عدالتی فیصلہ۔۔۔ بالآخر انصاف کی جیت ہوئی!

12 جون 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

ضلع کٹھوعہ کے ہیرانگر رسانہ علاقے میں گزشتہ برس جنوری میں پیش آئے انسانیت سوز واقعہ پر پٹھانکوٹ کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی عدالت نے منصفانہ فیصلہ سناکر انصاف کے تقاضے پورے کئے ہیں ۔یہ انصاف کی جیت اور ان عناصر کی شکست ہے جو اس واقعہ کو سیاسی و مذہبی رنگت دے کر اپنے سیاسی قدکو اونچا کرناچاہتے تھے اور جن کی حرکتوں کی وجہ سے پورے صوبہ جموں کا امن خطرے میں پڑنے لگاتھا۔ایک آٹھ سالہ بچی کی بے دردی سے عصمت دری اور اس کے بعد اس کے قتل کے واقعہ کو لے کر انصاف کے تقاضوں کو متاثر کرنے کیلئے حالات کو اس قدر حساس بنادیاگیاکہ یہ معاملہ امن و قانون کا مسئلہ بن گیا تاہم یہ عدالتی نظام کی عظمت ہے جس کی وجہ سے ظالم اور مظلوم کی پہچان سامنے آگئی ۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس واقعہ کے رونما ہونے کے بعد پہلے تحقیقات پولیس کوسونپی گئی تھی لیکن جن اہلکاروں کوحقایق کی کھوج بین پر مامور کیاگیا انہوںنے ہی شواہد مٹادیئے اور پھر یہ تحقیقاتی عمل کرائم برانچ کے حوالے کیاگیا جس نے بغیر کسی دبائو میں آئے اپنی تحقیقات مکمل کرکے کٹھوعہ کی عدالت میں چالان پیش کیا مگر مقامی وکلاء کی طرف سے کرائم برانچ کی ٹیم کو چالان پیش کرنے کی اجازت نہیں دی گئی، یہاں تک کہ دھونس دبائو اور ہلڑ بازی کرکے معاملے کواور ہی رنگت دینے کی کوشش کی گئی جس پرسپریم کورٹ نے از خو د نوٹس لیا اور پھر کیس پٹھانکوٹ کی عدالت میں منتقل کردیاگیا ۔کٹھوعہ میں ہنگامہ آرائی اور مجرمان کے حق میں ریلیاں نکال کر کیس کی سی بی آئی سے تحقیقات کروانے کا مطالبہ بھی سپریم کورٹ نے مسترد کردیا جس سے کم مدت میں انصاف کی فراہمی کا راستہ ہموار ہوا اور ایک ایسا کیس، جسے دبانے کی ہر ممکن کوششیں کی گئیں ، میں تین مجرمان کو عمر قید کی سزا جبکہ تین کو پانچ سال قید کی سزا سنائی گئی ۔واضح رہے کہ واقعہ کے کلیدی تین مجرمان کو پٹھانکوٹ عدالت نے عمر قید کی سزا سنائی ہے جبکہ شواہد مٹانے والے پولیس اہلکاروں کو پانچ پانچ سال کی قید کی سزادی گئی ہے ۔جرم کے اس واقعہ کے بعد جموں خطہ میں سماج کے اندر فرقہ وارانہ بنیادوں پر ایک واضح خلیج پیدا کی گئی اور اس کے تناظر میں کئی افراد خود ساختہ لیڈر بن کر بھی ابھرے، جنہوں نے ہر جگہ یہی شوشہ پھیلایاکہ 8سالہ بچی کی عصمت ریزی اور ہلاکت مقامی اکثریتی طبقہ کے خلاف ایک ساز ش ہے اوراس میں بیرونی عناصر تک ملوث ہیں ۔ اگرچہ جموں کے ذی حس اور باشعور عوام نے ان من گھڑت کہانیوں پر یقین نہیں کیا لیکن بڑی تعداد میں سادہ لوح عوام ان کے کہے میں آگئے اور یہی وجہ ہے کہ انصاف کی راہ میں رکاوٹ بننے کیلئے حتی الامکان کوششیں کی گئیں ۔رسانہ واقعہ کو ہندواور مسلم کے نام پر نہیں دیکھاجاناچاہئے تھابلکہ اسے صرف اور صرف انسانیت کی نگاہ سے دیکھناچاہئے تھامگر بدقسمتی سے جرم ثابت ہونے تک اسے ایک ایشو بناکر پیش کیاگیا ۔تاہم اب عدالتی فیصلہ سامنے آنے کے بعد یقینا وہ عناصر اپنا محاسبہ کریں گے کہ جواب تک کھلے عام یا پوشیدہ طور پر درندہ صفت مجرمان کا ساتھ دے رہے تھے ۔امید کی جانی چاہئے کہ ہر ایک کی طرف سے عدالتی فیصلے کا احترام کیاجائے گا اوریہ سزا مجرمانہ فکر رکھنے والوں کیلئے بھی سبق آموز ثابت ہوگی ۔یہ توقع بھی رکھی جاسکتی ہے کہ رسانہ واقعہ کے بعد شرپسندوں کی طرف سے پھیلائے گئے انتشار کا اب خاتمہ ہوجائے گا اور جموں میں ہندومسلم ایک بار پھر بھائی بھائی بن کر رہیں گے ۔ اس فیصلہ سے عدلیہ کے نظام کی اہمیت، افادیت اور غیر جانبداری ایک اعلان بن کر سامنے آئی ہے، جو موجودہ دور میں فلاح انسانیت کے لئے واحد راستہ ہے۔

تازہ ترین