسرائیل کی پشت پناہی اور امریکی سامراج اور پھر اس کا چھوٹا حصہ دار برطانیہ کررہاہے۔ آئے دن عالمگیر یت کی سامراجی منشا کی سرگرم طرف داری کرنے کے لئے۔ یواین او (یونائیٹڈ نیشن) ڈبلیوٹی او۔ بی ڈبلیو ۔ بی آئی ایم ایف جیسے سیاسی اور اقتصادی ادارے موجود ہیں۔ سیاسی اور اقتصادی جارحانہ جنگ کے نام پر اب جارحانہ فوجی کاروائی میں اضافہ کرنے کے بعد اسے برقراررکھنے اور مزید پھیلانے کے مقصد سے عالمی دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر اب جارحانہ فوجی کاروائی کا سلسلہ جاری ہے۔
ورلڈ ٹریڈ سینٹر اور پینٹاگن کے گیارہ ستمبر کے واقعات کے بعد انہیںفرضی بہانے کے طورپر استعمال کرتے ہوئے مکار امریکی سامراجی متکبرانہ اور گستاخانہ انداز میں بتارہے تھے:’ اگر تم ہمارے ساتھ نہیںتو پھر تم دہشت گردوں کے ساتھ ہو ‘‘ لہٰذا تم پرحملہ کرنا واجب ہے۔ وہ ریاستیں یا قومیں جو ان کے ڈاکو اور لٹیرے پن کی مخالفت کرتی ہیں ۔ ان پر ’’بدمعاش ‘‘ریاستوں کالیبل چسپاں کردیا جاتاہے،چاہے وہ عراق ہو یا شام ہو، شمالی کوریا ہو یا کیوبا ہو یاایران ہو۔گزشتہ صدی کے پچاس ویں اور ساٹھ ویں عشرے میں ان کی مقدس جنگ کمیونزم کے خلاف تھی اور موجودہ مقدس جنگ دہشت گردی کے خلاف ہے۔ 
امریکہ سامراج دنیا کے تمام عوام کا دُشمن نمبر ایک ہے۔ سوویت یونین کے خلاف اس نے ’’اتحاد عالم اسلامی‘‘ کا ایجاد کیا۔ پاکستان کے توسط سے طالبان اور اسامہ بن لادن کو پیدا کیا لیکن فلسطین میں امریکہ کے کردار نے تمام اسلامی دنیامیں غصے کی آگ کوبھڑکایا اور اُسامہ بن لادن سعودی عرب سے امریکی فوج کے نکل جانے کے بعد افغانستان میں پائپ لائن کے منصوبے سے کمائے جانے والے منافع میں حصہ داری کامطالبہ کرنے کے لئے امریکہ کی نظر میں  خطرہ (جواپنے بنانے والے کے خلاف ہوجائے) خیال کیا جانے لگا۔ مخالفت کرنے کے لئے پاکستان پر تو دبائو ڈالا ا ور خوف زدہ کیا جاسکتاتھا لیکن اس کے برعکس سعودی عرب مشرقی وسطیٰ میںامریکی مفادات کے لئے ’’ کیمپ مزید ‘‘ کی حیثیت رکھتاہے۔ (جس نے ایک مرتبہ سعودی عرب سے نکال باہر کیاتھا) نے بھی فلسطین میںامریکہ کے کردار کی کھلی مخالفت کی۔ کیا سعودی عرب کے حکمران طبقے کے کردار اب بدل گیا تھا؟۔۔۔ نہیں، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ فلسطین میںامریکہ کے جرائم کے خلاف عرب عوام کا مزاج نہایت ہی تند و تیز ہے۔ اس لئے سعودی حکومت کوعوام کی آنکھوں میںدھول ڈالنے کے لئے یہ پوزیشن لینی پڑی۔گیارہ ستمبر کے واقعات کے بعد امریکہ کے برسر اقتدارطبقے کی طرف سے امریکی قوم کے ضمیر پر’’ متعصب قوم پرستی ‘‘ کے خوب تازیانے برسائے گئے۔ لیکن چند مہینوں کے بعد دارالحکومت کے شہر میں ایک سے زیادہ لوگ احتجاج کے لئے جمع ہوئے۔ اس طرح چالیس ہزار لوگوں نے فرانسسکو میں فلسطینیوں کے حق میں مظاہرہ کیا۔
 سامراج اپنی نشو ونما کے دوران نئی شکلیں اور صورتیں اختیارکرتاہے۔ کرئہ ارض پر عوام الناس ایک بہت بڑی تعداد پر جبر اور ان کا اقتصادی ، سیاسی اور ثقافتی اور فوجی طورپر استحصال کرنے کے لئے واحد عالم گیر ریاست کی شکل میں نمود (گلوبلائزسٹیٹ) جدید دورکے سامراج کی خاص علامت بن چکی ہے۔ دنیا جہاں ایک طرف دوسری عالمی جنگ کے آس پاس جمہوری تحریک اور قومی آزادی کی لہر اور دوسری جانب سرد جنگ کے دورمیں سامراج کے مابین دشمنی سے متاثر ہوئی تھی او راب امریکی سامراج کی ( دوسری قوموں پر)  بالادستی کے جال میں پھنس چکی ہے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی پر اجارہ داری کے ذریعہ نمایاں اقتصادی استحکام ، خاص کر امریکی سامراج کی دوسرے اہم سامراجی ملکوں پر فوجی برتری، کثیر القومی مالیاتی سرمائے کا قومی سرمائے اور تیسری دنیا کی معیشت پر کنٹرول نیز عالم گیر پیمانے پر ثقافتی مداخلت کی  بوچھاڑ دیگر ممالک پر بالادستی برقراررکھنے کے اسباب ہیں۔ اس فاشسٹ وضع قطع کے امریکہ سامراج کی اساس سنگین نظریاتی بحران پرکھڑی کی گئی ہے ۔ سامراجی سرغنے اب اپنے بے بصریت نظرئیے کی حمایت سے حکومت کرناچاہتے ہیں۔
آج کے سائنسی دورمیں ٹرمپ کی طرف سے نام نہاد دہشت گردی کے خلاف نام نہاد صلیبی جنگ کا اعلان سامراج کے نظریاتی بحران کی گہرائی کو وضع کرتاہے۔ اس لئے گلوبلائز سامراج کی انسانیت کی ترقی کے لئے نئے دور کے طورپر تشہیر کسی بھی سطح سے کیوں نہ کی جائے َ؟ان گنت زندہ حقائق ، تجربے اور عمل نے یہ ثابت کردیاہے کہ یہ ننگی اور قابل نفرت قسم کی نوآبادکاری  (Colonization)کے سوا کچھ نہیں۔ نوے کے عشرے کے بعد غربت کے تیز کردہ عمل کے جال میں پھنسنے کے بعد دنیا کے عوام کی اکثریت کامعیار زندگی گر چکاہے۔ تیس ہزار بچے جوابتدائی علاج سے بچائے جاسکتے تھے۔ روزانہ موت کے منہ چلے جاتے ہیں۔ عوام الناس کی بہت بڑی تعداد ناقص غذا کے باعث صحت کے مسائل سے دوچار ہے۔ ان میںسے اکثریت ا ن کی  ہے جو بمشکل چالیس سال کی عمر کوپہنچتے ہیں۔ تیسری دنیا کے بے شمار بچے ۔غلام بچوں کی حیثیت سے دو وقت کی روٹی کا بندوبست کرنے کے لئے کام کرنے پرمجبور ہیں۔ روزانہ ہزاروں اور لاکھوں کی تعدادمیں نوجوان لڑکیوں کو اپنا بدن بیچنے (عصمت فروشی) کی طرف دھکیلا جارہاہے۔ نوجوانوں کی بے روزگار اکثریت ’’گلوبلائز مزدور منڈی‘‘ میں ذریعہ معاش کی تلاش میںمارے مار ے پھر رہی ہے۔ اس طرح انفرادیت پسندی اور آزاد خیالی کا نیا عالمی نظام صرف اس حقیقت کی غمازی کرتاہے کہ یہ نظام پوری دنیاکے عوام کی ایک بہت بڑی اکثریت کو ایک ہی کڑھائی میںتلنے کے عمل کو تیز کرتا چلا آرہاہے۔
 ایک اور پہلو جو قابل توجہ ہے ،وہ یہ کہ امریکی سامراج کی گلابلائزسٹیٹ ( جس کی افزائش دنیا کے ایک سو چالیس ممالک میںفوجی اڈے قائم کرنے کے باعث ہوئی ہے) قدرتی طورپرعالم گیر مزاحمت اور بغاوت کو معیار کے لحاظ سے لازمی اور ممکن بناچکی ہے۔ آج کسی بھی جمہوری یا قومی آزادی  کی تحریک کا دنیا کے کسی بھی ملک میںکامیاب ہونا ممکن نہیں۔ تاوقتیکہ یہ عالمی عوام کی مزاحمت کا لازم و ملزوم حصہ بن کر آگے نہ بڑھے، ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے عوام سے لے کر دنیا کے ان تمام براعظموں تک جنہیں گلوبلائزسامراج کے اسی قسم کے جبر، جارحیت اور استحصال کانشانہ بنایا جارہاہے۔ عراق میں نئے ویت نام کی حیثیت سے افزودگی پانے والی مزاحمت اور افغانستان سے لے کر نیپال ، انڈیا، پیرو ،ترکی اور فلپائن کی انقلابی تحریکوںتک۔ عوامی احتجاج کی زنجیر تک اور امریکہ سے لے کر یوروپ تک عوام کی بڑھتی ہوئی بے چینی۔۔ ۔ امریکی سامراجی اور ان کے ایجنٹ اور صرف مقامی حکمران ہی ہرکہیں عوام کے مشترکہ دُشمن ثابت ہوئے ہیں۔ 
تاہم آج کی دنیا کا فیصلہ ایک طرف امریکی سامراج  کے ہاتھوں کیا جارہاہے ۔ (جو گلوبلائزسٹیٹ کی صورت میں آگے بڑھ رہاہے) اور دوسری طرف ان کے خلاف عالمی جدوجہد ہے۔ بہرحال اکیسویں صدی میں عالمی  فیڈریشن کے تصور کی نشو ونما تک ا ور اس کے جھنڈے تلے اشتراکی تحریکیں اور ہر ملک کی قومی آزادی کی جدوجہد کا آغاز آج کی اشد سلگتی ہوئی ضرورت ہے۔ 
krishandevsethi@gmail.com
 
 

تازہ ترین