مثبت سوچ مگر دردمندانہ عملدرآمد کی ضرورت!

18 جون 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

 نئی دہلی میں منعقدہ نیتی آیوگ کی گورننگ کونسل کے پانچویں اجلاس سے ریاستی گورنر ستیہ پال ملک کا خطاب کافی حد تک ریاستی ضرورتوں کا آئینہ دار تھا۔ گورنر نے جس طرح اپنے طویل خطاب میں ریاستی ضرورتوں کا خاکہ پیش کیا،وہ قابل تحسین ہے اور انہوںنے اپنے خطاب میں جس طرح ریاست کے ترقیاتی منظر نامہ کو مزید وسعت دینے کیلئے وزیراعظم نریندر مودی کی ذاتی مداخلت طلب کی ،وہ اس با ت کی عکاسی کرتا ہے کہ ستیہ پال ملک ریاست کی تعمیر و ترقی کے حوالے سے انتہائی سنجیدہ ہیں اور وہ اس ضمن میں مرکز کی فراخدلانہ امداد حاصل کرنے کیلئے کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں۔اس خطاب میں گورنر ملک نے گورنر راج کی ایک سالہ کارکردگی کا خلاصہ بھی پیش کیا۔اس بات میں کوئی شک نہیں کہ گورنر ملک ریاست میں کافی مدت کے بعد نہ صرف پنچایتی اور بلدیاتی چنائو منعقد کرانے میںکامیاب ہوئے بلکہ انہوںنے پارلیمانی الیکشن کا پر امن انعقاد بھی عمل میں لایا اور بحیثیت مجموعی یہ تینوں انتخابات امن وقانون کی صورتحال کے اعتبار سے خاصے کامیاب رہے ۔یہ الگ بات ہے کہ ان تینوں انتخابات میں کشمیر میں بائیکاٹ کا عنصر حاوی رہا تاہم جموں اور لداخ میں بھاری پولنگ ہوئی ۔الیکشن کیلئے گورنر اگر کریڈٹ لینا چاہتے ہیں ،تو اس پر کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہئے تاہم اسمبلی انتخابات مسلسل تاخیر کاشکار ہیں اور اگر چہ الیکشن کمیشن نے کہا کہ امر ناتھ یاترا کے بعد وہ الیکشن شیڈول کا اعلان کریں گے لیکن دلّی سے جو اطلاعات آرہی ہیں ،وہ حوصلہ افزاء نہیں ہیں اور اگر مرکزی وزارت داخلہ کے حکام کا اعتبار کیاجائے تو دلّی نے اگلے سال موسم بہار میں ہی اسمبلی الیکشن کرانے کا من بنالیا ہے ۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ریاستی عوام کو اپنی حکومت کے قیام کیلئے کم از کم مزید ایک سال انتظار کرنا پڑے گاجو کوئی نیک شگون نہیںہے کیونکہ اس طرح کے عمل سے جمہوری اداروں کا استحکام متزلزل ہوسکتا ہے اور دلّی اور سرینگر کے درمیان دوریاں کم ہونے کی بجائے مزید بڑھ سکتی ہیں۔گورنر کے خطاب میں ترقیاتی پروجیکٹوں کا مفصل ذکر تھا اور انہوں نے میڈیکل کالجوں میں تدریسی سرگرمیاں شروع کرنے کو اپنی بڑی حصولیابی قرار دیا ۔بے شک یہ بڑی کامیابی ہے تاہم زمینی سطح پر صورتحال یہ ہے کہ یہ سبھی نئے کالج عارضی ڈھانچوں میں شروع کئے گئے ہیں جبکہ بیشتر تدریسی عملہ بھی عارضی بنیادوں پر تعینات کیاجارہا ہے جس کے نتیجہ میں معیاری طبی تعلیم کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا ہے اور ساتھ ہی ان میڈیکل کالجوں کیلئے ضلع ہسپتالوں کو ٹیچنگ ہسپتالوں کا درجہ دیاگیا جہاں کا منظر نامہ انتہائی مایوس کن ہے اور یہ سبھی ضلع ہسپتال خود بیمار ہیں اور طبی ونیم طبی عملہ اور ڈھانچہ کی شدید قلت سے جوجھ رہے ہیں۔ گورنر کے بقول فروری 2018 میں سوچھ بھارت مشن کے تحت ریاست سب سے خراب کار کردگی دِکھانے والی ریاست تھی مگر ستمبر 2018 میں اسے کھلے میں حاجت بشری کی عادت سے پاک قرار دیا گیا تاہم زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔بے شک گورنر کو کاغذوں پر دکھایا گیا ہے کہ ریاست میں اب کہیں بھی کھلے میں حاجت بشری نہیں ہورہی ہے تاہم سوچھ بھارت مشن کے تحت بیت الخلائوں کی تعمیر کی اگر جانچ کی جائے تو یہ ایک بہت بڑا سکینڈل ہو سکتا ہے کیونکہ ان بیت الخلائوں کے نام پر محکمہ دیہی ترقی کی ملی بھگت سے 2ہزار روپے لوگوں کو دئے گئے لیکن بیشتر بیت الخلاء کہیں بنے ہی نہیں اور وہ صرف کاغذات پر ہی موجود ہیں۔اب جہاں تک گورنر کے مطابق سوبھاگیہ سکیم کو وقت سے پہلے مکمل کرنے پر ریاست کو قومی ایوارڈ اور ایک سو کروڑ کا ایوارڈ ملنے کا تعلق ہے تو یہ بھی اطمینان بخش امر ہونا چاہئے لیکن زمینی سطح پر یہاں بھی وہ صورتحال نہیں ہے جو کاغذوں پر دکھائی جارہی ہے کیونکہ ریاست کے ابھی بھی بیسیوں دیہات میں بجلی نہیں ہے اور دیہات میں بجلی کا ترسیلی نظام ابھی بھی بوسید ہ ہی ہے ۔حکومت کو صد فیصد بجلی کی فراہمی کیلئے ایوارڈ ملاہوگا لیکن زمینی سطح پر یہ خواب شرمندہ تعبیر ہونے میں ابھی بھی سالہا سال لگ جائیں گے۔سیلاب سے نمٹنے کے لئے ڈریجنگ پروجیکٹ کی خاطر فنڈز طلب کئے گئے جبکہ ہمارے نکمے پن کا یہ عالم ہے کہ ہماری ریاست جہلم توی فلڈ ریکوری پروجیکٹ کا دس فیصد بھی تین برسوں میں صرف نہ کرسکی ۔2021تک ہر گھر کو پینے کا صاف پانی فراہم کا خواب اچھی بات ہے تاہم اس ضمن میں عملی اقدامات کرنا ضروری ہیں جو محکمہ آب رسانی کا مجموعی منظر نامہ بھی ریاست میں حوصلہ شکن ہی نہیں بلکہ مایوس کن بھی ہے۔باغبانی اور زراعت کے شعبوں کا مفصل ذکر بھی گورنر کے خطاب میں اچھا لگا لیکن دیکھنا یہ ہے کہ ان شعبوں کی عظمت رفتہ بحال کرنے کیلئے گورنر انتظامیہ کیا عملی اقدامات کرتی ہے کیونکہ اس وقت ان دونوں شعبوں کو سرکار کی دانستہ یا غیر دانستہ خاموشی کی وجہ سے ختم کیاجارہا ہے اور ریاست بتدریج خود کفالت سے دور سے نکل کر انحصاریت کے چنگل میں پھنستی چلی جارہی ہے ۔ریاست میں رواں برس کے اختتام پر سرمایہ کاری سے متعلق اعلیٰ مجلس (SUMMIT)کا اہتمام کرنے کا منصوبہ بھی بہت اچھا ہے تاہم دیکھنا یہ ہے کہ کیا ریاست میں سرمایہ کاری کیلئے فضا سازگار ہے اور کیا مقامی سرمایہ کاروں کیلئے ناموافق حالات پید اکرکے غیر ریاستی یا غیر ملکی سرمایہ کاروں کو ریاست میں سرمایہ کاری کیلئے راغب کیاجاسکتا ہے ۔کورپشن کے خاتمہ کی باتیں بہت ہورہی ہیں لیکن سرکاری مشینری سر تا پا کورپشن میں غرق ہے اور رشوت خوری کے اس ماحول میں کس طرح نجی سرمایہ کاری کا نظام پروان چڑھے گا،ناقابل فہم ہی لگتا ہے ۔وقت کا تقاضاہے کہ گورنر اپنی خوبصورت اور دل کو موہ لینے والی تقریر کو زمینی سطح پر بھی خوبصورتی کے ساتھ نافذ العمل بنائیں ورنہ دور کے ڈول ہمیشہ سہانے ہی لگتے ہیں لیکن ان سے حالت بدلتی نہیں ہے ۔اگر حالت بدلنی ہے تو کاغذات میں لکھے منصوبوں اور کامیابیوں کو زمینی سطح پر دکھانابھی ہوگا کیونکہ جو کچھ گورنر کو بیروکریسی کاغذات کا سہا را لیکر دکھانا چاہتی ہے ،وہ سب صحیح نہیں ہے بلکہ حق تو یہ ہے کہ زمینی سطح پر سیکریٹریٹ کے بیروکریٹوں کی دنیا فائلوں کی دنیا سے ہٹ کر ایک الگ دنیا ہے، جہاں عام شہری آج بھی بنیادی سہولیات کیلئے ترس رہے ہیں اور اُن کا کوئی پرسان حال نہیں۔مرکزی فنڈ ملے تو اس سے اچھا کیا ہوسکتا ہے لیکن ان فنڈس کا منصفانہ اور صحیح استعمال یقینی بناکر ہی ریاست کا ترقیاتی منظر نامہ تبدیل ہوسکتا ہے ورنہ اعدادوشمار کا یہ گورکھ دھندا ریاست کو ملکی سطح پر اعزاز تو دلا سکتا ہے لیکن اپنے لوگوں کی تقدیر نہیں بدل سکتا۔
 

تازہ ترین