پہلے مرحلے کی پولنگ آج

اننت ناگ ضلع میں سیکورٹی کے غیرمعمولی انتظامات

23 اپریل 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

عارف بلوچ

  ۔90فیصد پولنگ مراکز انتہائی حساس قرار، فورسز کی 170 کمپنیاں تعینات

 
اننت ناگ// وادی کے حساس ترین علاقہ جنوبی کشمیر میں پولنگ کا پہلا مرحلہ آج شروع ہونے جارہا ہے۔پولنگ کے پیش نظر ضلع اننت ناگ کوسیکورٹی فورسز کی بھاری تعداد میں تعیناتی سے چھاونی میں تبدیل کردیا گیا ہے۔پہلے مرحلے میں ضلع میں اننت ناگ، ڈورو، کوکر ناگ، شانگس، بجبہاڑہ اور پہلگام اسمبلی حلقوں میں پولنگ ہونے جارہی ہے۔اننت ناگ پارلیمانی انتخابات میں ملک کا واحد ایسا حلقہ ہے جس میں تین مرحلوں میں ووٹ ڈالے جارہے ہیں۔الیکشن کمیشن نے یہ فیصلہ جنوبی کشمیر کی حساسیت سے متعلق ریاستی سیکورٹی ایجنسیوں کی رپورٹ کو دیکھتے ہوئے لیا ہے۔حلقہ میںسیکورٹی کے غیرمعمولی انتظامات کئے گئے ہیں۔سیکورٹی ذرائع نے بتایا کہ ضلع میں پولنگ کے دوران تشدد کے خدشے کے پیش نظر سیکورٹی فورسز کی 170 کمپنیاں تعینات کی گئی ہیں۔ ہر ایک پولنگ مرکز کے علاوہ تمام حساس علاقوں میں سیکورٹی فورسز تعینات رہیں گے۔ضلع حکام کا کہنا ہے کہ ضلع میں پولنگ کے پُرامن انعقاد کو یقینی بنانے کے لئے تین دائروں والی سیکورٹی کے انتظامات کرلئے گئے ہیں۔حکام نے اننت ناگ پارلیمانی نشست کے انتخابات کیلئے قائم کئے گئے 1842 پولنگ مرکز میں سے 90 فیصد کو حساس ترین جبکہ دس فیصد کو حسا س قرار دیاہے۔جنوبی کشمیر کی نشست کیلئے آج منگل کے علاوہ 29 اپریل کو کولگام اور6  مئی کو شوپیان اور پلوامہ اضلاع میں پولنگ ہوگی جس میں قریب 14  لاکھ رائے دہندگان 18 امیدواروں کے سیاسی قسمت کا فیصلہ کریں گے۔چار اضلاع اننت ناگ، کولگام، شوپیاں اور پلوامہ پر مشتمل اننت ناگ پارلیمانی حلقے میں الیکشن کمیشن نے پولنگ اوقات میں دو گھنٹوں کی پہلے ہی کمی کی ہے۔ سیکورٹی وجوہات کی بناء پر پولنگ صبح کے سات بجے شروع ہوکر سہ پہر کے چار بجے اختتام پذیر ہوگی۔یہاں اصل مقابلہ پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی، کانگریس کے ریاستی صدر غلام احمد میر اور نیشنل کانفرنس کے جسٹس (ر) حسنین مسعودی کے درمیان ہے۔بی جے پی نے صوفی یوسف، جو ایم ایل سی بھی ہیں، کو کھڑا کیا ہے۔دیگر امیدواروں میں پنتھرس پارٹی کے نثار احمد وانی، پیپلز کانفرنس کے چودھری ظفر علی، مانو ادھیکار پارٹی کے سنجے کمار دھر، پرگتی شیل سماج وادی پارٹی کے سریندر سنگھ اور آزاد امیدوار امتیاز احمد راتھر، رضوانہ صنم، ریاض احمد بٹ، زبیر مسعودی، شمس خواجہ، علی محمد وانی، غلام محمد وانی، قیصر احمد شیخ، منظور احمد خان اور مرزا سجاد حسین بیگ بھی شامل ہیں۔شمس خواجہ نامی امیدوار نوئیڈا اتر پردیش کا رہنے والا ہے۔ وہ پیشے کے لحاظ سے ایک وکیل ہے۔ ضلع اننت ناگ جہاںآج ووٹ ڈالے جارہے ہیں، میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 5 لاکھ 29 ہزار 256 ہے۔ ان میں 2 لاکھ 69 ہزار 603 مرد، 2 لاکھ 57 ہزار 540 خواتین، 2102 سروس ووٹرز اور 11 خواجہ سرا ووٹرز شامل ہیں۔ ضلع میں 714 پولنگ مراکز قائم کئے گئے ہیں۔ کوکر ناگ اسمبلی حلقے میں 48 ہزار 742 مرد اور 44 ہزار 948 خواتین اور 180 سروس ووٹروں سمیت سب سے زیادہ 93 ہزار 874 ووٹر درج ہیں جبکہ ڈورو میں 40 ہزار 764 مرد، 37 ہزار 889 خواتین اور 374 سروس ووٹروں سمیت سب سے کم 79 ہزار 29 ووٹر درج ہیں۔
 

درجنوں گرفتاریاں

عارف بلوچ
 
اننت ناگ//اننت ناگ لوک سبھا انتخابات کے پیش نظر پولیس و دیگر سیکورٹی ایجنسیوں نے ضلع میں درجنوں نوجوانوں کو انتخابات سے قبل حراست میں لیا ہے ۔ پولیس نے ضلع کے درجنوں علاقوں میں مشتبہ افراد کی گرفتاری عمل میں لائی ۔پولیس نے دھرنہ ،کپرن ،مانٹہ پورہ علاقوں میں دوران شب کئی مکانوں پر چھاپہ ڈالے اور درجنوں نوجوانوں کو گرفتار کر کے تھانوں میں بند کردیا ۔اس بیچ انتخابات سے قبل ہی موبائیل انٹرنیٹ رفتار میں کمی کی گئی ۔
 

تازہ ترین