تازہ ترین

مغل شاہراہ کا بیشتر حصہ تباہ وبرباد | گاڑیوں کے بجائے پیدل سفر کرنا بہتر: عوامی حلقے

12 جون 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

بختیار حسین
سرنکوٹ //تاریخی مغل شاہراہ کا بیشتر حصہ تباہ و برباد ہوچکاہے اورخاص طور پر چندی مڑھ سے لیکر دبجن تک جگہ جگہ سڑک پر کھڈے بنے ہوئے ہیں جن پر سفر کرتے ہوئے مسافروں کو شدید اذیت ہوتی ہے ۔84کلو میٹر طویل اس شاہراہ کا لگ بھگ68کلو میٹر حصہ مسافت کے قابل ہی نہیں ہے اور اس حصہ پر سفر میں دوگنا وقت لگ جاتاہے ۔راجوری سے تعلق رکھنے والے توصیف مغل نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ مغل شاہراہ پر گاڑی پر سفر کرنے سے بہتر ہے کہ پیدل ہی سفر کیاجائے کیونکہ پیدل بھی ایک ہی دن لگتاہے۔انہوں نے کہاکہ بفلیاز سے دبجن تک سڑک کی حالت بیان سے باہر ہے اور نالیوں کا نام و نشان نہیں جبکہ بڑے بڑے کھڈوں سے گاڑیوں کے پرزے ہل کر رہ جاتے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ حکام کی طرف سے اس شاہراہ کو نظرانداز کردیاگیاہے جس کا ثبوت یہ ہے کہ آج تک اس کا افتتاح ہی نہیںہوا۔ان کاکہناتھاکہ انتظامیہ کے افسران بھی پتھروں اور ٹوٹی پھوٹی سڑک سے گزرتے ہیں مگر ان پر بھی کوئی اثر نہیںہوتا۔ سرنکوٹ کے ایڈووکیٹ نقی علی رضوی نے کہاکہ سرینگر جانا مصیبت بن گیاہے اور سڑک کی خراب حالت سے ہر ایک کو پریشان ہوناپڑتاہے ۔ ان کاکہناہے کہ سڑک کی فوری مرمت کی ضرورت ہے نہیں تو گاڑیوں والے اس پر چلنا ہی پسند نہیں کریں گے کیونکہ گاڑیوں کے جمپر ٹوٹ رہے ہیں ۔رابطہ کرنے پر ایگزیکٹو انجینئر مغل روڈ ترسیم تھاپہ نے بتایاکہ سڑک کی مرمت کیلئے کچھ کام کی الاٹ منٹ ہوگئی ہے اور 22کروڑ روپے کی لاگت سے تارکول بھی بچھایاجائے گا۔ انہوں نے کہاکہ اگلے دس دنوں میں کام شروع ہوجائے گا ۔انہوں نے بتایاکہ اس مرتبہ ٹینڈرنگ کے عمل میں زیادہ لوگوں نے حصہ نہیں لیا اورپسیاں ہٹانے کیلئے بھی ٹینڈر جاری کردیاگیاہے ۔