تازہ ترین

منان وانی کی کہانی

ذہنوںاور جذبوں کا آتش

23 اکتوبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

منظور انجم
ڈاکٹر منان وانی کو جب اس زمین کے سینے میں اُتاردیا گیا جس کے ساتھ اس کا تعلق اتنا گہرا تھا کہ ہزاروں میل دور علی گڑھ میں اعلیٰ تعلیم کی بے پناہ مصروفیتوں میں بھی نہیں ٹوٹ سکا ۔اس کے آبائی گاوں میں ہی نہیں بلکہ پوری وادی میں اس نوجوان کا ماتم کئی روز جاری رہا ۔ لوگ محسوس کررہے تھے کہ پی ایچ ڈی کا سکالرجواس قوم کے لئے ا ایک بہت بڑا اثاثہ تھاکواتنی جلدی اور اس طرح بھری جوانی میں جدا نہیں ہونا تھا ۔عین اسی وقت ریاست کے گورنر ستیہ پال ملک جھیل ڈل کے کنارے واقع ایس کے آئی سی سی میں قیام امن میں نوجوانوں کے کردار پر بات کررہے تھے ۔وہ کہہ رہے تھے کہ نوجوانوں کی صلاحیتوں کو ابھارنے کیلئے انہیں صحیح سمت میں لے جانا وقت کی اہم ضرورت ہے ۔ ستیہ پا ل ملک خود بہت جہاندیدہ انسان ہیں اور سمجھ سکتے ہیں کہ ہر دور کے نوجوان اپنی سمت آپ متعین کرتے ہیں ۔ کوئی اوران کی سمت متعین نہیں کرسکتا ۔ جس طرح ہوا کی سمت کو متعین نہیں کیا جاسکتا اسی طرح نسلوں کی سمت کو متعین کرنا ممکن ہی نہیں ۔ان کی سمت متعین کرنے میں کچھ تو ان جذباتی اور ذہنی رویوں کا دخل ہوتا ہے جو وراثت کے طور پر منتقل ہوتے ہیں ،کچھ قدرت کی بخشے میلانات کا دخل ہوتا ہے اور کچھ ان حالات کا جن میں انسان کی پرورش ہوتی ہے اور جوشعور اور فطرت کے ارتقائی سفر میں زندگانی پر گہرے اثرات چھوڑتی ہے ۔ کسی قوم اوراس کی نئی نسلوں کے میلانات کو سمجھنے کے لئے تاریخ اور تہذیب کا گہرا مطالعہ ہونا ضروری ہے اس کے بغیر جو بھی رائے قائم کی جائے وہ یقیناًغلط ہوگی ۔گورنر ستیہ پال ملک اسی طرح کی بات کہہ رہے ہیں جس طرح کی باتیں گزشتہ سات دہائیوں سے حکمران اپنے وقت کی ضرورتوں کے مطابق کرتے آرہے ہیں ۔گورنر صاحب نوجوانوں کو مصروف رکھنے کی بات کررہے ہیں ان کے لئے تفریح کے سامان پیدا کرنا چاہتے ہیں اور کھیل کے میدان تعمیر کرنے کے انتظامات کرنا چاہتے ہیں تاکہ وہ تشدد کا راستہ اختیار کرنے سے باز رہیں اور تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کرسکیں ۔اگر یہی گورنر صاحب کی سوچ ہے تو بہت سطحی سوچ ہے جو کوئی نتیجہ پیدا نہیں کرسکتی ہے اور اگر یہ ان کی خواہش ہے تو یہ خواہش کشمیرکے ہر ذی ہوش فرد کی خواہش ہے ۔ کوئی نہیں چاہتا کہ قوم کے مستقبل کا سرمایہ تشدد کی آندھی میں خس و خاشاک کی طرح فنا ہوجائے لیکن وقت نے ذہنوں اور جذبوں میں وہ آتش بھردیا ہے وہ یقینا اس وقت تک بھڑکتا ہی رہے گا جب تک کہ ایک رُت ایسی نہ چلے جو اسے بجھا نہ دے ۔
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کرنے والاطالب علم منان وانی ایک بہت اچھا قلمکار اور اچھا مقرر بھی تھا ۔اس کے پاس اپنا اختلاف یا غصہ ظاہر کرنے کے بہت سے جائز طریقے بھی تھے پھر اس نے کیوں وہ راستہ چنا جس نے اسے اپنے اختلاف اوردلائل کے ساتھ زمین کی گہرائیوں میں سلا کر خاموش کردیا۔وہ علم کے اس مقام پر تھا جہاں وہ بخوبی سمجھ سکتا تھا کہ قلم تلوار سے کہیں زیادہ طاقت ور ہے اور اظہار کی اعلیٰ صلاحیت دشمنوں کو بھی ہم نوا بنانے کا معجزہ کر دکھا سکتی ہے ۔اسے یہ بھی معلوم تھا کہ کلاشنکوف سے ایک بہت بڑی فوجی قوت کو زیر نہیں کیا جاسکتا ۔ایک مصنف کی حیثیت سے عالمی سیاست پر بھی اس کی گہری نظر تھی اور برصغیر کے معاملات اور ریاست کے حالات پر بھی ۔اس نے ان عظیم شخصیتوں کی جدوجہد کا بھی مطالعہ کیا ہوگا جنہوں نے بغیر کسی ہتھیار کے وقت کی عظیم طاقتوں سے لوہا لیا اور کامیاب و کامراں ہوئے۔اتنا تعلیم یافتہ شخص کسی بہکاوے میں بھی نہیں آسکتا ۔پھر اس نے کیوں وہ راستہ چنا جو اسے اپنی ساری جدوجہد اور صلاحیتوں کے ساتھ مٹی کے سپرد کرگیا ۔کیا وہ دیوانہ تھا ۔ اگر وہ دیوانہ تھا تو کیا وہ سب اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد بھی دیوانے تھے جواس سے پہلے اسی راہ پر چل کر اپنی جان جان آفریں کے سپرد کرگئے ۔برہان وانی بھی ایک پڑھا لکھا نوجوان تھا ۔اس نے بھی یہی راستہ اختیار کیا تھا ۔ کچھ تو ہے جو اس راستے پراعلیٰ تعلیم حاصل کرتے کرتے نوجوانوں کو اپنی طرف کھینچے لیا جارہا ہے ۔صرف جنت میں جانے کا خواب یہ راہ اختیار کرنے کا سبب نہیں ہوسکتا کیونکہ جنت میں جانے کے بے شمار راستے اور بھی ہیں ۔یہ ایک پڑھا لکھا نوجوان بہت اچھی طرح سے جانتا ہے ۔پھر کیا سبب ہے کہ بچے کتابیں چھوڑ کر ہاتھوں میں بندوق اٹھا رہے ہیں ۔یہ جذبہ اتنا مقبول اور معروف کیوں بن رہا ہے کہ منان وانی کے جاں بحق ہونے کی خبر آنے کے ساتھ ہی یہ خبر بھی آتی ہے کہ ترال میں مزید دو نوجوانوںنے ہاتھوں میں بندوق تھام کر حزب المجاہدین میں شمولیت اختیار کرلی ۔اس پر تحقیق کرنے اور اس کے اسباب تلاش کرنے کے بجائے ایسے نوجوانوں کو گمراہ قرار دیکر انہیں صفحہ ہستی سے مٹانے کا عزم اقتدار کے ایوانوں میں دہرایا جاتا ہے ۔اس تجربے کے باوجود کہ برہان وانی کے جاں بحق ہوجانے کے بعد معمول پر لوٹتے حالات یکسر پلٹ گئے اور اس کے بعد ہی نہتے لوگ بھی ہاتھوں میں پتھر لیکر فورسز کے سامنے ڈٹ گئے اور عسکریت پسندوںکو فورسز سے بچانے کیلئے محاصروں کو توڑنے کے لئے سر پر کفن باندھ کر گھروں سے باہر آنے لگے ۔اگر ذرا گہرائی کے ساتھ صرف گزشتہ تیس سال کے حالات و واقعات پر ہی نظر دوڑائی جائے تو پتہ چلے گا کہ یہ سوچ کہ مٹھی بھر باغی ہیں انہیں ختم کرکے حالات کومعمول پر لوٹایا جائے گا حالات کو ابتر سے ابتر بنانے اور عسکریت کو فروغ دینے کا باعث بنی ہے ۔عسکریت کے ابتداء میں جب شری جگموہن ریاست کے گورنر تھے یہی سوچ کشمیری پنڈتوںکو کشمیر سے باہر بھیجنے کی ترغیب دینے اور سہولیات فراہم کرنے کے پیچھے بھی کارفرما تھی ۔پنڈتوں سے کہا بھی گیا تھا کہ بس چند ہفتوں کے بعد ہی وہ واپس آجائیں گے تب تک عسکریت اوربغاوت کو کچل کر رکھ دیا گیا ہوگا ۔ اسی لئے وہ اپنے سارے اثاثے چھوڑ کر راتوں راست کشمیر سے ہجرت کرگئے لیکن یہ تجربہ ناکام ثابت ہوا ۔ نہ صرف عسکری تحریک اس کے بعد اورزیادہ مضبوط ہوئی بلکہ پنڈتوں کے لئے واپسی کے سارے راستے ہی بند ہوگئے اس کے باوجود کہ ان کی واپسی پر نہ کسی عسکری تنظیم اورنہ ہی عوام کو کبھی کوئی اعتراض رہا ۔ بھارتیہ جنتاپارٹی کے برسر اقتدارآنے اور پی ڈی پی کے ساتھ بی جے پی کے اتحاد سے مخلوط حکومت قائم ہوجانے کے بعد عسکری تحریک کو بیخ و بن سے اکھاڑ دینے کی منصوبہ بندی کی گئی جس کے تحت آپریشن آل اوٹ بھی شروع کیا گیا لیکن اس کے بعد عسکریت کی قوت میں بھی اضافہ ہوا ۔ نئی بھرتیوں کی راہیں بھی استوار ہوئیں اور عسکریت کو عوام کا کھلا سپورٹ بھی مل گیا ۔ان تجربوں پرگہرائی کے ساتھ غور کرنے کے بجائے انہی میں اور زیادہ شدت پیدا کرنے کی پالیسی روبہ عمل لائی جارہی ہے جس کا نتیجہ پہلے سے زیادہ سنگین شکل میں سامنے آرہا ہے ۔اٹل بہاری واجپائی کے دور حکومت میں عسکریت کا گراف کافی نیچے آیا تھا اور لگ رہا تھا کہ معمول کے حالات پیدا ہوجانے جارہے ہیں ۔وہ ایک مختصر ساوقت تھا جب اقتدار و اختیار کی سوچ مختلف تھی اور اپروچ بھی مختلف تھا ۔جب سوچ بدل گئی اور اپروچ بدل گیا تو عسکریت اور مزاحمت دونوں کو نئی قوت حاصل ہوگئی ۔ کافی عرصے سے عسکریت اور عسکریت کی حامی سیاست کیخلاف جارحانہ یلغار جاری ہے ۔ ہر سطح پر ان کی قوت توڑنے کی کوششیں ہورہی ہیں ۔ این آئی اے بھی متحرک ہے اور سکیورٹی ایجنسیاں بھی پوری قوت کے ساتھ سرگر م ہیں ۔ سید صلاح الدین کے اہل خانہ کیخلاف بھی کاروائیاں ہوئی ہیں اور سید علی شاہ گیلانی کے خاندان کیخلاف بھی ۔اہم افراد جیلوں میں ہیں اورگرفتاریوں کا سلسلہ ہر گزرتے دن کے ساتھ تیز ہورہا ہے لیکن زمینی سطح پر اس کا کوئی نتیجہ دیکھنے میں نہیں آرہا ہے ۔حیرت کا مقام ہے کہ ایسی حکمت عملی پر اس کے باوجود بھی کوئی غور نہیں کیا جارہا ہے جو نتیجہ خیز ثابت ہوتی ۔یہ دعوی کیا جارہا ہے کہ کنٹرول لائن پوری طرح سے سیل کردی گئی ہے ۔ دراندازی کی ہر کوشش کو ناکام بنایا جارہا ہے ۔جنگجووں کے پاس ہتھیاروں اور اسلحے کی بھی کمی ہے جس کی وجہ سے وہ پولیس اہلکاروں سے رائفلیں چھیننے کی کوششیں کررہے ہیں ۔اگر واقعی ایسا ہے تو عسکریت میں مایوسی کا عنصر کیوں پیدا نہیں ہورہا ہے ۔ مجموعی طو ر پر جو بات سامنے آرہی ہے وہ یہ ہے کہ نئی دہلی او رکشمیر کے درمیان جودراڑ گزشتہ سترسال کی بے وفائیوں ، وعدہ خلافیوں ، دھاندلیوں ،سیاسی فریب کاریوں اور جارحیتوں نے پیدا کردی تھی اس میں موجودہ اپرو چ نے مزید وسعت پیدا کردی ہے اور یہ اپروچ جب تک جاری رکھا جائے گا یہ دراڑ اوربھی وسیع ہوتی جائے گی ۔جتنی اس میں وسعت ہوگی اتنے ہی برہان وانی اورمنان وانی پیدا ہوتے رہیں گے ۔ اس دراڑ نے پوری نئی نسل کو قومی دھارے سے متنفر ہی نہیں کیا ہے بلکہ اس کے وجود میں نفرت کی آگ بھی بھردی ہے ۔یہ آگ بھڑکانے میں نئی دہلی کا اگرچہ سب سے بڑا حصہ ہے تاہم مقامی قیادت اور سیاسی تنظیموں نے بھی اس میں برابر کا کردار ادا کیا ہے ۔ بلکہ کئی مواقع پر ان کا کردار سب سے زیادہ رہا ہے ۔وہ سارے سیاست داں جو نئی دہلی کے قریب رہے ہیں اس کے ذمہ دار ہیں ۔ان کے منافقانہ کردار نے پہلے ہی سے نئی نسل کے سارے دروازے بند کرکے رکھے ۔ تعلیم یافتہ نوجوانوں کو سیاست میں آنے سے قصداًہر دور میں روکا گیا ۔ آج مین سٹریم ہی نہیں بلکہ مزاحمتی خیمے میں بھی تعلیم یافتہ نوجوان ڈھونڈھے سے بھی نہیں ملتے ۔خاندانی وراثت کے علاوہ کسی کوبھی سیاست میں آگے بڑھنے کی جگہ نہیں دی گئی ۔نئے خون کیلئے صرف عسکریت کے دروازے ہی کھلے ہیں ان کے اندر ردعمل اورعمل کا جو انقلاب پوشیدہ ہے اس کے اظہار کا ایک ہی راستہ کھلا ہے اور وہ ہے عسکریت اور وہ اسی کے ذریعے اپنے آپ اندر پوشیدہ جذبوں کا اظہار کررہے ہیں ۔
 ( بشکریہ ہفت روزہ نوائے جہلم سرینگر)
