تازہ ترین

گنا ہ ہر حال میں گنا ہ!

فطرت سے بغاوت کی اجازت ملی

11 اکتوبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

مولانا خالد سیف اللہ رحمانی
27 ستمبر ۲۰۱۸ء کو ملکی عدلیہ نے پہلی بار ایک حیران کن فیصلہ سنایا، یہ فیصلہ میرعدل کے زیر صدارت پانچ رکنی بنچ نے باتفاق رائے صادر کیا۔ اس فیصلہ کا پس منظر یہ ہے کہ ۱۸۶۰ء کے قانون تعزیرات کی دفعہ ۴۹۷؍ کی تحت ایک شخص اپنی بیوی کے رہتے ہوئے دوسری عورت کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرے تو یہ جرم ہے، اسی طرح اگر منکوحہ عورت کسی اور مرد سے تعلق قائم کرے تو یہ بھی جرم ہے، اس صورت میں وہ عورت بھی مجرم سمجھی جاتی تھی اور وہ دوسرا مرد بھی، جس نے اس حرکت کا ارتکاب کیا ہے، اس دفعہ کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی گئی کہ یہ شخصی آزادی میں مداخلت ہے؛ چنانچہ معزز جج صاحبان نے درخواست گزار کی بات کو قبول کرتے ہوئے اس عمل کو جرم کے دائرے سے باہر نکال دیا، غیر شادی شدہ بالغ لڑکوں اور لڑکیوں کو باہمی رضا مندی سے جنسی فعل کو انجام دینا تو قانوناً پہلے ہی سے جرم نہیں ہے، اسی طرح اگر بیوہ یا مطلقہ عورت اپنی رضامندی سے کسی مرد سے تعلق رکھے تو اس میں بھی قانوناََ کوئی حرج نہیں ہے، اس کی تو پہلے سے اجازت ہے، اب شادی شدہ مرد کا کسی غیر عورت سے اس کی رضامندی سے تعلق قائم کرنا بھی جرم نہیں رہا، یہاں تک کہ شادی شدہ عورت کسی غیر مرد سے تعلق استوار کرے تو قانون نے اس کو بھی جائز کر دیا، شوہر کو حق نہیں ہے کہ وہ بیوی کو اس سے منع کرے اور نہ ایسی بدکردار عورت کے خلاف شوہر پولیس میں جا سکتا ہے، شوہر یا بیوی کا یہ عمل دوسرے فریق کے لئے صرف طلاق کا جواز پیدا کر سکتا ہے،اور وہ عدالت سے طلاق کے لئے رجوع کر سکتا ہے۔
اس موقع پر معزز ججوں نے جو ریمارک کئے ہیں، وہ بھی حیرت انگیز ہیں۔ انہوں نے بدکاری کی ممانعت کے قانون کو انتہائی غیر معقولیت پسند، تباہ کن، عورتوں کی خود اختیاری، وقار اور رازداری کے مغائر، فرسودہ، ا متیاز پر مبنی ، بے عزت کرنے اور عورتوں کو ان کی جنسی خود اختیاری سے محروم کرنے والا قانون قرار دیا ہے۔ گویا اب بدکاری دو ہی صورتوں میں جرم ہوگی، ایک یہ کہ جس کے ساتھ یہ گناہ کیا جائے، وہ نابالغ ہو، دوسرےکسی کی مرضی کے بغیر اس کے ساتھ یہ گناہ کیا جائے، بقیہ بدکاری کی جو بھی صورتیں ہو سکتی ہیں، وہ سب قانوناً جواز کے دائرے میں آگئی ہیں، اس طرح ہندوستان، چین، جاپان، برازیل، اسٹریلیا، جرمنی اور فرانس کی صف میں شامل ہو گیا ہے، جن کے یہاں پہلے سے اس حرام کاری کو قانوناََ جائز قرار دیا جا چکا ہے، یقیناََ اس فیصلہ نے اخلاق اور شرم وحیاء کو ملک بدر کر دیا ہے   ع
ناطقہ سر بہ گریباں ہے اسے کیا کہئے!
بدکاری کو ہر آسمانی مذہب اور ہرمہذب معاشرہ میں بُرا سمجھا گیا ہے، ہندو مذہب میں بھی اس کو قابل سزا جرم مانا گیا ہے، یہاں تک کہ منوسمرتی کے باب: ۸ میں کہا گیا ہے: ’’ کسی پرائی عورت کو تحفہ دینا، اس کے زیورات یا کپڑوں کو چھونا، اس کے ساتھ چارپائی پر بیٹھنا، بدکاروں کے افعال تصور ہوں گے‘‘ یہودیوں کے یہاں جو مشہور ۱۰؍ وصیتیں ہیں، ان میں یہ بھی ہے کہ تو بدکاری نہ کرو‘‘ ( کتاب استثناء: ۵:۱۷)تورات میں ایک موقع پر بدکاری سے منع کرتے ہوئے کہا گیا ہے :’’ بیگانہ عورت کے ہونٹوں سے شہد ٹپکتا ہے، اور اس کا منہ تیل سے زیادہ چکنا ہے، پر اس کا انجام ناگڈونے کی مانند تلخ اور دو دھاری تلوار کی مانند تیز ہے، اس کے پاؤں موت کی طرف جاتے ہیں، اس کے قدم پاتال تک پہنچتے ہیں، سواسے زندگی کا ہموار راستہ نہیں ملتا، اس کی راہیں بے ٹھکانہ ہیں، پر وہ بے خبر ہے‘‘ (کتاب امثال: ۵-۱-۲۳)عیسائی مذہب میں انجیل کے صحائف پر یقین کیا جاتاہے، انجیل لوقا میں جگہ جگہ حرام کاری سے منع کیا گیا ہے۔چنانچہ ایک موقع پر کہا گیا ہے:’’نو حکموں کو جاننا ہے: زنا نہ کر، خون نہ کر، چوری نہ کر، جھوٹی گواہی نہ دے، اپنے ماں اور باپ کی عزت کر …….‘‘ (انجیل لوقا، باب:۱۸:۱۸۲)اسی طرح پولس رسول اپنے خط میں لکھتے ہیں:’’حرام کاری سے بھاگو، جتنے گناہ آدمی کرتا ہے، وہ بدن سے باہر ہیں؛ مگر حرام کار اپنے بدن کا بھی گناہ گار ہے‘‘ (انجیل لوقا۶:۱۸)
شریعت اسلامی میں بد فعلی جس درجہ مذموم فعل ہے، وہ محتاج بیان نہیں ہےکہ نہ صرف اس سے روکا گیا ہے بلکہاللہ کا فرمان ہے : بدکاری سے قریب نہ ہو کہ یہ بے حیائی اور بُرا راستہ ہے(اسراء:۳۲) 
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب کوئی مسلمان بدکاری میں مبتلا ہوتا ہے تو اس کا ایمان اس سے نکل جاتا ہے اور ایک چھتری کی طرح لٹکا رہتا ہے، جب وہ اس گناہ سے باہر نکلتا ہے تو پھر ایمان لوٹ آتا ہے۔ ( سنن أبی داؤد باب الدلیل علی زیادۃ الایمان ونقصانہ، حدیث نمبر: ۴۶۹۵)ایک موقع پر آپ ؐسے دریافت کیا گیا : اللہ کے نزدیک سب سے بڑا گناہ کون سا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شرک کرنا، پوچھا گیا :اس کے بعد؟ ارشاد ہوا : یہ بات کہ تم اپنی اولاد کو اس لئے مار ڈالو کہ وہ تمہارے ساتھ کھانے میں شریک ہوجائے گی، سوال کیا گیا: اس کے بعد کون سا گناہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ بات کہ تم اپنی پڑوسی کی بیوی کے ساتھ بدکاری کرو۔ ( بخاری، حدیث نمبر: ۶۸۹۰)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ یوں تو حرام کاری مطلقاََ گناہ ہےلیکن خاص طور پر کسی کی منکوحہ سے ایسا کرنا اور بھی بڑا گناہ ہے، شریعت نے تمام جرائم میں سب سے سخت سزا حرام کاری کی رکھی ہے لیکن اس میں بھی فرق کیا گیا ہے:اگرغیر شادی شدہ مرد یا عورت اس جرم کے مرتکب ہوں تو ان کو سوکوڑے لگائے جائیں گے ،جس کا ذکر خود قرآن مجید میں ہے (نور ۴) اور اگر شادی شدہ مردوعورت اس گناہ کا مرتکب ہو تو اس کی سزا سنگسار ہے ، یعنی پتھر مارمار کر ہلاک کرنا، (بخاری، حدیث نمبر: ۶۸۱۴) سزا میں کنوارے اور شادی شدہ کا جو فرق رکھا گیا ہے، اس سے بھی یہ بات واضح ہوتی ہے کہ شادی شدہ کا اس جرم کا مرتکب ہونا زیادہ بڑا گناہ ہے۔
حرام کار کوجو سزاملتی ہے وہ تو ہے ہی؛ لیکن بعض جرائم وہ ہیں جو اجتماعی طور پر اللہ تعالیٰ کے عذاب کا سبب ہوتے ہیں، ان میں بدکاری بھی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس قوم میں بدکاری اور سود کی کثرت ہو جائے، وہ قوم گویا اپنے آپ پر اللہ کے عذاب کو دعوت دے رہی ہے۔ (صحیح ابن حبان حدیث نمبر: ۴۴۱۰) بعض روایتوں میں یہ بات آئی ہے کہ جب کسی قوم میں جنسی بے راہ روی کی کثرت ہو جائے گی تو اس میں ایسی بیماریاں جنم لیں گی، جن کا ماضی میں تصور بھی نہیں تھا، اور ان کے آباء و اجداد نے کبھی وہ بیماری دیکھی نہیں تھی، (ابن ماجہ، حدیث نمبر:۴۰۱۹) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بد کاری کی وجہ سے چھ طرح کے نقصانات ہوتے ہیں، ۳؍کا تعلق دنیا سے ہے، اور ۳؍ کا تعلق آخرت سے، دنیا کاتین نقصان یہ ہے: چہرہ کی رونق کا ختم ہو جانا، فقر ومحتاجی کا شکار ہو جانا، اور عمر کا کم ہو جانا، اور آخرت کے تین نقصانات یہ ہیں: اللہ تعالیٰ کا اس پر ناراض ہونا، حساب و کتاب کا خراب ہونا اور ہمیشہ کے لئے دوز خ میں داخل کیا جانا (الکشاف للزمخشری، تفسیر سورہ نور، آیت نمبر: ۳) 
اس لئے اسلام نے سماج کو اس برائی سے محفوظ رکھنے کے لئے پیش بندی کے طور پر مختلف ہدایات دی ہیں، مردوں کو نگاہ پست رکھنے کا حکم دیا گیا، عورتوں کے لئے پردہ کے احکام دیے گئے، لڑکوں اور لڑکیوں کے اختلاط یا اجنبی مردوعورت کی تنہائی کو منع کیا گیا، اس بات سے منع کیا گیا کہ غیر محرم واجنبی مرد و عورت ایک دوسرے کے جسم کو ہاتھ لگائیں، یہاں تک کہ بعض فقہاء کے نزیک تو عورت کے جسم کو چھونے سے وضو واجب ہو جاتا ہے، غیر محرم سے بلا ضرورت گفتگو کی ممانعت کی گئی، عبادت کے مواقع پر بھی عورت اور مرد کو ایک دوسرے سے الگ رکھا گیا، نکاح میں تاخیر کو منع کیا گیا، اور نکاح کے لائق ہونے کے بعد جلد سے جلد شادی کرنے کی ترغیب دی گئی، ان سب کا مقصد لوگوں کو بدکاری سے بچانا اور اس گناہ سے محفوظ رکھنا ہے۔
بدکاری کی وجہ سے بہت سے سماجی نقصانات بھی پیدا ہوتے ہیں، پہلا نقصان یہ ہے کہ اس کی وجہ سے نکاح کی شرح کم ہو جاتی ہے، جب لوگ دیکھیں گے کہ جنسی خواہش بیوی کا بوجھ اُٹھائے بغیر پوری کی جاسکتی ہے تو رجحان پیدا ہوگا کہ نکاح کرنے کی بجائے کسی مرد یا کسی عورت کے ساتھ یوں ہی زندگی گزار دی جائے تاکہ مقصد بھی حاصل ہو جائے اور زندگی کا بوجھ بھی اُٹھانا نہ پڑے۔ چنانچہ مغربی ملکوں کی یہی صورت حال ہے کہ وہاں نکاح کی شرح کم سے کم ہوتی جار ہی ہے۔
۲۰۱۰ء کی رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں ۴۵؍فیصد، اسپین اور اٹلی میں ۳۶؍ فیصد، فرانس اور بیلجیم میں ۳۹؍ فیصد، جرمنی میں ۴۷؍ فیصداور ہالینڈ میں ۴۵؍ فیصد ہی افراد نکاح کرتے ہیں، بقیہ تعداد بغیر نکاح کے زندگی گزارتی ہے، قریب قریب یہی حال اکثر مغربی ملکوں کا ہے، شرح نکاح میں اس کمی کا نقصان خواتین کو پہنچتا ہےکیوں کہ جن عورتوں کو نکاح کے بغیر رکھا جاتا ہے، جب اس کا حسن ڈھل جاتا ہے اور وہ بوڑھاپے میں قدم رکھتی ہیں تو سماج میں ان کی کوئی قدروقیمت نہیں رہتی ، ان کی حیثیت گھر کے استعمال شدہ کچرے کی ہو جاتی ہے، جس کو ڈسٹ بین میں ڈال دیا جاتا ہے۔دوئم جو لوگ نکاح کے رشتہ میں بندھے ہوئے ہیں ، بدکاری کی چھوٹ ملنے کی وجہ سے ان کے رشتہ میں بھی استحکام باقی نہیں رہے گا، ایک دوسرے کے بارے میں بے اعتمادی کا شکار ہو جائیں گے اور طلاق کے واقعات بڑھ جائیں گے، رشتہ نکاح کی کمزوری اور طلاق کے واقعات نہ صرف زوجین کو نقصان پہنچاتے ہیں کہ وہ سکون سے محروم ہوتے ہیں، ذہنی تناؤ کا اور بعض دفعہ دوسری نفسیاتی بیماریوںکا شکار ہو جاتے ہیں بلکہ اس کا اثر بچوں پر بھی بہت زیادہ ہوتا ہے، وہ یا تو ماں کی ممتا سے محروم ہو جاتے ہیں یا باپ کی شفقت سے اوراگر باپ کو اپنی اولاد کے بارے میں شک پیدا ہوگیا کہ وہ اس سے نہیں ہے اور اس نے مالی ذمہ داریاں ادا کرنی چھوڑ دیں تو بچوں کی زندگی مزید تباہ ہو جاتی ہےاور وہ تعلیم وتربیت سے بھی محروم رہ جاتے ہیں۔سوم کسی عورت کا غیر مرد سے تعلق ایسی تلخی پیدا کر دیتا ہے کہ اکثر نوبت قتل و قتال کی آجاتی ہے، جب عورت دوسرے مرد سے تعلق کا اعتراف بھی کر لے اور شوہر اس کو روک نہ سکے تو یہ تو نہایت ہی تکلیف دہ بات ہوگی مگرصرف غلط فہمی اور بدگمانی پیدا ہو جائے تو اس سے بھی قتل اور بعض دفعہ خود کشی کے واقعات پیش آجاتے ہیں، دن رات اخبارات میں ایسی خبریں آتی رہتی ہیں۔چہارم اس سے رشتہ کا تقدس ختم ہو جائے گا، انسان چاہے خود کسی گناہ میں مبتلا ہو لیکن وہ اپنے والدین، بزرگوں اور اساتذہ وغیرہ کے بارے میں زنا جیسے گناہ کا تصور بھی نہیں کر سکتا اور اس پاکیزہ تصور کی وجہ سے اپنے بڑوں کا بے حد احترام کرتا ہے، جب اسے مثلاََ اپنے ماں باپ کے بارے میں معلوم ہو کہ وہ دوسرے مرد یا دوسری عورت سے ناجائز تعلق رکھتے ہیں تو کیا اس کے دل میں ان کے لئے محبت واحترام کے جذبات باقی رہیں گے؟اور کیا اولاد کے سامنے اس تصویر کے آجانے کے بعد والدین اپنے بچوں کی تربیت کر پائیں گے؟
پنجم چاہے کچھ بھی کہا جائےلیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ بدکاری کو ہر مہذب سماج میں عار کی بات سمجھا جاتا ہے، آدمی اپنے ماں باپ کے نکاح کا ذکر کرنے میں شرم محسوس نہیں کرتا لیکن اگر خدانخواستہ ان کے حرام کاری میں ملوث ہونے کی نوبت آجائے تو کوئی شریف انسان یہ کہنے کا تصور نہیں کر سکتا کہ میری ماں یا بہن یا بیٹی نے یا میرے باپ دادایا نانا نے فلاں کے ساتھ بدکاری کی ہے، یہ اس بات کی علامت ہے کہ چاہے انسان نفسانی خواہشات کے غلبہ میں کچھ کہہ جائے یا کر بیٹھے لیکن اس کی فطرت اس فعل کو شرم و عار کا باعث سمجھتی ہے، اور جب یہ شرم وعار کسی کے ساتھ لگ جاتی ہے تو اس کا اثر پشت                                                                                   ہا پشت تک باقی رہتا ہے،  بالخصوص مشرقی ممالک میں نہ صرف مردوعورت اس جرم کی وجہ سے حقارت کی نظر سے دیکھے جاتے ہیں بلکہ ان کی اولاد بھی اس ناکردہ گناہ کی وجہ سے ذلت ورسوائی سے دو چار رہتی ہے۔
یہ تو حرام کاری کے سماجی نقصانات ہیں؛ لیکن طبی اعتبار سے بھی انسانی سماج کے لئے یہ بہت ہی تباہ کن ہے کیوں کہ یہ قانون فطرت سے بغاوت ہے اور جب کوئی فطرت سے بغاوت کرتا ہے تو ضرور اس کی شامت آجاتی ہے اور وہ سزا پا کر رہتا ہے، بیشتر خبیث امراض ہم جنسی اور بدچلن عورت سے تعلق کی بنا پر پیدا ہوتے اور پھیلتے ہیں، دنیا کی سب سے خطرناک بیماری ایڈز ان ہی دو وجہوں سے پیدا ہوتی اور پروان چڑھتی ہے، جس میں انسان کی قوت مدافعت پوری طرح ختم ہو جاتی ہے، اور وہ ایڑی رگڑ رگڑ کر اپنی جان دیتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس سلسلہ میں انسان کی فطرت دوسرے جانوروں سے مختلف بنائی ہے، یہی وجہ ہے کہ جانوروں میں اگر ایک مادہ سے کئی نروں کا تعلق ہو تو بیماری پیدا نہیں ہوتی لیکن اگریہی بات انسان کے درمیان ہو اور ایک عورت کا تعلق کئی مردوں سے ہو تو یہ ایڈز کا سبب بن جاتا ہے۔ اس لئے نہ صرف مذہبی صحائف میں اس گندے عمل سے منع کیا گیا ہے بلکہ قانون فطرت بھی یہی کہتا ہے مگر افسوس کہ جو لوگ علم و دانش کی آخری چوٹیوں پر فائز ہیں، وہ قانون قدرت کی اس بلند آواز کو بھی سننے سے قاصر ہیں، کافیا أسفاہ و یاعجباہ ۔