بجلی کا نظام ِ ترسیل و تقسیم ، اربوں روپے کی مرکزی سکیمیں یکسر ناکام

نہ بنیادی ڈھانچہ استوار ہوا،نہ ہی سپلائی میں بہتری آئی،حکام جواب دینے سے قاصر

11 فروری 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

اشفاق سعید
سرینگر //بجلی کی ترسیل وتقسیم نظام میں معقولیت لانے اور بنیادی ڈھانچے کو استوار کرنے کیلئے مرکزی حکومت کی متعدد اسکیموں کے تحت کروڑوں روپے صرف کئے جانے کے باوجود ریاست جموں وکشمیر خصوصا وادی کا بجلی نظام زبوں حالی کا شکار ہے۔حالیہ شدید برفباری کے دوران بجلی کے بنیادی ڈھانچے کی صورتحال بے نقاب ہوگئی اور انتظامیہ کے بڑے بڑے دعوے جھوٹ کا پلندہ ثابت ہوئے ۔ سوبھاگیہ سکیم سے لیکر آر اے پی ڈی آر پی کے علاوہ دین دیال اور پرائم منسٹر ڈیولپمنٹ سکیموں کے تحت وادی کے بوسیدہ بجلی ترسیلی نظام کو بدلنے کیلئے کروڑوں روپے خرچ کرنے کے باوجود بھی معمولی برف باری نے اس سارے نظام کی ہوا نکال دی ہے ۔معلوم رہے کہ پچھلے سال سرکار نے گھر گھر بجلی پہنچانے کی غرض سے سوبھگیا نامی شروع کی، اس کی ڈیڈ لائن دسمبر2018مقرر کی گئی تھی اس سکیم کے تحت کشمیراور لداخ کے 12اضلاع میں 109338 گھرانوں کو بجلی فراہم کرنے کی غرض سے 629.35302 کروڑ مختص کئے گئے۔سکیم کے تحت نئے کھمبے اور ترسیلی لائینیں نصب کی جانی تھی۔ صرف وادی میں اس سکیم کے تحت 90ہزار سٹیل کے کھمبے اور تاریں نصب کئے جانے کا ہدف مقرر کیا گیا۔ اگرچہ سکیم کے تحت ابھی تک 50ہزار کے قریب کھمبے اور تاریں نصب کی جا چکی ہیں تاہم اس کے باوجود بھی وادی میں بجلی کا نظام ابتر ہے ۔ یہی نہیں بلکہ سال2014میں 7سو کروڑ روپے کی لاگت سے شروع کی گئی آر اے پی ڈی آر پی سکیم کی بھی ہوا نکل گئی ہے ۔ ذرائع نے بتایا کہ حکومت کا ساڑھے 7سو کروڑ روپے کا یہ پروجیکٹ جس کی یٹنڈرنگ 2014میں ہوئی ہے ،پر صرف 20سے25فیصد کام ہوا ہے اور اس کے بعد یہ کام ٹھپ پڑا ہے۔معلوم رہے کہ آر اے پی ڈی آر پی سکیم کو شروع کرنے کا مقصد ریاست کے 30قصبوں میں ترسیلی نظام کو مکمل طور پر بدل کر ہر تین گھروں کیلئے ایک بجلی ٹرانسفامر نصب کرنا تھا اور ساتھ میں بجلی کے پورے ترسیلی نظام کو ہی بدلنا تھا اس سکیم کا ٹینڈر بھی باہر کی ایک کمپنی کو الاٹ کیا گیا لیکن سکیم کے تحت کروڑوں روپے صرف کئے جانے کے باوجود صارفین سوال کر رہے ہیں کہ بجلی کا بار باربریک ڈاون کیوں ہوتا ہے۔حالیہ برف باری کے سبب جہاں وادی کے متعدد علاقوں میں بجلی کے کھمبے گر گئے وہیں ترسیلی لائنوں کو بھی نقصان پہنچا جبکہ بانڈی پورہ میں بجلی کے کئی ٹاور بھی زمین بوس ہو گئے ۔اس صورتحال سے صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ وادی میں اُن سکیموں کا عام صارفین کو کتنا فائدہ ہوا ہے وادی میں آج بھی کئی ایک علاقے اس وجہ سے گھپ اندھیرے میں ہیں کیونکہ اُن علاقوں میں کھمبے اور ترسیلی لائنیں زمین پر ہیں ۔اکثر علاقوں سے شکایات ہے کہ وہاں عرصہ دراز سے تاریں اور کھمبے نہیں بدلے گے ہیں اور ترسیلی لائنیں عارضی کھمبوں کے ساتھ بندھی ہوئی ہیں ۔معلوم رہے کہ سرکار نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ سال2019میں ہر گھر کو بلا خلل بجلی فراہم ہو گئی لیکن جس طرح سے شہر ویہات کا بجلی نظام ہے اُس سے یہ صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ محکمہ کو اس حدف کو پورا کرنے میں ابھی بھی کئی سال لگ سکتے ہیں ۔ پرایم منسٹر ڈیولپمنٹ سکیم کے تحت سال2018میں سابق پی ڈی پی بی جے پی سرکار کے دوران تمام اسمبلی حلقوں میں سابق ممبران اسمبلی کو بجلی ڈھانچے کو ٹھیک کرنے کیلئے فی کس ۱یک کروڑ روپے فراہم کئے گے تھے وہ پیسہ بھی زمینی سطح پر کہیں دکھائی نہیں دیا اور اسمبلی حلقوں میں بجلی کا ترسیلی نظام جوں کا توں ہے ۔ذرائع نے بتایا کہ اس سکیم کے تحت ریاست میں کروڑوں روپے کے 30 بجلی پروجیکٹوں پر بھی کام چل رہا ہے جبکہ دین دیال اپادھیایہ سکیم کا مقصد اُن گھروں کو بجلی فراہم کرنا تھا جہاں کے لوگ ابھی تک اس سہولیات سے محروم ہیں اس سکیم پر بھی وادی میں کے متعدد علاقوں میں کام ہوا مگر لوگ ابھی تک وہاں کے لوگوں کو بجلی فراہم نہیں کی جا سکی ہے اور اس طرح سکیم کے تحت کام سست رفتاری کا شکار ہے اور اس طرح کروڑوں روپے کی لاگت سے شروع کی گئی سکیموں کی سرما میں ہوا نکل جاتی ہے ۔اس دوران کشمیر عظمیٰ نے جب کمشنر سیکریٹری پی ڈی ڈی ہردیش کمار سے بات کرنی چاہی تو انہوں نے جواب دینے کی زحمت گوارا نہ کی اور فون منقطع کردیا۔