انتخابات سےعوام کی لاتعلقی لائق تحسین:حریت

گیلانی، میرواعظ اور ملک کی نظر بندی پر اظہار برہمی

11 اکتوبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

سرینگر//حریت(ع) نے ریاستی حکمرانوں کی جانب سے تنظیم کے چیرمین میرواعظ عمر فاروق کی مسلسل خانہ نظر بندی اور ان کی پر امن سیاسی و دینی سرگرمیوں پر پابندی عائد کئے جانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حریت چیرمین کے تئیں حکمرانوں کا غیر جمہوری طرز عمل سے عبارت رویہ اس بات کا عکاس ہے کہ جموںوکشمیر میں صرف طاقت کی حکمرانی نافذ ہے اور یہاں کسی جمہوری اور اخلاقی اقدا ر کی کوئی اہمیت یا وقعت نہیں ہے ۔بیان میں بزرگ رہنما سید علی شاہ گیلانی کی مسلسل خانہ نظر بندی ، سینئر آزادی پسند رہنما محمد یاسین ملک کو پس زندان ڈالنے ، سرکردہ حریت قائدین مختار احمد وازہ اور انجینئر ہلال احمد واراور متعدد مزاحمتی رہنمائوں ، کارکنوں کی تھانہ و خانہ نظر بندی اور بڑی تعداد میں نوجوانوںحتیٰ کہ ائمہ مساجد کو گرفتار کرنے کی کارروائی کو ریاستی دہشت گردی کا بدترین مظاہرہ قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ ایک طرف یہاں طاقت اور فوج کے بل پر انتخابات کا ڈھونگ رچایا جارہا ہے اور دوسری طرف مزاحمتی قائدین، کارکنوں اور نوجوانوںکو گھروں، تھانوں ، جیلوں اور عقوبت خانوں میں نظر بند رکھ کر جمہوریت کے دعویدار خود جمہوریت کی بیخ کنی میںمصروف ہیں۔بیان میں کہا گیاکہ پورے کشمیر کو ایک فوجی چھائونی میں تبدیل کرکے نام نہاد انتخابات کرانے سے خود بھارت کے عوام کو تو دھوکہ دیا جاسکتا ہے لیکن عالمی رائے عامہ اور کشمیری عوام اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ ان انتخابات کی کوئی حیثیت یا حقیقت نہیں ہے بلکہ حکومت ہندوستان یہاں اپنے جبری قبضے کو دوام بخشنے کیلئے جمہوریت کی آڑ میں کشمیر ی عوام پر خود ساختہ حاشیہ برداروں کو مسلط کرنے کے عمل میں مصروف ہے ۔ بیان میں ان  انتخابات سے مکمل لا تعلقی اختیار کرنے اور ان انتخابات کو ہر طرح سے مسترد کئے جانے پر کشمیری عوام کے جذبہ مزاحمت کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا گیا کہ کشمیری عوام نے اس انتخابی عمل سے خود کو لاتعلق رکھ کر جس طرح شہیدوں کے خون سے مزین تحریک حق خودارادیت کے ساتھ اپنی وابستگی اور استقامت دکھائی ہے وہ نہ صرف قابل ستائش ہے بلکہ کشمیری عوام کا یہ کھلا ریفرنڈم عالمی براری کو اس حقیقت کا احساس دلانے کیلئے کافی ہے کہ جموںوکشمیر ایک متنازعہ خطہ ہے اور اس کے سیاسی مستقبل کا تعین صرف یہاں کے عوام کی آزادانہ استصواب رائے کے ذریعے ہی ممکن ہو سکتا ہے ۔بیان میں کہا گیا کہ مسئلہ کشمیر ایک زندہ حقیقت ہے اور اس مسئلہ کو مستقبل بنیادوں پر حل کرنے کیلئے ضروری ہے کہ اس متنازعہ خطہ میں انتخابات کا ڈھونگ رچانے کے بجائے کشمیری عوام کی رائے کا احترام کیا جائے اور اس مسئلہ کا یا تو اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل آوری کے ذریعے یا مسئلہ سے جڑے فریقین بھارت ، پاکستان اور کشمیری عوام کے مابین ایک بامعنی مذاکراتی عمل کے ذریعے کوئی قابل قبول اور آبرومندانہ حل تلاش کرنے کی کوشش کی جائے ۔

تازہ ترین