تازہ ترین

وکلاء پردرمیانہ داری کے ذریعہ معاملات نپٹانے پر زور

جسٹس تاشی ربستان کا مثبت تبادلہ خیال کیلئے ماحول قائم کرنے کی ضرورت پر زور

11 فروری 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

نیو ڈسک
جموں//جسٹس تاشی ربستان جج جموں و کشمیر ہائی کورٹ نے عدالتی نظام میں درمیانہ داری کے تصور کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اس عمل سے معاملات کو عدالتوں میں جانے کے بغیر حل کیا جا سکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میڈیشن کے عمل کو مزید فعال اور دلچسپ بنانے کی ضرورت ہے تا کہ معاملات کے فریقین اسے اختیار کر سکیں ۔ جسٹس تاشی ربستان نے ان باتوں کا اظہار یہاں وکلاء کیلئے میڈیشن سے متعلق تین روزہ ریفریشرورکشاپ کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا جس کا انعقاد ہائی کورٹ کی میڈیشن اینڈ کنسلیشن کمیٹی نے ریاستی حکومت کے اشتراک سے کیا تھا ۔ جسٹس تاشی ربستان نے بامعنی تبادلہ خیال کیلئے ساز گار ماحول قایم کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ اس تبادلہ خیال سے میڈیشن کے عمل کو کامیابی سے ہمکنار کیا جا سکتا ہے ۔ انہوں نے شرکاء پر زور دیا کہ وہ اپنے تمام معاملات کی نشاندہی کر کے ان کو پرذائیڈنگ افسروں کے ساتھ اٹھائیں تا کہ میڈیشن کی موثر عمل آوری کو یقینی بنایا جا سکے ۔ انہوں نے ریاست میں میڈیشن کے قوانین میں کچھ ترامیم سے متعلق منصوبے کا عندیہ دیا تا کہ انہیں مزید فعال اور نتیجہ خیز بنایا جا سکے ۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے پروگرام ضلع سطح کی عدالتوں میں بھی منعقد کئے جائیں گے تا کہ زمینی سطح پر میڈیشن کی عمل آوری کو یقینی بنایا جا سکے ۔ جسٹس سندھو شرما جج جموں و کشمیر ہائی کورٹ نے اپنے خطبے میں کہا کہ میڈیشن کی جڑیں ہماری قدیم روایات اور ثقافت میں موجود ہیں اور انصاف کی فراہمی کے اس ذریعے سے تنازعات کو بامعنی طریقے پر حل کرنے میں مدد مل سکتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ زیادہ سے زیادہ کیسوں میں درمیانہ داری اختیار کرنے سے نہ صرف ہم اپنی جڑوں کے ساتھ جُڑ جائیں گے بلکہ انصاف کی فراہمی کے نظام سے متعلق ہمارا مجموعی نکتہ نظر بھی تبدیل ہو جائے گا ۔ جسٹس شرما نے میڈیشن وکلاء کو اس تصور کا اعلیٰ کار قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ وہ اپنی کاوشوں سے اس عمل کو کامیاب بنانے کے ساتھ ساتھ جوڈیشل دُنیا میں انمٹ نقوش چھوڑ سکتے ہیں ۔ انہوں نے میڈیشن سے متعلق زیادہ سے زیادہ بیداری پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا ۔انہوں نے اس موقعہ پر سماجی بہبود میں مثبت تبدیلی لانے میں وکلاء کے رول کو بھی اجاگر کیا ۔ انہوں نے کہا کہ میڈیشن کو تنازعات کو حل کرنے کا ایک بھر پور ذریعہ بنایا جانا چاہئیے ۔ معروف مقررین اور ریسورس پرسن نے اپنے اپنے مخصوص موضوعات پر تفصیل سے روشنی ڈالی اور کہا کہ میڈیشن کو اختیار کرنے سے معاملات حل ہونے کے ساتھ ساتھ رشتے مستحکم اور زندہ رہ سکتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ثالثی کار دراصل فریقین کے درمیان تضادات کو کم کرنے کی طرف توجہ دیتے ہیں اور وہ صبر و تحمل کے ساتھ ایک متوازن رویہ اختیار کرتے ہیں ۔ انہوں نے شرکاء کو صلاح دی کہ وہ غیر جانبداری اختیار کر کے اس عمل کے بارے میں زیادہ سے زیادہ بیداری پیدا کریں تا کہ فریقین کو افہام و تفہیم کے ذریعے معاملات حل کرنے کی طرف راغب کیا جا سکے ۔