اسلامیہ فاطمۃالزہرا میں دو روزہ سیدہ کائنات کانفرنس اختتام پذیر

علماکرام کااسلام میں عورت کے مقام اورسیدہ کائنات کی سیرت مبارکہ سے متعلق خطاب

11 فروری 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

نیو ڈسک
جموں// ادارہ اسلامیہ فاطمۃالزہرا میں ہر سال کی طرح اس سال بھی سالانہ دوروزہ سیدہ کائنات کانفرنس کاانعقادکیاگیا۔اس دوران کانفرنس کی صدارت مولانا مفتی نذیر احمد قادری مہتمم ادارہ نے کی۔کانفرنس کاآغاز 9 فروری کوخواتین کے پروگرام کے ساتھ ہواجس میں جس میں مفتیہ تنویر فاطمہ نے خواتین سے خطاب کیا ۔انہوں نے خواتین اوربچیوں کودین اسلام کی بنیادی تعلیمات، حضورپاک کی سیرت طیبہ اورسیدہ فاطمہ ؓ کی سیرت کے مختلف پہلوئوں کے بارے میں تفصیلی جانکاری دی ۔کانفرنس کے دوسرے روز عام جلسہ کا انعقاد کیا گیا جس میں کثیر تعداد میں علمائے کرام نے شرکت کی۔اس موقعہ پر کانفرنس کے مہمان خصوصی حضرت علامہ مولانا مفتی محمد ہاشم رضا ،پروفیسر جامعہ عربی یونیورسٹی مراد آباد یوپی تھے اور اسلام میں عورت کی اہمیت پر ایک مدلل بہترین خطاب فرمایا ۔کانفرنس میں کافی تعداد میں حاضرین نے مرد و خواتین نے شرکت فرمائی ادارہ سے فارغ ہونے والی طالبات کی ردا پوشی بھی کی گئی ۔جموں صوبہ سے تعلق رکھنے والے کثیر تعداد میں علماء کرام نے اور کئی سیاسی سماجی کارکنان نے بھی  کانفرنس میں شمولیت فرمائی ۔اسلام کانفرنس کا اختتام درود و سلام اور دعا کے ساتھ خصوصی طور پر حضرت مولانا مفتی اعظم جموں کشمیر بشیرالدین کی صحتیابی کے لئے خصوصی دعا کی گئی اور کانفرنس میں بیشتر علمانے بولتے ہوئے کہا کہ مفتی اعظم جموں کشمیر بشیر الدین صاحب کی کمی بہت زیادہ محسوس کی جا رہی ہے ۔کانفرنس کے اختتام پر تمام حاضرین میں لنگر بھی تقسیم کیا گیا ادارہ کے سربراہ اعلی  مولانا مفتی نذیر احمد قادری نے کانفرنس میں شرکت کرنے والے تمام لوگوں کا شکریہ ادا کیا اور ادارے کی تعلیمی نظام کو لوگوں کے سامنے پیش کیا۔ کانفرنس کے موقع پر ادارہ سے فارغ ہونے والی طالبات میں اسناد بھی تقسیم کی گئی۔کانفرنس کے پہلے دن خواتین نے خطاب کرتے ہوئے مفتیہ تنویرفاطمہ نے کہا کہ خاتون ِ جنت سیدہ فاطمہ ؓ کی سیرت خواتین عالم کے لیے مشعل راہ ہے۔انہوں نے کہاکہ یہود و ہنود اور مغربی کلچر کے بجائے سیدہ فاطمہ الزہراؓ کی سیرت و کردار وعام کرناوقت کاتقاضاہے۔۔خاتون جنت ؓ کی صبر و رضا ایثار و قربانی ، عفت وحیاء امت کے لیے قابل تقلید و نجات و ستائش ہے۔اس دوران بتایاگیاکہ سید البشرحضرت محمد رسول اللہ کی چا ربیٹیاں تھیں،سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سب سے چھوٹی تھیں۔رسول اکرم کو ان سے خاص محبت تھی۔اسی لیے فرمایا کہ فاطمہ خواتین جنت کی سردار ہونگی۔،فاطمہ میرے جگر کا ٹکڑا ہے۔حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا رسول اکرم سے بہت مشابہت رکھتی تھیں۔مفتیہ اکرام نے ان کی زندگی میں خواتین اسلام کے لیے بڑا درس موجود ہے آج جبکہ امت کی بیٹیاں تہذیب کفرکی نقل میں اپنی ناموس وعزت سے بے خبر ہورہی ہیں انہیں سیرت فاطمہ کا مطالعہ کرنا چاہیے تاکہ وہ ایک آئیڈیل خاتون اسلام کی زندگی کے مطابق اپنے آپ کو ڈھال سکیں۔ایک مسلمان خاتون کے لیے سیرت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا میں اس کی زندگی کے تمام مراحل بچپن، جوانی، شادی، شوہر، خانہ داری، عبادت، پرورش اولاد، خدمت اور اعزا اقربا سے محبت غرض ہر مرحلہ حیات کے لیے قابل تقلید نمونہ موجود ہے۔اس موقعہ پرخواتین پرزوردیاگیاکہ وہ صالح معاشرے کی تشکیل کیلئے سرگرم رول اداکریں۔اس دوران منتظمین کی جانب سے پردے کاخصوصی انتظام کیاگیاتھا۔