۔57برس سے سڑک تعمیر نہ ہوسکی ، مجموعی ترقی کیا ہوگی ؟

کوٹر نکہ کے کنڈی موہڑہ کے لوگ دہائیوں سے بہتر سہولیات کے منتظر

16 مئی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

محمد بشارت
 کوٹر نکہ //ریاست کے دور درا زعلاقوں کی ترقی کا اندازہ سب ڈویژن کوٹرنکہ کی 14کلو میٹر کنڈی ۔موہڑہ سڑک سے لگایاجاسکتاہے جو  57برسوں بعد بھی تعمیر نہیں ہوسکی ہے ۔اس سڑک کے انتظار میں نسلیں بھی ختم ہوگئیں اور لوگ بہتر سہولیات کا آج بھی انتظار کررہے ہیں ۔مقامی لوگوں کے مطابق بارڈر روڈ آرگنائزیشن کی طرف سے سڑک کی تعمیر کاکام 1962میں شروع کیاگیا جسے مختلف ایجنسیوں کو سونپے جانے کے باوجود قابل آمدورفت نہیں بنایاجاسکاہے۔مقامی لوگوں کے مطابق ابتداء میں کام تیزی سے ہوا اور1963میں دریائے انس پر پل بنادیاگیاجس کے اگلے سال سڑک سموٹ تک پہنچ گئی تاہم 1965کی ہندوپاک جنگ کے دوران پاکستانی گولہ باری کے دوران انس دریا پر بناپل گر گیا جس کی حالیہ برسوں دوبارہ تعمیر کی گئی ہے۔مقامی لوگوں کے مطابق1968کے بعد یہ سڑک محکمہ گریف کو سونپ دی گئی اور ساتھ ہی سروے بھی تبدیل کردیاگیا اور1971میں سڑک کو کنڈی ،بکوری،جگلانو اور دراج سے گزار کر بدھل پہنچایاگیا۔انہوں نے بتایاکہ سروے تبدیل ہونے کے بعد سڑک وہیں کی وہیں رہ گئی اور کئی دہائیوں بعد 2006میں اسے محکمہ پی ایم جی ایس وائی کو سونپاگیا جس پر623کروڑ رکے تخمینہ سے 2008میں کام شروع ہوا۔پی ایم جی ایس وائی نے ہی دوسرے مرحلے میں اس سڑک پر محکمہ کی طرف سے 803کروڑ روپے خرچ کئے جن کی مدد سے دریائے انس پر دوبارہ پل بھی تعمیر ہوالیکن نہ ہی تارکول بچھاہے اور نہ ہی نالیاں و حفاظتی باندھ تعمیر ہوئے ہیں جس کی وجہ سے اس پر پیدل چلنا بھی مشکل ہے ۔مقامی شہری محمد ایوب پہلوان نے بتایا کہ مذکورہ سڑک کی تعمیر کاکام بخشی غلام محمد کے دور میں شروع ہوااوراس کا مقصد کنڈی اور موہڑہ کے لوگوں کو سڑک رابطہ کی فراہمی تھا ۔انہوں نے بتایاکہ لوگ لگ بھگ چھ دہائیوں سے سڑک کی تکمیل کا انتظار کررہے ہیں لیکن یہ ایسا کام ہے جو ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا۔رابطہ کرنے پر محکمہ پی ایم جی ایس وائی کے اسسٹنٹ ایگزیکٹوانجینئر نے بتایا کہ سڑک کی تعمیر کے سلسلہ میں کچھ افراد کی جانب سے رخنہ ڈالنے کی کوششیں بھی کی جارہی ہیں جس بارے میں ضلع انتظامیہ کو آگاہ کیا گیا ہے ۔تاہم مقامی لوگ سست روی کیلئے متعلقہ حکام کو ہی ذمہ دار ٹھہراتے ہیں او ران کاکہناہے کہ ان کی زمینیں بھی تباہ و برباد کردی گئیں مگر سڑک کی تعمیر نہیں ہوسکی ۔انہوں نے گورنر سے اپیل کی کہ وہ اس حوالے سے سنجیدہ نوٹس لیں اور فوری طور پر کام پایہ تکمیل تک پہنچانے کی ہدایت جاری کی جائے ۔
 

تازہ ترین