تازہ ترین

مرحوم محمددین بانڈے کی سماجی خدمات

10 جون 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

محمدعارف
 دُنیا دارالفنا ہے۔دوام صرف اللہ تعالیٰ کی ذات کوہی حاصل ہے۔دنیا میں انسان آتا ہی کچھ عرصہ کیلئے ہے اورپھراسے اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹناہوتاہے لیکن کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو دنیا سے چلے جانے کے بعد بھی لوگوں کے دلوں میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے زندہ رہتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو اپنی زندگی دوسروں کے لیے جیتے ہیں۔جن کی زندگی کا مقصدخدمت خلق اور دوسروں کو راحت و آرام پہنچانا ہوتا ہے۔جن کے شب وروزدوسروں کی فکرمیں گزرتے ہیں ۔ایسے لوگ خدا تعالیٰ کی جانب سے مقرر کردہ وقت پہ دنیا سے توبیشک چلے جاتے ہیں لیکن وہ اپنے پیچھے کچھ ایسی یادیں چھوڑجاتے ہیں جن کے باعث انھیں لوگ وقت وقت پریادکرتے ہیں ۔اس کائنات میں کئی ایسی عظیم ہستیوں نے آنکھ کھولی ، جن کی جلائی ہوئی شمعوں سے زندہ قوموں کوحوصلہ اورجینے کا سلیقہ ملا ۔ایسی ہی ایک شخصیت سے متعلق اپنے خیالات کوسپردقرطاس کررہاہوں ۔یقینا اُن کی زندگی دوسروں کیلئے مشعل راہ کی حیثیت رکھتی تھی۔حالانکہ اس کے عہداورماحول کاخاکہ کھینچنااوراس شخصیت کے کارناموں کی صحیح تصویرکشی کرنابڑی محنت اورعرق ریزی کاکام ہے ۔میری مرادمرحوم ایڈوکیٹ خواجہ محمددین بانڈے سے ہے ۔ اس بلندپایہ شخصیت سے راقم کی نہ توکبھی ملاقات ہوئی اورنہ ہی شرفِ دیدارحاصل ہوالیکن خواجہ محمددین بانڈے کی شخصیت کی عکاسی اورکارناموں کی جھلک ان کی معرکتہ الآراتحریروں سے بخوبی مل جاتی ہے ۔تخیل کی وادی میں گم ہو کرلکھی گئی ان کی تحریروں کوجب میں نے پڑھاتوکافی متاثرہوا۔بانڈے صاحب کی تحریریںان کی عظمت کی مظہر ہیں ۔مرحوم بانڈے صاحب کی شخصیت پروہی لکھ سکتاہے جسے برسوں بانڈے صاحب کودیکھنے،ان کے ساتھ اُٹھنے بیٹھنے کاموقع ملاہو،لکھنے کی اعلیٰ صلاحیت رکھتاہواورپھریہ کہ وہ بانڈے صاحب کے خیالات ونظریات سے ہم آہنگی بھی رکھتاہو۔صرف بانڈے صاحب کی تحریروں سے متاثرہوکر لکھناشائد اُن جیسی ہمہ گیرشخصیت کے ساتھ انصاف نہیں ہوگا ۔
خواجہ محمددین بانڈے کی ذات یوں تو بے شمار خوبیاں موجودتھیں لیکن ان کی ذات کی سب سے نمایاں اور قابل تعریف خوبی ان کا خدمت خلق کا بے انتہا جذبہ ہی تھاجو ان میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔جو شخص خدمت خلق کرتا ہے یقیناً وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بڑامقرب و مرغوب ہوتا ہے۔ مخلوق کی بے لوث خدمت کرنا انسانی اخلاق کا نہایت ہی اعلیٰ جوہر ہے۔جو انسان اللہ تعالیٰ کے بندوں سے پیار کرتا ہے اور اس کی مخلوق کی خدمت کسی غرض اور لالچ کے بغیر کرتا ہے حق تعالیٰ کے نزدیک اس کا مرتبہ بہت بلند ہوتا ہے، محتاج کی حاجت روائی کرنا، بھوکوں کو کھانا کھلانا، ننگے کو کپڑے پہنانا، بیمار کے لیے علاج کاانتظام کرنا، یتیموں کے سر پر ہاتھ رکھنا، اور ان کی سرپرستی کرنا ایک نیک اور اچھے انسان کاخاصہ ہے ۔آپ نے خدمت خلق کو اپنی زندگی کا نصب العین بنا رکھا تھا۔
مرحوم بانڈے صاحب اپنے دور کے پختہ سیاستدان ،ادب شناس اورقانون دان خواجہ محمددین بانڈے کی پیدائش سرحدی ضلع پونچھ کی تحصیل منڈی کے دورافتادہ گائوں اڑائی (نانہال میں)میں ۲۶؍اپریل ۱۹۳۰؁ء کورحیم جوبانڈے کے گھرہوئی۔مرحوم رحیم جوبانڈے نے اپنے بیٹے کی پرورش اورتعلیم وتدریس میں کوئی کثرباقی نہ چھوڑی ۔والدکی سرپرستی میں خواجہ محمددین بانڈے نے ابتدائی تعلیم پونچھ اسلامیہ اسکول سے حاصل کی ۔موصوف نے اپنی عملی زندگی کاآغازانسپکٹرآف سکول اورری ہیبلی ٹیشن آفیسر(Rehablitation Officer)کے طورپرکیامگرکچھ نامسائد حالات کی وجہ سے  سرکاری ملازمت کوخیربادکہامگرکچھ عرصہ کے بعد معلم کی حیثیت سے پھرمحکمہ تعلیم میں تعینات ہوئے ۔بانڈے صاحب نے بحیثیت استاداپنی ایک منفردشناخت قائم کی مگرلگ بھگ آٹھ برس تک بطوراستادمحکمہ تعلیم میں اپنی خدمات انجام دینے کے بعداس سرکاری ملازمت کوبھی خیربادکہہ دیااورعلی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں قانون کی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کیلئے روانہ ہوگئے۔علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری امتیازی حیثیت سے حاصل کی اورپھرپونچھ کورٹ میں بطوروکیل کام شروع کیا۔اخلاق ،سادگی اورجذبہ خدمت خلق سے سرشارخواجہ محمددین بانڈے نے بہت ہی جلدقانونی حلقہ میں ایک ماہروکیل کے طورپراپنی صلاحیتوں کالوہامنواکرمنفردمقام بنالیا۔عدالت میں جب غریبوں کے مسائل کووہ دیکھتے توپریشان ہوجاتے اورغرباء کی پریشانیوں کاازالہ کرانے اورانہیں انصاف فراہم کروانے میں جُٹ جاتے ۔عوامی مقبولیت کی وجہ سے اس وقت کے وزیراعلیٰ مرحوم غلام محمدصادق نے ۱۹۶۴ ؁ء میں آپ کوبطورممبرقانون سازکونسل نامزدکیاتاکہ پچھڑے ہوئے راجوری پونچھ اضلاع کوریاست کی قانون سازکونسل میں نمائندگی دی جاسکے ۔ موصوف ۱۹۸۰؁ء  تک قانون سازکونسل کے رُکن رہے اوراس طویل عرصہ میں انہوں نے بطورممبرقانون سازکونسل پسماندہ علاقہ پونچھ راجوری بالخصوص اورریاستی عوام کی بالعموم بے لوث خدمت کی ۔خواجہ صاحب بطوررُکن ممبرقانون سازکونسل اپنی ایک الگ شناخت قائم کرنے میں کامیاب ہوئے۔غرباء کے مسائل کے ازالہ کیلئے انہوںنے اپنے اس منصب کوبروئے کارلایااورعوام کے دِلوں میںاونچا مقام بنایا۔ انہوں نے ۱۹۶۵ء کی ہندپاک جنگ کے دوران سرحدی اضلا ع پونچھ اورراجوری کی عوام اورسرکارکے درمیان ایک پُل کاکام کیااورعوام کااس مشکل وقت میں بھرپورساتھ دیا۔ان کی عوام دوستی اورغریب پروری وقابلیت کی بناء پران کومارچ ۱۹۶۷ء میںاس وقت کے وزیراعلیٰ جناب خواجہ غلام محمدصادق نے اپنی وزارت میں بطورنائب وزیر شامل کیا۔موصوف اپنی خداداد صلاحیتیوں کی بنا پر اضلاع پونچھ اورراجوری سے کانگریس کے ایک قدآور رہنماکے طورپراُبھرکرسامنے آئے۔وہ اُس وقت دہلی میں موجود کانگریس اعلیٰ قیادت یعنی شریمتی اندراگاندھی کے بھی بہت  قریب رہے ۔یہی وجہ ہے کہ شریمتی اندراگاندھی بطور وزیراعظم ہند۱۹۷۷ ؁ء کے انتخابات کے بعدجب راجوری اورپونچھ کے دورہ پرتشریف لائیں توانہوں نے ظہرانہ جناب بانڈے صاحب کے دولت کدہ پرہی کیاتھا۔موصوف کو۱۹۷۱؁ء کی جنگ کے بعدبنگلہ دیشی رفیوجیوں کی فلاح وبہبودکی کمیٹی کے ممبربنائے گئے اورانہوںنے اس ضمن میں اپنی خدمات بخوبی انجام دیں ۔جناب بانڈے صاحب کانگریس کے اعلیٰ وفدکے ہمراہ اُس وقت کے سوویت روس کے دورے پربھارتی سرکارکے نمائندہ کے طورپرگئے اورہندوستان اورسوویت یونین کی باہمی دوستی کوبڑھانے پرزوردیا۔قابل ذکرہے کہ عرصہ درازتک خواجہ محمددین بانڈے مفتی محمدسعیدکیساتھ شانہ بشانہ کام کرتے رہے ۔۱۹۷۵؁ء  سے ۱۹۸۶؁ء  تک جب مفتی صاحب کانگریس کے ریاستی صدرتھے تب بانڈے صاحب اُن کے قریبی ساتھیوں میں شمارہوتے تھے۔اتناہی نہیں غلام محمدصادق کی وزارت میں خواجہ محمددین بانڈے صاحب اورمفتی صاحب دونوں نائب وزیرکی حیثیت سے شامل تھے اور۱۹۸۳ ؁ء کے انتخابات میں بانڈے صاحب بجبہاڑہ اورہوم شالی بُگ اسمبلی حلقوں کے انچارج تھے ۔بانڈے صاحب ریاستی کانگریس تنظیم میںجنرل سیکریٹری ،لیگل سیل کے کنوینر۔ضلع پونچھ کے کانگریس صدر وغیرہ عہدوں پرفائزرہے۔موصوف ۱۹۹۷ ؁ء مارچ میں پہاڑی ایڈوائزری بورڈکے پہلے وائس چیئرمین مقررہوئے اوراس عہدہ پرعرصہ تین سال تک فائزرہے اورپہاڑی عوام کی فلاح کے لئے اوربورڈکی بنیادوںکومضبوط کرنے کیلئے شاندارخدمات انجام دیں ۔پونچھ اورراجوری میں پہاڑی ہوسٹلوں کاقیام ان کانمایاں کارنامہ ہے۔ جب بھی کوئی بانڈے صاحب کے پاس جاتاتوفیض ہی پاتاتھا۔پرنئی پروجیکٹ جوپونچھ کیلئے نہایت ہی اہمیت کاحامل ہے کی تعمیرکیلئے خواجہ صاحب اسمبلی میں بارباراپنی آوازبلندکرتے تھے مگربجٹ میں رقومات کی کمی کی وجہ سے اس پروجیکٹ کاکام کبھی شروع ہوتااورکبھی بندہوجاتاتھا۔پرنئی پروجیکٹ کی تعمیربانڈے صاحب کاخواب تھا۔وہ چاہتے تھے کہ وادی سرن اورمینڈھرکے عوام کوبجلی اورپانی کی سہولیات کیلئے مزیدپریشانیاں نہ جھیلنی پڑیں ۔موصوف ادب سے بھی کافی لگائورکھتے تھے ۔اورانہوں نے آل انڈیاریڈیومیں مختلف موضوعات پراپنی تحریریں پیش کیںاوراکثرادبی محفلوں میں وہ شامل رہتے تھے اورادب شناسوں کی قدرکرتے تھے ۔محمددین بانڈے صاحب انصاف پسند ، نڈر ، بے باک ، اپنے فیصلے پر قائم رہنے والی شخصیت تھے ۔ موصوف باطل کے خلاف کھڑے ہونے سے کبھی نہ کتراتے۔۔ آپ عالم ہی نہیں عامل بھی تھے ۔ خواجہ صاحب کثیرالجہت شخصیت کے مالک تھے۔سیاسی اعتبارسے اس وقت کی حکومت اورریاست کے آخری وزیراعظم اورپہلے وزیراعلیٰ مرحوم غلام محمدصادق، وزراء اوردیگررفقاء جناب مرحوم بانڈے صاحب کی ایمانداری، سچائی، محنت سے کام کرنے کے جذبے کی دل سے قدر کرتے تھے ۔ تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماانہیں عزت کی نگاہ سے دیکھتے تھے ۔یہی وجہ ہے کہ وہ پوری ریاست میں منفردشناخت رکھتے تھے۔عوام وخواص کیلئے بانڈے صاحب ایک فرد ہی نہیں بلکہ ایک ادارے کی حیثیت رکھتے تھے۔ وہ کہیں مصنف ،کہیں مذہبی مصلح اورکبھی منجھے ہوئے سیاستدان نظرآتے ہیں۔موصوف کے ادبی کارناموں میں سب سے بڑی اور سب سے زیادہ نمایاں حیثیت ان کی مضمون نگاری اور مقالہ نویسی ہے جوانھیں اپنے دور کے بڑے اور اعلیٰ مضمون نگاروں میں جگہ دیتی ہے ۔اُن کے دورمیں ضلع پونچھ کے کئی قلمکاراُبھرکرآئے ۔وہ خطہ پیرپنچال کے ادیبوں کی ہرطرح سے مددکرتے تھے۔انہیں ادب سے اتناگہرالگائوتھاکہ جب وہ سردیوں میں جموں میں ہوتے توہرہفتہ دانش کدہ میں ہونے والی ادبی مجالس میں شامل ہوکران کی زینت بڑھاتے تھے ۔ 
ایڈوکیٹ خواجہ محمددین بانڈے زبانی جمع خرچ کرنے والے انسان نہیں تھے بلکہ عمل میں یقین رکھتے تھے وہ جو بات کہنا چاہتے اپنی تحریروں اورتقریروںکے ذریعہ لوگوں تک پہنچا دیتے تھے۔ وہ لوگوں کی ترقی اورخوشحالی کے خواہش مند تھے۔ اس کے لیے انہوں نے بھر پور طریقے سے اپنے قلم کا استعمال کیا ۔وہ علم وادب ،شرافت اوروضع داری کے پیکرتھے ۔انہوں نے اپنی زندگی میں درجنوں مضامین اور طویل مقالے انتہائی تحقیق ، محنت ،کاوش اورعرق ریزی سے لکھے ، اوراس طرح اپنے پیچھے نادر و تحقیقی مضامین اور بلند پایہ مقالات کا ایک عظیم ا لشان ذخیرہ چھوڑگئے۔بانڈے صاحب مرحوم کے مضامین میں حقیقی واقعات ہیں ، سیاست بھی ہے اور معاشرت بھی، اخلاقیات بھی ہیں،عظمت بھی ہے، ادب بھی ہے ،مزاح بھی ہے طنز بھی ہے، درد بھی ہے ،سوز بھی ہے،سازبھی ہے ، دلکشی بھی ہے، نصیحت بھی ہے اورسرزنش بھی الغرض ان کی تحریریں ہر اہم موضوع سے متعلق ہواکرتی تھیں۔ انہوں نے جو کچھ لکھا وہر اعتبار سے غنیمت ہے اوراس کازندہ وجاویدثبوت ان کی معرکتہ الآراتصنیف ’’پونچھ تاریخ کے آئینہ میں‘‘ ہے۔اس کتاب کومرحوم بانڈے صاحب کی وفات کے بعدموصوف کے فرزندارجمندنیازبانڈے صاحب نے خواجہ محمددین بانڈے میموریل سوسائٹی کے زیراہتمام شائع کروایا۔ مذکورہ کتاب میںموصوف نے پونچھ کے ادبی،سیاسی اورثقافتی پہلوئوں کواختصاروبلاغت کے ساتھ پیش کیاہے۔
مسلم ایجوکیشن ٹرسٹ تھنہ منڈی کے سرپرست خورشیدبسمل صاحب ہرسال ادارہ کی سالانہ تقریب میں پچھلے عرصہ 11سالوں سے خطہ پیرپنچال کے ایک ایسے فرزندکوجس نے خطہ پیرپنچال کی عوام کیلئے سماجی وادبی میدان میں گراں قدرخدمات انجام دی ہیں خواجہ محمددین بانڈے میموریل اعزازسے نوازتے آئے ہیں۔خواجہ محمددین بانڈے میموریل سوسائٹی پونچھ ہرسال ایسے شخص کی نشاندہی کرتی ہے جواس اعزازکامستحق ہو،اورپھرایم ای ٹی تھنہ منڈی کی سالانہ تقریب میںخواجہ محمددین بانڈے اعزازعطاکیاجاتاہے۔واقعی مسلم ایجوکیشن ٹرسٹ کے سرپرست اورخواجہ محمددین بانڈے میموریل سوسائٹی بطریقہ ٔاحسن یہ فریضہ انجام دے رہے ہیں ۔اب تک خطہ پیرپنچال کی جن شخصیات کوخواجہ محمددین بانڈے میموریل اعزازعطاکیاجاچکاہے ان میں جناب پرتپال سنگھ بیتابؔ (شاعر) ،جناب مولاناغلام قادر(مہتمم ضیاء العلوم پونچھ) ،جناب طاہرخورشیدرینہ (ڈسٹرکٹ اینڈسیشن جج ) اورجناب فاروق مضطرؔ (شاعروماہرتعلیم )وغیرہ شامل ہیں ۔
خطہ پیرپنچال کے معروف قلمکار،صحافی،دانشوراورماہرتعلیم جناب نذیرقریشی جوموصوف کے شاگردبھی رہے ہیں نے چند برس پہلے مسلم ایجوکیشن ٹرسٹ تھنہ منڈی کی سالانہ تقریب میں خواجہ محمددین بانڈے میموریل اعزازعطاکیے جانے کے موقعہ پراپنے خیالات کااظہار اس طرح کیاتھا۔
’’محمددین بانڈے پونچھ کے پہلے پارلیمنٹیرین،ایک نامی گرامی ایڈوکیٹ،ایک مثالی استاد،ایک منجھے ہوئے سیاستدان جوحریفوں کودھول چٹاتے ہیں۔محمددین بانڈے ایک ایسے سیاستدان جنھوں نے جموں وکشمیرکی سیاست میں ایک سیلف  میڈمین کے طورپرنام پیداکیا۔صادق صاحب کی ساری وزارت محمددین بانڈے کی شخصیت کے گردگھومتی تھی۔اگرصادق صاحب کی عمرنے وفاکی ہوتی توپونچھ کایہ ہیرہ،پونچھ کایہ فرزند کس مقام تک پہنچتا،اتنی بڑی شخصیت ،اتنی بڑی تحریک اورانجمن کی حیثیت رکھنے والی شخصیت محمددین بانڈے تھے۔یہ بات تاریخ کے سینے میں دفن رہی ۔پونچھ میں ان کے شاگردوں نے ان کیساتھ وفانہیںکی۔محمددین بانڈے کی پونچھ میںقدرنہیں کی گئی۔ محمددین بانڈے میموریل پونچھ میں کسی مارگ کانام ہوناچاہیئے،کسی انجمن کانام ہوناچاہیئے،کسی ادارے کانام ہوناچاہیئے،ان کے نام پرسالانہ تقریب ہونی چاہیئے۔اُمیدہے کہ پونچھ کی عوام خواجہ محمددین بانڈے کی خدمات کومحدوداورفراموش نہیں کرے گی‘‘
نذیرحسین قریشی کی تقریرسے صاف جھلکتاہے کہ سابقہ حکومتوں نے خطہ پیرپنچال کے اس عظیم سیاسی اورسماجی ہیرو کی قدرنہ جانی اورانہیں نظراندازکرکے عوام کیساتھ دشمنی کاثبوت دیا۔خطہ پیرپنچال کے لوگوں کافرض بنتاہے کہ وہ اپنے حقوق کیلئے حکومت کے سامنے سینہ سپرہوجائیں اورخواجہ محمددین بانڈے کے نام پرکسی مارگ،ہسپتال یاتعلیمی ادارے کانام رکھوائیں۔
۲۰سال تک خواجہ صاحب بڑے عہدوں پرفائزرہے لیکن اس کے باوجودوہ خدمت خلق کے مشن سے نہیں بھٹکے ۔انہوں نے دولت جمع کرنے کیلئے کبھی کام نہ کیا۔اس کاثبوت یہ ہے کہ انہوں نے نہ ہی سرینگرمیں اورنہ ہی جموں میں کوئی مکان بنایا۔خواجہ محمددین بانڈے کی ایمانداری اوربلالحاظ ذات برادری ،مذہب وملت عوام کے تئیںبے لوث جذبہ خدمت موجودہ وقت کے سیاستدانوں کیلئے تحریک وترغیب کاباعث بھی ہے اورمشعل راہ بھی ۔سیاستدانوں کے لیے ہی نہیں سماج کے ہرذی شعورفردکیلئے خواجہ محمددین بانڈے ایک مشعل راہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔۶؍جون۲۰۰۵ء کو زندگی کی ۷۵بہاریں دیکھ کر خاموشی سے رخصت ہو نے والی شخصیت خواجہ محمددین بانڈے کی وفات پرپوراخطہ پیرپنچال ہی نہیں بلکہ پوری ریاست غم میں ڈوب گئی ۔بانڈے صاحب کی رحلت سے سماج میں جوخلاپیداہوااس کاپرہوناناممکن ہے ۔
 ؎ہزاروں سال نرگس اپنی بے نُوری پہ روتی ہے 
     بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا       (اقبال ؒ)
 
،ساکن دھنوں بھلوال جموں 
رابطہ نمبر۔9797508684