تازہ ترین

تھنہ منڈی کے سبھی طبی مراکز میں طبی عملے کی قلت

میڈیکل زون کی کل 13میں سے 9اسامیاں خالی ، مریض علاج کیلئے دربدر

11 فروری 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

طارق شال
تھنہ منڈی// میڈیکل زون تھنہ منڈی کے تمام طبی مراکز میں ڈاکٹروں کی 13میں سے 9اسامیاں خالی ہونے سے مریضوں کوشدید مشکلات کا سامنا ہے اور مقامی سطح پر علاج کی سہولت نہ مل پانے پرانہیںمجبوراً ضلع ہسپتال راجوری کارخ کرناپڑتاہے ۔اس میڈیکل زون میں 3 پرانی طرز کے پرائمری ہیلتھ سنٹرجبکہ 3 جدید طرز کے پرائمری ہیلتھ سنٹر ہیں ۔ان میں سے نیو ٹائپ پرائمری ہیلتھ سنٹر لیراں والی بائولی میں ڈاکٹروں کے دو اسامیاں منظور ہیں جن میں ایک اسامی خالی پڑی ہے۔اسی طرح سے نئی طرز کے پرائمری ہیلتھ سنٹر ڈھوک میں ڈاکٹر کی ایک ہی اسامی منظور ہے جوکئی عرصہ سے خالی پڑی ہے ۔چونکہ یہ طبی مرکز قصبہ تھنہ منڈی سے 8 کلو میٹر دور پہاڑی پر واقع ہے جہاں کوئی میڈیکل آفیسر ڈیوٹی دینا پسند بھی نہیں کرتا۔وہیں پرائمری ہیلتھ سنٹرلاہ میں ڈاکٹروں کی دو اسامیاں ہیں جن میں 1خالی ہے جبکہ قومی صحت مشن کے تحت بھی ڈاکٹر کی ایک اسامی خالی ہے ۔اسی طرح سے پرائمری ہیلتھ سنٹر شاہدرہ شریف میں ڈاکٹروں کی 2 اسامیاں منظور ہیں جن میں 1 اسامی خالی پڑی ہے۔ پرائمری ہیلتھ سنٹر تھنہ منڈی جسکو کمیونٹی ہیلتھ سنٹر کادرجہ دیا گیا ہے،میں نیشنل ہیلتھ مشن کے تحت ڈاکٹروں کی4 اسامیاں خالی پڑی ہیں۔ مقامی لوگوںنے بتایاکہ عوام کو  24 گھنٹے طبی سہولیات فراہم کرنے کے لئے کتنے ڈاکٹروں کی ضرورت ہوتی ہے ،یہ محکمہ کے افسران بخوبی جانتے ہیں مگر بلاک تھنہ منڈی میں خانہ پری سے کام لیاجارہاہے اور حکام کی طرف سے طبی خدمات کی فراہمی کے دعوے سراب ثابت ہیں۔ان کاکہناتھاکہ بارہا یہ معاملات اجاگر ہوئے مگر کسی نے کوئی توجہ نہیں دی۔رابطہ کرنے پر بلاک میڈیکل آفیسر درہال ڈاکٹر محمد اشرف کوہلی نے بتایا کہ میڈیکل بلاک درہال کے دو زون ہیں جن میں ایک تھنہ منڈی اور دوسرا درہال ہے ۔ انہوں نے کہاکہ تھنہ منڈی میں طبی عملے کی قلت کے بارے میں حکام کو بتایاگیاہے اور امید ہے کہ یہ قلت بہت جلد پوری ہوجائے گی۔