تازہ ترین

مکہ معظمہ کی اسلامی کانفرنس

اسلام :امنِِ عالم کا حامی راحت کا پیغام

12 اکتوبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

ڈاکٹر عبداللطیف الکند ی
  نوٹ :یہ مقالہ ڈاکٹر عبداللطیف الکندی صاحب کا وہ خطاب ہے جو اُنہوں نے مکہ مکرمہ میں 15-16 ؍اگست 2018 ء کو منعقدہ عالمی حج سمپوزیم میں کیا۔ مقالے کی اہمیت کے پیش نظر سمیر سلفی نے اس کا اردو ترجمہ کیا جسے ہدیۂ ناظرین کیا جارہا ہے(مدیر)
 کلمات مسنونہ ! امابعد:اس اہم عالمی کانفرنس کے موقع پر جس کاموضوع ـ ـ" حج امن واطمنان وراحت وسکون کا سب سے مشرف ومیمون مقام ووقت وزمان ہے ـ ‘‘۔ کانفرنس کے اہم موضوعات میں ’’عالمی امن وسلامتی کے فروغ میں اسلام اور مسلمانوں کا کردار‘‘ پر روشنی ڈالنے کی ذمہ داری مجھ پر ڈالی گئی ہے۔  
عزت مآب دوستو! ہمارا دین دین اسلام ہے جو مادۃ "السلم " سے مشتق ہے ہمارا رب فرماتا ہے :ایمان والو! سلامتی میں پورے کے پورے داخل ہوجاؤ۔(لقرآن 2:( 208
اور پیغمبر رحمت ؐنے دنیا کے بادشاہوں کو یہ کہتے ہوئے مکاتیب ارسال فرمائے: ’’اسلام لاؤ سلامتی پاؤ‘‘۔ہر ماہ ہلالِ نو کو دیکھنے پر سلامتی کے معانی کواپنے پیروکاروں کے دلوںمیں بلند وبالا معنی کے حامل کلمات اور اذکار کو بار بار دہراتے ہوئے پیوست کیا:’’اے اللہ! ہمیں امن وایمان،سلامتی اور اسلام کا چاند دکھا‘‘۔ہمارے پیارے پیغمبر ﷺنے اسی سلامتی کو مسلمانوں میں باہمی ملاقات کا نقطۂ آغاز بنادیا، فریا:’’آپس میں سلام کو عام کرو‘‘۔مسلمان کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا : ’’بہترین مسلم وہی ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں‘‘۔امام بزار کی روایت میں ہے ’’بہترین مسلم وہی ہے جس کے ہاتھ اور زبان کے شر سے دوسرے سارے لوگ محفوظ رہیں‘‘ ۔ دین ِ اسلام کا دوسرا مرتبہ ایمان کو قرار دیا ، ایمان لفظ امن سے مشتق ہے اللہ کے پیارے پیغمبر ﷺ اس اُمت کے دُرہائے بے بہا کے قلوب واذہان میں اس بلند وبالا معنی کو راسخ کیا، فرمایا:’’مؤمن تو وہی ہے جس سے لوگوں کا مال اور خون محفوظ ہو۔اللہ تعالی کا فرمان ہے‘‘فرمانِ الہیٰ ہے : جولوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان کو شرک کے ساتھ آلودہ نہیں کیا،انہی کے لئے امن ہے اور وہی راہِ راست پر چل رہے ہیں۔(82:6)
عزت مآب دوستواور علماء ومفکرین! وہ دین جس کو اللہ تعالیٰ نے تمام عالمین کے لئے حتمی طور منتخب فرمایا وہ دین صرف دین اسلام ہے ،یہ عالمگیر دین ہے جس کے لئے اللہ تعالیٰ نے اپنا رسولﷺ تمام لوگوں کے لئے بھیجا، خواہ وہ سیاہ فام ہوں یا سفید ، عربی ہوں یاعجمی، اُن کے مبارک زمانے سے لے کر قیامت کی صبح تک،اب اگر کوئی نجات کا خواہاں ہے تو وہ اس دین کو اپنائے بغیرہر گز اسے حاصل نہیں کرسکتا۔نبی کریم ﷺکے اس فرمان عالی شان کی رُو سے جس میں فرمایا:’’اس اُمت کا کوئی بھی آدمی خواہ وہ یہودی ہو یا نصرانی، میرے بارے میں سن لینے کے بعد اس تعلیم کو نہ مانے جسے دے کر میں بھیجا گیا ہوں ، تو وہ جہنمی ہے۔(مسلم ) یہ بات مسلّمہ ہے کہ نبی ﷺ کی رسالت کا پیغام تمام لوگوں کے لئے عام ہے،آپؐ کی تعلیمات، آپ ؐکے ارشادات، آپؐ کی توجیہات تمام لوگوں کے لئے کامل واَکمل ہیں ۔ اس میں کوئی شک وشبہ نہیں ہے کہ نبی کریم ﷺ بلندوبالااخلاق کے ساتھ بھیجے گئے تاکہ ظلم وزیادتی کا قلع قمع کریں،حقوق کی پاسداری کریں، عزت اور خون کی حفاظت کریں، جس طرح حجۃ الوداع کے خطبہ عالیہ میں ان چیزوں کی طرف آپؐ نے رہنمائی فرمائی:’’بے شک تمہارا خون،، تمہاری عزت ،تمہارا مال ایک دوسرے پر اسی طرح حرام جس طرح آج کے دن (یوم عرفہ )کی حرمت ہے اس شہر(مکہ مکرمہ) کی حرمت ہے ، اس مہینہ(ماہ ذو الحجۃ) کی حرمت ہے‘‘۔
قائدین ومفکرین!اللہ تعالیٰ نے زمین کو اس لئے پیدا فرمایاکہ اس میں صرف رب ہی کی عبادت کی جائے اور فساد نہ پھیلایا جائے ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا:اور تم زمین میں اصلاح کے بعد فساد بپا مت کرو۔( 56:7 )پس زمین کی اصلاح اس میں رب کی توحید کو قائم کرنا ہے اور اس کے عین مطابق تقاضوں کو پورا کرنا ہے اور فساد کرنے سے اور فساد پھیلانے سے کلی طور دور رہنے میں ہے جس پر اللہ تعالی ناراض ہوتا ہے۔
دوستو!قرآن کریم جو پیارے پیغمبر ﷺپر نازل کیا گیا،اُس کی صرف ایک آیت نے تمام مخلوق کو عاجز کردیاکہ اس جیسی ایک آیت لے آئے، ا س نے دنیا کے دانشوروں اور نظامِ وقت کو للکارا کہ اس قرآن کریم جیسی ایک آیت لے کر آئے،اللہ تعالی نے فرمایا: اسی وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل پر لکھ دیا کہ جو شخص بغیر اس کے کہ وہ کسی کا قاتل ہو یا زمین میں فساد مچانے والا ہو، قتل کر ڈالے تو گویا اس نے تمام لوگوں کو قتل کردیا، جو شخص کسی ایک کی جان بچالے، اس نے گویا تمام لوگوں کو بچالیا(32:5 )۔یہی وجہ ہے کہ امن کی بحالی ،عزتوں اور جانوںکی رکھوالی کے لئے سہل العمل اور محترم شریعت کو نبی ﷺپر مشروع کیا گیاجس میں ضروریات خمس (دین ، عقل ، جان ، عزت اور مال )کی حفاظت اور اس سے متعلق لوگوں کو پوری پوری آگاہی دی گئی ہے۔ہر ایک انسان اس دین کا متلاشی ہے جو ان ضروریات ِخمسہ کی حفاظت کا ضامن ہو ،لیکن کوئی نظام یادین بغیراسلام ایسا نہیں جو بنی نوع انسان کو بلا لحاظ رنگ ،نسل، زبان، ادیان اور قبائل ،ان بنیادی ضروریات کی حفاظت کا سب سے زیادہ ضامن ، سب سے زیادہ مکمل وقابل عمل نظام اور سب سے زیادہ بہترانتظام کرنے والا ہو۔جس طرح یہ دین انسانوں کے درمیان کوئی تفریق نہیں کرتا جس کی ایک بہترین مثال حج ہے کہ جس میں آپسی مساوات کاخوب مظاہرہ مشاعر مقدسہ پر ہوتا ہے، عربی ہو یا عجمی،حکام ہو ںیا رعایا،سب کے سب دو سفید کپڑوں میں ملبوس ،تلبیہ کہتے ہوئے،طواف کرتے ہوئے ذکر وشکر اور توبہ و استغفار کی صدائے بلند کرتے ہوئے ایک دوسرے کے شانہ بشانہ ایک جسد واحد کی حیثیت میں اللہ کے حضور سر بسجود ہوتے ہیں۔
یہ دین فطرت ایسے حکیمانہ وعادلانہ احکامات لے کر آیا جن میں ظلم وجور ،ایک دوسرے پر زیادتی اور لوگوں کا مال ناحق کھانے کی حرمت کا مفصل بیان ہے بلکہ دین ِحق تو ایک دوسرے کے ساتھ بھائی چارے،محبت، ایثار،رحم،شفقت،نرمی ، تعاون اور خوشگوار زندگی کی سوغات لے کر آیا ہے اور ا س نے عدل ا جتماعی کے ایسے قواعد و ضوابط مقرر کئے جس سے انسانیت سلامتی کے ساتھ پھلے پھولے۔ارشاد فرمایا:’’ جیو اور جینے دو ‘‘۔ یہ سنہرا اصول اسلام نے دیا۔ اللہ کا فرمان ہے :ا عقلمندو !قصاص میں تمہارے لئے زندگی ہے۔(179:2)
شریعت الٰہیہ حدود کا نظام لے آئی ہے جو ظالم کا ہاتھ ظلم وسرکشی سے روکتا ہے،جرائم اور فسادات کو کم کرتا ہے کہ جس نے آج اپنی لپیٹ میں بہت سارے انسانی معاشروں کو لے رکھا ہے۔ وجہ صرف یہ ہے کہ یہ عناصر اس رُبانی تعلیمات کو سمجھ نہیں پا رہے ہیںاور ایسے خود سرانہ کام کر گزرتے ہیں جن سے اسلام اسی طرح بری الذمہ ہے جس طرح سیدنا یوسفؑ کے خون سے بھیڑیا بری الذمہ تھا۔پس یہ عناصر غلو میں مبتلا ہوکر اورحدود سے تجاوزکر کے ایک دوسرے کے ہاتھ قتل ہو گئے ۔افسوس کہ ا س وجہ سے اسلام کے وقار کے ساتھ دہشت گردی منسوب کردی گئی جب کہ امن پسند لوگوں کو خوف زدہ کرنے کے لئے انہیں اتہامات کا شکار بنادیا گیا بلکہ مذموم تہمتیںان کے سر تھوپ دی گئیں ۔اب یہ اہل علم اور صاحبانِ بصیرت کی لازمی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ حق کوآشکارا کرنے،جہالت کو اُمت سے دور کرنے اور اسلام کے محاسن کو دنیا کے سامنے لانے کا بیڑا اٹھائے تاکہ تمام عالم انسانیت اسلام کے تمام خیرات واحسانات اور اس کے دامن ِامن و سلامتی سے مستفید ہوسکے۔ اسلام اسی حسن وجمال کا دعویدار ہے جس کا بیچ دین خدا اپنے پیروکاروں کے دلوں میں بوتا ہے، یہی رب السلام کا حکم ہے تاکہ لوگوں کو دار السلام کی طرف لایا جائے۔
عزیز بھائیو! اُمت اسلامیہ نے زمانۂ نبوت سے لے کر آج تک اس امر کا زبردست اہتمام کیا ،اس انداز سے کہ تمام قبائل واقوام اور مختلف زمانوں کے لوگوں میں امن وسلامتی کی قندیلیں روشن ہوئیں ۔یہ تو سیدناابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی تھے جنہوں نے فوجی سربراہوں کو مفتوحہ قوموں کی عورتوں، بچوں،  بزرگوں ،کنیسوں میں حاضر عبادت گزاروں کو نہ چھیڑنے کی ہدایت فرمائی اور مخالفین کے کنیسے، عبادت خانے اور ان کے باغات کونذر آتش نہ کرنے کا حکم فرمایا۔ سیدناعمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب ایک بوڑھے یہودی کودیکھا جو بڑھاپے کی وجہ سے جزیہ ادا کرنے سے عاجز تھا اورجو بھیک مانگنے پر مجبور ہوا تو عمر ؓ نے فرمایا !اللہ کی قسم ہم نے اس کے ساتھ انصاف نہیں کیا۔
خلفاء، حکماء اور امراء نے مختلف زمانوںمیںاسی بنیادی وسطیت، اعتدال،شفقت،بھائی چارے ،محبت کی خوشبوئیں پھیلانے،دوسروں کو حقیر نہ جاننے اور معاشرے میںخوشگوار زندگی کو ترغیب دینے کی نہج پر چلے اور یہ سلسلہ زمانہ در زمانہ چلتا رہا۔ یوں مسلمان دنیا کو عدل و انصاف اور امن ینے کی نہج پر چلا تے رہے اور یہ سلسلہ زمانہ در زمانہ چلتا       
 رہا جب کہ عالمی امن کے دعویداروں نے پہلی اور دوسری جنگ عظیم میں لاکھوں انسانوں کوموت کے گھاٹ اُتارا۔
پیارے بھائیو! اس وسیع وعریض موضوع کا حق اگر ادا کرنا اورمطلوبہ نتائج ِ فکر تک پہنچنے کے مقصد سے میں نے اس مقالے کی تقسیم اس کے مقدمے ، دو ابواب اور خاتمہ پرکیاہے ۔ تفاصیل درج ذیل ہیں۔
 مقدمہ
پہلا باب۔۔ قبل از اسلام لوگوں کے حالات کا بیان_____  اوراس میں کئی مباحث ہیں۔
مبحث اول : اصطلاحِ سلم وامن کی وضاحت ۔
مبحث دوئم: اسلام سے پہلے عالمی ماحول پر غلبہ پانا _____ اس میں کچھ نکتے ہیں۔
پہلا____ : یہودیوں کے ماحول کا فساد 
دوسرا ____ : نصرانیوں کے ماحول کا فساد
تیسرا____: باقی دوسرے ماحولوں کا فساد
.دوسرا باب:عالمی امن وسلامتی کو فروغ (قوت بخشنے میں)دینے میں اسلام اور مسلمانوں کا کرداراس میںکئی مباحث ہیں۔
مبحث اول: اسلام کی اہمیت اور مسلمان ایک مسلمان کے اوصاف عالمی امن وسلامتی کو فروغ دینے کی روشنی میں ۔
مبحث دوئم: مختلف زمانوں میں اسلامی ماحول کا غلبہ۔
مبحث سوئم: امن وسلامتی کی اہمیت پر دلالت کر نے و الی آیات(قرآنیہ) اور احادیث (نبویہﷺ)۔
مبحث چہارم: اسلام کا امن وسلامتی کو کمزور کرنے والے عوامل ( عناصر) سے دور رہنے پر اُبھارنا۔
مبحث پنجم: عالمی امن وسلامتی کو حاصل کرنے میں مکی دور میں صحابہؓ کے صبر کا کردار۔
مبحث ششم: امن کو فروغ دینے کیلئے نبیﷺ کا صحابہؓ کے درمیان آپسی بھائی چارہ قائم کرنے کا پیغمبرانہ کردار۔
مبحث ہفتم: فروغ ِامن کے لئے مدینہ کے عہد وپیمان (charter) کا کردار۔
مبحث ہشتم: عالمی امن وسلامتی میں اسلامی ادوار کی مثالیں۔
تیسرا باب: شرعی جہاد اور اس کے ضوابط وشرائط ۔۔۔۔اس میں مندرجہ ذیل مباحث ہیں:
مبحث اول: جہاد کی تعریف اور اس کے ضوابط وشروط۔
مبحث دوئم: اسلام کی اصل تصویر کو بگاڑنے میں معاصر(contemporary) تحریکوں کا اثر۔
مبحث سوئم: معاصر تحریکوں کا مقابلہ کرنے کے راستے(طرق) جو اسلام کے اصول عالمی امن وسلامتی کے حصول کے مخالف ہوں۔
مبحث چہارم: حج سمپوزیم کا اثر اور عالمی امن وسلامتی کے حصول میں حج کا کردار۔
خاتمہ ۔ ۔۔اس میں بہت خاص نتائج اخذ کئے گئے ہیں جن تک میں اس بحث کے دوران پہنچا۔
میں اللہ تعالی سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ہم پر اپنا فضل عظیم فرمائے جن میں عالمی امن وسلامتی کا قیام بھی شامل ہے کیونکہ اسلام ہی ایک ایسا واحد دین ہے جو اپنے پیروکاروں کے دلوں میں محبت ، شفقت، بھائی چارے کی ترویج، ایک دوسرے کے ساتھ نرمی وتعاون کا بیچ بوتا ہے تاکہ عالمی سطح پر اجتماعی امن وسلامتی کی حیات بخش فضاقائم ہوسکے۔
آخر پر میں اللہ تعالیٰ سے پُر امید ہوں کہ مجھے اس متواضع موضوع کاانتخاب کرنے میں کامیاب فرمایا ۔میں اپنی طرف سے اصالۃً اور پوری کشمیری قوم کی طرف سے نیابۃً اس پاک سرزمین کے رہنماؤں اور اس کے عظیم نیک باشندوں، اُن کی جانب سے حجاج بیت اللہ کی بہترین مہمان نوازی پر اور عمرہ کرنے والوں اور زائرین کے لئے مقدور بھر سہولیات مہیا رکھتے ہیں ۔ساتھ ہی ساتھ حرمین شریفین کی پاک سرزمین جو مہبط ِوحی ہے(وحی اُترنے کی جگہ) اورجہاں سے وحی کا پیغام دنیا کو ملا ، جہاں سے امن کی شعاعیں اور سلامتی کا پیغام جہان میں پھیلا ، یہاں امن و سلامتی برقرار رکھنے کی ہمہ وقت اورہر ممکن کوشش کرنے پر مامورین کا بے حد شکریہ ادا کرتا ہوں۔میں اُمید رکھتا ہوں کہ یہاں اللہ تعالیٰ کے یہ مہمانان ِ گرامی اپنے وطن ا من و سلامتی کے ساتھ ایمان و اسلام کے سفیر بن کر وطن لوٹیں۔میں شکر گزارہوں وزارتِ حج وعمرہ کا بالخصوص وزیر (حج وعمرہ) اور ان کے نائب کا جنہوں نے اپنی تمام تر وسعتیں حجاج کرام اور معتمرین کے لئے وقف کر رکھی ہیں ۔ اسی طرح میں حج سمپوزیم کے تمام عزت مآب ذمہ داروں کا اُن کی حسن ِرعایت پر، اُن کی بہترین مہمان نوازی پر اور مہمانوں کا حد سے زیادہ پر جوش استقبال کر نے پر ان کا مشکور وممنون ہوں ۔ اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہوں کہ یہ سمپوزیم اسلام کے رکن خامس (یعنی حج)کوآسانی، نرمی اور امن و امان کے ساتھ ادا کرنے میں کلید خیرورحمت ثابت ہو۔
  مترجم : سمیر احمد علائی السلفی
فون نمبر 9622442550