تازہ ترین

ہوئے مر کے ہم جورسوا۔۔۔ قسط2

طنزومزاح

23 اکتوبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

مشتاق۱حمد یوسفی
اب آپ نےاکثردیکھا ہوگا کہ گنجان محلوں میں مختلف بلکہ متضاد تقریبیں ایک دوسرے میں بڑی خوبی سے ضم ہو جاتی ہیں۔ گویا دونوں وقت مل رہے ہوں۔ چنانچہ اکثر حضرات دعوت ولیمہ میں ہاتھ دھوتے وقت چہلم کی بریانی کی ڈکار لیتے، یا سویم میں شبینہ فتوحات کی لذیذ داستان سنا تے پکڑے جاتے ہیں۔ لذتِ ہمسایگی کا یہ نقشہ بھی اکثر دیکھنے میں آیا کہ ایک کوارٹر میں ہنی مون منایا جارہا ہے تو رت جگا دیوار کے اس طرف ہورہا ہے اور یوں بھی ہوتا ہے کہ دائیں طرف والے گھر میں آدھی رات کو قوال بلّیاں لڑارہے ہیں، تو حال بائیں طرف والے گھر میں آرہا ہے۔ آمدنی ہمسائے کی بڑھتی ہے تو اس خوشی میں ناجائز خرچ ہمارے گھرکا بڑھتا ہےاوریہ سانحہ بھی بارہا گزراکہ مچھلی طرح دار پڑوسن نے پکائی اور مدتوں اپنے بدن سے تری خوشبوآئی ۔اس تقریبی گھپلے کا صحیح اندازہ مجھے دوسرے دن ہوا جب ایک شادہ کی تقریب میں تمام وقت مرحوم کی وفات حسرت آیات کے تذکرے ہوتے رہے۔ ایک بزرگ نےکہ صورت سے خود پا بہ رکاب معلوم ہوتے تھے، تشویش ناک لہجے میں پوچھا، آخری ہوا کیا؟ جواب میں مرحوم کے ایک ہم جماعت نے اشاروں کنایوں میں بتایا کہ مرحوم جوانی میں اشتہاری امراض کا شکار ہوگئے۔ ادھیڑ عمر میں جنسی تونس میں مبتلا رہے لیکن آخری ایام میں تقویٰ ہوگیا تھا۔ 
’’پھربھی آخرہوا کیا؟‘‘پابہ رکاب مرد بزرگ نے اپنا سوال دہرایا۔ 
’’بھلے چنگے تھے۔ اچانک ایک ہچکی آئی اور جاں بحق ہوگئے‘‘دوسرے بزرگ نے انگوچھے سےایک فرضی آنسوپوچھتے ہوئے جواب دیا۔ 
’’سنا ہےچالیس برس سے مرض الموت میں مبتلا تھے‘‘ایک صاحب نے سوکھے سے منہ سے کہا۔ 
کیا مطبل؟‘‘ 
’’چالیس برس سے کھانسی میں مبتلا تھےاورآخراسی میں انتقال فرمایا۔‘‘ 
’’صاحب! جنّتی تھے کہ کسی اجنبی مرض میں نہیں مرے۔ ورنہ اب تو میڈیکل سائنس کی ترقی کا یہ حال ہے کہ روز ایک نیا مرض ایجاد ہوتا ہے۔‘‘ 
’’آپ نے گاندھی گارڈن میں اس بوہری سیٹھ کوکارمیں چہل قدمی کرتے نہیں دیکھاجو کہتا ہے کہ میں ساری عمر دمے پراتنی لاگت لگا چکا ہوں کہ اب اگرکسی اورمرض میں مرنا پڑا تو خدا کی قسم خودکشی کرلوں گا۔‘‘مرزا چٹکلوں پراُترآئے۔ 
’’واللہ!موت ہو تو ایسی ہو!(سسکی)مرحوم کے ہونٹوں پرعالم سکرات میں بھی مسکراہٹ کھیل رہی تھی۔‘‘ 
’’اپنے قرض خواہوں کاخیال آرہاہوگا‘‘مرزامیرےکان میں پھُسپھُسائے۔’’گنہ گاروں کا منہ مرتے وقت پژمردہ جیسا ہوتا ہے، مگر چشم بددُور، مرحوم کا چہرہ گلاب کی طرح کھلا ہوا تھا۔‘‘ 
’’صاحب!سیٹی رنگ کا گلاب ہم نےآج تک نہیں دیکھا‘‘مرزاکی ٹھنڈی ٹھندی ناک میرے کان کو چھونے لگی اور ان کےمنہ سے کچھ ایسی آوازیں نکلنے لگیں جیسے کوئی بچہ چمکیلے فرنیچر پر گیلی اُنگلی رگڑ رہا ہو۔
’’اپنے قرض خواہوں کاخیال آرہاہوگا‘‘مرزامیرےکان میں پھُسپھُسائے۔’’گنہ گاروں کا منہ مرتے وقت پژمردہ جیسا ہوتا ہے، مگر چشم بددُور، مرحوم کا چہرہ گلاب کی طرح کھلا ہوا تھا۔‘‘ 
’’صاحب!سیٹی رنگ کا گلاب ہم نےآج تک نہیں دیکھا‘‘مرزاکی ٹھنڈی ٹھندی ناک میرے کان کو چھونے لگی اور ان کےمنہ سے کچھ ایسی آوازیں نکلنے لگیں جیسے کوئی بچہ چمکیلے فرنیچر پر گیلی اُنگلی رگڑ رہا ہو۔ اصل الفاظ تو ذہن سے محو ہوگئے، لیکن اتنا اب بھی یاد ہے کہ انگوچھے والے بزرگ نے ایک فلسفیانہ تقریر کر ڈالی، جس کا مفہوم کچھ ایسا ہی تھا کہ جینے کا کیا ہے۔جینے کوتو جانور بھی جی لیتے ہیں، لیکن جس نے مرنا نہیں سیکھا، وہ جینا کیا جانے۔۔۔ایک متبسم خود سپردگی، ایک بے تاب آمادگی کے ساتھ مرنے کے لیے ایک عمر کا ریاض درکار ہے۔ یہ بڑے ظرف، بڑے حوصلے کا کام ہے، بندہ نواز!‘‘ 
پھرانہوں نے بے موت مرنے کے خاندانی نسخے اور ہنستے کھیلتے اپنی روح قبض کرانے کے پینترے کچھ ایسے استادانہ تیور سے بیان کئے کہ ہمیں عطائی مرنے والوں سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے نفرت ہوگئی۔ 
خاتمۂ کلام اس پر ہوا کہ مرحوم نے کسی روحانی ذریعے سے سن گن پالی تھی کہ میں سنیچر کومرجاؤں گا۔ 
’’ہرمرنے والے کے متعلّق یہی کہا جاتا ہے۔‘‘باتصویر قمیض والا ٹیڈی بوائے بولا۔ 
’’کہ وہ سنیچر کو مرجائے گا؟‘‘مرزا نےا س بدلگام کا منہ بند کیا۔ 
انگوچھے والے بزرگ نے شئے مذکور سےپہلے اپنے نری کے جوتے کی گرد جھاڑی،پھر پیشانی سے پسینہ پونچھتے ہوئے مرحوم کے عرفان ِمرگ کی شہادت دی کہ جنت مکانی نے وصال سے ٹھیک چالیس دن پہلے مجھ سے فرمایا تھا کہ انسان فانی ہے! 
انسان کے متعلق یہ تازہ خبر سن کر مرزا مجھے تخلیے میں لے گئے۔ دراصل تخلیے کا لفظ انہوں نے استعمال کیا تھا، ورنہ جس جگہ وہ مجھے دھکیلتے ہوئے لے گئے، وہ زنانے اور مردانے کی سرحد پر ایک چبوترہ تھا، جہاں ایک میراثن گھونگھٹ نکالے ڈھولک پر گالیاں گارہی تھی۔وہاں انہوں نے اس شغف کی جانب اشارہ کرتے ہوئے جو مرحوم کو اپنی موت سے تھا،مجھے آگاہ کیا ’’ یہ ڈراما تو جنت مکانی اکثر کھیلا کرتے تھے۔ آدھی آدھی راتوں کو اپنی ہونے والی بیواؤں کو جگا کر دھمکیاں دیتے کہ میں اچانک اپنا سایہ تمہارے سر سے اُٹھا لوں گا۔ چشم زون میں مانگ اُجاڑوں گا۔ اپنے بے تکلف دوستوں سے بھی کہا کرتے کہ واللہ!اگر خودکشی جرم نہ ہوتی تو کبھی کااپنے گلے میں پھندا ڈال لیتا۔ کبھی یوں بھی ہوتا کہ اپنے آپ کو مردہ تصور کرکے ڈکرانے لگتے اور چشم ِتصور سے منجھلی کے سونٹا سے ہاتھ دیکھ کر کہتے: بخدا! میں تمہارا رنڈاپا نہیں دیکھ سکتا۔ مرنے والے کی ایک ایک خوبی بیان کرکے خشک سسکیاں بھرتے اور سسکیوں کے درمیان سگریٹ کے کش لگاتے اور جب اس عمل سے اپنے اوپر وقت طاری کر لیتے تو رومال سے باربارآنکھ کے بجائے اپنی ڈبڈبائی ہوئی ناک پونچھتے جاتے۔ پھر جب شدت گریہ سے ناک سرخ ہوجاتی توذراصبر آتا اور وہ عالم تصّورمیں اپنے کپکپاتے ہوئے ہاتھ سے تینوں بیواؤں کی مانگ میں یکے بعد دیگرے ڈھیروں افشاں بھرتے۔ اس سے فارغ ہوکرہرایک کو کہنیوں تک مہین مہین،پھنسی پھنسی چوڑیاں پہناتے (بیاہتا کو چوڑیاں کم پہناتے تھے)۔ حالانکہ اس سے پہلے بھی مرزا کو کئی مرتبہ ٹوک چکا تھا کہ خاقانیٔ ہند اُستاد ذوؔق ہر قصیدے کے بعد منہ بھر بھر کے کُلّیاں کیا کرتے تھے۔ تم پر ہرکلمے، ہرفقرے کے بعد واجب ہیں لیکن اس وقت مرحوم کے بارے میں یہ اول جلول باتیں اور ایسے واشگاف لہجے میں سن کرمیری طبیعت کچھ زیادہ ہی منغّض ہوگئی۔ میں نے دوسروں پر ڈھال کرمرزاکو سنائی ’’یہ کیسے مسلمان ہیں مرزا! دعائے مغفرت نہیں کرتے، نہ کریںمگرایسی باتیں کیوں بناتے ہیں یہ لوگ؟‘‘ 
’’خلق خدا کی زبان کس نے پکڑی ہے؟ لوگوں کا منہ تو چہلم کے نوالے ہی سے بند ہوتا ہے۔‘‘ 
مجھے چہلم میں بھی شرکت کا اتفاق ہوا لیکن سوائے ایک نیک طینت مولوی صاحب کے جوپلاؤکےچاولوں کی لمبائی اورگلاوٹ کومرحوم کےٹھیٹ جنّتی ہونےکی نشانی قراردےرہےتھے، بقیہ حضرات کی گل افشانی گفتارکاوہی انداز تھا۔ وہی جگ جگے تھے،وہی چہچہے! ایک بزرگوار جو نان قورمے کے ہرآتشیں لقمے کے بعد آدھا آدھا گلاس پانی پی کر قبل ازوقت سیر بلکہ سیراب ہوگئے تھے، منہ لال کر کے بولے ’’مرحوم کی اولاد نہایت ناخلف نکلی۔ مرحوم و مغفور شدومد سے وصیت فرماگئے تھے کہ میری مٹی بغداد لے جائی جائے لیکن نافرمان اولاد نے ان کی آخری خواہش کا ذرا پاس نہ کیا۔‘‘ 
اس پرایک منہ پھٹ پڑوسی بول اٹھے‘‘صاحب! یہ مرحوم کی سراسر زیادتی تھی کہ انہوں نے خود تو تادم مرگ میونسپل حدود سے قدم باہر نہیں نکالا۔ حد یہ کہ پاسپورٹ تک نہیں بنوایا اور۔۔۔‘‘ 
ایک وکیل صاحب نے قانونی موشگافی کی ’’بین الاقوامی قانون کے بموجب پاسپورٹ کی شرط صرف زندوں کے لیے ہے۔ مردے پاسپورٹ کے بغیر بھی جہاں چاہیں جا سکتے ہیں۔‘‘
’’لے جائے جاسکتے ہیں‘‘مرزاپھرلقمہ دے گئے۔ 
’’میں کہہ رہا تھا کہ یوں تو ہر مرنے والے کے سینے میں یہ خواہش سلگتی رہتی ہے کہ میرا کانسی کا مجسّمہ(جسے قد آدم بنانے کےلیے بسا اوقات اپنی طرف سے پورے ایک فٹ کا اضافہ کرنا پڑتا ہے) میونسپل پارک کے بیچوں بیچ ایستادہ کیا جائے اور۔۔۔‘‘ 
’’اورجملہ نازنینانِ شہرچارمہینے دس دن تک میرے لاشے کو گود میں لئے، بال بکھرائے بیٹھی رہیں’’مرزا نے دوسرا مصرع لگایا۔ 
’’مگر صاحب! وصّیتوں کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ چھٹپن کا قصّہ ہے۔ پیپل والی حویلی کے پاس ایک جھونپڑی میں39ء تک ایک افیمی رہتا تھا۔ ہمارے محتاط اندازے کے مطابق عمر 66 سال سے کسی طرح کم نہ ہوگی، اس لیے کہ خود کہتا تھا کہ پینسٹھ سال سے تو افیم کھا رہاہوں۔ چوبیس گھنٹے انٹاغفیل رہتا تھا۔ ذرانشہ ٹوٹتا تومغموم ہوجاتا۔غم یہ تھا کہ دنیا سے بے اولادا جارہا ہوں۔ اللہ نے کوئی اولاد دیرینہ نہ دی جو اس کی بان کی چارپائی کی جائز وارث بن سکے! اس کے متعلق محلے میں مشہور تھا کہ پہلی جنگ عظیم کے بعد سے نہیں نہایا ہے۔ اس کو اتنا تو ہم نے بھی کہتے سنا کہ خدا نے پانی صرف پینے کے لیے بنایا تھا مگر انسان بڑا ظالم ہے   ع 
راحتیں اوربھی ہیں غسل کی راحت کے سوا 
ہاں تو صاحب! جب اس کا دم آخر ہونے لگا تو محلے کی مسجد کے امام کا ہاتھ اپنے ڈوبتے دل پر رکھ کر یہ قول و قرار کیا کہ میری میت کو غسل نہ دیا جائے۔ بس پولے پولے ہاتھوں سے تیمّم کراکے کفنا دیا جائے ورنہ حشر میں دامن گیر ہوں گا۔‘‘ 
وکیل صاحب نے تائید کرتے ہوئے فرمایا ’’اکثر مرنے والے اپنے کرنے کے کام پسماند گان کو سونپ کرٹھنڈے ٹھنڈے سدھارجاتے ہیں۔ پچھلی گرمیوں میں دیوانی عدالتیں بند ہونے سے چند یوم قبل ایک مقامی شاعر کا انتقال ہوا۔ واقعہ ہے کہ ان کے جیتے جی کسی فلمی رسالے نے بھی ان کی عریاں نظموں کو شر مندۂ طباعت نہ کیا لیکن آپ کو حیرت ہوگی کہ مرحوم اپنے بھتیجے کو ایصال ثواب کی یہ راہ سجھا گئے کہ بعد مُردن میرا کلام حنائی کاغذ پر چھپوا کر سال کے سال میری برسی پر فقیروں اور مدیروں کو بلا ہدیہ تقسیم کیا جائے۔‘‘ 
پڑوسی کی ہمت اور بڑھی ’’اب مرحوم ہی کو دیکھئے۔ زندگی میں ہی ایک قطعۂ اراضی اپنی قبر کے لیے بڑے ارمانوں سے رجسٹری کرالیا تھا گوکہ بچارےاس کا قبضہ پورے بارہ سال بعد لے پائے۔ نصیحتوں اور وصیتوں کا یہ عالم تھا کہ موت سے دس سال پیشتر اپنے نواسوں کے ایک فہرست حوالے کردی تھی، جس میں نام بنام لکھا تھا کہ فلاں ولد فلاں کو میرا منہ نہ دکھایا جائے۔ (جن حضرات سے زیادہ آزردہ خاطر تھے، ان کے نام کے آگے ولدیت نہیں لکھی تھی)تیسری شادی کے بعد انہیں اس کا طویل ضمیمہ مرتب کرنا پڑا، جس میں تمام جوان پڑوسیوں کے نام شامل تھے۔‘‘
’’ہم نے تو یہاں تک سنا ہے کہ مرحوم نہ صرف اپنے جنازے میں شرکا کی تعداد متعین کرگئے بلکہ آج کے چہلم کا ’’مینو‘‘بھی خود ہی طے فرما گئے تھے۔‘‘وکیل نے خاکے میں شوخ رنگ بھرا۔ 
اس نازک مرحلے پرخشخشی داڑھی والے بزرگ نے پلاؤسے سیر ہو کراپنے شکم پرہاتھ پھیرااور’’مینو‘‘کی تائید وتوصیف میں ایک مسلسل ڈکارداغی،جس کے اختتام پراس معصوم حسرت کا اظہار فرمایا کہ کاش آج مرحوم زندہ ہوتے تویہ اتناگمات دیکھ کر کتنے خوش ہوتے! 
اب پڑوسی نے تیغِ زبان کو بے نیام کیا ’’مرحوم سداسے سُوئے ہضم کے مریض تھے۔غذا تو غذا بچارے کے پیٹ میں بات تک نہیں ٹھیرتی تھی۔ چٹ پٹی چیزوں کو ترستے ہی مرے۔ میرے گھر میں سے بتا رہی تھیں کہ ایک دفعہ ملیریا میں سرسام ہوگیا اور لگے بہکنے۔ بار بار اپنا سرمنجھلی کے زانو پر پٹختے اور سہاگ کی قسم دلا کر یہ وصیت کرتے تھے کہ ہر جمعرات کو میری فاتحہ، چاٹ اور کنواری بکری کی سری پر دلوائی جائے۔‘‘ 
مرزا پھڑک ہی توگئے۔ ہونٹ پرزبان پھیرتے ہوئے بولے ’’صاحب! وصیتوں کی کوئی حد نہیں۔ ہمارے محلے میں ڈیڑھ پونے دو سال پہلے ایک اسکول ماسٹر کا انتقال ہوا، جنہیں میں نے بقرعید پر بھی سالم و ثابت پاجامہ پہنے نہیں دیکھا مگر مرنے سے پہلے وہ بھی اپنے لڑکے کو ہدایت کر گئے    ع 
پل بنا،چاہ بنا،مسجدوتالاب بنا! 
لیکن حضورابّا کی آخری وصیت کے مطابق فیض کے اسباب بنانے میں لڑکے کی مفلسی کے علاوہ ملک کا قانون بھی مزاحم ہوا۔‘‘ 
’’یعنی کیا؟‘‘وکیل صاحب کے کان کھڑے ہوئے۔ 
یعنی یہ کہ آج کل پُل بنانے کی اجازت صرف پی۔ڈبلیو۔ڈی کو ہے اور بالفرض محال کرچی میں چار فٹ گہرا کنواں کھود بھی لیا تو پولیس اس کا کھاری کیچڑ پینے والوں کا چالان اقدام خودکشی میں کردے گی۔ یوں بھی پھٹیچر سے پھٹیچر قصبے میں آج کل کنویں صرف ایسے ویسے موقعوں پر ڈوب مرنے کے لیے کام آتے ہیں۔ رہے تالاب ،توحضور! لے دے کے ان کا یہ مصرف رہ گیا ہے کہ دن بھر ان میں گاؤں کی بھینسیں نہائیں اورصبح جیسی آئی تھیں،اس سے کہں زیادہ گندی ہو کر چراغ جلے باڑے میں پہنچیں۔‘‘ 
خدا خدا کرکے یہ مکالمہ ختم ہوا تو پٹاخوں کا سلسلہ شروع ہوگیا: 
’’مرحوم نے کچھ چھوڑا بھی؟‘‘ 
’’بچے چھوڑے ہیں!‘‘
’’مگردوسرا مکان بھی تو ہے۔‘‘ 
’’اس کے کرایے کو اپنے مرزا کی سالانہ مرمت سفیدی کے لیے وقت کرگئے ہیں۔‘‘ 
’’پڑوسیوں کا کہنا ہے کہ بیاہتا بیوی کے لیے ایک انگوٹھی بھی چھوڑی ہے۔اگر اس کا نگینہ اصلی ہوتا تو کسی طرح بیس ہزار سے کم کی نہیں تھی۔‘‘ 
’’توکیا نگینہ جھوٹا ہے؟‘‘
’’جی نہیں۔ اصلی امی ٹیشن ہے!‘‘ 
’’اوروہ پچاس ہزارکی انشورنس پالیسی کیا ہوئی؟‘‘ 
’’وہ پہلے ہی منجھلی کے مہر میں لکھ چکے تھے۔‘‘ 
’’اس کے بارے میں یار لوگوں نے لطیفہ گھڑرکھا ہے کہ منجھلی بیوہ کہتی ہے کہ سرتاج کے بغیرزندگی اجیرن ہے۔ اگر کوئی اُن کو دوبارہ زندہ کردے تو میں بخوشی دس ہزار لوٹانے پرتیارہوں۔‘‘ 
’’مرحوم اگرایسا کرتے ہیں تو بالکل ٹھیک کرتے ہیں۔ ابھی توان کا کفن بھی میلا نہیں ہوا ہوگا مگر سننے میں آیا ہے کہ منجھلی نے رنگے چنے دوپٹے اوڑھنا شروع کردیا ہے۔‘‘ 
’’اگر منجھلی ایسا کرتی ہے تو بالکل ٹھیک کرتی ہے۔ آپ نے سنا ہوگا کہ ایک زمانے میں لکھنؤ کے نچلے طبقے میں یہ رواج تھا کہ چالیسویں پرنہ صرف انواع و اقسام کے پرتکلف کھانوں کا اہتمام کیا جاتابلکہ بیوہ بھی سولہ سنگھارکرکے بیٹھتی تھی تاکہ مرحوم کی ترسی ہوئی روح کماحقہ،تمتّع ہوسکے۔‘‘مرزا نے ‘ح ‘اور’ع‘صحیح مخرج سے ادا کرتے ہوئے مَرے پر آخری دُرّہ لگایا۔ 
واپسی پر راستے میں میں نے مرزا کو آڑے ہاتھوں لیا’’جمعہ کو تم نے وعظ نہیں سنا؟ مولوی صاحب نے کہا تھا کہ مَرے ہوؤں کا ذکر کرو تو اچھائی کے ساتھ۔ موت کو نہ بھولو کہ ایک نہ ایک دن سب کو آنی ہے۔‘‘
سڑک پار کرتے کرتے ایک دم بیچ میں اکڑ کر کھڑے ہوگئے۔ فرمایا :اگر کوئی مولوی یہ ذمّہ لے لے کہ مرنے کے بعد میرے نام کے ساتھ رحمتہ اللہ لکھا جائے گا تو آج ہی۔۔۔اسی وقت،اسی جگہ مرنے کے لیے تیارہوں۔ تمہاری جان کی قسم!‘‘ 
آخری فقرہ مرزا نے ایک بے صبری کار کے بمپر پر تقریباً اکڑوں بیٹھ کر جاتے ہوئے اداکیا۔ 
����