تازہ ترین

رمضان خصوصی

2 جون 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

مدحتِ قرآن

اسی لیے ہے بقائے قرآں
کہ ہے محافظ خُدائے قرآں
جناں کے باغ و بہار لے کے 
مہک رہی ہے فضائے قرآں
یہ لفظِ اِقراء بتا رہا ہے 
کہ علم ہے ابتدائے قرآں
ہے سنگِ بُنیاد کتنا محکم
پڑی حِرا میں بِنائے قرآں
عمل ہی دُنیا عمل ہی دیں ہے 
یہی ہے بس مُقتضائے قرآں
نہ رحلِ بالا نہ طاقِ اعلیٰ 
ہمارا سینہ ہے جائے قرآں
ہوئی ہے جُزدان میں مُقیّد
یہ تیری تقدیر ہائے قرآں
مقامِ رفعت ہے اہلِ دانش
نہ جُھکنے دینا لوائے قرآں
ہزار ہو شور و غُل جہاں میں 
بُلند رکھنا صدائے قرآں
ہواس و ہوش و خرد سے سمجھو 
ندِائے قرآں، نوائے قرآں
 
ڈاکٹر سید شبیب رضوی
اندرون کاٹھی دروازہ رعناواری سرینگر 
موبائل :-7780937020
 
 

نعت

نہیں ہے آپ بن کوئی سہارا یا رسولﷲ
یہ آنکھیں ڈھونڈتی ہیں پھر نظارہ یا  رسولﷲ
 
اندھیروں میں بھٹکتا ہوں فقط یہ آرزو لےکر
کہ روشن ہو مری قسمت کا تارا یا رسولﷲ
 
سُنا ہے آپ کے در سے کوئی خالی نہیں جاتا
مجھے کچھ بھیک میں دے دو خدا را یا رسولﷲ
 
سکوتِ شب مجھے تنہا سمجھ کر گھیر لیتی ہے
نہیں ہوتا اکیلے میں گُزارا یا رسولﷲ
 
مُجھے اپنے مقدر پہ بڑا ہی فخر ہوتا ہے
نہیں ہے آپ سے کوئی پیارا یا رسولﷲ
 
 منوّر ہو گئیں تاریکیاں سارے زمانے کی
یہ کس نے چاند دھرتی پر اُتارا یا رسولﷲ
 
مدینے کی گلی میں جا کے مجھکو چین آئے گا
وہیں ہو گا مرے زخموں کا چارا یا رسولﷲ
 
سردارجاویدخان
پتہ ۔ مہنڈر۔ پونچھ
موبائل نمبر؛9419175198
 
 

نعتِ رسولؐ

برائے دیدِ مدینہ خود کو بہت سجاتی ہیں میری آنکھیں
بہ اہتمام آنسوئوں سے اکثر وضو بناتی ہیں میری آنکھیں
 
کہاں تجلی و حسنِ طیبہ کہاں یہ تابِ نگاہِ عاصی
کہ شوقِ نظّارہء مدینہ سے خوف کھاتی ہیں میری آنکھیں
 
بنیں گے وجہِ نجاتِ محشر ندامتوں کے یہ چند آنسو
جہاں یہ سارا بدن ہو قاصر تو کام آتی ہیں میری آنکھیں
 
مرے خدا تجھ سے التجا ہے کہ اس کو تعبیرِ نیک دےدے
جو شہرِ طیبہ کا خوابِ دلکش مجھے دکھاتی ہیں میری آنکھیں
 
یہ سبز گنبد کی ہے کرامت یہ سبز گنبد کی ہے کرامت
جو آج قدرت کے ان مناظر کو دیکھ پاتی ہیں میری آنکھیں
 
مجھے بھی اب ہوگیا ہے ازبر نبی کی یادوں کے غم کا عرفاں
بجائے آنسو اب اللہ اللہ لہو بہاتی ہیں میری آنکھیں
 
قریب جوں جوں پہنچ رہا ہوں یہ دل ہے سینے سے نکلا جائے
 ابھی سے ہر چیز پر نچھاور سی ہوتی جاتی ہیں میری آنکھیں
 
ذکی طارق
سعادت گنج، بارہ بنکی،رابطہ÷ 7007368108
 
 

نعت رسول مقبول ؐ

رشکِ مہرو ماہ رخسارِ نبیؐ
کو ثر و تسنیم گفتارِ نبیؐ
 
نام بے نکتہ ہے، سیرت پاک ہے
منفرد اوصاف و آثارِ نبیؐ
 
دلکشی پیغامِ حق میں یوں بھی تھی
اور پھر پُر لُطف اظہارِ نبیؐ
 
ہوش والوں کے لئے ہر حال میں
منبعٔ انوار کردارِ نبیؐ
 
سب کی خاطر پیکر رحمتِ مگر
درپئے ابلیس تلوارِ نبیؐ
 
مطمعین ہر گام پر انظرؔ حسن
ایک مدح خوان ، طلبگارِ نبیؐ
 
حسن انظرؔ
سرینگر، موبائل نمبر؛9419027593
 
 

ایمان کی پہچان ہے 

اصحابؓ جنگ بدر
اسلام کے گردوں پہ درخشندہ ستارے
اللہ کے محبوب، محمدؐ کے دُلارے
ڈنکا بجا اسلام کا ان ہی کے سہارے
اے کاش! دنیا کو ملیں پھر ایسے ہی پیارے
تابندہ کہکشان ہی ہیں اصحابِؓجنگِ بدر
ایمان کی پہچان ہیں اصحابِ ؓ جنگِ بدر
سردارِ کاروان ہیں پیغمبرِؐ دوران
بوبکرؓ و عمرؓماہِ زمین مہرِ آسمان
عثمانؓ و علیؓ اور طلحہؓ حاملِ قرآن
حمزہؓ، سعیدؓ و سعدؓ، شہیدان و غازیان
دینِ نبیؐ کی شان ہیں اصحابِؓ جنگِ بدر
ایمان کی پہچان ہیں اصحابِؓ جنگ بدر
انصار و مہاجر پہ مشتمل یہ مجاہد
پیارے نبیؐ کی ہیں یہ رسالت کے شواہد
مصروف ہیں راتوں کو عبادات میں زاہد
خندہ جبین کرتے رہے انگیز شدائد
کعبے کا چراغان ہیں اصحابِؓ جنگِ بدر
ایمان کی پہچان ہیں اصحابِؓ جنگ بدر
 
مشتاق کاشمیری
سرینگر،موبائل نمبر؛9596167104
 
 

قدر اور منزلت کی رات

روزہ دارو ہو مبارک آگئی رحمت کی رات
مومنو پہچان لو تم شان اور شوکت کی رات
 
جوش میں آتی خدائی قدر کی اس رات میں
ہوگئی ہے یوں عنایت خیر اور برکت کی رات
 
شب گذارو شب گذاری ہو رضائے ذوالجلال
اہلِ ایمان کو اُسی نے بخش دی عظمت کی رات
 
زُہد و تقویٰ سے عبادت ہے پسند معبود کو
کی عطا بندوں کو کیسی قدر و مَنزِلَت کی رات
���
 
اپنے رب سے کیجئے گا التجاء اس رات میں
بخش دیتا عاصیوں کا ہر گناہ ر اس رات میں
 
آہ وزاری، انکساری ہو تیرے لہجے میں آج
اپنے رب سے اے مظفرؔ لُو لگا اس رات میں
 
حکیم مظفر حسین 
باغبان پورہ، لعل بازار سرینگر
موبائل نمبر؛9622171322
 
 

صلی علیٰ محمد ؐ

سوچ کی پرواز کوجہالت کے بادلوں نے 
سخت نرغے میں لے رکھاتھا
دل کی دھڑکن دماغ کی انانیت میں 
پھنس چکی تھی
جہالت کے سائباں تلے
 ظلم وستم کا رقص جاری تھا
باشعور دماغ بے شعور ذہنوں سے
 خوف زدہ تھے
چہار سو اندھ ویشواس کا طوفان 
پھیل چکا تھا
انسان مٹی کا ہونے کے باوجود
 پتھر بن کر اپنے شعور کو
 بے شعورپتھر میں ضم کرکے
اپنی روح ریزہ ریزہ کرتے ہوئے
داخلی وخارجی انتشارمیں جوجھ رہا تھا 
اب تو حیوان بھی پتھردل انسان سے
 خوف زدہ ہوکر 
الاماں الاماں پکارتے رہتے
فطرت سے اشرف المخلوقات کی تباہی 
دیکھی نہ گئی
وقت نے کروٹ بدلی
اور سوچ کی پرواز گہرے بادلوں کے نرغے
سے آزاد ہوگئی
کلیوں کو اب زمین میں زندہ گاڑنے کی بجائے
سر کاتاج سمجھا جانے لگا
عالم میں اب ابرجہالت کی جگہ
باران رحمت کا نزول ہونے لگا
دل کی دھڑکنیں سکون کے تار سے بجنے لگیں
شعور نے بے شعور پتھروں کی عظمت کو
پاش پاس کردیا
اند ویشواس ایمان و یقین میں بدل گیا
داخلی انتشار کو اطمینان کے احساس
نے ختم کردیا
فضائے بسیط روح پرور نغموں سے گونجنے لگی
صلی علیٰ نبینا 
صلی علیٰ محمدؐ
 
ڈاکٹر ریاض توحیدیؔ
وڑی پورہ ہندوارہ کشمیر۔۔۔706544358