تازہ ترین

شراب کا قہر: ہر لمحہ تھمتی سانسیں ، اترپردیش میں مرنے والوں کی تعداد 92تک پہنچی

11 فروری 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

یو این آئی
لکھنؤ//ا ترپردیش میں زہریلی شراب پینے سے ہوئے بڑے حادثوں میںمرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 92 تک پہنچ گئی ہے۔ اس معاملہ میں 175 سے زیادہ لوگوں کی گرفتاری عمل میں آئی ہیجبکہ 297 افراد کے خلاف معاملات درج کئے گئے ہیں۔ اترپردیش کے سہارنپور میں 64 اور کشی نگر میں 11 اموات کی خبر ہے۔معاملہ سامنے آنے کے بعد یوگی حکومت نے اس سانحہ میں مجسٹریٹ جانچ کے احکامات دئے ہیں اور پولیس اور آبکاری محکمہ کے کئی افسران کو معطل کردیا ہے۔ غیر قانونی شراب کے خلاف اترپردیش حکومت تابڑتوڑ کارروائی کررہی ہے۔سہارنپور ضلع کے ناگل ، گاگلہیڑی اور دیوبند تھانہ حلقہ کے کئی گاوں میں جہاں دیر رات زہریلی شراب پینے سے اب تک 47 افراد کی جانیں تلف ہوچکی ہیں ، وہیں 22 افراد کو اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ حادثہ کے بعد ہفتہ کو سہارنپور کے ڈی ایم آلوک کمار اور ایس ایس پی دنیش کمار نے پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ 36 لوگوں کی جانیں سہارنپور کے الگ الگ گاووں میں تلف ہوئی ہیںجبکہ گیارہ لوگوں نے میرٹھ میں علاج کے دوران دم توڑ دیا۔
 
 

پورے معاملے کی جانچ سی بی آئی سے کرائی جائے :مایاوتی

لکھنؤ// بھارتیہ جنتا پارٹی(بی جے پی) حکومتوں پر غریب اور محنت کش سماج کا استحصال کرنے کا الزام لگاتے ہوئے بہوجن سماج پارٹی(بی ایس پی) سپریمو مایاوتی نے اترپردیش اور اتراکھنڈ میں زہریلی شراب سے ہونے والی اموات کے معاملے کی جانچ سی بی آئی سے کرانے کا مطالبہ کیا ہے ۔محترمہ مایاوتی نے اتوار کو جاری ایک بیان میں کہا کہ غیر قانونی طریقے سے تیار ہونی والی شراب کا کاروباراترپردیش میں ایک سنگین مسئلہ ہے جس کا شکار غریب اور یومیہ کام کرنے والے مزدور ہوتے ہیں۔ سہارنپور اور کشی نگر میں شراب کی وجہ سے ہونے والی اموات صاف اشارہ کرتی ہیں کہ اس حساس مسئلے سے نپٹنے میں بھی بی جے پی حکومت ناکام رہی ہے ۔
انہوں نے کہا کہ اترپردیش اور اتراکھنڈر میں زہرلی شراب کی وجہ سے سو سے زیادہ لوگوں کی جانی گئی ہیں۔ اس معاملے کی جانچ سی بی آئی سے کرانی ضروری ہے ۔ اس کے ساتھ ہی دونوں ہی ریاستوں کے آبکاری وزیر کو ان کے عہدے سے فورا ہٹا کر اس محکمے کا قلمدان وزراء اعلی کو اپنے پاس رکھنے کی ضرورت ہے ۔بی ایس پی سربراہ نے کہا کہ بی جے پی حکومت اتنے بڑے معاملے میں صرف چند ملازمین کو معطل کر کے اپنی ذمہ داری سے عہد برآ ہونی چاہتی ہے جو نہایت ہی گھناونا اورشرمناک ہے ۔ اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ۔ دونوں ریاستوں کی حکومتوں کو اتنے سنگین معاملے میں سخت سے سخت قدم اٹھانے چاہئے تھے ۔
 

اموات کیلئے بھاجپا ذمہ دار :پرینکا

 
لکھنؤ// کانگریس جنرل سکریٹری و مشرقی اترپردیش کی انچارج پرینکا گاندھی واڈرا نے زہریلی شراب سے ہونے والی اموات کا اترپردیش اور اتراکھنڈ کی حکومتوں کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے متاثرین کے اہل خانہ کو مناسب معاوضہ دینے کا مطالبہ کیا ہے ۔لکھنؤ دورے سے ایک دن قبل جاری بیان میں محترمہ گاندھی نے دونوں ریاستوں کی حکومتوں کی مذمت کرتے ہوئے سہارنپور، کشی نگر اور روڈکی میں زہریلی شراب سے ہلاک ہونے والے اہل خانہ کو سرکاری نوکری دینے کا مطالبہ کیا۔
 انہوں نے لوگوں کی موت پر اپنے دکھ کا اظہار کیا۔قابل ذکر ہے کہ زہریلی شراب کی وجہ سے اترپردیش اور اتراکھنڈر میں ابھی تک سو سے زیادہ افراد کی موت ہوچکی ہے ۔