کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

8 فروری 2019 (00 : 01 AM)   
(   صدرمفتی دارالافتاء دارالعلوم رحیمیہ بانڈی پورہ    )

مفتی نذیراحمد قاسمی
س:-ہماری شادی کوتین سال ہوگئے مگر ابھی تک بچہ نہیں ہوا۔ اس بارے میں کچھ نجی قسم کا مسئلہ ہے جس کو ظاہر کرنا بھی مشکل ہے ۔اب کچھ دوست ٹیسٹ ٹیوب کا مشورہ دیتے ہیں۔میں پوری طرح سمجھ بھی نہیں سکاکہ یہ ٹیسٹ ٹیوب کیا ہوتاہے ۔ کیسے ہوتاہے اور پھر اسلام میں اس کی اجازت ہے یا نہیں ۔ اب میرے ذہن میں یہ باتیں حل طلب ہیں :
ٹیسٹ ٹیوب کیا ہوتاہے؟
یہ اسلام میں جائز ہے یا نہیں ؟
جاوید احمد

جائز تولید میں سائنسی تکنیک کا سہارا لینا دُرست

IN VITRO FERTILIZATION
l شوہرکا نطفہ بیوی کے رحم میں رکھا جائے تو بچہ جائز ہے۔
l اجنبی مرد کا نطفہ کسی اجنبی عورت کے رحم میں رکھا جائے تو بچہ ناجائز ہوگا۔
l شوہر اور بیوی کا نطفہ اور بیضہ اجنبی عورت کے رحم میں رکھا جائے تو بچہ ناجائز ہوگا۔
جواب:- اللہ تعالیٰ کی تخلیق کاشاہکار خود انسان بھی ہے۔ اس کی تخلیق کا فطری طریقہ ہے کہ مرد وعورت کے اعضاء تناسل سے مادۂ منویہ خارج ہوکر مخلوط ہوجاتا ہے۔قرآن کریم نے اس کونطفۂ امشاج کہا ہے ۔(الدھر:۲) اس مادہ منویہ میں مرد کے جسم سے نکلنے والے مادہ میں جرثومہ (Sperm)اورعورت کے جسم سے نکلنے والے مادہ میں بیضہ (Ovum)ہوتاہے ۔ فطری طور پر ہمبستری کرتے ہوئے مرد کے جسم سے نکلنے والے مادہ کا اتصال جب عورت کے جسم سے نکلنے والے بیضہ سے ہوجاتا ہے تو اللہ کی قدرت و مشیت سے بار آوری شروع ہوتی ہے ۔ مرد وعورت کے اِن دونوں مادوں (Sperm-Ovum)کا اتصال رحم (Uterus) میں ہوتاہے اور اتصال کے بعد بارآوری کا سلسلہ (Fallo Pain Tubes) میں ہوتاہے جس کو Fertilization کہاجاتاہے ۔ اس فطری تولیدی نظام میں مرد وعورت دونوں میں دو باتوں کا پایا جانا ضروری ہوتاہے ۔ ایک مادۂ منویہ میں ضروری اوصاف مثلاً مرد کے نطفہ میں (Sperms)اور عورت کے مادہ میں بیضہ (Ovum) ہونا ضروری ہے۔ دوسرے دونوں طرف سے اس مادہ کو منتقل کرنے والے اعضاء اور ان پائپوں (Tubs) کاصحیح سالم ہونابھی ضروری ہے جن سے گزر کر اِن دومختلف مادوں کا امتزاج واختلاط ہوتا ہے۔ جب یہ باتیں دونوں افراد (مرد اور عورت) میں موجود ہوں تو اللہ قادر وخالق کے حکم ومنشاء سے تخلیق کاسلسلہ شروع ہوتاہے لیکن کبھی مرد یا عورت میں کوئی نقص ہوتاہے ۔ مثلاً مرد کے مادۂ منویہ میں وہ مطلوبہ جرثومے (Sperms)ہی نہیں یا سپرم تو ہیں مگر وہ کسی خرابی کی بناء پر عورت کے رحم تک پہنچانہیں سکتا۔ اسی طرح عورت کو دو قسم کی کمیاں ہوسکتی ہیں یا تو اُس کے مادۂ منویہ میں بیضہ ہی نہیں ہوتا یا بیضہ (Ovum) تو ہوتاہے مگر وہ رحم تک پہنچ نہیں پاتا کیونکہ وہ ٹیوب جس سے گزر کر وہ رحم تک پہنچے وہ یا تو سخت تنگ ہوتاہے  یا بند ہی ہوتاہے ۔ 
بہرحال مرد یا عورت میں جو بھی کمی پائی جائے ۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتاہے کہ بارآوری کا عمل وجود میں نہیں آپاتا۔ اور یہ دونوں مرد عورت اولاد کی نعمت سے محروم رہتے ہیں ۔قدیم عہدمیں تو ان کمیوں کے لئے داخلی علاج ہی ہوتاتھا۔لیکن اس کا متبادل نہیں تھا۔ آج کی ترقی یافتہ میڈیکل سائنس نے اس کامتبادل مہیا کردیا۔ اس متبادل کو ٹیسٹ ٹیوب یا Intra Vitro Fertilization (IVF) کہاجاتاہے ۔اب اگر مردکے نطفہ میں سپرم نہیں ہے تو دوسرے مرد کا نطفہ لیاجاتاہے۔ یورپ میں اس کے لئے Sperms bank یا مراکز قائم ہیں جہاں مختلف اعلیٰ لوگوں کے سپرم دستیاب رہتے ہیں ۔ وہاں سے یہ نطفہ لے کر استعمال کیا جاتاہے ۔ کبھی مرد کے نطفہ میں تو کوئی خرابی نہیں ہوتی مگر وہ عضو مخصوص کی کسی کمی یا کمزوری کی وجہ سے عورت کے رحم تک پہنچا نہیںپاتا۔ اگر علاج معالجے سے یہ کمی دُور ہوگئی تو بہتر ورنہ ایسے مرد کا نطفہ جودُرست اور مکمل ہوتاہے اُسے نکال کر ایک ٹیوب میں رکھ کر پھر اُس کی عورت کے رحم تک پہنچایا جاتاہے ۔ اگر عور ت میں یہ کمی ہوکہ اُس کا بیضہ ہی نہیں بن پاتا تو کسی دوسری عورت کا بیضہ لے کر ایک ٹیوب میں کچھ عرصہ رکھ کر مرد کے نطفہ سے اُس کو مخلوط کرکے پھر عورت کے رحم میں اُس کو منتقل کیاجاتاہے۔ٹیسٹ ٹیوب کا یہ مختصر طریقۂ کار ہے ۔
اگرشوہر کا نطفہ دُرست ہے مگر و ہ اُسے عورت کے رحم تک پہنچا نہیں پاتا یا عورت کا بیضہ صحیح اور قابل کار ہے مگر وہ درمیانی نالی کے بند ہونے یا تنگ ہونے کی وجہ سے رحم تک پہنچا نہیں پاتی ۔ایسی صورت میں شوہرکانطفہ اُس کی بیوی کا بیضہ لے کر ایک خارجی نلی میں رکھا جاتاہے ،اس عمل کو میڈیکل اصطلاح کی In Vitro Fertilization کہا جاتاہے ۔ اس کے بعد یہ مخلوط مادہ اُسی عورت کے رحم میں داخل کیاجاتاہے ۔شرعاً یہ عمل جائز ہے اور پیدا ہونے والا بچہ دُرست اور شرعی طور پر درست نسب والا ہے ۔
اگر کسی اجنبی مرد کا نطفہ لیا گیا ہو یا کسی اجنبی عورت کا بیضہ لیا گیا ہو یا شوہر اور بیوی کا نطفہ اور بیضہ لے کر کسی دوسری عورت ،جسے آج کی اصطلاح میں Surrogate Mother کہا جاتاہے، کے رحم میں رکھاگیا ہو تو یہ صورتیں شریعت میں دُرست نہیں ہیںاور اس طرح پیدا ہونے والا بچہ باپ کا صحیح بچہ نہیں کہلائے گا۔ اب اس ٹیسٹ ٹیوب کی جائز صورت اور ناجائز صورتوں کا سمجھنا کچھ مشکل نہیں ہے ۔
س:-  لڑکا اور لڑکی ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں ۔ دونوں ہی معزز خاندان سے تعلق رکھتے ہیں ۔لڑکی کا باپ لڑکے کی سرکاری نوکری کا نہ ہونے کا بہنانہ بناکررشتے سے انکار کررہاہے۔ لڑکی کی مرضی کے خلاف اس کو نکاح کے لئے دبائو ڈالاجارہاہے ۔کیا وہ نکاح دُرست ہوگا ؟
زبیر احمد

لڑکی یا لڑکے کی رضامندی کے خلاف رشتہ طے کرنا غیر دُرست

جواب:-نکاح پوری زندگی کے لئے ایک ایسا رشتہ ہے جو بہت وسیع اثرات لئے ہوئے ہوتاہے ۔ انسان کی دینی ،اخلاقی ،خانگی ، معاشی اور معاشرتی زندگی پر جتنے اثرات نکاح کی وجہ سے پڑتے ہیں ۔ اُتنے کسی اور چیز کے نہیں پڑتے۔ اس لئے اس رشتہ کو قائم کرنے کی ذمہ داری والدین کی ہے ۔ جولڑکے لڑکیاں از خود رشتوں کا انتخاب کرتے ہیں وہ ہرگز دُرست نہیں کرتے ۔اس کے انتخاب کے لئے جیسی دُور اندیشی ،بصیرت اور حزم واحتیاط کی ضرورت ہے وہ عموماً نوجوانی کی جذباتی اور ناتجربہ کاری کی عمر میں نہیں ہوتی ۔ اس لئے رشتہ کرنے کا حتمی فیصلہ والدین یعنی اولیاء کے ہاتھ میں ہے۔ اگرکسی لڑکے یا لڑکی کو کسی جگہ رشتہ مناسب لگ رہاہو تو بجائے اس کے کہ خود رشتہ کرنے کا عہدوپیمان کرنے کا اقدام اُٹھائیں ،اُن کو چاہئے کہ وہ والدین کو کہیں کہ فلاں جگہ میرا رشتہ کردیا جائے ۔اگروالدین رضامندہوگئے تو بہتر اگر رضامند نہ ہوئے تو فوراً بات ختم کردی جائے ۔اگر کسی لڑکے یا لڑکی نے یہ غیرشرعی اور احمقانہ حرکت کی کہ خود آپس میں تعلقات بڑھاکر اتنے پختہ کرلئے کہ اب یہ رشتہ نہ کرنے پر اُسی وقت یا آئندہ نقصان یا خرابی کا اندیشہ ہوتو ایسی صورت میں والدین کو اپنی ضد چھوڑ دینی چاہئے اور بچوں کے انتخاب کوچاہے بادل ناخواستہ ہی سہی قبول کرکے رشتہ آگے چلائیں۔ اگرکوئی معقول یا شرعی وجہ ہو تو والدین کا انکار بجاہے اور لڑکا یا لڑکی کا اصرار غلط ہے ۔
اگر لڑکا یا لڑکی رضامند نہ ہو اور والدین جبراً کسی جگہ اُن کا رشتہ کرائیں ۔ تو یہ نہ شرعاً درست ہے اور نہ ہی ایسے رشتوں کے کامیاب ہونے کی کوئی توقع ہوتی ہے بلکہ بسا اوقات یہی والدین بعد میں بہت ہی زیادہ افسوس کرتے رہ جاتے ہیں ۔اور زبردستی کئے ہوئے رشتہ کو تباہ حال دیکھ کر خود مجبور ہوکر اس کوختم کرنے کی تدبیر کرنے لگتے ہیں ۔
حضرت نبی کریم علیہ وسلم سے ایک خاتون نے عرض کیا کہ میرا باپ میرا رشتہ کسی ایسی جگہ کرناچاہتاہے جہاں کے لئے میں رضامند نہیں ، کیا وہ مجھ پر جبر کرسکتاہے ۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ باپ اپنی بیٹی کا رشتہ اُس شخص کے ساتھ جبراً نہیں کرسکتا جس سے رشتہ کرنے کے لئے خاتون رضامند نہ ہو۔(بخاری : نکاح کا بیان)۔
سوال:۔ ہمارے علاقے کے متعدد دیہات میں لوگوں میں یہ خیال پایاجاتا ہے کہ اگر کسی شخص کو یا کسی پالتوجانور کو پاگل کتا کاٹ لے تو اس شخص یا جانور کے گھر والے چالیس دن تک نماز نہیں پڑھتے ہیں او رچالیس دن تک کسی بھی کام کے شروع میں بسمہ اللہ نہیں پڑھتے ہیں کچھ لوگ اس کا حکم بھی دیتے ہیں کہ اگر اس پر عمل نہیں گیا گیا تو کتے کے کاٹنے پر وہ انسان یا جانور پاگل ہو جائے گا۔ اب سوال یہ ہے کہ چالیس دن تک نماز نہ پڑھنا او رکسی بھی کام کے شروع میں بسمہ اللہ پڑھنے سے منع کرنا اور اس پر عمل کرنا کیسا ہے؟
ارشد احمد ۔  لولاب کپوارہ

کتےکا کاٹنا اور ترکِ نماز۔۔۔۔۔ ایک باطل عمل

جواب:۔ یہ با ت سراسر جہالت، لاعلمی اور شریعت اسلامیہ کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔ سوچئے کسی انسان یا جانور کو پاگل کتا کاٹے تو اس سے اُن گھر والوں کو نما زپڑھنا منع کیوں ہوسکتا ہے اور ہر کام کے شروع میں بسمہ اللہ پڑھنے کی ممانعت کیوں ہوسکتی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ یہ نہایت بدترین جہالت کی بات ہے۔ یہ اسلام کے سراسر خلاف تو ہے ہی یہ عقل و فہم کے بھی خلاف ہے۔
ایسے تمام لوگ، جو اس طرح کے خلافِ اسلام بدعقیدے کا شکار ہیں اُن کو فوراً توبہ کرنی چاہئے۔ اور اگر کوئی اس بات کی تشہیر کرتا ہو کہ جس گھر کے مالک یا اُس کے جانور کو پاگل کتے نے کاٹ لیا وہ چالیس دن تک نماز نہ پڑھے اور نہ بسمہ اللہ پڑھےایسے شخص کو سختی سے زجرو تو بیخ کرکے اس باطل شیطانی خیال کو پھیلانے سے روکا جائے اورسارے علاقہ میں ایسے تمام لوگوں کے اس غلط تصور پر سختی سے نکیر کریں بلکہ اُس پر لعنت بھیجیں جو اپنے خود ساختہ شیطانی خیال سے نماز پڑھنے سے روک رہا ہے ۔اس کےلئے علاقہ کے تمام ائمہ اور خطبۂ جمعہ دینے والے خطیب حضرات اس باطل سوچ او رفاسد خیال کی کھلم کھلا تردید کریں اور نمازوں کو ترک کرانے والے مفسد لوگوں سے عوام کو باخبر کریں کہ یہ سراسر اسلام کےخلاف ہے۔
 
 
قارئین نوٹ فرمائیں!
سوال ارسال کرنے والے حضرات اپنا نام ومکمل پتہ اور فون نمبر تحریر کیا کریں ۔ ان کا نام وپتہ ، اگر ان کی خواہش ہو ، پوشیدہ بھی رکھا جا سکتا ہے ، تاہم ادارہ کے پاس مکمل نام و پتہ ہونا لازمی ہے ۔ ترکہ اور وراثت کے معاملات میں ، جو حضرات استفسار کرنے کے خواہاں ہوں ، وہ اپنے شناختی کارڈ کا فوٹو سٹیٹ خط کے ساتھ ضرور رکھیں ۔ بصورت دیگر ادارہ سوال کی اشاعت کا مکلف نہیں ہوگا۔    (ادارہ)