تازہ ترین

حکام کی طرف سے تحقیقات کی یقین دہانی

شیعہ سنی کارڈ نیشن کمیٹی کی احتجاج ختم کرنیکی اپیل

15 مئی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

نیوز ڈیسک
سرینگر //شیعہ سنی کارڈ نیشن کمیٹی نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنا احتجاج ختم کرے۔کارڈی نیشن کمیٹی کاایک غیر معمولی اجلاس سرینگر میں منعقد ہوا جس میں سمبل میں پیش آئے شرمناک واقعہ پر تفصیل کے ساتھ غور و خوض ہوا۔اجلاس میں اتفاق رائے سے قرارداد پاس کی گئی، جس میں کہا گیا ہے کہ یہ اجلاس متفقہ طور لوگوں سے اپیل کرتا ہے کہ وہ اس نازک مرحلے پر صبر و تحمل سے کام لیں اور ریاستی حکام کی ان یقین دہانیوں ،جن میں انہوں نے واقعہ کی پوری تحقیقات کے احکاما ت صادر کئے ہیں، پر بھروسہ کریں اور اپنا احتجاج ختم کرکے عبور و مرور کے راستے کھول دیں۔قرار داد کے مطابق اجلاس کشمیری عوام سے صبر و تحمل برتنے اور اتحاد و اتفاق سے کام لینے کی اپیل کرتا ہے تاکہ ان عناصر کی سازشوں کو ناکام بنایا جائے جو اس واقعہ کی آڑ میں یہاں مسلکی منافرت کی مذموم فضا قائم کرنا چاہتے ہیں اور یہاں کے خرمن امن کو آگ لگانا چاہتے ہیں۔قرارداد کے مطابق یہ اجلاس شرمناک واقعہ کی پر زور الفاظ میں مذمت کرتا ہے اور واضح کرنا چاہتا ہے کہ متاثرہ بچی پوری کشمیری قوم کی بیٹی ہے اور اس اذیت ناک واقعہ پر ہر کشمیری غمزدہ ہے اور متاثرہ خاندان کے ساتھ بھر پور یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔یہ اجلاس انتظامیہ اور امن و قانون کے اداروں سے مطالبہ کرتا ہے کہ اس بربریت کی فاسٹ ٹریک بنیادوں پر تحقیقات کرکے اس واقعہ کی شکار معصومہ کو انصاف فراہم کریں اور مجرم کو قرار واقعی اور عبرت ناک سزا دیں۔ یہ اجلاس واضح کرتا ہے کہ انصاف دلانے میں کسی بھی کوتاہی، غفلت اور تاخیر ناقابل برداشت ہے۔ اجلاس میں مندرجہ ذیل علماء، مفتیان اور دانشوروں نے شرکت کی۔ مولانا مسرور عباس انصاری، مولانا غلام رسول حامی (کاروان اسلامی)، مفتی اعظم ناصر الاسلام، مولانا خورشید احمد قانون گو (حمایت الاسلام)، مولانا غلام رسول نوری (اھلبیت فاونڈیشن)، نمائندہ میرواعظ کشمیر پیر غلام نبی، مولانا سبط محمد شبیر قمی(پیروان ولایت)، مولانا غلام محمد گلزار (مجمع اسلامی کشمیر)، نمائندہ انجمن شرعی شیعیان سید محمد یاسین موسوی، نثار حسین راتھر(تحریک وحدت اسلامی)، سجاد حسین گل (ٹریڈیرس اینڈ مینوفیکچرس)، الطاف احمد وانی (سول سوسائٹی)، آغا سید یوسف رضوی اور دیگر ان شامل ہیں۔