تازہ ترین

رسانہ کیس : فیصلہ پر سیاسی ، سماجی اور مذہبی جماعتوں کا اظہار اطمینان

’ پولیس اور عدلیہ کا رول قابل سراہنا‘

12 جون 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

نیو ڈسک
سرینگر//نیشنل کانفرنس کی خواتین ونگ، عوامی نیشنل کانفرنس،جمعیت ہمدانیہ اورانجمن علماء و ا ئمہ مساجدنے رسانہ عصمت دری و قتل کیس کو منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے پولیس اور عدلیہ کے رول کی سراہناکی ہے۔نیشنل کانفرنس خواتین ونگ کی ریاستی صدر شمیمہ فردوس، سینئر لیڈر سکینہ ایتو ، صوبائی صدر خواتین ونگ جموں ستونت کور ،صوبائی صدرخواتین ونگ کشمیر انجینئر صبیہ قادری اور صوبائی ترجمان سارا حیات شاہ نے رسانہ عصمت دری و قتل کیس کو منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے پولیس اور عدلیہ کے رول کی سراہنا کرتے ہوئے کہا کہ قانون کی بالادستی مقدم ہے اور ہمیشہ رہنی چاہئے۔ ایک مشترکہ بیان میں پارٹی کی خواتین لیڈران نے کہا کہ رسانہ جیسے واقعات کی روکتھام کیلئے ٹھوس اور بروقت اقدامات کی ضرورت ہے اور ایسے واقعات میں ملوثین کو عبرتناک سزا دی جانی چاہئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ جس طرح سے دلی کے نربھیا کیس میں مجرموں کو پھانسی کی سزا دی گئی اُسی طرح کٹھوعہ کی معصوم بچی کے مجرموں کو بھی موت کی سزا دی جانی چاہئے۔ پارٹی لیڈران نے کہا ہے کہ سماج میں ایسے افراد کا سوشل بائیکاٹ ہونا چاہئے جو ایسے وحشیانہ، دلدوز اور شرمناک واقعات کے ملوثین کی حمایت کرتے ہیں۔  عوامی نیشنل کانفرنس کی صدر خالدہ شاہ نے مجرموں کو عدالت کی جانب سے سزا دینے کے فیصلہ کا خیر مقدم کیا ہے اور سزا دینے کی شدت میں اضافہ کرنے پر بھی زور دیا ہے ۔خالدہ شاہ نے کرائم برانچ ٹیم کی کار کردگی کی سراہنا کی جنہوں نے غیرجانبدارانہ تحقیقات کرکے کیس کو منطقی انجام تک پہنچایا ۔انہوں نے اْن تما م سیاسی ،سماجی اور مذہبی تنظیموں کا بھی شکریہ ادا کیا ہے جنہوں نے ملزموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لئے آواز بلند کی۔جمعیت ہمدانیہ کے سربراہ مولانا ریاض احمد ہمدانی نے عدالتی فیصلے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کیس میںملوث افراد کیلئے سزائے موت کا انتظار کررہے تھے۔انہوں نے پولیس کی تحقیقاتی ٹیم کی طرف سے مضبوط کیس بنانے اور عدالت کی طرف سے انصاف پر مبنی فیصلے کو اطمینان بخش قرار دیا۔ انجمن علماء و ا ئمہ مساجد کے امیر حافظ عبدالرحمن اشرفی نے عدالت کے فیصلہ کو اطمینان بخش قراردیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ سزا بہت کم لگتی ہے تاہم عدالتی فیصلہ سے حق کو فتح ضرور ملی ہے کیونکہ عدالت نے بہت ہی کم مدت کے اندر تاریخ ساز فیصلہ سناکرایک تاریخ رقم کی۔
 
 
 

فیصلہ قابل سراہنا:سکھ یونائٹڈ فورم 

ایسے مجرموں کو سزائے موت دینے کا مطالبہ

سرینگر//سکھ یونائٹڈ فورم جموں اور کشمیر نے رسانہ کیس کے معاملے میں عدالتی فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے حکومت پر زور دیا ہے کہ رنبیر پینل کوڈ (آر پی سی )میںترامیم کو سختی کے ساتھ عملایا جائے تاکہ ایک معصوم بچی کی عصمت لوٹنے والوں کو موت کی سزا دی جاسکے۔ فورم کے چیئرمین ایس سدھرشن سنگھ وزیر نے جموں میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ’’ریاستی حکومت کو آر پی سی میں دفعہ376اے اور بی کو شامل کیا جائے تاکہ 12سال سے کم عمر کے کسی بھی بچے کے ساتھ اگر زیادتی ہوجائے تو مجرم کو سزائے موت دی جاسکیبالخصوص عصمت دری کے معاملات میں‘‘۔ 
 
 
 

عدالت کے فیصلے پر خفا نہیں ہیں: اشوک کول

سی بی آئی سے تحقیقات کرائی جائے:بھیم سنگھ

سرینگر//بی جے پی نے رسانہ عصمت دری و قتل کیس کے فیصلے پر کہا ہے کہ عدالت کی طرف سے مجرم قرار دئے گئے افراد عدالت عظمیٰ میں اپیل کرسکتے ہیں۔ پارٹی نے میڈیا رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے بتایا کہ عدالت کی طرف سے جو فیصلہ سامنے آیا ہے پارٹی اُس پر خفا نہیں ہے۔پارٹی کے جنرل سیکریٹری اشوک کول نے کے این ایس کو بتایا کہ بی جے پی چاہتی ہے کہ واقعہ میں ملوث عناصر کو سخت سزا دی جانی چاہئے اور متاثرین کو ہر حال میں انصاف فراہم ہو۔انہوں نے بتایا کہ پٹھانکوٹ عدالت کی جانب سے مجرم قرار دئے گئے افراد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ عدالت عظمیٰ میں فیصلے کو چیلنج کرسکتے ہیں۔ اس دوران اسٹیٹ لیگل ایڈ کمیٹی جموں وکشمیر کے ایگزیکٹیو چیئرمین پروفیسر بھیم سنگھ نے راسانہ کیس پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس وحشیانہ معاملہ کی کسی آزاد تفتیشی ایجنسی سی بی آئی یا سپریم کورٹ کی نگرانی میں تفتیش کرائی جانی چاہئے۔انہوں نے کہا کہ تفتیشی ایجنسی کو سازش تک پہنچنے میں مکمل تعاون دیا جائے گا۔