تازہ ترین

۔ 22اپریل 1870لینن

کمیونزم کانظریہ ساز قائد

23 اپریل 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

کامریڈکرشن دیو سیٹھی
بین الاقوامی کمیونسٹ تحریک میں لینن (22اپریل 1870تا 21جنوری 1924)کا نام ،کام اور مقام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ ان کی زندگی کا ہر ایک لمحہ ہر دور کے کمیونسٹوں اور انقلابیوں کے لئے مشتعل راہ رہاہے۔ لینن نے نہ صرف نظریاتی طورپر مارکسی فلسفہ میںاضافہ کیا، پرولتاری طبقہ کی ایک نئی طرز کی آزاد اور انقلابی پارٹی قائم کی بلکہ دُنیا کی پہلی سوشلسٹ ریاست کا وجود عمل میں لاکر ثابت کردیا کہ کمیونزم محض ایک ہوائی تصور نہیں بلکہ حقیقت ہے۔  54 برس کی مختصر سی زندگی میںلینن نے جوکارہائے عظیم کردکھائے، ان کے باعث پرولتاری طبقہ نے صدیوں کی مسافت ایک دم طے کردی۔ خود لینن کے الفاظ میں روس میں پیداشدہ انقلابی صورت حال ایک ایک لمحہ صدیوں پر بھاری ہے۔لینن کی قیادت میں روس کا سوشلسٹ ریاست کے طورپر ظہور ایک قومی مظہر نہیں تھا بلکہ بین الاقوامی اہمیت کا حامل تھا۔ لینن صرف روس کے نہیں بلکہ بین الاقوامی مزدور طبقہ کے قائد تھے۔ مارکس اور اینگلز کے بعد لینن ہی کمیونسٹ تحریک کے رہنما  ء اور معمار تھے۔ 
 انقلابی سرگرمیوں کا آغاز:
لینن کا جنم  22اپریل 1870میں زار شاہی روس میں ایک متوسط گھرانے میں ہوااور ایام طالب علمی سے ہی وہ اس وقت کی انقلابی سرگرمیوں سے وابستہ ہو گئے۔ انہوں نے قانون کی تعلیم حاصل کی لیکن حالات نے تاریخ کی عدالت میں مزدور طبقہ کی وکالت میں ان کے سپرد کی۔ وہ آخری دم تک مزدور طبقہ کی وکالت جانفشانی سے لڑے اور بورژوا طبقہ کے وکیلوں کو پچھاڑتے رہے ۔ جوا ں سال لینن کی ذہنی اور سیاسی نشو ونما کے لئے روس کا ماحول عین موافق تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب کہ کارل مارکس اور فریڈرک اینگلس کی تصانیف اور سرگرمیوں کے زیر اثر مختلف ممالک میںمزدور طبقہ کمیونزم کے انقلابی نظریہ سے لیس ہورہاتھا۔ 1880کے بعد روس کے کئی صوبوںمیں بھی مارکسزم کا پرچار جاری ہوا۔ مارکسی لٹریچر روسی زبان میںترجمہ ہوکر خفیہ طورپر تقسیم ہوا۔ مارکسی لٹریچر روسی زبان میں ترجمہ ہوکر خفیہ طورپر تقسیم کیا جانے لگا۔ شہروں میں مارکسی گروپ قائم ہونے لگے۔ ان اولین مارکیسیوں میں ولادیمر ایچ لینن بھی تھے۔ 1887میں جب صرف سترہ سال کی عمر کے تھے کازان میں طلباء کی انقلابی تحریک میں گرفتار اور جلاوطن کردئے گئے۔ 1887میں اس دہائی کے بعد وہ باقاعدہ اپنے علاقہ میں ایک سرکردہ مارکسی گروپ کے ساتھ وابستہ ہوگئے۔ ابتداء میں ہی لینن کی رہنمایانہ صلاحیتوں کا ثبوت ملنے لگا۔ انہوں نے ملک کے پہلے انقلابیوں کی عظیم انقلابیوں کی عظیم قربانیوں اور بے مثال شجاعت کی روایات کو قبول کیا۔ مگر لو ٹ کھسوٹ کے نظام کو جڑسے اکھاڑپھینکنے کے لئے مارکس ازم کا گہرا مطالعہ کرکے ان سے ایک الگ راستہ اپنانے کافیصلہ کیا۔
زار کا قتل:
 اس سے قبل روسی زارشاہی کے خلاف تحریک کی قیادت ناردو نک دہشت پسندوں کے ہاتھ تھی۔ ان میںبہت سے دیانت دار اور سرفروش محبان وطن اور انقلابی شامل تھے مگر ایک طبقاتی تنظیم اور سیاسی پختگی اور عوامی حمایت سے محروم تھے۔ وہ دہشت پسندی اور انفرادی قتل کے ذریعے زار شاہی کا تختہ اُلٹنے کے خواب دیکھتے تھے۔ یکم مارچ 1881 ء کے روز وہ زار شاہی الگیز ینردوم کو قتل کرنے میںکامیاب ہوگئے۔ اس واقعہ سے روس کے انقلابیوں کواپنے مستقبل کے لائحہ عمل کے بارے میں از سر نو سوچنے پر مجبور کردیا ۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ الیگزینڈر دوم کے قتل کے سلسلہ میں لینن کے بڑے بھائی کو پھانسی بھی لینن کے درست سیاسی تجزیئے میں حامل نہ ہوئی۔ لینن نے انفرادی قتل اور مہم بازی کی راہ کو رد کردیا اور مزدوروں کی طبقاتی تنظیم قائم کرنے کے لئے اپناپور ا وقت صرف کیا۔ انہوں نے مارکسی نقطہ نظر سے روس کی اقتصادی صورت حال اور طبقاتی رشتوں کا جائزہ لیا تاکہ مزدور پارٹی کی پیش قدمی کے لئے صحیح دائو پیچ مرتب کرسکے۔ لینن نے ان ہی ایام میں کتابوں ا ور مقالوں کی شکل میں اپنے خیالات پیش کرنا شرو ع کردئے جو آج مارکسی لیننی لٹریچر کا بیش قیمت سرمایہ ہے۔اُنیسویں صدی کا اختتام اور بیسویں صدی کا آغاز تاریخ کا یہ خاص مرحلہ لینن کی انقلابی سرگرمیوں کا دور تھا۔ سٹالن نے بجا طورپر کہا ہے:’’ لینن ازم سامراج اور پرولتاری انقلاب کے دور کا مارکس ازم ہے ‘‘۔ لینن کی تصنیف ’’سامراج سرمایہ داری کی بلند ترین اسٹیج ُ‘‘ اس بات کا ثبوت ہے کہ انہوں نے بدلے ہوئے حالات میںمارکس ازم کو لاگو کرکے کمیونسٹ نظریہ اور عمل کی کتنی وسیع راہیں کھول دیں۔ انہوں نے نئے حالات کا صحیح جائزہ  لیا جو مارکس کی زندگی میں ظاہر نہیںہوئے تھے۔
 مزدوروں کی طبقاتی تنظیم:
 1893میں روس بھرمیں مزدوروں کی تحریک میںایک نیا اُبھار پید اہوا، جگہ جگہ مزدوربھاری پیمانے پر سٹرائیکس کرنے لگے۔ لینن پہلے سمارہ اور بعدمیںپیٹرس برگ آگئے۔ مزدور طبقوں اور مارکسی گروپوں نے اس کی گوں ناگوں خوبیوں کے پیش نظر ان کی قیادت کو تسلیم کیا۔ لینن نے نارودونکوں کی موقع پرستی ، پلیچونوف کی آزادخیالی اور غلط نظریات کاڈٹ کر مقابلہ کیا اور اپنے خیالات ، ’’عوام کے دوست کون ہیں اور لوروہ سوشلسٹ ڈیموکریٹوں سے کیسے لڑسکتے ہیں؟‘‘ کتاب چھپوا کر پیش کی۔ لینن نے داخلی خواہشات کے بجائے معروضی حالات کی بناء پر پروگرام اور دائو پیچ مرتب کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ لینن جانتے تھے کہ مزدوروں کی اپنی طبقاتی تنظیم کے بغیر انقلاب کی باتیں محض کھوکھلی ہیں ۔ اس دورمیں لینن نے مارکس وادی مزدوروں کی آزاد سیاسی پارٹی ’غیر قانونی طورپر منظم کرنے کا مشکل ترین اور اہم ترین فریضہ سرانجام دیا اور ملک کے مختلف شہروں میں قائم مارکسی گروپ اکٹھا کرکے روسی سوشل  ڈیموکریٹک لیبر پارٹی کے نام سے جماعت قائم کی ( جس کانام کچھ سالوں کے بعد لینن نے خود ہی ’’کمیونسٹ پارٹی‘‘ تجویز کیا )۔ پارٹی کے انقلابی نظریات کی تشہیر کرنے اور موقع پرستی اقتصادیات پسندی اور پٹی بورژوا خیالات کے خلاف لڑنے کے لئے لینن کی ادارت میںپارٹی اخبار ’’اسکرا‘‘ (چنگاری) کا 11دسمبر1900کو اجراء کیا۔ ایک حقیقی پارٹی قائم کرنے کی جدوجہد شروع ہوچکی تھی۔ 1920 میںلینن نے اپنی کتاب ’’کیا کیا جانا چاہیے؟ ‘‘کے ذریعہ بتایا کہ پارٹی پرولتاری طبقہ کے باشعور حصہ کا ہراول دستہ ہو گی اور جمہوری مرکزیت ڈسپلن اور محنت کش عوام کے ساتھ مضبوط رابطہ کے اصولوں پر کاربند رہے گی۔ یہ نئی  طرز کی پارٹی تھی ، یعنی اصولوں کی پابندایسی ہی پارٹی آج بھی ہمارے لئے نمونہ ہے۔
نظریاتی تظہیر کی جدوجہد:
لینن کی قائم کردہ پارٹی میں بہت سے مخالف عناصر بھی داخل ہوگئے تھے اور پرولتاریہ کی آمریت ، طاقت کے ذریعے اقتدار پر قبضہ پرانے بورژو ا ریاستی ڈھانچہ کو تہس نہس کرکے نئے سوشلسٹ ڈھانچے کی تعمیر کسان مسائل ، جنگ اور امن اور اس طرح کے دیگر سوالوں پر لینن کے مخالف تھے۔ ان میں پلخوف ٹراٹسنی کانیف ، زنونیف ،الیگزنڈر ، بخارن وغیرہ وغیرہ تھے، جن کے خلاف لینن نے مسلسل لڑائی کی اور پارٹی کی نظریاتی یکسوئی کو برقرار رکھا ، اس مخالف گروہ کو لینن کی زندگی میں ہی کم و پیش ختم کیا جا چکاتھا لیکن باقی ماندہ کام اسٹالن نے پورا کردیا۔ یہ اینٹی گروپ مکمل طورپر بدیشی سامراجی طاقتوں کا آلہ کاربن کر سوشلسٹ سویت نظام کی بجائے پھر سرمایہ داری بحال کرنے کی سازش میںکھلے طورپر مصروف ہوگیا۔اسی شدت کے ساتھ لینن نے کمیونزم کے بھیس میں تحریف پسندی کے بین الاقوامی سوداگروں برسٹین اور کایٹیسی کے گمراہ کن نظریات کا بھی پردہ فاش کیا اور ان کے نظریاتی حملوں کا جواب اپنی جامع اور مدلل تصانیف کے ذریعے دیا۔ پارٹی میں لینن کے حامی بالشویک اور مخالف مینشویک کہلانے لگے ۔ روسی زبان میں بالشویک کامطلب اکثریت اور مینشویک کا مطلب اقلیت ہے۔ ایک حقیقی انقلابی پارٹی کے ظہور نے زار شاہی کو چوکنا کردیا اور اس نے لینن کی سرگرمیوں کو کچلنے کی سرگرمیاں شروع کردیں۔چنانچہ اس کے بعد لینن کی گرفتاری جلاوطنی اور روپوشی کا طویل سلسلہ شروع ہوا جو 1917کے اکتوبر انقلاب کے بعد ہی ختم ہوسکا۔ مگر انہوں نے اپنی پارٹی کے ساتھیوں اور عوام کے ساتھ رابطہ قائم رکھا اور پارٹی اخبار میں ان کے اہم سیاسی مقالے برابر چھپتے رہے۔
 دو نظریوں کی کسوٹی:
 بالیشویک اور مینشویک نظریوں اور سیاسی لائنوں کی آزمائش 1905میںہوئی۔ جب کہ روس کے پرولتاری طبقہ نے پہلی بار انقلاب کے ذریعے انقلاب حاصل کرنے کی کوشش کی جو ناکام رہی ۔ اس کڑی آزمائش کے وقت لینن کی قیادت میںروسی پرولتاریہ نے مسلح بغاو ت کے ذریعے زار شاہی کا تختہ اُلٹنے کی شاندار کوشش کی اور مینشویکوں نے موقع پرستی،  ہچکچاہٹ ، بزدلی اور غداری  کا بہترین مظاہرہ کیا۔ 1905ء کے انقلاب کی ناکامی کے بعد لینن نے اس کاسیر حاصل تجزیہ کیا اور اس سے اسباق حاصل کرنے کی ضرورت پر زور دیا اورکہا کہ 1905کی ڈریس ریہرسل کے بغیر 1917کا انقلاب ناممکن ہوتا ۔ لینن نے اگلے بارہ برس مزدوروں اور غریب کسانوں میںانتھک کام کیا اور پارٹی کے گرو جسے اب بالیشویک کمیونسٹ پارٹی کہا جاتاتھا نے عوام کے وسیع تر حلقوں کو مجتمع کردیا اورنہ صرف مزدور کسانوںبلکہ ہوائی اور بری اور بحری افواج میں بھی پارٹی کی جڑیں مضبو ط ہوگئیں۔ 1917ء میںپہلے بورژوا جمہوری انقلاب اور چند ماہ کے بعد پرولتاری اکتوبر انقلاب مکمل ہوا۔ ان کی کمان عملی طورپر لینن اور ان کی بالشویک پارٹی کے ہاتھ میںرہی۔ اکتوبر انقلاب سے قبل جلاوطنی سے واپس آکر چار اپریل 1917کو لینن نے ’’موجودہ انقلابی صورت حال میں پرولتاریہ کے فرائض‘‘ کے عنوان سے جو رپورٹ پارٹی کے کارکنوں کے سامنے پیش کی ۔ اسے اپریل تھیسس کے نام سے یاد کیا جاتاہے۔ انقلاب سے قبل پارٹی کا ڈ ر کی نظریاتی تعلیم اور حالات کوصحیح رُخ دیتے ہیں۔ اپریل تھیسس کی بہت اہمیت ہے۔ لینن نے بنیادی سوال اٹھایا اور زوردیا کہ یہ کبھی فراموش نہیں کیا جاناچاہے کہ لڑائی کس طبقہ کے خلاف ہے اور اقتدار کس طبقہ کے ہاتھ آئے گا۔ سامراجیوں کا حملہ:
1917کے انقلاب کے بعد میشویک بالکل ننگے ہوگئے جب لینن سوشلسٹ ریاست کے پہلے وزیراعظم مقرر ہوئے اوران کی سرکردگی میں سوشلسٹ تعمیر کاکام شروع ہوا ۔تب بھی میشویک گروپ نے قدم بہ قدم رخنہ اندازی جاری رکھی لیکن 1917-18کے صرف ایک سال کے اندر ہی عوام کی غیر معمولی انقلابی تخلیقی صلاحتیں اور ملک کے اندر جاگیرداری اور سرمایہ داری کا خاتمہ کرکے سوشلزم کی داغ بیل ڈالی گئی۔ سامراجی طاقتوں نے تو اس نوزائیدہ سوشلسٹ ریاست کا گلاگھونٹنے کی سازشیں کیں، لینن نے ان کی حفاظت کے لئے بعض ناموافق شرائط پر بھی جرمنی سے امن معاہدہ کرلیا تاکہ وہ سوشلسٹ ریاست کو اپنے پائوں پر کھڑا ہونے کاموقع مل سکے۔ میشویکوں نے جو ایسے وقت میںروس کوجنگ میںدھکیل کر سامراجیوں کی چال کو کامیاب بناناچاہتے تھے۔ لینن  پر جرمن فوج کا ایجنٹ ہونے کاالزام بھی لگایا۔اس کے بعد متعدد سامراجی ملکوں نے جب روس پر حملہ کرنا شروع کیا اورملک کے اندر شکست خوردہ سرمایہ دارروں اور زارشاہی کے بچے کھچے مہروں نے اَز سر نو بحالی کی کوششیںکیں۔ اس وقت لینن نے مزدوروں اور غریب کسانوں کو انقلابی حب اُلوطنی کے جذبے سے لیس کیا۔ فوجی رہنمائی خود سنبھال کر تمام محاذوں پر دشمنوں کو پسپا کردیا۔ لینن نے تحریک پسندی ، موقع پرستی ، پٹی بورژوا رحجانات کے خلاف بین الاقوامی سطح پر جہاد کیا۔ دوسری  انٹرنیشنل پر قابض تحریف پسندوں کو بے نقاب کردیاجوجنگ کے دوران قوم پرستی کے نام سے اپنے ملک کے سرمایہ دار حکومتوں کی پُشت پر کھڑے ہوگئے تھے۔ لینن نے تیسری انٹرنیشنل کی بنیاد رکھی ۔ اس میں روس کے علاوہ چند ممالک کے کمیونسٹ پارٹیوں کے اقلیتی گروپ ہی شامل ہوئے تھے۔ لینن نے مارکسزم کے بنیادی اصولوں پر سودا بازی سے انکار کردیا۔ 
  آخری ایام: 
بوکھلائے ہوئے بین الاقوامی سامراج اور ان کے مینشویک کے ایجنٹوں نے متعدد بالیشویک لیڈروں بلکہ لینن کی ذات پر بھی قاتلانہ حملہ کروانے سے دریغ نہیںکیا۔ 1922میںوہ ایک مینشوک ایجٹ کی دوزہر آلودگولیوں سے زخمی ہوئے اور چلنے پھرنے سے زیادہ محنت و مشقت کے قابل نہیںرہے۔ ویسے بھی اَن تھک محنت کے باعث ان کی صحت خراب رہنے لگی تھی۔ اس کے باوجود لینن پارٹی کی سینٹرل کمیٹی کو خطوط اورتحریری ہدایات بھیج کر اس کی رہنمائی کرتے رہے۔ انہوں نے اس عرصہ میں کئی سیاسی مقالے تحریر کئے۔ بالشیویک پارٹی کی گیارہویں کانگرس میں جے وی اسٹالن پارٹی کے جنرل سکریٹری چنے گئے جنہوں نے اپنی معرکہ آراء تصنیف ’’لینن اِزم کی بنیادیں‘‘ تصنیف کرکے ایک بہت بڑی نظریاتی ضرورت کو پورا کیا اور پارٹی دشمن اقلیتی گروپ کو مزید ننگا کیا ۔ بستر مرگ پر پڑے ہوئے بھی لینن نے سوشلسٹ ریاست کا پہلا آئین اور سوشلسٹ تعمیر کا جامع منصوبہ تیار کرکے پارٹی کودیا۔ 21؍جنوری 1924ء کو لینن نے وفات پائی نہ صرف روس بلکہ دنیا بھر کے محنت کش اشتراکیوں کا محبوب رہنماء اور محافظ ان سے جداہوگیا۔ اس عظیم نقصان کی تلافی ہونا مشکل تھی۔ غنیمت یہ تھا کہ لینن کے ادھورے کام کو پورا کرنے کی ذمہ داری اسٹالن جیسے اہل رہنماء نے سنبھالی۔ 
 لینن کیسے انسان تھے ؟ ان کی وفات کے فوراً بعد سینٹرل کمیٹی نے محنت کشوں کے نام اپیل میں بالکل درست کہا: ’’و ہ سب کچھ جو کہ پرولتاری طبقہ میں عظیم اور شاندار ہے ‘‘ ثابت قدمی اور تمام رکاوٹوں پر عبورپانے کے قابل بے خوف دل اور آہنی ارادہ کلامی اور جبر واستبداد سے شدید ترین نفرت ’کو ہساروں کو ہلادینے والا انقلابی جذبہ‘ عوام کی تخلیقی صلاحیتوں پر لامحدود یقین ’ وسیع تنظیمی ذہانت ‘ لینن ان سب کا عظیم مجسمہ تھے۔ ’ لینن کا نام مغرب مشرق ‘ تا جنوب شمال ایک نئی دنیا کاعلم بن گیاہے‘‘۔ لینن کی وفات کے پانچ روز بعد سٹوڈنٹس کی دوسری آل یونین کانگرس میں سٹالن نے ان الفاظ میں خراجِ عقیدت پیش کیا۔:’’کامریڈو! ہم کمیونسٹ ایک خاص سانچے میں ڈھلے ہوئے ہیں’ ہم ایک خاص مٹی کے بنے ہوئے ہیں ‘  ہم وہ ہیں جن سے ایک عظیم پرولتاری میں کامریڈ لینن کی فوج کی تشکیل ہوئی ہے‘ ۔ اس فوج سے وابستہ ہونے  سے کوئی اور بلند ترین عزت افزائی نہیں‘ اس پارٹی کی رُکنیت سے بڑھ کر کوئی اور اعزا ز نہیں۔ جس کے بانی اور رہنماء کامریڈ لینن تھے، ایسی پارٹی کا ممبر ہو نا ہر کسی کا نصیب نہیںہوتا۔ ان مصائب و آلام کے آگے ٹھہرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں جو ایسی پارٹی رُکنیت کے طفیل آتے ہیں۔
krishandevsethi@gmail.com