تازہ ترین

پریس کالونی میں مہلوک جنگجوئوں کے لواحقین کا دھرنا

ایک ماہ قبل بانڈی پورہ میں جاں بحق جنگجوئوں کی لاشوں کی واپسی کا مطالبہ

12 اکتوبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

بلال فرقانی
سرینگر// شمالی ضلع بانڈی پورہ کے سملر جنگلاتی علاقے میں گزشتہ ماہ فوج کے ساتھ جھڑپ میں جان بحق ہوئے جنگجوئوں کے اہل خانہ نے کل پریس کالونی میں احتجاج کرتے ہوئے مہلوک عساکروں کی نعشوں کو واپس کرنے کا مطالبہ کیا۔21ستمبر کو جھڑپ کے دوران فوج نے5جنگجوئوںکو جان بحق کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ ان جنگجوئوں کی نعشیں اس قدر جلی ہوئی تھیں کہ ان کی شناخت نہ ہوسکی اور فوج نے تمام مہلوک جنگجوئوں کو غیر ملکی قرار دیا۔ ان جنگجوئوں کے اہل خانہ نے احتجاج کرتے ہوئے ان کے بچوں کی نعشوں کی واپسی کا مطالبہ کیا۔انہوں نے حکومت پر قانونی لوازمات پورا کرنے میں تاخیری حربے استعمال کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ فوری طور پر انکے بچوں کی نعشیں انکے سپرد کی جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ضلع ترقیاتی کمشنر بارہمولہ اور بانڈی پورہ سے ملاقی ہونے کے بعد انکے’’ڈی این ائے‘‘ نمونے بھی حاصل کئے گئے۔احتجاجی مظاہرین نے جذباتی انداز میں کہا’’ اب دو ہفتے گزرگئے اور انتظامیہ کی طرف سے خاموشی کا اظہار کیا جا رہا ہے‘‘۔باندی پورہ میں ان جنگجوئوں کی ہلاکت کے بعد حزب المجاہدین نے کہا تھا کہ جان بحق ہوئے تمام جنگجو مقامی ہیںجبکہ انہوں نے ان کی شناخت حید ر علی ساکن برزل کولگام،محمد عمر ساکن شوپیاں،محمد صدیق ساکن بانڈی پورہ،معاویہ ساکن کنگن اور عثمان ساکن لولاب کے طور پر کی تھی۔