تازہ ترین

انتخابات کے مراحل ختم،ایگزٹ پول جاری | این ڈی اے کو واضح برتری

بھاجپا کو دو تہائی اکثریت ملنے کی پیشگوئی، کانگریس کی سربراہ والی یو پی اے دوڑ سے باہر

20 مئی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

نیوز ڈیسک
نئی دہلی // پارلیمانی انتخابات کے آخری مرحلے میں اتوار کو پولنگ کا عمل مکمل ہوچکا اور ملک میں ایگزٹ پولز کے مطابق وزیر اعظم مودی کی سربراہی میں ان کی جماعت بی جے پی کے جیتنے کے قوی امکانات ہیں۔ زیادہ تر پولنگ سروے (ایگزٹ پول) نے سترہویں لوک سبھا میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی قیادت میں قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کو دوبارہ واضح اکثریت ملنے کا دعویٰ کیا ہے تاہم ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ بی جے پی اپنے دم پر  272 کی تعداد پار کر پائے گی یا نہیں۔لوک سبھا کی 543 میں سے 542 نشستوں کے لئے ووٹنگ ہوئی ہے۔ ٹائمز ناو- وی ایم آر سروے نے بی جے پی اور اتحادی پارٹیوں کو 304 نشستیں، کانگریس کی قیادت والے متحدہ ترقی پسند اتحاد (یو پی اے) کو 132 اور دیگر کو 104 سیٹیں ملنے کا امکان ظاہر کیاہے۔ اسی طرح سدرشن نیوز نے این ڈی اے کو 313، یو پی اے کو 121 اور دیگر کو 109 سیٹیں دی ہیں۔ری پبلک  ٹی وی - سی ووٹر نے اپنے سروے میں این ڈی اے کو 287 نشستیں، یو پی اے کو 128  اور دیگر کو 127 سیٹیں ملنے کا اندیشہ ظاہر کیا ہے۔نیوز نیشن نے بی جے پی اور اتحادیوں کو 282 سے 290 نشستیں، کانگریس اور اتحادیوں کو 118 سے 126 سیٹیں اور دیگر جماعتوں کو 130- 138  سیٹیں  ملنے کا امکان ظاہر کیا ہے۔ لیکن ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ’ماضی میں ایگزٹ پولز اکثر غلط ثابت ہوتے رہے ہیں‘۔ چار ایگزٹ پولز کے اندازوں کے مطابق بی جے پی کی سربراہی میں نیشنل ڈیموکریٹک الائنس 280 سے 315 سیٹیں حاصل کرے گا جوکہ اپوزیشن کی جماعت کانگریس سے کہیں زیادہ ہوں گی۔543 رکنی پارلیمنٹ میں اکثریت کے لیے 273 نشستیں حاصل کرنا ضروری ہیں۔ایگزٹ پولز کے اندازوں کے مطابق بنگال اور اڑیسہ، جہاں پی جے پی پہلے کمزور تھی ،وہاں اس مرتبہ وہ مضبوط نظر آ رہی ہے۔لیکن ووٹنگ ختم ہوتے ہی اپوزیشن کے رہنماؤں میں ہونے والی میٹنگز سے قیاس آرائیاں ہو رہی ہیں۔ووٹوں کی گنتی 23 مئی یعنی جمعرات کی صبح آٹھ بجے پورے ملک میں ایک ساتھ شروع ہوگی۔ کس حلقے میں کون سی پارٹی اپنے حریفوں سے آگے چل رہی ہے، اس کے رحجانات صج گیارہ بجے سے آنا شروع ہو جائیں گے۔گذشتہ انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو اپنے زور پر اکثریت ملی تھی۔ اترپردیش، بہار، راجستھان، مدھیہ پردیش اور گجرات جیسی ریاستوں میں بی جے پی کوغیر معمولی فتح حاصل ہوئی تھی۔بی جے پی نے یہ انتخاب وزیراعظم نریندر مودی کے نام پر لڑا ہے جن کی مقبولیت دوسرے رہنماؤں کے مقابلے زیادہ رہی ہے۔ایسا ایک طویل عرصے کے بعد ہو رہا ہے کہ کہ مکمل اکثریت والی کوئی حکومت دوبارہ اقتدار میں آ رہی ہے۔
 
 
 
 
 
سب رجحان غلط نہیں ہوسکتے ،23مئی کا انتظار کرنا ہوگا:عمر
نیوز ڈیسک
سرینگر// انتخابی رجحانات میں این ڈی اے کی جیت پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ23تک انتظار کیا جائے۔ بیشترانتخابی رجحانات میں وزیر اعظم ہند نریندر مودی کو ایک اور باری کھیلنے کی پیش گوئی پر تبصرہ کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ ان میں سے سب غلط نہیں ہوسکتے،تاہم وہ23مئی کاانتظار کر رہے ہیں،جب حتمی نتائج منظر عام پر آینگے۔ عمر نے سماجی رابطہ گاہ ٹیوٹر پر  کہا’’ہر کوئی انتخابی رجحان غلط نہیں ہوسکتا،ٹی وی کو بند کرنے کا وقت آگیا،سماجی رابطہ گاہوں کو بھی بند کیا جائے،یہ دیکھنے کیلئے انتظار کروںگا کہ دنیا 23مئی کو بھی اپنی محور پر گردش کر رہی ہے۔‘‘