تازہ ترین

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

12 اکتوبر 2018 (00 : 01 AM)   
(   صدرمفتی دارالافتاء دارالعلوم رحیمیہ بانڈی پورہ    )

مفتی نذیراحمد قاسمی
سوال:۔ ہم نابینا افراد کا حال بہت ہی ابتر اور بہت ہی افسوسناک ہے۔ جن نابینائوں کے والدین زندہ ہیں، اُن کو تو والدین کی پدری شفقت کی بنا پر کچھ نہ کچھ راحت حاصل ہوتی ہےلیکن جن کے والدین گذر گئے اُن کے بھائی بھتیجے وغیرہ کچھ حُسن سلوک کرتے ہیں لیکن کچھ کا حال ناقابل بیان ہے۔ کچھ نا بینا بھائیوں کا حال یہ ہے کہ اُن کوطعنے سننے پڑتے ہیں۔ کچھ کو کھانا تک بھی ٹھیک طرح سے نہیں ملتا۔ کبھی کوئی ہاتھ پکڑنے والا بھی نہیں ہوتا۔ بیمار ہو جائیں تو علاج معالجے کی کوئی سبیل نہیں بنتی۔وراثت میں حصہ بھی ہر ایک کونہیں ملتا۔ اگر کسی کو نکاح کی ضرورت ہو تو یہ بات زبان پر لانی بھی مشکل ہوتی ہے۔ سماج میں بھی ہم کو عزت ملناکجا کبھی اپنے خاندانوں میں بھی ہم کو بوجھ سمجھا جاتا ہے۔ ہمارے لئے روزگار کےکوئی وسائل نہیں نہ حکومت نہ خیراتی ادارے نہ کوئی فورم نہ کوئی این جی او ہماری پُر سان حال ہے۔
ہم میں کچھ نابینا ریاست سے باہر کسی نہ کسی طرح پہنچتےہیں تو وہاں یہ دیکھ کر حیران رہتے ہیں کہ وہاں غیر ایمان (غیر مسلم )والوں کا رویہ بہت ہمدردانہ دیکھا۔ باہر کچھ ادارے نابینا افراد کی فلاح وبہبود کے لئے بھی کام کرتے ہیں ۔اب سوال یہ ہے کہ اسلام میں نابینا افراد کے شرعی، معاشی اور معاشرتی حقوق کیا ہیںاور کیسے ادا ہونگے۔ یہ معلوم رہے کہ میں اپنے گھر کی کوئی شکایت یاشکوہ ہر گز نہیں کر رہا ہوں، مجموعی طور پر نابینا طبقہ کو درپیش مشکلات کی بات کر رہاہوں؟
شوکت احمد
(ایک نا بینا شہری)
نابینا..............خود امتحان میں اور سماج کے لئے بھی امتحان 
تحفظ اعزاء اقارب رشتہ داروں اور ہمسایوں کا فرض
 
جواب:۔ دین اسلام نے ہر مجبو ربے کس اور جسمانی اعذار میں مبتلا انسان کے ساتھ رحم دلی ، شفقت اور حسن سلوک کا حکم دیا ہے۔ خو دپیغمبر اسلام حضرت محمد رسول اللہ صلی علیہ وسلم کے مزاج مبارک کی خصوصیت ،جو ابتدائےحیات سے ہی آپ طبیعت کا خاصہ تھی، یہ بیان کی گئی، جو بخاری میں ہے ،کہ آپ صلہ رحمی کرتے تھے اورمفلوک الحال انسانوں کی راحت رسانی کےلئے اٹھ کھڑے ہوتے تھے۔ دوسروں کی مصیبت اپنےسر لیتے تھے۔ مہمانوں کی خاطر مدارات کرتے تھےاور حق کی بنیاد پر کسی پیش آمدہ معاملے میں اعانت و مدد کرتے تھے۔ آپ نے خو د ارشاد فرمایا کہ لوگوں میں سب سے بہتر وہ ہے جو لوگوں کو نفع اور راحت پہنچائے۔۔۔۔۔ پیغمبر اسلام نبی رحمت ؐ کی نگاہِ شفقت میں نا بینا افراد کی عظمت کا حال یہ ہے کہ حضرت عبداللہ ابن ام مکتوم ؓ،جو کہ نابینا تھے ،کو ضرورت کےوقت مسجد نبوی میںامام اور مؤزن مقرر فرمایا ۔جب کبھی یہ نا بینا صحابی آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے تو آپ سنبھل کر بیٹھ جاتے اور فرماتے اُس شخص کےلئے خوش آمدید جس کے بارے میں میرے رب نے مجھے تنبہہ فرمائی ہے۔ کبھی آپ اس نابینا صحابی کےلئے اپنی چادر بچھادیتے ۔یہ نا بینا صحافی آپ ؐ کی زوجہ ام المومنین حضرت خدیجہ ؓ کے خالہ زاد  بھائی تھے اور ابتداء میں ہی اسلام قبول کرنے والوں میں سے تھے۔ ان کا نام عمرو تھا اور عبداللہ لقب تھا۔ حضرت نبی کریم ؐ نے ان کو تیرہ مرتبہ اپنے سفروں کے موقعہ پر مدینہ کا سربراہ مقرر فرمایا۔ یہ صحابی باوجود یکہ نابینا تھے مگر جنگ قادسیہ میں شریک بھی ہوئے اور شہید بھی ہوئے۔۔۔۔ اعمی کی عظمت و احترام کا یہ مقام ہے ۔چونکہ نابینا فرد آنکھوں کی نعمت سے محروم ہو تا اس لئے ہوسکتا ہے کہ اس کے دل میں یہ شکوہ و سوسے کی صورت میں پیدا ہو جائے کہ میرے خالق نے مجھے نگاہ سے محروم کیوں رکھا ۔اس لئے اس کو ایک عظیم بشارت دی گئی۔ حضرت رسول اکرم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میں نے اپنے جس بند ے کو دنیا میں دو دیکھنے والی آنکھیں نہیںدی ہیں اُس کو جنت میں یہ دو آنکھیں ضرور دو نگا۔ گویا نابینا صاحب ایمان کا جنتی ہونا طے ہے۔ دنیا میں نابینا کو طرح طرح کی جن مشکلات کا سامنا کرنا یقینی ہے وہ خود اس کےلئے تو امتحان ہےہی یہ دوسرے انسانوں کے لئے بھی سخت اور اہم ترین امتحان ہے۔ دوسرے انسانوں میں سب سے پہلے خود اس نابینا کے والدین،بھائی بہن، اہل خانہ اور دوسرے اقارب کے ساتھ اُس کے ہمسائے بھی ہیں ،جن پر اس نابینا کی خبر گیری کی اصل ذمہ داری ہے۔ اسلامی احکام کے مطابق نا بینا شفقت، غم خواری اور ہر اخلاقی و مالی تعاون کا مستحق ہے۔ اس کو نفرت سے دیکھنا، اُس کو حقیر سمجھنا اس کے ساتھ توہین آمیز انداز میں بات کرنا جرم ہے۔ اس کو نابینا ہونے کا طعنہ دینا اپنے آپ کو نگاہوں سے محروم کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔ اگر اللہ کاغضب جلال میں آگیا تو بینا کے نابینا بننے میں کچھ دیر نہیں لگے گی۔
نابینا افراد کی فلاح و بہبود کے لئے، اُن کی ضرورتیں پور اکرنے اور اُن کو مشکلات میں بچانے کےلئے اصل اور پہلی ذمہ داری اُن کے والدین کی ہے۔ پھر بہن، بھائیوں پھر چاچا ماموں اور بھتیجوں کی ہے۔ قران کریم نے ذ وی القربیٰ کے حقوق کی ادائیگی کا حکم بار بار دیا ہے اور حضرت نبی کریم ﷺ  نے صلہ رحمی کرنے کی جو سخت تلقین کی ہے اس کا حق سب سے زیادہ انہی نابینا افراد کا ہے۔ اس لئے اہل خاندان پر لازم ہے کہ وہ ان کے اخلاقی، مالی اور معاشرتی حقوق ادا کرنے کےلئے کمر بستہ رہیں۔ اُن کی وراثت کا جو حق شریعت کی رو سے طے ہے اُس کے شرعی ضوابط معلوم کرکے وہ وراثت کا مال ان پر خرچ کیا جائے اور ساتھ ہی اس کا مکمل حساب کتاب بھی رکھا جائے۔ نابینا افراد کی اتنی دینی تعلیم ،جو زبانی ہوگی، کا انتظام کیا جائے تاکہ وہ اپنے فرائض مثلاً نماز ادا کر سکیں۔ اُن کی تکالیف کا ازالہ خوشدلی سے کیا جائے۔ اُن کو خو ش رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے۔ اُن کو گھروں میں الگ تھلگ کرنے کی ہر غلط حرکت سے پرہیز کیا جائے۔ گھر کے چھوٹوں اور خواتین کا بھی یہ مزاج بنایا جائے کہ وہ اُن کے ساتھ محبت، غم خواری اور حسن سلوک کا رویہ اپنائیں۔ اس سلسلے میں کسی مستند اور تجربہ کار عالم سے مکمل رہنمائی لی جائے۔ اور پورا لائحہ عمل تیار کرکے اس پر عمل کیا جائے۔ساتھ ہی جس طرح یتیموں اور بیوائوں کے لئے ادارے قائم کئے گئے ہیںاور وہ جذبہ خیر خواہی کی بنیا پر کام کرتے ہیں اس طرح ان نابینا افراد کےلئے جذبہ ایمانی اور اخوت دینی کی بنیاد پر فلاحی ادارے وجود میں لائے جائیں اور وہ ایمانداری اوردیانتداری کے ساتھ ان نابینا افراد کےلئے ہر طرح کے فلاحی کام انجام دیں۔
اگر نا بینا افراد کے ساتھ اُن کے گھروں میں اسلامی اور انسانی اخلاق کا بہتر سلوک نہ کیا جائے اورخود مسلمانوں نے بھی اُن کے تحفظ کےلئے ادارے قائم نہ کئے تو خطرہ ہے کہ وہ اُن اداروں میں جا کر پنا ہ لینے پر مجبو رہو جائینگے،جہاںاُن کو ہر طرح کی جسمانی راحت تومل جائے مگر اُن کا ایمان سلامت نہ رہ سکےگا۔ یا درہے ایک محتاط سروے کے مطابق کشمیرمیںفی الوقت ساڑھے تین لاکھ سے زیادہ نابینا افراد ہیں۔
 سوال:۔ ہم نے بہت سارے لوگوں کو دیکھا کہ وہ وضو کرکے شہادت کی انگلی آسمان کی طرف اُٹھا کر پھر کلمہ شہادت پڑھتے ہیں۔ کیا اس کا کوئی حکم ہےنیز اس میں کوئی اجرو ثواب ہے۔قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب دیکر رہنمائی فرمائیں؟
منظور احمد شاہ 
بٹہ مالو سرینگر
وضو کے بعد کلمۂ شہادت پڑھنا
جواب:۔ وضو کے بعد کلمہ شہادت ضرور پڑھنا چاہئے۔ یہ احادیث سے ثابت ہے ۔ کلمہ شہادت پڑھتےہوئے نگاہ آسمان کی طرف اُٹھانا بھی ثابت ہے۔ اس لئے نگاہ آسمان کی طرف اُٹھانا بھی درست ہے۔ خصوصاً جب کھلے آسمان کے نیچے وضو کیا جائے۔تو اس وقت کلمہ شہادت پڑھتے ہوئے سر اوپر کرکے نگاہ آسمان کی طر ف اُٹھائی جائے بس اسی پر اکتفاء کیا جائے۔ شہادت کی انگلی اوپر کی طرف کرنےکا کوئی ثبوت نہیں ہے۔
سوال:۱-نماز کے لئے صف درست کرتے وقت بزرگ یا بالغ لڑکے پہلے صف میں موجود نہ ہوںتو کیا چھوٹے بچوں کو پہلی صف میں کھڑا کرسکتے ہیں ۔
شبیر احمد  
نماز کی صف میں نابالغوںکو کہاں رکھا جائے 
 
جواب:جماعت کی نماز میں صف قائم کرنے کا اصول یہ ہے کہ بالغ مرد پہلی صف میں ہوں اور اس میں کوئی نابالغ نہ ہو ۔ نابالغ بچوں کی صف پیچھے کھڑی کی جائے اور اگر پہلی صف میں گنجائش بھی ہوتو بھی بچوں کی صف الگ قائم کی جائے ۔ ہاں اگر ایک ہی بچہ ہو تو اُس کو بالغ مردوں کی صف میں کھڑا کرسکتے ہیں لیکن کنارے پر کھڑا کیا جائے ۔ اگر کسی نماز میں صرف نابالغ بچے ہوں پھر امام اُن کو ایک ہی صف میں کھڑا کرکے نماز پڑھائے۔
س:-اگرنماز جماعت کا وقت لوگوں نے متفقہ طور سے طے کیا ہے ۔ مثلاً نماز ظہر کے لئے جماعت کاوقت ایک بجے رکھاہے پھر جماعت کھڑی ہورہی ہے مگر امام صاحب وضو کررہے ہیں ۔ کیا ایسی صورت میں نمازکوئی دوسرا شخص پڑھائے یا امام صاحب کا انتظار کیا جائے ؟
ماسٹر محمدیوسف شیخ
امام کا انتظار افضل 
جواب:- جب امام صاحب وضو کررہے ہوں یا سنت ادا کررہے ہوں تو افضل اور بہتر یہ ہے کہ امام کا انتظار کیا جائے ۔حضرت نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام اور حضرت خلفاء راشدین کے مبارک عہد میں یہی معمول تھاکہ تمام مقتدی امام کاانتظار کرتے تھے اور جب تک امام نہ آتے تھے جماعت کھڑی نہ کرتے تھے ۔ چنانچہ جماعت کھڑی کرنے کا حق اما م کو ہے اس کے متعلق ترمذی شریف میں حدیث موجود ہے کہ مسجد میں موجود لوگوں اور مؤذن کو نہیں بلکہ امام کو یہ حق ہے کہ وہ جب کھڑا ہو تو جماعت کھڑی ہو ۔
سوال:۲-نانی اگر بیٹی کے بچہ کو دودھ پلائے توکیا اس کی بیٹی اپنے شوہر یعنی بچہ کے باپ پر حرام ہوجائے گی۔
دودھ پلانے کا ایک مسئلہ
جواب:۲-نانی جب اپنی بیٹی کے بچے کو دودھ پلائے تو شوہر پر اُس کی بیٹی حرام نہیں ہوتی ۔