نظمیں

10 فروری 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

سوچتاہوں
کبھی کبھی یوں ہی
چاند راتوں کو جاگتا کیوں ہے
نیند آنکھوں سے بھاگتی کیوں ہے
رات بستر پہ ڈولتی کیوں ہے
یاد تنہا اُداس موسم میں
میرے اندر سے گونجتی کیوں ہے
کون پیتا ہے بوند بوند مجھے
ہر لمحہ بڑھتی تشنگی کیوں ہے
جانتا ہوں کہ تُو نہیں میرا
پھر تجھی سے یہ دوستی کیوں ہے؟
 
سوچتا ہوں
کبھی کبھی یوں ہی !
 
کے ڈی مینی
پونچھ،9469557901
 
 
 
رات ہوتے ہی 
ذہن کی وادی میں
یادوں کی برکھا ہوتی ہے
اُمڈ کے آتے ہیں
حادثے دن کے،
دل کے ویران نگر میں
چلنے لگتی ہیں
برفیلے موسم کی ہوا،
رات ہوتے ہی
کرنے لگتا ہوں تاروں کا حساب،
آنکھوں کی زر خیر مٹی پر
اُگنے لگتے ہیں سُہانے خواب
بھولے بسرے چہرے
روبہ رو ہوتے ہیں
کچھ شکایت اُن کی، کچھ میری
سحر ہونے تک
رات ہوتے ہی!
 
ساگر نظیر ؔ
ژُکر پٹن،موبائل نمبر؛9797016202