بھا جپا کی مہربانیاں!

معیشت کا سر ہی حکومت نے پھوڑا

11 اکتوبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

ڈاکٹرظہیر انصاری۔۔۔ ممبئی
  ابھی ۱بھی روس سے میزائل ٹیکنالوجی کا ڈالر میں سودا ہوا ہے۔ڈالر کی بڑھتی قیمت کی وجہ سے ایک دن میں ملک کو ۲۵۰؍کروڑ کا چونا لگا ہے۔ اسی طرح رافیل کا سودا بھی ڈالر ہی میں ہوا ہے جو نہ جانے اب کہاں پہنچ گیا ہوگا؟ماہرین کے مطابق روپے کی قدر میں ۴؍ روپے کی گراوٹ کا مطلب ہے کہ ڈیڑھ لاکھ کروڑ روپے کا مزیدنقصان۔ان تمام نقصانات کا حساب مانگنا اب عوام کی ذمہ داری ہے۔اِس بار تو یہ کمال بھی ہو گیا کہ وزیر اعظم مودی بہ نفس نفیس روسی صدر پوتن کا استقبال کرنے یا اُنہیں لینے ائر پورٹ نہیں گئے اوربلکہ وزیر خارجہ سشما سوراج کو بھیج دیا۔پوتن نے اس کا برا مانا یا نہیں یہ تو وہی جانیں لیکن وہ ائر پورٹ سے سیدھے وہ وزیر اعظم نواس گئے جہاں انہیں لنچ کرنا تھا۔مودی جوشیخ حسینہ تک کو لینے ائر پورٹ چلے جاتے تھے،اس بارپوتین کے ساتھ ایسا کیا ہو ا کہ اس سے احتراز کرنا ضروری سمجھا گیا ،یہ راز و نیاز سمجھنا کوئی مشکل نہیں ہے بشرطیکہ اگر ذرا غور وفکر کیا جائے۔ملکی حالات اس قدر خراب ہو چکے ہیں کہ مودی کی اب کوئی ادا عوام کو پسند ہی نہیں آرہی ہے۔صرف ۶؍ماہ پہلے تک ان کیلئے حالات ایسے نہ تھے۔سچ پوچھئے تو یہ سب انہی کا اپنا کرا دھرا ہے جس کا خمیازہ اب وہ بھگت رہے ہیں۔چینل خواہ کتنا ہی پرچار و پرسار کیوں نہ کریں کہ ان کی مقبولیت کم نہیں ہوئی ہے اور چونکہ ان کے مقابلے میں اپوزیشن کے پاس کوئی کام کا لیڈر بھی نہیں ہے،اس لئے ان کا پھر سے منتخب ہو کر آنے میں کوئی اڑچن نہیں ہے لیکن زمینی حقائق کوئی اور ہی تصویر پیش کررہے ہیں۔ 
’’نیم حکیم خطرۂ جان‘ ‘ کے مصداق وزیراعظم مودی جی نے اچھی خاصی معیشت کو تباہ وبرباد کر دیا۔نیم حکیم اس لئے کہ وہ کسی کی سنتے ہی نہیں بلکہ سب کو اپنی سنا نے کے عادی ہیں ۔وہ سمجھتے ہیں کہ جو وہ کرر ہے ہیں وہی سوفی صد صحیح ہے۔کسی کو اعتماد میں لینا تو دور کسی سے مشورہ کرنا بھی ضروری نہیں سمجھتے۔اپنی پارٹی اور خود کو فائدہ پہنچانے کیلئے انہوں نے ’’نوٹ بندی ‘‘ جیسا خطرناک قدم اُٹھایا،صرف اور صرف یوپی کا الیکشن جیتنے کیلئے۔اس میں تو وہ کامیاب ہو گئے لیکن ملک کو تباہ و برباد کر کے بھی رکھ دیا۔یہ تحقیق کا موضوع ہے کہ مودی جی نے ان ساڑھے ۴؍ برسوں میں ملک کا کتنا نقصان کیا؟صرف نوٹ بندی سے لاکھوں کروڑ روپے کا نقصان اِس ملک کو سہنا پڑا کہ اس سے چھوٹی صنعتیں تباہ ہو گئیں۔پیداوار ختم ہو گئے۔تعمیراتی شعبہ سے وابستہ کروڑوں افراد بے کار ہو گئے۔اس کے علاوہ نئے نوٹ چھاپنے میں ہزاروں کروڑروپے جو لگے الگ۔اور اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ پہلے سے زیادہ نقدی بازار میں گردش میں ہے۔یہ سب وزیر اعظم کی اپنی مرضی سب پرتھوپنے کی وجہ سے ہوا ۔ انہوںنے نوٹ بندی کی کامیابی کیلئے ۵۰؍دنوں کی مہلت مانگی تھی اور کہا تھا کہ اس کے بعد مجھے کسی بھی چوراہے پر لٹکا دیا جائے۔کوئی ہے جو ان سے پوچھے یاا نہیں ان کا یہ بیان یاد دلانے کی کوشش کرے؟کہا جاتا ہے کہ عوام کی یاداشت کمزور ہوتی ہے،شاید وزیر اعظم اسی کمزوری فائدہ اٹھا رہے ہیں۔نوٹ بندی کا فائدہ حکومت کی طرف سے یہ بتایا گیا کہ ٹیکس بھرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے لیکن یہ نہیں بتایا جاتا کہ روپے کے تناسب میں (انکم ٹیکس میں)کتنا اضافہ ہوا ؟اسی طرح جی ایس ٹی سے جو کلیکشن ہو رہے ہیں، وہ پہلے کے مقابلے میں زیادہ ہے یا کم۔موجودہ کلیکشن کچھ حوصلہ بخش نہیں ہے اور ہر مہینے بتدریج کم ہی ہو رہا ہے جس سے حکومت کو تشویش ہو رہی ہے۔ ایک برس گزر جانے کے بعد جی ایس ٹی سے اچھے نتائج کی امید تھی جو قطعی نہیں ہے اور تاجر طبقہ حد درجہ پریشان ہے۔اس لئے مودی جی کی جی ایس ٹی کو فیل ہی قرار دیا جائے۔اس جی ایس ٹی کی وجہ سے بھی لاکھوں کروڑ روپے کی چپت لگی ہے جس کے تنہا ذمہ دار مودی ہیں۔راہل گاندھی چلّا چلّا کر کہتے ہیں کہ یہ وہ جی ایس ٹی نہیں ہے جس کی کانگریس نے داغ بیل ڈالی تھی۔
بین الاقوامی بازار میں تیل کی قیمت جب کم تھی، اُس وقت بھی ہندوستانی عوام کو تیل کیلئے زیادہ روپے دینے پڑتے تھے کیونکہ مودی حکومت تواتر سے مرکزی ٹیکسوں میںاضافہ کرتی رہی۔۳۵؍ڈالر فی بیرل تیل کی قیمت ہونے پر بھی عوام کو اُتنے ہی پیسے دینے پڑتے تھے جتنے یو پی اے یعنی من موہن سنگھ کے دور میں ۱۱۰؍ڈالر فی بیرل ہونے پر۔مودی جی اپنی اچھی قسمت کا تقریباً ہر جلسے میں ذکر کیا کرتے تھے کہ میری اچھی قسمت کی وجہ سے ایسا ہوا۔آج جب تیل کی بین الاقوامی قیمت میں اضافہ ہوا ہے تو اپنی قسمت کا ذکر کہیں نہیں کرتے بلکہ منہ چھپائے پھر رہے ہیں۔جب دیکھا کہ عوام کا غصہ کہیں پھٹ نہ پڑے تب جاکر ڈیڑھ روپے ایکسائز ڈیوٹی اور ۱ یک روپیہ پبلک آئل کمپنیوں سے تخفیف کیلئے کہا اور جہاں جہاں بھاجپا حکومت ہے صوبائی ٹیکسوں میں تخفیف کا حکم دیا ۔اس طرح ۵؍روپے کم ہوئے لیکن یہ کیا کہ مہاراشٹر میں صرف پٹرول میںیہ کمی کی گئی۔ڈیزل کی قیمت وہی رکھی گئی جس کی رو سے پٹرول اور ڈیزل میں صرف ۵؍روپے کا ہی فرق ہے(مہاراشٹر میں پٹرول ۸۵؍روپے ۷۳؍پیسے اور ڈیزل ۸۰؍روپے ۲۰؍پیسے)۔ اب بھلا بتائیں ! پٹرول سے کسے فائدہ پہنچے گا؟ امیروں ہی کوتواور غریب؛ جو ڈیزل پر منحصر ہیں اور جس کی وجہ سے مہنگائی بڑھتی ہے،اس میں تو اس حکومت کو کوئی دلچسپی ہی نہیں ہے۔اس کے علاوہ بات در اصل یہ ہے کہ مودی جی گزشتہ ۴؍ برسوں سے اس پر کام کر رہے ہیں کہ کس طرح پٹرول اور ڈیزل کو ایک کر دیا جائے۔دہائی تو ماحولیات کی دی جاتی ہے لیکن اس کے پیچھے ایک الگ ہی سازش کار فرماہے کہ ڈیزل کار بنانے والی کمپنیوں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا جائے۔ممبئی میں ایسا کرکے دکھا بھی دیا ۔ایک ہی طرح کی کار پٹرول اور ڈیزل ورژن میں ۱؍ سے ۵؍لاکھ کے فرق سے فروخت ہوتی ہے ۔پٹرول کی کار ہر اعتبار سے ڈیزل کی کار سے انجن کے معاملے میں پائیدار ہوتی ہے اور دیکھ بھال پربھی خرچ کم ہوتا ہے لیکن ایندھن کا خرچ زیادہ ہوتا ہے۔اب ڈیزل کار بنانے والی کمپنیاں بی جے پی کو اپروچ کریں گی کیونکہ انتخابات کا زمانہ ہے۔
ویسے پوتن تو ہند روس سمّٹ(کانفرنس) میں آئے ہیں جس میں مختلف نکات پر بات ہوگی لیکن در اصل وہ ایک سوداگر کی حیثیت سے بھی آئے ہیں اور میزائل اور اس سے وابستہ ٹیکنالوجی ہندوستان کو بیچ رہے ہیں ۔یہ معاہدہ ۵؍بلین ڈالر کا ہے یعنی آج کی تاریخ میں تقریباً ۳۷؍ہزار کروڑ روپے۔جب معاہدے پر دستخط ہو رہے تھے اُسی وقت ڈالر کی قیمت میں ۵۰؍ پیسے بڑھنے سے ۲۵۰؍کروڑ روپے کا نقصان ملک عزیز کو مودی جی پیش کر رہے تھے(واضح رہے کہ ڈالر ۷۴؍روپے پار کر رہا تھا)۔ اگر ڈالر کے مقابلے روپے کے گرنے کی یہی رفتار رہی توروزانہ کے حساب سے مودی جی ملک کو کتنا نقصان پہنچا رہے ہیں، اب ایک عام شہری بھی سمجھ سکتا ہے۔اسی طرح رافیل کا سودا بھی ڈالر ہی میں ہوا ہے جو نہ جانے اب کہاں پہنچ گیا ہوگا؟اقتصادی ماہرین بتاتے ہیں کہ روپے کی قدر میں ۴؍ روپے کی گراوٹ کا مطلب ہے کہ ڈیڑھ لاکھ کروڑ روپے کا نقصان۔یہ اُس وقت کی بات ہے جب ۶۸؍سے ۷۲؍ روپے ہوا تھا۔اب ۷۴؍ ہونے کا مطلب ہے کہ سوا ۲؍لاکھ کروڑ روپے کا نقصان۔یو پی اے یعنی منموہن سنگھ کے زمانے میں بھی روپے کی قدر میں گراوٹ آئی تھی لیکن انہوں نے اپنی سوجھ بوجھ اور اقتصادی مہارت سے پھر سے روپے کو مضبوط کر دیا تھا۔یہ بے چارے ایسے ہیں کہ اُن سے مشورہ بھی طلب نہیں کر سکتے!اسی طرح جی ڈی پی کی شرح ۱؍ فیصدی کم ہونے کا مطلب بھی ڈیڑھ لاکھ کروڑ روپے کا نقصان یعنی ۴؍برسوں میں ۶؍لاکھ کروڑ روپے کا نقصان ۔اگر تمام نقصانات یکجا کئے جائیں تواندازہ کیا جا سکتا ہے کہ ملک کا کتنا نقصان ہوا۔اب یہ ذمہ داری عوام کی ہے ۔وہ احتساب کرے اور اپنے نقصان کو اپنے انداز میں وصول کرے۔پوتن نے یہی میزائل ٹیکنالوجی چین کو گزشتہ ہفتے بیچی ہے جس کی وجہ سے امریکہ نے چین پر پابندی عائد کر دی ہے۔ہمارے ساتھ امریکہ کیا رویہ روا رکھتا ہے یہ تو دیکھنے جیسا ہوگا کیونکہ ۴؍نومبر قریب آتا جا رہا ہے۔یہ وہ تاریخ ہے جس دن سے ہمیں ایران سے تیل لینا بند کرنا ہے۔ایران سے تیل کی درآمدات بند ہونے پرتیل کی قیمتوں کا کیا حشر ہوگا ،تصور نہیں کیا جا سکتا۔پھر مودی ٹرمپ کو۲۰۱۹ء کی جشن جمہوریت کی دعوت دے کرہندوستانی عوام کو ایک بار پھر بے وقوف بنانا چاہتے ہیں کیونکہ زمانہ الیکشن کا رہے گا۔اگرچہ مودی یہ سمجھتے ہیں کہ وہ پھر سے ۲۰۱۹ ء میں آئیں گے۔ایسا سمجھنے سے انہیں کوئی روک نہیں سکتا لیکن اگر نہیں آئے تو اِن میزائل سودوں کا کیا؟ان کے دور میں تو یہ ڈیلیور نہیں ہوں گے اور رافیل جنگی طیارے بھی نہیں۔ہمارے ایک دوست نے کیا چٹکی لی کہ کسی بھی معاہدے کی پوری ادائیگی ایک ساتھ نہیں ہوتی لیکن اس کے پورے فائدے ایک ساتھ ہی مل جاتے ہیں ۔اب دیکھنا یہ ہے کہ الیکشن سے پہلے ایسے اورکتنے معاہدے ہوتے ہیںتاکہ عوام کو روپوں کی کمی محسوس نہ ہو۔
 نوٹ :مضمون نگار ماہنامہ تحریرِ نو، نئی ممبئی کے مدیر ہیں  
رابطہ9833999883
 
 

تازہ ترین