تازہ ترین

۔12جون:بچہ مزدوری روکنے کا عالمی دن

محکمہ لیبر کشمیر میں سروے بھی نہ کرسکا،نونہالوں کا مستقبل کون سنوارے؟

12 جون 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

بلال فرقانی
 سرینگر// عالمی یوم انسداد بچہ مزدوری پر ماہرین نے کہاہے کہ بچہ مزدوری مخالف قوانین میں کافی خامیاں ہیں،جبکہ وادی میں بچہ مزدوری کی روک تھام کیلئے کوئی بھی جامع پالیسی نہیں ہے۔انہوں نے بچوں کو قوم کی اْمید اور مستقبل کے روشن چراغ قرار دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی قوم و ملک کے عروج و زوال کا انحصار اسی نسل پر ہوتا ہے۔ دنیا بھر میں12 جون کو عالمی یوم انسداد بچہ مزدوری اس عزم کے ساتھ منایا جاتا ہے،چھوٹے بچوں کے ہاتھوں میں اوزار کے بجائے قلم اور کاغذ تھما دیا جائے۔بین الاقوامی سطح پر امسال یوم انسداد بچی مزدوری کیلئے’’بچوں کو میدانوں میں نہیں بلکہ خوابوں میں کام کرنا چاہے۔‘‘ اسسٹنٹ لیبر کمشنر سرینگر رابعہ اقبال نے تاہم اس بات کو تسلیم کیا کہ محکمہ کی طرف سے ماضیقریب میں چائلڈ لیبر پر کوئی بھی سروئے نہیں کی گئی۔ اسسٹنٹ لیبر کمشنر سرینگر رابعہ اقبال نے کہا’’ ہم بچہ مزدوری کو ختم کرنے کیلئے تیار ہے،تاہم قانون نافذ کرنے والی مختلف ایجنسیوں بشمول پولیس،سیول انتظامیہ کے درمیان تال میل کے فقدان سے ہدف پورا نہیں ہو رہا ہے۔‘‘ کشمیر عظمیٰ کے ساتھ بات کرتے ہوئے  انہوںنے کہا کہ بچہ مزدوری کی وباء، مالیاتی صورتحال کے نتیجے میں سامنے آتی ہے،اور بچوں کو اپنی تعلیم کو بیچ میں ہی خیر باد کہنا پڑتا ہے،اور انہیں اپنے معصوم کندھوں پر اپنے کنبوں کی کفالت کا بوجھ اٹھانا پڑتا ہے۔رابعہ اقبال کا کہنا ہے تھا یہ صورتحال جوکہ بچوں کے مستقبل کیلئے زہر ہلاہل ہے،تاہم اس کو ختم کرنا مشکل کام نہیںلیکن آپسی تال میل کا فقدان اس کو کچھ مشکل ضرور بناتاہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نہ صرف انتظامیہ بلکہ سماج اور معاشرے کا بھی کردار بنتا ہے کہ وہ اس وباء کو ختم کرنے میں اپنا رول ادا کریں۔
اسسٹنٹ لیبر کمشنر سرینگر نے کہا’’ہم لوگوں کو اس سلسلے میں بیدار کرنے کیلئے وقت وقت پر سمیناروں اور بیداری مہموں کا بھی انعقاد کرتے ہیں،تاہم ہماری کاوشیں اس وقت ضائع ہوتی ہے،جو لوگ اس طرح کے مسائل کو انتظامیہ کے سامنے لانے میں عار محسوس کرتے ہیں۔‘‘ان کا کہنا تھا کہ لیبر محکمہ صرف اس دکاندار یا مالک کے خلاف قانونی کاروائی عمل میں لانے کیلئے راہ تیار کرسکتا ہے،جو بچوں کو اس وبائو میں جھونک کر انکے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کر رہا ہے،تاہم قانون میں ایسے کوئی صورت موجود نہیں ہے کہ متعلقہ محکمہ انہیں سلاخوں کے پیچھے دھکیلے۔ رابعہ اقبال نے تاہم واضح کیا کہ محکمہ کو ان بچہ گداگروں کے ساتھ کوئی بھی سروکار نہیں ہے جو راستوں پر گداگری میں مصروف رہتے ہیں،یا اپنا خود کا کاربار کرتے ہیں۔ اسسٹنٹ لیبر کمشنر سرینگر نے بتایا’’ہم ان مالکان کیلئے صرف قانون کاروائی کی منظوری دے سکتے ہیں،جو بچوں کی مجبوریوں کا فائدہ اٹھا کر انکے ساتھ استحصال کرتے ہیں،تاہم انہیں از خود سزا نہیں دیں سکتے۔‘‘ سینٹرل یونیورسٹی کشمیر کے راجسٹرار پروفیسر فیاض احمد نکہ کی طرف سے آزادانہ تحقیقات’’جموں کشمیر میں بچہ مزدوری،سماجی،معاشی اور اخلاقی پہلو‘‘ نے جموں کشمیر میں بچہ مزدورں کی تعداد کو2لاکھ50ہزار قرار دیا ہے،جبکہ2001میں ریاستی حکومت کی طرف سے مردم شماری میں بھی اس کی تعداد ایک لاکھ75ہزار قرار دی گئی ہے۔ادھر ماہرین کا کہنا ہے کہ جموں کشمیر میں  بچہ مزدوری کے انسداد کیلئے جو قوانین رائج ہیں،ان میں خامیوں سے بھر پور ہے،کیونکہ محکمہ لیبر صرف ان کیسوں کو ہی بچہ مزدوری کے زمرے میں لاتا ہے،جو18برس کی عمر سے کم کسی مالک کے تحت کام کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے’’ غیر منظم شعبوں،جن میں قالین،دستکاری،پشمینہ،شالبافی اور روایتی خاندانی کاروبار کے تحت آزادانہ طور پر کام کر تے ہیں،کو بچہ مزدوری کے زمرے میں نہیں لایا جاتا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بیشتر بچے دست کاری،قالین بافی،شالبافی زرعی سرگرمیوں،اینٹوں کے بٹھوں اور دیگر روایتی خاندانی کاروبار میں مصروف عمل رہتے ہیں۔ اس دوران انکشاف ہوا ہے کہ محکمہ میں عملے کی بھی کمی ہے،اور تمام اضلاع میں انسپکٹروں کی تعداد صرف12ہے۔ایڈوکیٹ اعجاز احمد کہنا ہے کہ ایک انسپکٹر کیلئے پورے ضلع پر مکمل نظر رکھنا اور معائنہ کرنا آسان نہیں ہے،جبکہ انہیں دیگر انتظامی کام بھی تفویض کئے جاتے ہیں۔ان کا کہنا تھا موجودہ وباء سے نظریں چرانے کے بجائے حکومت کو بچہ مزدوری کی روک تھام کیلئے ایک مربوط پالیسی لیکر سامنے آنا چاہے،تاکہ اس کی جڑ سے ہی ختم کیا جائے۔ان کا کہنا تھا ’’ اپنے کنبوں کی کفالت کرنے اور ان مالکان،جو کہ انہیں کام پر رکھتے ہیں،کے خلاف کروائی عمل میں لانے سے مسائل کا ازالہ زمینی سطح پر ممکن نہیں ہے،اور نا ہی اس سے کوئی حل برآمد ہوسکتا ہے۔‘‘
سماجیات کے ایک دانشور ڈاکٹر ہلال کا کہنا ہے کہ جہاں تک وادی کشمیر کا تعلق ہے یہاں پر بچہ مزدوری کی کئی وجوہات میں تین سب سے بڑی وجوہات دیکھنے کو ملتی ہیں،جبکہ ایک یہ کہ بچوں سے زور زبر دستی کام کرایا جاتا ہے،دوسری وجہ یہ کہ بچوں کو غریبی و مفلسی کی وجہ سے مزدوری کرنی پڑتی ہے اور تیسری وجہ بچے تعلیم میں دلچسپی نہ لے کر خود اپنی مرضی سے مزدوری کرنے کا راستہ چن لیتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ان تینوں وجوہات میں بچوں کی غریبی و مفلسی ایک اہم وجہ ہے جو بچوں کو مزدوری کرنے پر مجبورکرتی ہے، غربت کے تدارک اور روزی روٹی کمانے کے لیے بچے مزدوری کے دلدل میں پھنس جاتے ہیں۔یہ تو ایک عمومی وجہ ہے جس جانب ہر ایک ذی حس و صاحب عقل انسان کی توجہ جاتی ہے۔  سماجی کارکن اعجاز طالب کا کہنا ہے کہ سرکار کو ان بچوں کے مالیاتی فوائد کیلئے پالیسی مرتب کی جانی چاہے،جہاں انہیں تعلیم کے علاوہ تربیت بھی فراہم ہو۔1996میں مرکزی حکومت کی اسکیم’’ قومی چائلڈ لیبر پروجیکٹ‘‘ کو اس مقصد کے ساتھ متعارف کیا گیا تھا،تاکہ جموں کشمیر میں بچہ مزدوری کی وبائو پر قابو پایا جاسکے۔ اس اسکیم کے تحت محکمہ کو بچے کو ماہانہ150روپے کا وظیفہ فرہم کرنا تھا،جبکہ بنیادی تعلیم کے علاوہ ہنر کی تربیت سے بھی لیس کرنا تھا۔اس حوالے سے سرینگر کے پارمپورہ،فور شور روڑ،کرسو،راجباغ اور حبک سمیت دیگر علاقوں میں بچہ مزدوروں کیلئے11 خصوصی اسکول قائم کئے گئے تھے،جبکہ جن بچوں کو پہلے ہی مختلف کام کرنے کی جگہوں پر بازیاب کیا گیا تھا ،کو ان میں داخل کیا گیا تھا،تاہم بچوں کی طرف سے کام کرنے میں دلچسپی نے اس اسکیم کو محدود کیا۔ محکمہ کے ایک افسر کا کہنا ہے’’ وہ اپنی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے نہیں،بلکہ اپنے کنبوں کی کفالت کیلئے کام کرتے ہیں،اور انہیں اس قدر رقم کی ضرورت پڑتی ہے،جس سے وہ اپنے کنبوں کی معاونت کے بوجھ سے چھٹکارہ حاصل کر سکیں۔ محکمہ کی حساست کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جموں کشمیر میں چایلڈ لیبروں کی تعداد سے متعلق کوئی بھی سروئے نہیں کیا گیا،اور ناہی کوئی معقول اعداد شمار موجود ہے،جس سے یہ معلوم ہو کہ معائنوں کے دوران کس تعداد میں چایلڈ لیبروں کو کام کرتے ہوئے پایا گیا،اور نا ہی اس تعداد کا علم ہے کہ محکمہ نے عدالتوں میں کتنے چالان پیش کئے۔ بچوں سے متعلق تحقیق کے ماہرین کا ماننا ہے کہ بچپن کی دہلیز پار کر کے یہی بچے جوان ہوتے ہیںاگر یہ نوجوان تعلیم یافتہ ہوں تو قوم ترقی کی راہ پر گامزن ہوتی ہے اور اگر اَن پڑھ ہوں تو اس میں دورائے نہیں کہ قوم زوال کی جانب گامزن ہو جاتی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اگر اس لحاظ سے اگر مستقبل کو روشن و تابناک بنانا ہے تو بچوں کو تعلیم کے نور سے منور کرنا ضروری ہے،تب جا کر یہی نسل کل کو ہماری قوم کو عروج و بلندی عطا کرنے میں اہم رول ادا کرسکنے کے قابل ہو سکیں گے۔