تازہ ترین

مقبول بٹ اور افضل گورو کو برسیوں پر خراج عقیدت

برسیوں پر پابندیاں ہمارے سرفروشوں کی توہین:گیلانی/اپنے محسنوں کو یاد رکھنا لازمی:ملک

11 فروری 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

نیو ڈسک
سرینگر//حریت (گ)،لبریشن فرنٹ، تحریک حریت ، نیشنل فرنٹ،پیپلزپولٹیکل فرنٹ،تحریک استقلال اور جمعیت ہمدنیہ نے محمد مقبول بٹ اور محمد افضل گورو کو خراج عقیدت ادا کیا ہے ۔حریت (گ)چیئرمین سید علی گیلانی نے محمد افضل گورو کی برسی پر کرفیو جیسی پابندیاں عائد کرنے، آزادی پسندوں کے خلاف کریک ڈاؤن ، دعائیہ مجالس پر پابندی اور تحریک آزادی سے وابستہ درجنوں لیڈروں اور کارکنوں کو گھروں اور پولیس تھانوں میںنظربند کرنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ پابندیاں ہمارے سرفروشوں کی توہین کرنے کے مترادف کارروائی ہے اور حکومت اس طرح کی پالیسی پر عمل کرکے ایک بڑے طوفان کو دعوت دے رہی ہے۔لبریشن فرنٹ چیئرمین محمد یاسین ملک نے کشمیریوں سے محمد مقبول بٹ کی برسی کے حوالے سے مشترکہ مزاحمتی قیادت کے پروگرام پر من و عن عمل کرتے ہوئے 11؍ فروری کو مکمل اور ہمہ گیر ہڑتال کرنے نیز مقبول بٹ اور محمد افضل گورو کی باقیات کی کشمیر منتقلی کی مانگ کیلئے احتجاج کرنے کی اپیل کی۔ فرنٹ چیئرمین نے کہا ’’ہمارا فریضہ ہے کہ اپنے ان محسنوں کو یاد رکھیں اور انہیں شایان شان طریقے پر خراج عقیدت ادا کرنے کیلئے قومی اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کریں۔ تحریک حریت چیئرمین محمد اشرف صحرائی نے محمد مقبول بٹ کو 35ویں برسی پر اُن کوخراج عقیدت ادا کرتے ہوئے کہا کہ محمد مقبول بٹ صف اول کے رہنما ہونے کے ساتھ ساتھ اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان تھے، جنہوں نے کشمیر کی آزادی کی خاطر نہ صرف اپنی جان کی قربانی پیش کی بلکہ اُن کے پورے خاندان نے تحریک آزادی کی آبیاری کرتے کرتے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ محمد مقبول بٹ کے دو بھائیوں نے بھی قوم کی آزادی کی خاطرقربانی پیش کی جبکہ اُن کے ایک اور بھائی ظہور احمد بٹ بھی مسلسل کئی برسوں سے جیلوں کی صعوبتیں برداشت کرتے رہے اور آج بھی ظہور احمد بٹ ایام اسیری کاٹ رہے ہیں۔ صحرائی نے کہا کہ کشمیر کے اس مایہ ناز سپوت محمد مقبول بٹ کو جرم بے گناہی میں تہاڑ جیل میں پھانسی دے دی گئی اور پھر اس کی میت بھی آج تک اہل خانہ کو واپس نہیں لوٹا دی گئی بلکہ اس کو تہاڑ جیل میں ہی دفنایا گیا، ایسا ایک اور مایہ ناز سپوت محمد افضل گورو کو بھی تہاڑ جیل میں پھانسی دے کر جیل میں ہی دفنایا گیا۔ صحرائی نے کہا کہ بھارتی حکام نے انتقام کی پالیسی اپناتے ہوئے تمام جمہوری، انسانی، اخلاقی اور قانونی اصولوں کو کو روندتے ہوئے محمد مقبول بٹ اور محمد افضل گورو کے اہل خانہ کو ملاقات کرنے کی اجازت نہ دینے کے ساتھ ساتھ اُن کی نعشوں کو بھی اہل خانہ کے سپرد نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ قانون، اخلاقی، انسانیت اور جمہوریت کا تقاضا تھا کہ آخری لمحات میں اہل خانہ کو ملاقات کا موقع فراہم کیا جانا چاہیے تھا ۔ صحرائی نے مطالبہ کیا کہ ان کی باقیات کو اہل خانہ کے سپرد کیا جائے۔ نیشنل فرنٹ نے محمد مقبول بٹ اور محمد افضل گورو کی برسیوں کے موقعہ پر اُن کے حق میں قر آن خوانی کا اہتمام کیا۔نیشنل فرنٹ نے تنازعہ کشمیر کی جوں کی توں پوزیشن توڑنے کیلئے اپنی عزیز جانوں کا نذرانہ پیش کیاہے۔نیشنل فرنٹ ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ پارٹی کے صدر دفتر پر ایک تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں فرنٹ کے جملہ سینئر اراکین و عہدیداروں نے شرکت کی ۔ قر آن خوانی اور خصوصی دعائیہ مجلس کے بعد سینئر عہدیداروں نے اجلاس سے مخاطب ہوتے ہوئے دنیا بھر کے انصاف پسند لوگوں سے اپیل کی کہ وہ مقبول اورافضل کی باقیات اُن کے ورثاء اور کشمیری قوم کو لو ٹانے میں اپنا کردار ادا کریں۔پیپلزپولٹیکل فرنٹ کے سرپرست فضل الحق قریشی اور چیئرمین محمد مصدق عادل نے خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان تاریخ ساز سپوتوں کی برسیوں کو منانے کا مقصد جہاں انہیں اور دوسرے کشمیریوں کی قربانیوں کو یاد کرکے انہیں خراجِ عقیدت پیش کرنا ہے وہاں ہمیں ان اجتماعی طورتجدیدِ عہد کے طور بھی منانا چاہئے اور اس بات کاعہد دہرانا چاہئے کہ جس عظیم مقصد کی خاطرانہوں نے اپنی جانیں قربان کیں اس مقصد کی حفاظت کی جائے گی۔تحریک استقلال اورجمعیت ہمدانیہ کے سربراہ مولانا ریاض احمد ہمدانی نے خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے اُن کے باقیات کی واپسی کا مطالبہ کیا ہے۔
 

فرنٹ کے نائب چیئرمین اور نائب زونل صدر گرفتار

سرینگر// پولیس نے اتوار کی شام لبریشن فرنٹ کے نائب چیرمین مشتاق اجمل اور نائب زونل صدر محمد یاسین بٹ کو گرفتار کیا ہے۔ان لوگوں کو یوم مقبول سے قبل ہی گرفتار کیا گیا۔پولیس نے اس سے قبل ہی فرنٹ چیئرمین محمد یاسین ملک سمیت شوکت احمد بخشی، نور محمد کلوال،محمد سلیم ننھا جی، غلام محمد ڈار، صدر ضلع گاندربلبشیر احمد بویا ، صدر ضلع بڈگام گلزار احمد پہلوان ،فیاض احمدکو گرفتار کررکھا ہے۔
 
 

 کشمیریوں کیلئے انصاف کے دروازے بند کر دئے گئے ہیں

انجینئر رشید کا سوپور میں پارٹی کے سمینار سے خطاب

سوپور//اے آئی پی کی طرف سے افضل گورو اور مقبول بٹ کی برسیوں کے حوالے سے سوپور میں منعقد کئے گئے ایک روزہ سمینار میں زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں لوگوں نے شرکت کی ۔ اس موقعہ پر جن لوگوں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا ان میں مفتی نثار احمد، شیبان عشائی، ملک طارق رشید، پرنس پرویز، ایڈوکیٹ سجاد ، ایڈوکیٹ نور الشہباز اور کئی دیگر لوگ شامل ہیں ۔ مقررین نے یک زبان ہو کر دونوں پھانسیوں کو حراستی قتل قرار دیتے ہوئے کہا کہ کشمیریوں کیلئے انصاف کے دروازے بند کر دئے گئے ہیں ۔ اپنی تقریر میں انجینئر رشید نے کہا کہ وہ لوگ جو 1987کے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلیوں کو موجودہ عسکری تحریک کیلئے ذمہ دار مانتے ہیں حقائق کو مسخ کرنے کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ انجینئر رشید نے کہا ’’ہر زاویہ سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ کشمیری قوم 1947سے مسلسل نئی دلی کی وعدہ خلافیوں سے مایوس ہو چکی تھی اور جب محمد مقبول بٹ کو تہاڑ جیل میں لٹکا دیا گیا تو کشمیریوں کو لگا کہ نئی دلی اُن کی آواز کو دبانا چاہتی ہے اور مقبول بٹ کی پھانسی پوری کشمیری قوم کو ڈرانے کیلئے ایک حربے کے طور انجام دی گئی ہے ۔ لہذا کشمیری قوم نے مقبول بٹ کی پھانسی کو اپنی غیرت کو للکارنے سے تعبیر کرتے ہوئے عسکری جد و جہد کا راستہ اختیار کیا۔ ہندوستانی لوگوں پر لازم ہے کہ وہ اپنے حکمرانوں سے پوچھ لیں کہ کیا مقبول بٹ کی پھانسی کے پیچھے مقاصد حاصل ہوئے ہیں ۔ جواب بالکل واضح ہے کہ نہ صرف مقبول بٹ کی پھانسی عسکری جد و جہد کے آغاز کی وجہ بنی بلکہ تب سے لیکر آج تک ایک لاکھ سے اوپر لوگوں کا خون بہنے اور تمام تر تباہی کا بھی موجب بنی ۔ 1989سے لیکر اب تک کشمیر میں گرنے والے خون کے ایک ایک قطرے کی اخلاقی ذمہ داری نئی دلی پر عائد ہوتی ہے کیونکہ اس کی احمقانہ ، فرقہ پرستانہ اور فریبانہ پالیسیوں کی وجہ سے ہی کشمیریوں نے بندوق اٹھائی ۔ افسوس تو اس بات کا ہے کہ مقبول بٹ کی پھانسی سے سبق سیکھنے کے بجائے نئی دلی نے کچھ دہائیوں بعد افضل گورو کو بھی تختہ دار پر چڑھایا جس کی وجہ سے موجودہ عسکری تحریک کو اور جوازیت اور تقویت مل گئی‘‘۔انجینئر رشید نے مزاحمتی قیادت سے اپیل کی کہ وہ قوم کے اندر وسیع تر اتفاق رائے کی کوشش کرے کیونکہ کشمیر کا مسئلہ نہ تو بھانت بھانت کی بولیوں سے حل ہونے والا ہے اور اس مسئلہ کو ہر لحاظ سے ذاتی انا اور سیاست سے بالا تر رکھنے کی ضرورت ہے ۔
 
 

 مقبول بٹ رواں تحریک کیلئے روشنی کا مینار: ہاشم قریشی

سرینگر// ڈیموکریٹک لبریشن پارٹی کی طرف سے محمد مقبول بٹ کی35ویں برسی کے تناظر میں ایک سمینار کا انعقاد سرینگر کے ایک مقامی ہوٹل میں کیا گیا جس میں مختلف طبقہ ہائے فکر سے وابستہ افراد ایڈوکیٹ جی این شاہین،ایڈوکیٹ مرسلین،ایڈوکیٹ پرویز زرگر،ایڈوکیٹ طاہر مجید ،ایڈوکیٹ بابر قادری اور دیگر لوگوں نے شرکت کی۔سمینار میں مقررین نے محمد مقبول بٹ کو خراج عقیدت پیش کیااور  لازوال قربانیوں کو قومی سرمایہ قرار دیا۔ شرکا نے تجدید عہد دہرایا کہ قربانیوں اورخود مختار نظریہ کو منزل سے ہمکنار کرنے کیلئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔اس موقعہ پر مقررین نے محمد مقبول بٹ کو رواں تحریک آزدی و خود مختار کشمیر نظریہ کا موجد قراریکر انہیں شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیاگیا۔سمینارسے خطاب کرتے ہوئے پارٹی کے چیئرمین ہاشم قریشی نے محمد مقبول بٹ کو رواں تحریک میں روشنی کا مینار قرار دیتے ہوئے اُنکی برسی پر عقیدت کے پھول نچھار کئے۔