تازہ ترین

ہمارامقصدِ حیات

راستی کا راستہ ہی منزل ِمراد ہے

11 فروری 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

راشد علی یوسف رضا پنہڈوی پنہڈہ راجوری
یہ  دنیا کیوں تخلیق کی گئی ہے؟ دنیا میں انسان کا ہمارامقصدکیا ہے؟ یہ سوال انسان اپنے آپ سے کرتا ہے یا نہیں مگر بہ حیثیت مسلمان ہمارے لئے یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ ہماری دنیوی زندگی کا مقصد کیا ہے؟ یہ زندگی کا مقصد ہی ہے جو انسان کو جانوروں اور چوپایوں سے ممیز کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل سلیم سے نواز کر اشرف المخلوقات بنایا ہے۔ جن لوگوں کی زندگی کا کو ئی مقصد نہیں ہوتا ان کی مثال  عقل سے عاری جانوروں کی سی ہے جن کی زندگی کا مطمح نظر صرف اور صرف چارہ پانی ہوتاہے، البتہ جن لوگوں کی زندگی کا کوئی متعین مقصد ہو،اُن کی مثال اس چرواہےکی سی ہے جو اپنےریوڑ کو خطرات سے محفوظ رکھتا ہےاور ان کی پل پل رہنمائی کرتا ہے۔بلاشبہ دنیا کے ہر کام کے پیچھے انسان کاکوئی نہ کوئی مقصد کار فرما ہوتا ہے، اسی مقصد کے حصول کے لئے وہ سر گرم عمل رہتا ہے ۔اللہ تعا لیٰ فرماتا ہے کہ’’کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ ہم نے تم کو عبث( بے فائدہ) پیدا کیا ہے اور یہ کہ تم ہماری طرف لوٹ کے نہیں آؤ گے۔‘‘بلاشبہ انسان دنیا میں نہ تو اپنی مرضی سے آتا ہے ،نہ اپنی مرضی سے جانا ہے۔ اس لئے  انسانی زندگی کا جو مالک ہے ، اُسی نے ہمارے لئے اس کا ایک مقصد بھی متعین کر تا ہے ۔ فرمایا: میں نے جنوں اور انسانوںکو اس لئے پیدا کیا تاکہ میری عبادت کریں۔ عبادت کا مطلب رضائے الہٰی کا حصول ہےیعنی اللہ کا ہر وہ پسندیدہ اور خوب صورت کام کر نا جس سے اللہ خوش ہو اور ساتھ میں بند گانِ خدا کی بہترین خدمت ہو ۔ اگر ہم شب وروز کا محاسبہ کرکے اپنےضمیر سے پوچھیں کہ کیا ہمیں اپنی زندگی کا یہ مقصد یاد ہے ؟ کیا ہم اپنے رب کی رضا کے مطا بق زندگی گزار تے ہیں؟ جواب غالباًیہی ہوگا کہ ہم اپنی زندگی کے اصل مقصد کو بھول کردُنیا کی ان چیزوں میں دل لگا بیٹھے ہیں جو اللہ نے صرف مقصد ِزندگی کا حصول ممکن بنانے کے لئے اسباب کی شکل میں ہمیں فراہم کئے ہیں ۔ ہم انہی اسباب کی ساحری میں مکمل طورکھو چکے ہیں اور اپنے مقصد زندگی سے غافل ہیں ۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:یہ دنیا کی زندگی تو صرف کھیل تما شہ ہے اور ہمیشہ کی زندگی تو آخرت کا گھر ہے، کاش یہ لوگ سمجھتے!
 اپنی زندگی کے مقصد حقیقی کو تلاش کرنا اُسی وقت ممکن ہے جب ہم اول اپنے رب کی رضا کو ہر چیز پر مقدم جانیں ،دوئم اللہ کے احکامات پر عمل کرکے بندگان ِ خدا کی خدمت سے رضائے الہٰی حاصل کریں۔ اس کے لئے ایک ہی انمول ذریعہ ٔ ہدایت بھی ہمارے پاس موجود ہے ،وہ ہے کتاب اللہ۔اس کے پیغام کو سمجھا جائے ، پیغمبر اسلام ؐ کی اتباع کیا جائے ، ہر وہ صالح عمل کیاجائے جس کا ہمیں حکم ہے۔ یہی رضائے الہٰی حاصل کر نے کا واحد راستہ ہے۔آج سے چودہ سو سال قبل ہدایت و رحمت کا سر چشمہ قرآن نازل ہوا۔ ہم بہ حیثیت مسلمان قرآن کی تعظیم بھی کرتے ہیں ،اسے مقدس بھی سمجھتے ہیں، مگر کبھی یہ سوچا بھی ہے کہ نور وہدایت والی یہ الکتاب ہماری زندگی کا جو مقصد متین کر چکی ہے ، اس کی روشنی میں اپنے اندر کوئی تبدیلی لا ئی بھی کہ نہیں؟ بلا شبہ قرآن نے زندگی گزارنے کا ایک مقصد ہی نہیں بتا یا ہے بلکہ  اس کو پورا کر نے کامکمل نقش ِ راہ بھی پیش کیا اور دنیا وآخرت کا تعارف بھی کریا ہے ۔ مسلمان ہونے کے ناطے ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم قرآن کے آئینے میںاپنی زندگی کے اصل مقصد کو سمجھیں، قبل اس  کے کہ ہماری زندگی کا آخری اسٹیشن آ جائے اور ہم خالی ہاتھ ہوں۔ اللہ پاک ہم سب کو ہدایت کے راستے یعنی صراط المستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔
رابطہ 7780917140