تازہ ترین

شاہراہ پرٹریفک جام سے ضلع رام بن کی کثیرآبادی مصائب سے دوچار

مریضوں کاہسپتال ،طلباکاسکول اورملازمین کاڈیوٹیوں پرپہنچنامحال

16 مئی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

محمد تسکین
بانہال // جموں سرینگر شاہراہ کے مسلسل بند رہنے اور بار بار ٹریفک جام کی وجہ سے جہاں روازنہ کی بنیادوں پر ہزاروں مسافروں اور مال بردار ٹرک ڈرائیوروں ، مالکان اور ٹرکوں میں سوار تاجروں کو سخت اور ناقابل بیان مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہیں جموں سرینگر شاہراہ کے ساتھ جڑے اور اسی شاہراہ کے ذریعے اپنے کام کاج تک رسائل رکھنے والے نوگام ،ٹھٹھاڑ ، بانہال ، کھڑی ، رامسو مکرکوٹ ، اکڑال ، پوگل پرستان ، ڈگڈول ، بیٹری چشمہ ، ماروگ ، کیلاموڑ ، سیری ، بلیہوت ، گام ، رام بن ، کرول اور چندرکوٹ کے ہزاروں لوگوں کی روزمرہ کی زندگی بھی بری طرح سے متاثر ہوکر تھم سی جاتی ہے اور مقامی لوگوں کے ایمرجنسی اور معمولات کے کام ہفتوں اور مہینوں تک دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں۔ شاہراہ پر آئے روز کے ٹریفک جام کی وجہ سے ضلع رام بن کے عام لوگ اب سخت عاجز آچکے ہیں اور شاہراہ پر ٹریفک کو معمول پر لانے کیلئے گورنر انتظامیہ سے اقدامات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ عام لوگوں کا کہنا ہے کہ شاہراہ کی خرابی کی وجہ سے رام بن۔ رامسو اور بانہال سب ڈویژنوں سے تعلق رکھنے والے مریضوں کا ہسپتال پہنچنا، سکول اور کالج جانے والے بچوں کا اپنے اداروں تک اور سرکاری ملازمین کا اپنی اپنی ڈیوٹیوںپر پہنچنا نہایت ہی دشوار کام بن گیا ہے جبکہ رام بن بانہال سیکٹر کے عام دنوں کے سفر میں چار سے چھ گھنٹے بھی لگ جاتے ہیں۔ کئی سرکاری ملازمین نے کشمیر عظمی کو بتایا کہ شاہراہ کی خرابی کی وجہ سے بیشتر ملازمین شدید گرمی کے باوجود رام بن میں ہی عارضی رہائش رکھتے  ہیں لیکن ہفتے کو اپنے گھر پہنچنے اور پیر کو واپس جانے میں ہر بار مصائب کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور بیشتر مرتبہ انہیں میلوں کا سفرپیدل طے کرکے منزلوں تک پہنچنا پڑا جبکہ کئی بار دن بھر جام میں پھسے رہنے کے بعد واپس اپنے گھروں کی راہ لینا پڑتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ پریشانی کا سامنا سکول اور کالج جانے والے بچوں اور مریضوں کو اٹھانا پڑتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ درجنوں بار رام بن بانہال کے سفر میں دس گھنٹوں سے بھی زائد کا وقت لگ جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ ٹریفک جام اور پسیوں کے گرنے کا سلسلہ پچھلے دوسال سے جاری ہے  تاہم  2019 کا سال شروع ہونے کے بعد سے شاہراہ پر پسیوں ، پتھروں اور ٹریفک جام کے سلسلے میں بہت  شدت آئی ہے اور شاہراہ پر تپتی دھوپ میں بھی پسیاں آنا ، پتھر گرنا اور ٹریفک کا جام ہونا فورلین شاہراہ کی تعمیر کی وجہ سے معمول بن گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جموں سرینگر شاہراہ کے حوالے سے ابتک درجنوں اعلی سطحی میٹنگوں کے باوجود بھی سابقہ ریاستی سرکار، گورنر انتظامیہ اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی آف انڈیا کے حکام رام بن - بانہال سیکٹر میں شاہراہ پرٹریفک کی بہتری کیلئے کوئی بھی کارگر اقدامات نہیں کر سکے ہیں اور یہ شاہراہ ضلع رام بن کے لوگوں کیلئے مصائب مشکلات اور تکلیف دینے کی ایک وجہ بنی ہوئی ہے۔ عام لوگوں کا کہنا ہے کہ ٹریفک جام اور شاہراہ کے بند رہنے کی وجہ سے درماندگی اور جام میں پھنس کر اور تنگ آئے سینکڑوں مسافر گرتے پتھروں کے بیچ ہی پسیوں کو پیدل ہی پارکرتے ہیں جو مستقبل میں کسی بڑے خطرے کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ شاہراہ پر گرتے پتھروں اور پسیوں کے بیچ عام لوگوں کی نقل وحرکت بند پابندی عائد ہونی چاہیئے تاکہ حالیہ مہینوں میں شاہراہ پر اس طرح کی کوشش میں ہوئی ہلاکتوں کو نہ دہرایا جا سکے۔ انہوں نے گورنر انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ وہ شاہراہ کے حوالے سے سنجیدگی کا مظاہرہ کرے تاکہ روزانہ کی بنیادوں پر مصائب کا سامنا کرنے والے مسافروں اور بانہال اور رام بن کے درمیان آبادلوگوں کو روز روز کے عذاب سے چھٹکارہ مل سکے ۔