تازہ ترین

وادی سوگوار

۔7شہری ہلاکتوں کیخلاف ٹنل کے آر پار ہمہ گیر ہڑتال

23 اکتوبر 2018 (00 : 01 AM)   
(   عکاسی: امان فاروق    )

بلال فرقانی+خالد جاوید
سرینگر+کولگام//کولگام میں7 شہری اور 3جنگجوئوں کی ہلاکتوں کے خلاف کپوارہ سے کشتواڑ تک مکمل پہیہ جام و شٹر ڈائون ہڑتال اور پائین شہر سمیت کولگام اورجنوبی کشمیر کے کئی علاقوںمیں سخت بندشوں سے زندگی کی نبض تھم گئی۔سرینگر میں پر تشدد مظاہرے ہوئے جبکہ واڈورہ زرعی کالج میں طلباوطالبات نے احتجاج بلند کیا۔بانہال سے بارہمولہ تک چلنے والی ریل سروس معطل رہی،جبکہ جنوبی کشمیر میں انٹرنیٹ بند رہا ۔

شہر و وسطی کشمیر

 مشترکہ مزاحمتی قیادت کی جانب سے دی گئی کال پر مکمل ہرتال سے نظام زندگی بُری طرح مفلوج ہوکر رہ گیا جس کی وجہ سے وادی کی اکثر شہراہیں سنسان اور بازارویران پڑے رہے ۔ شمال و جنوب میں صرف اکا دکا پرائیوٹ گاڑیاں ہی کہیں کہیں نظر آئیں جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ مکمل بند رہا۔ سرکاری دفاتر، سکول اور کالک نیز یونیورسٹیاں بند رہیں۔پائین شہر اور بعض سیول لائنز علاقوں میں سخت ترین بندشیں عائدکی گئیں تھیں۔ پائین شہرکے نصف درجن سے زائدپولیس اسٹیشنوں کے تحت آنے والے علاقوں میں داخل ہونے والے تمام راستے مکمل طور سیل کردئے گئے تھے اور سڑکوں پرہر طرف فورسز اہلکار گشت کرتے نظر آئے۔درجنوں مقامات پر لوگوں کی نقل و حرکت روکنے کے لئے ناکہ بندی کی گئی تھی اور خار دار تاریں بچھا کر رکائوٹیں کھڑی کی گئی تھیں۔بڈگام میں بھی مکمل ہڑتال کی وجہ سے عام زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی،ضلع کے چاڈورہ،ماگام،خان صاحب،چرار شریف،کنی پورہ اور بیروہ میں بھی ہڑتال رہی۔ بیروہ میں سخت ترین ہڑتال کی وجہ سے عام زندگی مفلوج ہو رہ گئی۔نامہ نگار ارشاد احمد کے مطابق ضلع گاندربل کے صفا پورہ،شالہ بگ،تولہ ،ولہ،کنگن ،گنڈ، کلن میں مکمل ہڑتال رہی جبکہ کاروباری ادارے بھی بند رہے اس دوران سڑکوں پر مسافر بردار گاڑیوں کی آمد رفت بھی متاثر رہی ۔

کولگام و اننت ناگ

 قصبہ میں شہری ہلاکتوں کے خلاف امکانی احتجاج سے نمٹنے کیلئے سیکورٹی کے سخت ترین انتظامات کئے گئے تھے قصبہ کی جانب گذرنے والی داخلی راستوں کو مکمل سیل کردیا گیا تھا تاہم اسکے باوجود مہلوکین کے گھر جاکر لوگوں کی بڑی تعداد نے لواحقین سے تعزیت پُرسی کی ۔کولگام قصبہ،کھڈونی اور اسکے مضافات میں واقع حساس علاقوں میں کرفیو جیسی پابندیاں عائد رہنے سے معمول کی زندگی درہم برہم رہی ۔فورسز اہلکاروں کی بھاری تعداد تعینات رہی جس کے نتیجے میںکولگام کے بیشتر علاقوں میں خوف و ہراس کاماحول رہا۔نامہ نگار ملک عبدالسلام کے مطابق سنگم سے لیکر سیر ہمدان تک مکمل ہڑتال کی وجہ سے ہو کا عالم تھا،جبکہ بازار صحرائی مناظر پیش کر رہے تھے۔ لالچوک میں فورسز اور پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا تھا اور انہیں کسی بھی طرح کی امکانی صورتحال سے نپٹنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ لوگوں نے آرونی  کے ایک جاں بحق نوجوان کے گھر جا کر انکے اہل خانہ کے ساتھ تعزیت کا اظہار کیا۔ کوکرناگ، بجبہاڑہ،آرونی،مٹن،پائی بگ،پہرو،بٹینگو، سری گفوارہ،ویر ناگ، ڈورو اور دیگر علاقو ں میں مکمل ہڑتال رہی۔

شوپیان و پلوامہ

 نامہ نگار شاہد ٹاک کے مطابق شوپیاں میں مکمل ہڑتال سے زندگی کی رفتار تھم گئی۔ اس دوران لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے دانگام کے جاں بحق عسکریت پسند کے گھر جا کر انکے اہل خانہ کے ساتھ تعزیت کا اظہار کیا۔ قصبہ پلوامہ سمیت کاکاپورہ،سانبورہ،پانپور،راجپورہ ،اورترال میں ہمہ گیر ہڑتال رہی۔دکانیں، تجارتی و کاروباری مراکز بند جبکہ ہر قسم کی ٹریفک معطل رہی۔

شمالی کشمیر

بارہمولہ میں مکمل ہڑتال رہی،جبکہ سوپور میں بھی ہڑتال کا سخت اثر دیکھنے کو ملا۔غلام محمد کے مطابق واڈورہ میں قائم زرعی کالج میں زیرتعلیم طلباء نے جمعرات کویہاں کولگام ہلاکتوں کیخلاف زورداراحتجاج کیا۔احتجاجی طلاب نے ہاتھوں میں بینئر اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے، تاہم ان کااحتجاج پُرامن رہا۔ نامہ نگار ظفر اقبال کے مطابق سرحدی قصبہ اوڑی میں عام شہریوں کی ہلاکت کے خلاف پیر کو مکمل طور بند رہا۔ قصبہ اوڑی، لگامہ،بانڈی، گینگل،چندنواڑی اوربونیار میں بازار مکمل طور بند رہے اور گاڑیوں کی آمد رفت بھی متاثر رہی۔نامہ نگار مشتاق الحسن کے مطابق ٹنگمرگ ،چندی لورہ، درورو، ریرم ،کنزر،دھوبی وان،ماگام، مازھامہ،نارہ بل، میں ہڑتال کی وجہ سے عام زندگی مفلوج ہو کر رہ گئیجبکہ سڑکوں سے پبلک ٹرانسپورٹ بھی غائب رہا۔کپوارہ سے نمائندے اشرف چراغ نے اطلاع دی کہ ضلع میں مکمل ہڑتال رہی جبکہ سڑکو ں پر پبلک ٹرانسپورٹ بھی مکمل طور غائب رہا جس کے نتیجے میں سڑکیں سنسان نظر آئیں ۔ضلع کے کرالہ پورہ ،ترہگام ،کپوارہ ،لال پورہ ،کولنگام ،چوگل ،ہندوارہ ،لنگیٹ اور کرالہ گنڈ میں دکانیں بند رہیں جبکہ سرکاری دفاتر میں بھی معمول کا کام کاج متاثر رہا ۔ نطنوسہ ہندوارہ میں فورسزز نے سخت بندشیں عائد کی تھیں او ر لوگو ں کی نقل وحمل پر پابندی عائد کی گئی تھی ۔بانڈی پورہ میں بھی ہڑتال سے زندگی کا پہیہ جام ہوا۔نامہ نگار عازم جان کے مطابق ضلع کے سمبل،حاجن،کیونسہ،پاپہ چھن،شلوت اور دیگر علاقوں میں مکمل ہڑتال سے زندگی کا نظام درہم برہم ہوکر رہ گیا۔ نمائندے کے مطابق ضلع میں بازار اور تجارتی مراکز بند رہین،جبکہ سڑکوں پر ترانسپورٹ کی نقل و حمل بند رہی۔

خطہ چناب

ڈوڈہ ضلع کے بیشتر قصبہ جات کے ساتھ ساتھ کئی دیہات میں بھی مکمل بند رکھا گیا اور احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ اس دوران تجارتی و تعلیمی ادارے بند رہے جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی نقل وحرکت بھی معطل رہی۔ ڈوڈہ میں ہڑتال کی کال مرکزی سیرت کمیٹی ڈوڈہ کی طرف سے دی گئی تھی۔ قصبہ میں زبردست مظاہرہ ہوا جس میں تمام مکاتیب فکر سے تعلق رکھنے والوں نے حصہ لیا اور مظاہرین نے بطور غم و غصہ کفن نما سفید لباس پہن رکھا تھا۔فوج کومبینہ طور شہریوں کا قتل عام کرنے کے لئے براہ راست ذمہ دار قرار دیتے ہوئے مظاہرین نے قصور وار افراد کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔ احتجاجی جلوس جامع مسجد ڈوڈہ سے شروع ہو کر دیسہ چوک تک گیا اور وہاں سے دوبارہ قدیمی بس سٹینڈ ڈوڈہ میں اختتام پذیر ہوا ۔ محبوب ٹاک صدر چناب سٹیزن فورم نے گورنر انتظامیہ کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ انتقامی کارروائیوں سے حالات بد سے بدتر ہو تے جا رہے ہیں۔بھدرواہ کولگام ہلاکتوں کے خلاف انجمن اسلامیہ بھدرواہ کی کال پر قصبہ میں پیر کے روز مکمل ہڑتال کی گئی اور اس دوران ایک فرقہ سے تعلق رکھنے والے تجارتی ادارے بند رہے ، متعدد اسکولوں میں بھی تعطیل رہی جب کہ سرکاری دفاتر اور بنکوں کھلے تھے تاہم ان میں بھی حاضری معمول سے کم تھی۔ اگر چہ سڑکوں پر ٹریفک عام دنوں کی طرح تھا لیکن بازاروں اور اندرون قصبہ ہوٗ کا عالم رہا۔ اس موقعہ پر احتجاج بھی کیا گیا جس سے خطاب کرتے ہوئے انجمن اسلامیہ بھدرواہ کے صدرپرویز احمد شیخ نے کہا کہ مقامی لوگ حکومت کی طر ف سے شروع کئے گئے بے گناہوں کے قتل کے سلسلہ کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوتا جا رہا ہے اور نوجوانوں کو پشت بہ دیوار کیا جا رہا ہے جس کے نتائج خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ضلع کشتواڑ کے بیشتر قصبہ جات میں ایک فرقہ کی جانب سے ہڑتال کی گئی جس دوران ان کی تمام دکانیں اور کاروباری ادارے بند رہے جب کہ سڑکوں سے ٹریفک بھی غائب تھا۔ تاہم ہڑتال پر امن رہی ۔ بند کی کال مجلس شوریٰ کی جانب سے دی گئی تھی ۔ اس موقعہ پر امام جامع فاروق احمد کچلو نے لارو کولگام میں سات شہریوں کی ہلاکت کو نہتے مسلمانوں کے خلاف حکومت کا اعلان جنگ قرار دیتے ہوئے کہا کہ برادران کشمیر بد ترین قسم کی سرکاری دہشت گردی کا شکار ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس دکھ کی گھڑی میں پورے ضلع کشتواڑ کے لوگ اپنی کشمیری بھائیوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ سات عام شہری اور تین ہتھیار بند نوجوانوں کی ہلاکت پر ضلع رام بن کے بانہال اور کھڑی قصبوں میں مکمل ہڑتال کی گئی جبکہ شاہراہ پر واقع بانہال سے نوگام تک دس کلومیٹر کے سیکٹر پر اور ملحقہ علاقوں کی تقریبا تمام مارکیٹیں بھی مکمل طور بند رہیں۔ہڑتال کی وجہ سے قصبہ بانہال اور کھڑی۔آڑپنچلہ کے علاوہ شاہراہ پر واقع  گنڈ عدلکوٹ ، چریل ، ٹھٹھاڑ ، نوگام ، کسکوٹ ،ریلوے سٹیشن بانہال سمیت دیگر علاقوں میں مکمل ہڑتال کی وجہ سے معمول کی زندگی متاثر رہی۔ تمام دکانیں ، کاروباری ادارے اور مقامی ٹرانسپورٹ بند رہا جبکہ قصبہ بانہال کے آس پاس سرکاری اور غیر سرکاری سکولوں میں بھی نظام تعلیم بچوں کی غیر حاضری کی وجہ سے متاثر رہا۔ ہڑتال کی وجہ سے صدا مشغول رہنے والا قصبہ بانہال ، کھڑی اور دیگر علاقوں میں ہو کا عالم رہا ۔ریل سروس آج دوسرے روز بھی متاثر رہی۔ 

احتجاج

 کولگام ہلاکتوں کے خلاف  ہڑتال کے دوران کئی مقامات پر تشدد آمیز مظاہرے ہوئے۔شہر کے مہجور نگر علاقے میں نوجوانوں نے فورسز اور پولیس پر سنگبازی کی۔ بعد میں فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے ٹیر گیس گولے داغے۔ طرفین میں کافی دیر تک جھڑپ ہوتی رہیں۔ نٹی پورہ میں بھی نوجوانوں اور فورسزکے مابین جھڑپیں ہوئیں۔ فورسز نے نوجوانوں کا تعاقب کیا اور انہیں منتشر کیا۔ شہر کے رام باغ علاقے میں بھی طرفین میں جھڑپیں ہوئیں۔ادھر حبہ کدل میں کولگام مہلوکین کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی،جبکہ علاقے میں معمولی نوعیت کی سنگباری کے واقعات رونما ہوئے۔ چھتہ بل میں بھی نوجوانوں اور فورسز کے درمیان پتھرائو اور شلنگ کے واقعات ہوئے۔ذالڈگر میں مشتعل نوجوانوں پر فورسز نے اشک آوار گولے داغے۔ سید منصور صاحبؒ علاقے،سنر کول،نواب بازار اور دیگر علاقوں میں بھی سنگبازی کے واقعات رونما ہوئے۔