تازہ ترین

امراض زنانہ و اطفال اسپتال بمنہ 2012سے زیر تعمیر

۔7سال کا طویل عرصہ گذر گیا، ابھی مزید 2سال درکار،3وزرائے اعلیٰ بدل گئے اور دو گورنر راج بھی دیکھے

16 مئی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

اشفاق سعید
سرینگر //بمنہ بائی پاس سرینگر میں تعمیر ہو رہے 500بستروں پر مشتمل زچہ و بچہ ہسپتال کی تعمیر کا منصوبہ ٹھپ پڑا ہے۔ ہسپتال کو مکمل کرنے کی کئی ڈیڈ لائنیں بھی ختم ہو چکی ہیں ۔ سابق  ریاستی سرکار نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ ہسپتال کا کام سال2018کے آخر پر مکمل کیا جائے گا ،تاہم ہسپتال کی حالت کو دیکھ کر لگتا ہے کہ دلی ابھی بہت دور ہے کیونکہ ہسپتال پر کام کچھوے کی چال کی مانند جاری ہے ۔ذرائع نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ جس طرح سے کام چل رہا ہے اُس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ منصوبہ 2020میں بھی مکمل نہیں ہو گا ۔معلوم رہے کہ کئی سال قبل اس ہسپتال کی تعمیر کا کام محکمہ آر اینڈ بی نے ہاتھ میں لیا تھا تاکہ لل دید ہسپتال پر بوجھ کو کم کیا جائے لیکن تین وزرائے اعلیٰ اور ایک گورنر بدل گئے اور ایک گورنر کو بھی آئے8 ماہ سے زیادہ کا عرصہ گذر گیا ہے لیکن اسپتال کی تعمیر مکمل نہیں ہو سکی ہے اور اس طرح یہ عمارت گذشتہ کئی برسوں سے تشنہ تکمیل ہے۔
ذرائع نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ سال2012-13 اور2015-16کے دوران مرکزی معاونت والی اسکیم سے50کروڑ اور25کروڑروپے بالترتیب،اس ہسپتال کی تعمیر کیلئے دیئے گئے اور اس کیلئے رقومات ،مرکزی وزارت صحت نے واگزار کیں۔اس سے قبل سال2017 میںاس کو مکمل کرنے کیلئے ڈیڈ لائن مقرر کی گئی تھی۔ ذرائع نے بتایا کہ سال2013میں جب عمر عبداللہ سرکار میں تھے، تب انہوں نے 200بستروں پر مشتمل اس ہسپتال کو منظوری دے کر اس پر کام شروع کرایا تھا ۔17اکتوبر2015کو سابق وزیر اعلیٰ مفتی محمد سعید نے بستروں کی تعداد بڑھا کر 500کر کے اس کا سنگ بنیاد رکھا اور سال2017  اور 2018  میںاس کو مکمل کرنے کی ڈیڈ لائن رکھی لیکن یہ کام اس کے باوجود بھی مکمل نہیں ہو سکا ۔محکمہ آر اینڈ بی حکام نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ پروجیکٹ پر کام پہلے 2014میں آئے تباہ کن سیلاب کی وجہ سے رک گیا اور قریب ایک برس بعد شروع ہوا اور 2016میں اس پر اُس وقت تعمیر کا کام روک دیا گیا جب وادی میں امن وقانون کی صورتحال پیدا ہوئی اور پروجیکٹ پر کام کرنے والے مزدور کام چھوڑ کر بیرون ریاستوں میں بھاگ گئے ۔ اس طرح 2016-17کے دوران اس پروجیکٹ کیلئے جو رقومات واگزار کی گئی تھیں، ان کا استعمال نہ ہوسکا،جس کی وجہ سے سال2017-18میں محکمہ خزانہ کی جانب سے ان کا ایک بار پھر احاطہ کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ان وجوہات کی وجہ سے مرکزی حکومت سے رقومات کا ایک چھوٹا حصہ ہی واگزار ہوا۔تاہم مرکزی حکومت کی طرف سے 2017-18کے دوران امراض زنانہ و اطفال اسپتال کے پروجیکٹ کیلئے مکمل فنڈس کو وزیر اعظم ترقیاتی پروگرام کے تحت منظورکر کے اُس کے ساتھ جوڑ دیا گیاتھا اور یہ پیسہ واگزار کیا گیا ۔ محکمہ آر اینڈ بی کے چیف انجینئر سمی عارف نے کشمیر عظمیٰ کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ اس سال کے آخر تک ہسپتال کا کام مکمل کیا جائے گا اور کام شدو مد سے جار ی ہے ۔انہوں نے کہا کہ صرف ہسپتال کی عمارت کی تعمیر ہی نہیں ہوتی بلکہ اس میں میکنیکل کام بھی ہوتا ہے۔