یادوں کے جھروکے سے

منظر منظر نقش نظر میں دل میں چہرہ چہرہ ہے

28 مئی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

نذیر جہانگیر
 میری عمر اب ستر سال ہونے کو آئی ہے، کم از کم ان ستر برسوں میں ایسا کوئی بزرگ نہیں دیکھا جس کی دعاؤں میں ایسی تاثیر ہوتی کہ اس کی دعاؤں کے طفیل اللہ تعالیٰ کسی مجبور کی سختیوں اور ابتلاؤں کو دور فرماتے ،جیسے اگلے وقتوں کے بزرگوں سے منسوب روایات میں اس کا ذکر ملتا ہے، کم سے کم میں ایسی کسی کرامت سے آگاہ نہیں ہوں۔ میرے کہنے کا مقصد یہ نہیں ہے کہ آج ایسے مستجاب الدعوات بزرگ زمین پر موجود نہیں ہیں بلکہ میں اتنا کہتا ہوں کہ میری اپنی ہی بدنصیبی اور شقاوت قلبی کے سبب مجھے ایسے بزرگ کہیں نظر نہیں آئے اور نہ آج تک ان میں سے کسی سے زیارت و ملاقات ہوسکی ہے۔ میرا یہ بھی مطلب نہیں کہ کرامتیں العیاذ باللہ کوئی ایسی شعبدہ بازی ہے کہ بزرگ اور اللہ کے ولی بازی گروں کی طرح انہیں دکھاتا پھریں بلکہ میرے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ پہلے ایسے اہل دل ِ واصحابِ تصرف ہوا کرتے تھے کہ لوگ جب کسی سخت آزمائش میں مبتلا ہوتے تو ان کے پاس بغرض دعا کے لئے جاتے اور اللہ تعالیٰ ان بزرگوں کے ہاتھوں مشکلات آسان فرمادیتے تھے۔ الحمدللہ کشمیر میں روحانی شخصیتوں اور بڑے بزرگوں کی آج بھی کوئی کمی نہیں ہےبلکہ انہی کی صحبت کا فیض ہے کہ اَحقر میں دین کی کچھ سوجھ بوجھ آئی اور ایمان کی کچھ مقدار الحمدللہ میرے اندر بھی سماگئی۔ میری حیثیت ان بزرگوں کی جوتیوں کے تلوے پر لگی گرد کے برابر بھی نہیں۔ ان بزرگوں نے بھی اللہ کی راہ میں تن، من ، دھن لگایا ہے اور یہ لوگ واقعی قلندرانِ خدامست ہیں۔ یہاں میری مراد ان بزرگوں کو دریافت کرنے پر اپنی ناکامی کا ذکر ہے جو صاحب ِکرامت اور مستجاب الدعا ہوں۔ ایسے کسی بزرگ سے آج تک میری ملاقات نہیں ہوسکی۔ میں جو بات کہتا ہوں وہ الحمدللہ سچ کہتا ہوں، ریاکاری سے کام نہیں لیتا اور نہ ہی اس بات کا قائل ہوں کہ عقیدت میں کچھ ایسے غلو میں پڑجاؤں کہ کسی بزرگ کو خوش کرنے کی خاطر اس کے ساتھ کرامتوں کے من گھڑت قصے منسوب کرلوں۔ مولانا  اشرف علی تھانوی رحمتہ اللہ علیہ، مولانا قاسم نانوتوی رحمتہ اللہ علیہ اور مولانا عبدالرشید گنگوہی رحمتہ اللہ علیہ کے شیخ حاجی امداد اللہ مکی رحمتہ اللہ علیہ تھے۔ حاجی صاحب کے شیخ حضرت نورمحمد جنجانوی رحمتہ اللہ علیہ تھے۔ وہ ایک درس گاہ چلاتے تھے۔ ان کے متعلق ایک واقعہ پڑھا ہے جو حضرت اشرف علی تھانوی رحمتہ اللہ علیہ نے نقل کیا ہے کہ ایک دفعہ درس گاہ میں زیرتعلیم ایک لڑکا ان کے پاس آیا اور شکایت کی کہ حضرت! نیچے بچے یہاں کے اساتذہ کی نقل اُتار رہے ہیں۔
بچوں میں اکثر ایسی شرارتیں کرنے کی عادت ہوتی ہے کہ اپنے دوست بچوں کو اپنے سامنے بٹھایا، نقلی کلاس لگائی اور خود اُستاد بن بیٹھے۔ حضرت جنجانوی رحمتہ اللہ علیہ نے اس بچے سے کہا:جاؤ جو بچے یہ شرارت کررہے تھے، اُن کو میرے پاس لاؤ۔ چنانچہ وہ بچے حضرت کے پاس لائے گئے۔ حضرت نے پوچھا کہ ان میں میری نقل کون اُتار رہا تھا؟ جس پر ایک بچے کی طرف اشارہ کیا گیا۔ حضرت نے ہلکی سی روحانی توجہ اس پر فرمائی ،تو وہ بچہ چیخ مار کر بھاگ گیا۔ جب اس بچے کی عمر ساٹھ سال کو پہنچی تو اس وقت بھی وہ کہا کرتا تھا کہ حضرت کی اس توجہ کا آج بھی مجھ پر ایسا اثر ہے کہ اندھیری رات ہو، کمرہ بند ہو اور میرے سر کے اوپر لحاف ہو، اور بارش ہورہی ہو، پھر بھی مجھے اپنے آنگن میں کھڑے نیم کے پیڑ کے پتے صاف نظر آتے ہیں۔ اللہ اکبر! جب اس شخص کا ایسا حال ہو تو حضرت جنجانوی رحمتہ اللہ علیہ کا مقام کیا رہا ہوگا!!! اس واقعہ سے ایک طالب ِ حق ہی کچھ حد تک سمجھ سکتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقامِ کبریا کیاہوگا!!!! فی ا لحقیقت اللہ تعالیٰ کے بغیر کسی بھی انسان کو پارہ نہیں کہ آپ ؐ کے اصل مقام ومرتبہ کا احاطہ کر سکے، یہ امرانسانی ذہن سے ماورا ہے ۔ میں نہیں کہتا کہ اب کشمیر میں اہل نظر بزرگ موجودنہیں ہیں بلکہ یقین محکم ہے کہ ہیں ضرور ہیں ، مگر مجھے ہی اپنے سیاہ قلبی کے باعث دکھائی نہیں دے رہے، یا میں اس اہلیت سے تہی دامن ہوں کہ ان پُر اسرار بندوں کے حقائق مجھ پر ظاہر ہوں۔ بایں ہمہ میں اپنے دادا جان کا معتقد رہا ہوں، ان کے بالکل قریب رہا ہوں اور جانتا ہوں وہ ہمیشہ سچ بولتے تھے۔ اس لئے جو باتیں میں نے اپنے دادا سے سنی ہیں ،ان پر میرا سو فیصد یقین ہے۔ میرا دادا جی جب حضرت میرواعظ مولوی رسول صاحبؒ کا وعظ سننے جامع مسجد سرینگر جاتے ہوں گے ، اُن دنوں ان کی عمر چودہ پندرہ سال رہی ہوگی۔ وہ کہتے تھے کہ میں چاہتاتھا کہ رسول صاحبؒ کے منبر کے قریب بیٹھا ہوا کوئی شخص مجھ سے ایک آنہ لے اور مجھے یہ قربت ِ منبر کی جگہ دے۔ ان دنوں ایک آنہ بڑی رقم مانی جاتی تھی کیونکہ  تب کشمیر میں غربت اس حدتک تھی کہ یہ تقریباً ناقابل بیان ہے، اس لئے اُس وقت کے حالات کے لحاظ سے ایک آنہ بڑی رقم تھی۔ ایک آنہ چار پیسے کا ہوتا تھا۔ ایک روپے میں چوسٹھ پیسے آتے تھے۔ ایک روپے سولہ آنے کی ہوتی تھی۔ ایک پیسہ میں دو نصف پیسے آتے تھے۔ نصف پیسہ میں نے دیکھا ہے مگر میرے بچپن میں اس کا چلن نہیں تھا،ا لبتہ میری پیدائش سے پہلے اس کا چلن تھا۔ بزرگوں سے سنا ہے کہ آدھے یا نصف پیسے کی بیس بائیس کوڑیاں آتی تھیں۔ کوڑی کو کشمیری میں ’’ہار‘‘ کہتے تھے۔ آج بھی پرانے لوگ جب کسی کے متعلق کہتے ہیں کہ اس کے پاس بڑی دولت ہے تو کشمیری کا وہی ڈکشن استعمال کرتے ہیں اور کہتے ہیں:’’تس چھ گوتجہ ہارہ‘‘۔ پھر چیزوں کے اس وقت کے نرخ کے مطابق ایک، دو یا تین ’’ہار‘‘ یا کوڑی کے عوض لوگ بازار سے حسب ضرورت سامان خریدتے تھے۔ قارئین کرام اس بات سے اندازہ کرسکتے ہیں کہ ایک روپے کی قدر اس دور میں کتنی ہوتی ہوگی! یہ ’’ہار‘‘ یا کوڑی جسے انگریزی میںCowrie Shellsکہتے ہیں، ایک قسم کے صدف یا سیپ کے چکنی اور شوخ رنگ کا خول ہوتا تھا۔ مجھے بچپن میں میرا دادا جی ہر جمعہ کو ایک پیسہ دیا کرتا تھا جس کے سبب مجھے جمعہ کا بڑی بے تابی سے انتظار رہتا تھا۔ جب میری عمر دس گیارہ سال کی تھی تو گوشت تین روپے کلو تھا۔ شہر خاص بہوری کدل سرینگر میں قصابوں کی کئی دکانیں تھیں ،جہاں گوشت ایک روپیہ دس آنہ فی کلو کے حساب سے بکتا تھا مگر لوگ کہتے تھے یہ گوشت ٹھیک نہیں۔ مچھلیاں ’’گاڈہ‘‘ کوچہ میں چار آنے کلو کے حساب سے بکتی تھیں۔ میرے بچپن میں کشمیر میں غربت حد درجہ تھی۔
میرے بچپن میں کچھ ایسے ’’پیر‘‘ لوگ بھی ہوا کرتے تھے کہ جب کسی گھر میں کوئی چیز پُراسرار طور چوری ہوجاتی تھی اور بہت سے لوگوں پر اسے چرانے کا شبہ ہوجاتا تھا تو کسی نو یا دس سال کے لڑکے کو (جو قبیلے یا کنبےکے افراد کو پہچان پاتا تھا) اس ’’پیر‘‘ کے پاس لے جاتے تھے۔ ’’پیر‘‘ صاحب اس لڑکے کے سر پر کپڑا ڈال دیتا اور کچھ وظیفے پڑھ لیتا تھا جس پر وہ لڑکا ایک کومنٹری کی طرح  چوری کا حال احوال بیان کرنے لگتا۔ مثال کے طور پر کچھ اس طرح شروع ہوتا تھا: ’’زید آیا۔ سیڑھیوں پر چڑھا۔ کمرے کے تالے میں چابی گھمائی۔ اندر داخل ہوا۔ صندوق کھولی۔ فلاں چیز اٹھائی۔ ادھر ادھر نظر دوڑائی۔ وہ چیز جیب میں رکھ لی۔ باہر آیا۔ کمرے میں تالا لگایا۔ سیڑھیوں سے نیچے اُترا۔ باہر سڑک پر آیا۔‘‘ اس سے آگے دکھائی نہیں دیتا۔ ایسے ’’پیر‘‘ کو کشمیری میں ’’وچھن وول‘‘ کہا جاتا تھا۔
بہرحال، میں اپنے دادا اور میرواعظ مولوی رسول صاحب رحمتہ اللہ علیہ کا ذکر کررہا تھا۔ میرا دادا جی کہتا تھا کہ رسول صاحب ؒکا وعظ سننے کے لئے لوگوں کی بڑی تعداد جمعہ کے روز جامع مسجد میں جمع ہوتی تھی۔ یہ ایک دوسرے کے ساتھ قریب ملے ہوئے مجلس وعظ میں بیٹھ جاتے تھے مگر ایک عجیب اور حیران کن بات یہ ہوتی کہ وعظ کے دوران مجمع میں کچھ لوگوں پر غلبۂ حال طاری ہوجاتا تھا۔ وہ لوگ جامع مسجد میں لگے کھمبوں کے تقریباً اوپر تک اُچھل جاتے تھے مگر جب نیچے گرتے تھے تو حیران کن طریقے پر اپنی ہی جگہ گرجاتے تھے، اگر ہلکے طور پر بھی ادھر ادھر گرپڑتے تو لوگ زخمی ہوسکتے تھے اور عجیب بات یہ بھی تھی کہ ان غلبۂ حال والوں کو بھی نیچے گرنے پر کوئی زخم تو دور خراش تک نہیں آتی تھی۔ 
 
 
 
 
 

تازہ ترین