امین وصادق ہونے کی جزا

اللہ سے قربت بند وں سے محبت

12 اکتوبر 2018 (00 : 01 AM)   
(   فاضل دار العلوم دیوبند    )

مولانا غیو راحمد قاسمی
سچائی   اور امانت داری شریعت اسلامیہ کے اہم اور بنیادی ارکان میں سے ہیں۔ تخلیق کائنات کے بعد باری تعالیٰ کی جانب سے جتنے رسل وانبیاء  ؑبھیجے گئے وہ سب صداقت وامانت داری کے اعلیٰ مراتب پر فائز تھے اور داعی حق وصداقت تھے ۔ہر دور ہر زمانہ ہرقوم نے ان کی امانت داری اور صداقت کا کھلے عام اعتراف کیا۔ ـ فرمایا، ترجمہ: اللہ فرمائے گا آج وہ دن ہے جب سچوں کے کام ان کا سچ آئے گا۔ انسانی معاشرہ کا امن سکون تعمیر و ترقی انسانیت کی قدر وقعت اور فلاح وبہبود کی بنیاد صدق پر ہے۔ قرآن وسنت کی تعلیمات میں اس کی فضیلت آخرت میں صادقین کے انعام واعزازات مقام و مرتبہ مخلوق میں محبوبیت ومقبولیت کا راز صداقت میں منحصر ہے۔ فرمان خدا وندی ہے کہ اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور صادقین کے ساتھ رہو (سورہ التوبہ)صادق وہ ہے جو اللہ او راس کے رسولؐ پر ایمان لائے، دین اسلام پر شکوک وشبہات نہ کرے اپنی جان ومال کے ساتھ اعلائے کلمۃ اللہ کا فریضہ انجام دے، اللہ کی رضا وخوشنودی کے حصول کے لئے جدوجہد کرے ،دین اسلام کی حفاظت کے لئے ہر وقت ہر طرح ممکن کوشش کرے مدد ونصرت کرے۔ امام مالکؒ فرماتے ہیں کہ حضرت لقمان حکیم سے پوچھا گیا کہ آپ کو فضل وکمال اور عظیم الشان مرتبہ کیسے ملا؟ انہوں نے جواب دیا کہ قول وقرار میں صدق پہچائی امانت داری اورفضول کاموں اور لایعنی وبے کار باتوں سے اپنے آپ کو بچانے کی وجہ سے حاصل ہوا (مؤطا امام مالکؒ) ۔رحمت عالم نبی کریمؐ نے فرمایا کہ جب چار عادتیں تمہارے اند رپیدا ہوجائیں تو دنیا کی پریشانیاں تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں: (۱) امانت داری (۲) صدق (۳) حسن خلق (۴) حلال رزق (مسند احمد) حضرت عبد اللہ بن عامرؓ روایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہمارے گھر نبی کریمؐ تشریف فرما تھے میری والدہ نے مجھے بلایا اور کہا کہ آئو میں تمہیں ایک چیز دیتی ہوں، آپؐ نے میری والدہ سے پوچھا کہ بچے کو کیا دینا چاہتی ہو؟ انہوں نے جواب دیا کہ کجھور۔ آپؐ نے فرمایا کہ اگر تم اس کو بلاتی اور کچھ نہ دیتی تو تمہارے اعمال نامہ میں جھوٹ لکھ دیاجاتا ۔حدیث میں آتا ہے کہ جھوٹ بولنا رزق کو کم کرتا ہے ( ابو دائود)
احکام اسلامی میں سے ایک حکم امانت داری ہے کیونکہ ایک مستحکم ومضبوط معاشرہ کے لئے اعتماد باہم کا ہونا ضروری ہے ۔ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ جو مومنین اپنی امانتوں اور وعدوں کا لحاظ رکھنے والے ہیں وہی لوگ جنت الفروس سے حق دار ہیں۔ دوسری جگہ ارشاد ہے:’’ بے شک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتوں کو ان کے اہل تک پہنچا دو‘‘ قرآن وحدیث میں جہاں جہاں امانت کا لفظ آیا ہے ،اس کے معنی اور مفہوم میں وسعت ہے۔ سب سے پہلی چیز جو امانت ہے وہ ہماری زندگی ہے زندگی کو حکم خداوندی کے مطابق گذار ناعین امانت داری ہے، اطاعت رسولؐ کا پیکر بن کر معاشرہ میں اپنی عمر پوری کرنا امانت داری کی روح کے عین مطابق ہے ،امانت میں ہر وہ چیز داخل ہے جس کے ساتھ کسی کا حق متعلق ہو اور جس کی حفاظت او رمالک حقیقی کی طرف ادائیگی انسان پر لازم ہو، جیسے عالم کے پاس علم امانت ہے، حاکم کے پاس حکومت امانت ہے ،معلم واستاد کے پاس طلباء امانت ہیں ، غرض یہ کہ ہماری زندگی کا ایک ایک لمحہ امانت سے لبریز ہے۔ محسن انسانیت نبی کریمؐ نے فرمایا : چار عادتیں جو کسی میں ہوں وہ خالص منافق ہے اور جس میں ان چاروں میں سے ایک بھی ہو تو وہ بھی نفاق ہے جب تک اسی عادت سے بازنہ آجائے۔ (۱) جب امین بنایاجائے تو خیانت کرے (۲) بات کرتے وقت جھوٹ بولے (۳) جھگڑا ہوتو گالیوں پر اُتر آئے (۴) وعدہ کرے تو پورا نہ کرے (بخاری) سچا مومن وہی ہے جو کسی شعبہ میں اپنی امانت داری پر آنچ نہ آنے دے ۔
امانت ودیانت کی مثال میں سب سے شاندار وہ واقعہ ہے جس کو آنحضرتؐ نے بیان فرمایا اور جس کو امام بخاریؒ نے صحیح بخاری میں نقل کیاہے،اس کا خلاصہ یہ ہے : بنی اسرائیل کے ایک شخص نے کسی دوسرے شخص سے ایک ہزار دینار بطور قرض طلب کئے، اس نے کہا کہ گواہ لائو، اس نے جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ کی گواہی کافی ہے، کہا ضمانت دو،اس نے جواب دیا کہ خداتعالیٰ کی ضمانت کافی ہے ،کہا تم ٹھیک کہہ رہے ہو۔یہ کہہ کر کسی قسم کی شہادت وضمانت لئے بغیر ایک مدتِ معین تک کے لئے ایک ہزار دینار طالب قرض کے حوالہ کردئے، پھر یہ قرض دار بحری سفر کرکے اپنے وطن پہنچا اور اپنی ضرورت پوری کی، جب مدت پوری ہوگئی تو اب قرض کی ادائیگی کے لئے سواری کی تلاش میں نکلا، مگر کوئی سواری اس کو نہ مل سکی، اس وجہ سے اُسے وعدہ خلافی اور اپنے ساتھی کے بدگمان ہوجانے کا اندیشہ ہوا، اس لئے اس نے ایک لکڑی لے کر اُسے اندر سے کھوکھلا کیا اور ایک ہزار دینار کی رقم او راپنا رقعہ اس میں رکھ کر اس کا منہ بند کردیا اور اس کو لے کر سمندر پر آیا ، کہنے لگا : بارالہا! تم جانتے ہو کہ میں نے فلاں سے ایک ہزار دینار ادھار لئے تھے، اس نے ضامن مانگاتھا مگر میں نے تمہاری ضمانت پیش کی تھی ،اس نے گواہ طلب کئے میں نے تم کو گواہ بنایاتھا، وہ میری بات پر راضی ہوگیاتھا اور اس نے مطلوبہ رقم مجھے دیدی۔ میں نے حتی المقدور کوشش کی کوئی سواری مل جائے تاکہ میں وہ رقم ادا کردوں، مگر نہ مل سکی، اس لئے اب یہ رقم تمہارے حوالہ کرتاہوں تاکہ صاحبِ رقم تک پہنچ جائے۔ یہ کہہ کر اس نے وہ لکڑی دریا میں پھینک دی اور پھر اپنے گھر چلا آیا۔ ادھر قرض خواہ قرض دار کی آمد کا منتظر تھا لیکن اس کو کوئی آتا دکھائی نہ دیا، یہاں تک کہ انتظار میں شام ہوگئی اور سورج غروب ہونے لگا، اس نے واپسی کا ارادہ کیا ہی تھا کہ اچانک اس کو کوئی چیز دکھائی دی جس کو سمندر کی موجیں دھکیل کرلارہی ہیں۔ اس نے تھوڑی دیر انتظار کیا،یہاں تک کہ وہ چیز کنارے آلگی، اس نے دیکھا یہ تو ایک بڑی لکڑی ہے، اس نے ایندھن کے لئے اس کو اُٹھالیا، جب لکڑی کو پھاڑا تودینار بجنے لگے، دینار کو نکالا، شمار کئے تو وہ پورے ایک ہزارتھے اور ساتھ ہی ایک رقعہ بھی ملا جس سے قرض دار کاعذر معلوم ہوا ۔ ادھر اس قرض دار نے اس پر بس نہیں کیا بلکہ وہ اس ڈر سے کہ ہوسکتا ہے کہ وہ دینار قرض خواہ تک نہ پہنچے ہوں، دوسرے ایک ہزار دینار لے کر قرض خواہ کے پاس آیا تاکہ قرض کی ادائیگی سے عہدہ بر آہو جائے، قرض دار سے ملاقات کی اور تاخیر سے ادائیگی پر معذرت چاہی: بخدا میں ہر ممکن کوشش کی کہ کسی سواری کا انتظام ہوجائے اور اس کے سامنے پورا واقعہ بیان کیا۔ یہ اس واقعہ کا خلاصہ اور سابقہ مسلمانوں کے معاملات میں پائے جانے والی وفا شعاری اور دیانت داری کا ایک نمونہ ہے۔
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''بنی اسرائیل میں تین شخص تھے، ایک برص کا مریض تھا، دوسرا گنجا اور تیسرا اندھا تھا، اللہ تعالیٰ نے انہیں آزمانے کا ارادہ فرمایاتو ان کے پاس ایک فرشتہ بھیجا، پس وہ برص کے مریض کے پاس آیا ، کہا: ’’تجھے کون سی چیز زیادہ پسند ہے‘‘؟ اس نے کہا: اچھا رنگ، خوبصورت جلد اور مجھ سے وہ چیز (برص کی بیماری) دور ہوجائے، جس کی وجہ سے لوگ مجھے ناپسند کرتے ہیں۔"
پس اس فرشتے نے اس پر ہاتھ پھیرا تو اس کی وہ بیماری جاتی رہی اور اسے خوبصوت رنگ دے دیا گیا۔فرشتے نے مزید پوچھا کہ تجھے کون سا مال زیادہ پسند ہے؟ اس نے کہا: ’’اونٹ یا گائے کہا (اس بارے میں راوی کو شک ہے)، پس اسے دس ماہ کی حاملہ اونٹنی دے دی گئی اور (فرشتے نے) یہ دعا کی کہ اللہ تعالیٰ تمہارے لیے اس میں برکت فرمائے۔ پھر وہ فرشتہ گنجے کے پاس گیا اور اس سے کہا: ’’تجھے کون سی چیز زیادہ پسند ہے؟‘‘ اس نے کہا: ’’خوبصورت بال اور یہ کہ میرا گنجا بن دور ہو جائے، جس کی وجہ سے لوگ مجھے پسند نہیں کرتے۔‘‘ پس اس فرشتے نے ہاتھ پھیرا تو اس کا گنجا پن جاتا رہا اور اسے خوبصورت بال دے دیے گئے۔ فرشتے نے مزید پوچھا کہ تجھے کون سا مال زیادہ پسند ہے؟ اس نے کہا: گائے، پس اسے حاملہ گائے دے دی گئی اور (فرشتے نے) یہ دعا بھی کی کہ اللہ تعالیٰ تمہارے لیے اس میں برکت فرمائے۔ 
پھروہ نابینا کے پاس گیا اور اس سے پوچھا : تجھے کون سی چیز زیادہ پسند ہے؟ اس نے کہا کہ اللہ تعالیٰ میری بصارت لوٹادے ، تاکہ میں لوگوں کو دیکھوں۔ پس فرشتے نے ہاتھ پھیرا تو اللہ تعالیٰ نے اس کی بصارت لوٹا دی۔ پھر فرشتے نے پوچھا کہ تجھے کون سا مال زیادہ پسند ہے؟ اس نے کہا:بکریاں۔ پس اسے ایک بچہ جننے والی بکری دے دی گئی۔ پس ان دونوں (برص زدہ و گنجے) کے ہاں بھی دونوں جانوروں کا ریوڑ خوب بڑھااور اس کے ہاں بھی بکری نے خوب بچے دیے۔ اس طر ح اس (برص والے) کے پاس اونٹوں کی ایک وادی ہو گئی اور اس (گنجے) کے پاس گایوں کی وادی اور اس (اندھے) کے پاس بکریوں کی ایک وادی ہو گئی۔ 
پھر وہی فرشتہ برص والے کے پاس اس کی (پہلی) صو رت و ہئیت میں آیا اور کہا کہ میں مسکین آدمی ہوں، سفر میں میرے وسائل ختم ہو گئے ہیں، آج میرے لیے گھر پہنچنا اللہ تعالیٰ کی مدد اور تیری کرم نوازی کے بغیر ممکن نہیں، میں تجھے اس ذات کا وسیلہ دے کر ایک اونٹ کا سوال کرتا ہوں جس نے تجھے اچھا رنگ اور خوبصورت جلد عطا کی اور بہت سا مال دیا۔ (مجھے اونٹ دو) تاکہ میں اس کے ذریعے سفر میں اپنی منزل مقصود تک پہنچ جاؤں۔ اس شخص نے کہا: ’’مجھ پر بہت سے حقوق ہیں‘‘۔یہ سن کر فرشتے نے کہا: ’’ایسا معلوم ہوتا ہے، کہ شاید میں تجھے پہچانتا ہوں۔ کیا تو پہلے برص زدہ نہیں تھا؟ لوگ تجھ سے نفرت کرتے تھے اور تو ایک فقیر شخص تھا، اللہ تعالیٰ نے تجھے مال عطا کیا‘‘۔اس نے کہا: ’’یہ مال تو مجھے باپ دادا سے ورثے میں ملا ہے" (یعنی میں جدی پشتی امیر ہوں) فرشتے نے کہا: ’’اگر تو جھوٹ بولتا ہے تو اللہ تعالیٰ تجھے ویسا ہی کردے جیسا تو پہلے تھا‘‘۔ پھر وہ فرشتہ گنجے کے پاس اس کی (پہلی) صورت و ہئیت میں آیا، تو اسے بھی وہی کچھ کہا جو اس نے برص والے سے کہا تھا۔ اس گنجے نے بھی اسے وہی جواب دیا جو اس برص والے نے دیا تھا، فرشتے نے اس سے بھی وہی کہا کہ اگر تم جھوٹے ہو تو اللہ تعالیٰ تجھے ویسا ہی کردے جیسا تو پہلے تھا۔ 
پھر وہ نابینا کے پاس اس کی (پہلی) صورت و ہئیت میں آیا اور کہا: ’’میں مسکین آدمی ہوں۔ مسافر ہوں سفر میں میرے وسائل ختم ہوگئے ہیں، اب اللہ تعالیٰ کی مدد اور تیرے تعاون کے بغیر میرے لیے گھر پہنچنا ممکن نہیں، میں تجھ سے اس ذات کے واسطے سے ایک بکری مانگتا ہوں جس نے تیری بینائی لوٹائی، تاکہ میں اس کے ذریعے سے اپنے سفر میں منزل مقصود تک پہنچ جاؤں‘‘۔ اس شخص نے کہا: واقعتاً میں اندھا تھا، اللہ تعالیٰ نے مجھے میری بینائی لوٹا دی، پس تم جتنا چاہو مال لے جاؤ اور جتنا چاہو، چھوڑ دو، اللہ کی قسم! میں آج تجھ سے اس بارے میں جھگڑا نہیں کروں گا جو تو اللہ کے لیے لے لے گا‘‘۔فرشتے نے کہا: ’’تو اپنا مال اپنے پاس رکھ، تمہاری تو صرف آزمائش کی گئی تھی (تم اس میں کامیاب رہے) پس اللہ تجھ سے راضی ہو گیا اور تیرے دوسرے دونوں ساتھیوں پر تیرا رب ناراض ہوگیا‘‘۔(متفق علیہ )توثیق الحدیث:اخرجہ البخاری (5006'501۔فتح) و مسلم
حضرت ابو سعید خدری رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا :پوری سچائی اور ایمانداری کے ساتھ کاروبار کرنے والا تاجر ، نبیوں ؑاور صدیقوں اور شہیدوں کے ساتھ ہوگا‘‘۔(جامع ترمذی،سنن دارمی، سنن دارقطنی)۔ ابن ماجہ نے یہی حدیث اپنی سند سے حضرت ابن عمر رضی اللّٰہ عنہ سے روایت کی ہے۔ حدیث کا مطلب اور پیغام واضح ہے کہ جو تاجر اور سوداگر اپنے کاروبار میں سچائی اور امانت یعنی دیانت داری کی پورے اہتمام سے پابندی کریں گے، قیامت اور آخرت میں وہ نبیوں ؑ ، صدیقوں اور شہیدوں کے ساتھ ہوں گے۔
قرآن پاک میں فرمان الہیٰ ہے، ترجمہ:جو بندے اللّٰہ ورسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی فرماں برداری کریں گے، وہ (قیامت وآخرت میں) ان مقبولین ومقربین کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ تعالیٰ کا خاص انعام ہے، یعنی انبیاء ؑ وصدیقین اور شہداء و صالحین (کے ساتھ) اور یہ سب بہت ہی اچھے رفیق ہیں)
سچائی او رامانت داری انبیاء کرام علیہم السلام کی صفات ہیں ،ہمیں بھی انہیں اوصاف کے حصول کے لئے جدوجہد اور محنت کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں اپنے اطراف واکناف میں، خاندان میں، معاشرہ او راہل وعیال میں امانت داری اور صداقت کے پیغام کو عام کرنا  چاہیے، اپنی زندگی میں ان صفات واصول کونافذ کرنا چا ہیے تاکہ جو لوگ ہمارے ہمراہ چل رہے ہیں، ان کے سامنے صداقت وامانت معاملات میں شفافیت کا پاکیزہ ماحول پیدا ہو۔ یاد رہے جس مسلمان کا سیرت و کردارصداقت ، اعتماد او رامانت داری  میں ڈھل جائے تو یہ نہ صرف بنددلوں کو کھولنے کا سب سے اہم راستہ ثابت ہوگا بلکہ اللہ اسے انعامات سے بہروہ ور کرے گا اورلوگ بھی اسی پر بھروسہ کریں گے۔ ہمیں چاہئے کہ صداقت وامانت کی دعوت وتبلیغ کے لئے ہمہ وقت مصروفِ عمل رہیں، ا س سلسلے میں اسلامی تعلیمات سے خودواقف ہونے اور دوسروں کو واقف کرانے کی جہد مسلسل کریں۔ البتہ ان حوالوں سے اصلاح کا عمل اپنی ذات سے شروع کرنے کی دعا اور توفیق باری تعالیٰ سے طلب کریں   ؎
سبق پھر پڑھ صداقت کا عدالت کا شجاعت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا
......................
mgqasmi.juh@gmail.com
موبائل:9716786786
 
 

تازہ ترین