تازہ ترین

آخری آرام گاہ!

مزارِ غالبؔ کی بازیافت

20 فروری 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

شاہد ماہلی
15؍ فروری  ۱۸۶۹ء کو دو شنبہ کے دن ظہر کے وقت مرزا اسداللہ خاں غالبؔ کا بلّی ماران کے اس مکان میں انتقال ہوا، جس کے کچھ حصے آج بھی محفوظ ہیں۔ جنارے کی نماز دہلی دروازے کے باہر ہوئی اور غالبؔ کو اس قبرستان میں دفن کیا گیا، جسے بقول خواجہ حسن ثانی نظامی باغیچی انارکلی کہا جاتا تھا اور جو غالبؔ کے سسرال والوں کی ملکیت تھا۔ قبرستان میں غالبؔ کے سسر نواب الٰہی بخش خاں معروفؔ، مرزا علی بخش خاں رنجورؔ، زین العابدین خاں عارفؔ وغیرہ مدفون تھے۔ غالبؔ کی وفات کے بعد اُن کی بیوی امراؤ بیگم اور مرزا باقر علی خاں کاملؔ بھی اس قبرستان میں دفن کئے گئے۔ انیسویں صدی کے اوائل میں اس قبرستان میں بقول غلام رسول مہر ۲۳ قبریں تھیں۔ (غلام رسول مہر، غالب، طبع چہارم، لاہور، ص۳۹) غالبؔ کی قبر معمولی بنائی گئی تھی۔ اس پر چونے کا پلاسٹر تھا اور سرہانے سنگِ مرمر کی لوح نصب تھی۔
لوح پر میر مہدی مجروحؔ کا درج ذیل قطعہ تاریخ کندہ تھا:
یَاحَیُّ یَا قَیُّوْم
رشکِ عرفی و فخرِ طالبؔ مرد
اسد اللہ خاں غالبؔ مرد
کل میں غم و اندوہ میں با خاطر محزوں
تھا تربتِ اُستاد پہ بیٹھا ہوا غم ناک
دیکھا جو مجھے فکر میں تاریخ کی مجروحؔ
ہاتف نے کہا ’گنجِ معانی ہے تہہِ خاک‘
۵        ۸        ۲         ۱      ھ
رزا حیرتؔ دہلوی نے ’چراغِ دہلی‘ میں لکھا ہے کہ غالبؔ کے کسی ہندو شاگرد نے اس احاطے کی پختہ چہاردیواری بنائی تھی۔
چونکہ مزارِ غالبؔ بہت معمولی انداز میں بنایا گیا تھا ،اس لیے ساٹھ پینسٹھ سال میں اس کی حالت بہت خستہ ہوگئی۔ شاد عارفی ۱۹۳۴ء میں دہلی آئے تھے۔ ان کے قول کے مطابق مزارِ غالبؔ بہت بُری حالت میں تھا۔مولانا محمد علی مرحوم نے غالبؔ کا مقبرہ بنانے کی تحریک شروع کی۔ اس مقصد کے لیے انھوں نے چندہ جمع کرنا شروع کیا۔ بقول ایم۔ حبیب خاں چھ مہینے کی لگاتار کوششوں سے ۶۷۷ روپے جمع ہوسکے۔ چندہ دینے والوں میں خواجہ الطاف حسین حالیؔ، مولانا محمد علی، مولانا شوکت علی، مولانا ابوالکلام آزاد، مرزا محمد عسکری، ڈاکٹر سرتیج بہادر سپرو وغیرہ شامل تھے۔ جب مقبرہ بنانے کا کام شروع ہونے لگا تو خاندانِ غالبؔ کے کچھ لوگوں نے کہا کہ انھیں پسند نہیں ہے کہ غالبؔ کا مقبرہ چندے سے بنایا جائے۔ مجبور ہوکر مولانا محمد علی نے لوحِ قبر دوسری تیار کرادی، جس پر وہی اشعار تھے جو پہلی لوح پر تھے۔ پھر کچھ عرصے بعد خواجہ حسن نظامی مرحوم نے مزارِ غالبؔ کی مرمت کا بیڑا اٹھایا، لیکن انھیں بھی اپنے مقصد میں کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ ۱۹۵۲ء میں مولانا ابوالکلام آزاد اور مرحوم ڈاکٹر سرشانتی سروپ بھٹناگر کو غالبؔ کے مزار پر مقبرہ بنانے کا خیال آیا۔ ان حضرات نے غالبؔ سوسائٹی نام سے ایک ادارہ قائم کیا جس کی تفصیل ایک مضمون کی شکل میں مالک رام صاحب نے لکھی تھی۔ یہ مضمون ماہانہ ’آج کل‘ نئی دہلی کے مارچ ۱۹۵۸ء کے شمارے میں شائع ہوا تھا۔ چونکہ مالک رام صاحب نے بہت اہم معلومات فراہم کی ہیں، اس لیے یہ پورا مضمون یہاں نقل کیا جارہا ہے۔
مالک رام
غالبؔ سوسائٹی
۱۹۵۲ء میں مولانا ابوالکلام آزاد اور مرحوم ڈاکٹر سرشانتی سروپ بھٹناگرکے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ دلّی میں غالبؔ کی ایک یادگار تعمیر کی جائے جو اس اُردو اور فارسی کے عظیم الشان شاعر کے بھی شایانِ قرار دی جاسکے اور اس کے مداحوں اور نام لیواؤں کے لیے بھی باعثِ فخر ہو۔
تجویز یہ تھی کہ ایک غالبؔ میموریل ہال بنایا جائے، جہاں وقتاً فوقتاً ادبی اجتماع اور مشاعرے منعقد ہوسکیں، بلکہ اگر کسی اور سماجی اور تہذیبی ادارے کو بھی ضرورت ہوتو اُسے بھی اس کے استعمال کی اجازت دی جائے۔
اس تجویز کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ڈاکٹر بھٹناگر مرحوم نے اپنے ہم خیال دوستوں کا ایک جلسہ طلب کیا۔ یہ اجتماع ۱۷؍جنوری ۱۹۵۳ء کو ہوا۔ اس میں درجِ ذیل حضرات موجود تھے:
ڈاکٹر شانتی سروپ بھٹناگر، سکریٹری وزارتِ تعلیم حکومت ہند، دہلی
شنکر پرشاد صاحب، چیف کمشنر دہلی
وِدیاشنکر صاحب، جوائنٹ سکریٹری وزارتِ دفاع حکومت ہند، دہلی
جناب جوشؔ ملیح آبادی، مدیر ماہنامہ ’آج کل‘ دہلی
کنور مہندر سنگھ بیدیؔ صاحب، ہاؤسنگ ورینٹ کمشنر، دہلی
سیّد اشفاق حسین صاحب، ڈپٹی سکریٹری، وزارتِ تعلیم حکومت ہند، دہلی
جناب شیوراج بہادر، دہلی
حمیدہ سلمان صاحبہ، دہلی
اس جلسے میں یہ فیصلہ ہوا کہ ضروری روپیہ جمع کیا جائے، جس سے مجوزہ ہال تعمیر ہوسکے۔ خرچ کا اندازہ ڈیڑھ  دولاکھ کا تھا۔ چنانچہ تمام اراکین جلسہ نے اپنے اپنے حلقۂ احباب سے روپیہ جمع کرنے کا وعدہ کیا۔ سیّد اشفاق حسین صاحب باتفاق رائے خزانچی مقرر ہوئے۔کچھ دن تک کام اسی نہج پر ہوتا رہا۔ جور قوم جمع ہوئیں ’غالبؔ میموریل فنڈ‘ کے حساب میں لائیڈز بینک نئی دہلی میں جمع ہوتی رہیں۔ لیکن جلد ہی اس امر کی ضرورت محسوس کی گئی کہ ان تمام مساعی کو کسی منظم ادارے کے سپرد کردینا چاہیے اس لیے طے پایا کہ ’غالبؔ سوسائٹی‘ قائم کی جائے اور اسے باقاعدہ رجسٹرڈ کرالیا جائے چنانچہ اس کے قواعد و ضوابط بنائے گئے، اور سوسائٹی کی تشکیل اور ان قواعد پر غور و خوض کرنے کے لیے مندرجہ ذیل اصحاب سے ۱۸؍ستمبر ۱۹۵۳ء کو جمع ہونے کی درخواست کی گئی۔
ڈاکٹر شانتی سروپ بھٹناگر، سکریٹری، وزارتِ تعلیم حکومت ہند، دہلی
ڈاکٹر ذاکر حسین صاحب، وائس چانسلر، مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ
جناب شنکر پرشاد صاحب، چیف کمشنر، دہلی
جناب وِدیا شنکر صاحب، جوائنٹ سکریٹری وزارتِ دفاع حکومت ہند، دہلی
بیگم ساجدہ سلطانہ صاحبہ آف پاٹودی، دہلی
نواب زین یار جنگ بہادر، حیدرآباد
جناب جوشؔ ملیح آبادی، مدیر ’آج کل‘ دہلی
جناب برج نارائن صاحب، دہلی
جناب شیوراج بہادر صاحب، دہلی
سیّد اشفاق حسین صاحب، ڈپٹی سکریٹری، وزارتِ تعلیم، حکومت ہند، دہلی
ان میں سے بیگم صاحبہ پاٹودی اور نواب زین یار جنگ بہادر اور جوشؔ ملیح آبادی اس جلسے میں نہیں آسکے تھے۔ انھوں نے غیر حاضری کے لیے معذرت کی اور لکھ بھیجا کہ اجتماع میں جو فیصلہ ہو اُسے ہم منظور کرتے ہیں اور مزید یہ کہ ہمیں اس سوسائٹی کا اساسی رُکن بننے میں کوئی عذر نہیں۔
جلسے میں یہ قرار داد منظور ہوئی:
’’مرزا اسد اللہ خاں غالبؔ کی یادگار کو دوامی شکل دینے کے مقصد سے ’غالبؔ سوسائٹی‘ کے نام سے ایک ایسوسی ایشن بنائی جائے۔ اس کے لیے فوری کارروائی کی جائے تاکہ غالبؔ کی قبر کی مرمت ہوسکے اور اس پر ایک موزوں عمارت بنائی جائے۔ مزید یہ کہ اس کی یاد میں ایک ہال تعمیر کیا جائے۔‘‘
اسی جلسے میں سیّد اشفاق حسین صاحب نے حاضرین کو مطلع کیا کہ لینڈ ڈیولپمنٹ آفیسر (Land Development Officer) نے مجوزہ ہال تعمیر کرنے کے لیے بستی نظام الدین میں زمین کا ایک ٹکڑا مخصوص کردیا ہے۔ جونہی سوسائٹی کی رجسٹری ہوجاتی ہے، اس جگہ کے حصول کے لیے باضابطہ درخواست دے دی جائے گی۔ اس کے بعد سوسائٹی کی مجلسِ منتظمہ کا حسبِ ذیل انتخاب ہوا:
صدر:ڈاکٹر شانتی سروپ بھٹناگر
سکریٹری: سیّد اشفاق حسین صاحب
خزانچی:جناب وِدیا شنکر صاحب
اراکین مجلس: بیگم صاحبہ پاٹودی، ڈاکٹر ذاکر حسین صاحب، 
جناب شنکر پرشاد صاحب، نواب زین یار جنگ بہادر
جناب جوشؔ ملیح آبادی، جناب شیوراج بہادر 
صاحب، جناب برج نارائن صاحب
لیکن جناب وِدیاشنکر صاحب خزانچی کا عہدہ سنبھال بھی نہیں سکے تھے کہ ان کا تبادلہ کلکٹر اور مجسٹریٹ کی حیثیت سے پالن پور (بمبئی) ہوگیا۔ اس لیے اس کے بعد جناب برج نارائن کو خزانچی بنایا گیا۔ اب تک تمام وصول شدہ رقوم لائیڈزبینک نئی دہلی میں ’غالبؔ میموریل فنڈ‘ کے حساب میں جمع ہوتی رہی تھیں۔ جب سوسائٹی کی باقاعدہ تشکیل ہوگئی تو حساب مذکور کا نام بھی یہی کردیا گیا۔
نواب زین یار جنگ بہادر (حیدر آباد) ہندوستان کے مایۂ ناز ماہرِ فنِ تعمیر (Architect) ہیں۔ انھوں نے مجوزہ مقبرے اور ہال کے نقشے تیار کیے۔ روپیہ کی فراہمی کا کام تو ہوہی رہا تھا، سوسائٹی کے سکریٹری کی درخواست پر پورن چند صاحب، ایگزیکٹیو انجینئر محکمۂ تعمیراتِ ہند نے کام کی دیکھ بھال کے لیے اپنی اعزازی خدمت پیش کردیں۔ چنانچہ تعمیر کا تمام کام انھیں کی نگرانی میں ہوا۔ سوسائٹی کا تخمینہ یہ تھا کہ مجوزہ نقشے کے مطابق قبر پر سنگِ مرمر کی چوکھنڈی بنانے پر ۱۳۱۹۷ روپے کا خرچ اٹھے گا۔ اس کی تیاری کے لیے چھ مختلف فرموں نے ٹینڈر پیش کیے۔ ان میں سے مسز عبدالحکیم حسین بخش، مکرانہ (راجستھان) کا ٹینڈر سب سے ارزاں تھا۔ یہ فرم راجستھان میں سنگِ مرمر کا کاروبار کرتی ہے۔
فون: 011-43559568
shahid_meyar@hotmail.com
(باقی باقی)