۔35اے اور الیکشن بائیکاٹ !

کتاب ِحقائق کھلی دھیرے دھیرے

11 اکتوبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

رشید پروین ۔۔۔ سوپور
 پچھلے  کچھ مہینوں سے ۳۵A کے سلگتے موضوع پرجتنا کچھ کہا گیا یا لکھا جاچکا ہے ،اس سے ریاست کاکم سے کم پڑھا لکھا آدمی بھی اس آئینی دفعہ کی نوعیت ، اہمیت اور حساسیت سے تھوڑا بہت واقف ہوچکا ہوگا۔ تعصب اور تنگ نظری کا کھیل ایک طرف، اس دفعہ کے ساتھ عدالتی کارروائی کے ذریعے ممکنہ چھیڑ چھاڑکے خلاف جس قدراحتجاج ہوا ، اس پر پارٹی ، خطہ اور زبان ومذہب سے ماوراء ہوکر رائے عامہ ریاست میں جتنا برہم ہو ا،وہ کشمیر کی سیاسی تاریخ میں واقعی اپنی جگہ ایک نیا ریکارڈ ہے ۔ غور طلب بات ہے کہ اس احتجاج اور برہمی میں بجز فرقہ پرست ٹولیوں کے باقی سارا جموں کشمیر لداخ متحد بھی ہے اور ہم خیال بھی ، آواز ایک ہے اور نعرہ بھی واحد ہے۔ حتیٰ کہ حریت کے جھنڈے تلے متحدہ مزاحمت نے بھی کم و بیش اس دفعہ کے دفاع میں اپنا بھاری بھر کم وزن ڈالا اور عوامی احتجاج کی پذیرائی میں کوئی بخل نہ کیا لیکن ہمیں یہ نہ بھولنا چاہئے کہ حریت کی منزل ۳۵ ؍الف نہیں بلکہ وہ عظیم مقصد ہے جس کو پانے کے لئے آج بھی لہو کے دریا کشمیر کے طول وعرض میںرواں ہیں ۔
 ہند نوا زنیشنل کا نفرنس اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی نے بظاہرا س دفعہ کی آڑ لیتے ہوئے مر کز کی گومگو پالیسی کے خلاف بلدیاتی اور پنچا یتی انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان بھی کیا ہو اہے، حالانکہ لداخ میںان پارٹیوں نے ہل ڈیولپمنٹ کونسل کے الیکشن میں بھر پور شرکت کی، ا س وقت یہ دفعہ بوجوہ انہیں یاد نہ رہا۔ دفعہ ۳۵؍ اے کے حوالے سے عوام کی غیر معمولی دلچسپی سے مبصرین یہ معنی مطلب نچوڑ رہے ہیںکہ اس کے پردے میں ہمیں پھر ایک بار اپنی اصل سیاسی منزل سے ہٹا کر آئینی گورکھ دھندوں میں کچھ یوں اُلجھایا جارہا ہے اوربحثا بحثی کا ایسا عالم بپا کیا جارہاہے کہ اصل کشمیر کاز کی سیاسی جدوجہد بیک گراونڈ میں دھکیلی جارہی ہے ۔ اس لئے بھی مزاحمتی حلقے یہ بھی کہتے ہیں کہ کہیں ہم سے لاشعوری طور مرکزی سرکار کے گریٹر گیم پلان میں رنگ تو نہیں بھروایا جارہا ہے ۔ اُن کے خیال میںیہ سار ی سیاسی لن ترانی ہند نواز جماعتوں کا کیا دھر بھی ہوسکتاہے ،جو چاہتی ہیں کہ دفعہ ۳۵؍الف کا ڈھول پیٹ پیٹ کر ایک غیر محسوس انداز میں کشمیربیانیے کا سمت سفر بدلا جائے ۔ مختصراً یہ دفعہ جموں کے آخری ڈوگرہ مہاراجہ ہری سنگھ کے زمانے سے جموں وکشمیر کی زمینوں اور اس کے مفلس اور غریب باشندوں کو آئینی تحفظ کی ضمانت دینے کے لئے ایک بنیادی حصار فراہم کرتا ہے ۔ آج کی تاریخ میں آئین ہندکی رُوسے اس طرح کا مخصوص تحفظ صرف جموں وکشمیر کے پشتینی باشندوںتک ہی محدود نہیںبلکہ ایسی آئینی ضمانت شمال مشرقی کئی ریاستوں سمیت ہماچل پردیش کو بھی حاصل ہے، جس کے مطابق وہاں کسی غیر مقامی شخص یا ادارے کو اراضی کے مالکانہ حقوق قانوناً منتقل نہیں ہوسکتے۔ 
  افسوس اور المیہ یہ ہے کہ آریس ایس یا بی جے پی اس طرح کے آئینی تحفظ اور بندوبست کے حوالے سے سے ان ریاستوں کے لئے متفکر ہے نہ پریشان ۔ غالباً اس کی وجہ یہ ہے کہ ریاست جموں وکشمیر میں ۴۷ء کے پس منظر میں مسلم آبادی کے قتل عام اور مسلم ہو لو کاسٹ کے باوجود ابھی تک ریاست میں مسلمان اکثریت میں ہیں ۔ حالانکہ غیر مسلم اقلیت میں ہونے کے باوجود ڈھائی دہائی سے زائد عرصے کو محیط سیاسی افراتفری کے تناظر میںسے ایک منصوبہ بند طریق کار سے انتظامی اور سیاسی طورمسلم اکثریتی فرقے پر غالب آرہی ہے ۔ مسلم کمیونٹی سرعت کے ساتھ ان دونوں شعبوں میں dis -empowerکی جارہی ہے ۔ بہرصورت زیر بحث دفعہ محض مسلمانان ریاست کے لئے ہی نہیں بلکہ جموں کے ڈوگروں اور لداخ وکر گل کے بودھوں اور مسلمانوں کے لئے ایک ڈھال ہے جو اگر ہاتھ سے چھوٹ گئی تو ہم وشال سمندر میں گم ہوں گے ،اس سے بچانے کے لئے بالمعنیٰ دفعہ ۵۳؍الف ایک قانونی حصار یا قلعہ ہے جس کے اندر ریاست کا ہر باشندہ آپ اپنا مالک ہے ۔ مقام شکر ہے کہ ا س کا احساس ریاست کے تمام طبقاتِ فکر کو مشترکہ طورپایا جاتاہے۔ اسی لئے بھاجپا  کے ایک ایم ایل اے نے پارٹی وہپ کے برخلاف دلی کو اعلانیہ طور سندیسہ دیا کہ اس دفعہ کو نہ چھیڑجائے تو بہتر ہے ۔ بایں ہمہ ہمیں آر ایس ایس اور اس قسم کی دوسری فرقہ پرست اور مسلم دشمن  گھٹنوں سے اور کس چیز کی توقع ہوسکتی ہے؟اس لئے ان کی روش پر حیرانگی نہیں ہونی چاہیے، لیکن اس بارے میں ہم پھر ایک بار اپنے یہاں کی ہندنواز پارٹیووں کی سوچ اور طریق کار پر نہ صرف حیران و پریشان ہیں بلکہ ان کے عزائم اور پوشیدہ اہداف کے تعلق سے بھی متفکر ہیں ۔ مثلاً پروفیسر سوزؔنے اپنے ایک حالیہ بیان میں واضح کیا کہ کشمیر کی ہند نواز جماعتوں کے وکلاء جو سپریم کورٹ میں ا س دفعہ کے حق میں پیش ہوئے تھے ،وہ عدالت میں مکمل طور خاموش رہے ، یوں کہے انہوں نے اس دفعہ کی پیروی میں زباں ہی نہ کھول دی جس کام کے لئے وہ بظاہرسپریم کورٹ گئے تھے ۔ یہ بہت ہی تشویش ناک اور حیرت انگیز خبر ہے ۔ کیا اس سے یہ متباور نہیں ہوتا کہ حالیہ کچھ مدت سے ان تمام جماعتوں نے ۳۵A سے متعلق اپنی قوت گویائی صرف کر نے سے صرف اپنے پوائنٹس سکور کئے ، جب کہ اُن کا اس دفعہ کے تقدس کی بر قراری یا پامالی سے بہت کم لینا دینا ہے ۔ اس کا سب سے بڑا ثبوت یہ بھی ہے کہ ریاست کے جملہ چیف منسٹر دلی میں بیٹھے اپنے آقاؤں کے تئیں اپنی اندھا دُھند وفاداری جتلائی ۔اس کی خاطر انہوں نے بادشاہ سے زیادہ وفاداری کے مصداق اپنی تابعداری کا اظہار کر نا اپنی شان سمجھا ۔اس سلسلے میں انہوں نے ہمیشہ کچھ زیادہ ہی کر دکھایا جو ان کے سیاسی آقا اُن سے چاہتے تھے ۔ یہ اسی بات کا نتیجہ ہے کہ ان موقع پرستوں نے ریاست کی اندرونی خود مختاری کو کھلے عام تہ تیغ کیا اور مرکزی قوانین کو ریاست میں کھلی راہداری دے ڈالی ، ان قوانین ہی کی روشنی میں سپریم کورٹ کا دائرہ عمل ریاست تک بڑھ گیا ، وزیر اعظم چیف منسٹر ہوا ، صدر ریاست گورنر کہلایا۔ اس سے ریاست کا آئینی تشخص درہم برہم ہو ا جسے مرکزی قوانین کی ایک بڑی تعداد نے درآمد ہوکر ریاست میں بیک جنبش قلم انہیں نافذ کر نے سے ریاست کی اندرونی خود مختاری یا شرائط ِالحاق کی نفی کر دی گئی۔ اس لحاظ سے ہماری آئینی انفرادیت کے لئے آر ایس ایس اتنی خطر ناک ثابت نہ ہوئی جتنے خود ہمارے سروں کے اوپر مسلط اقتدار کی بھوکی پارٹیاں ہیں ، انہوں نے پچھلے ستھر برس سے پینترے بدل بدل کر نہ صرف کشمیری عوام کو مظالم اورمصائب کے ہتھکنڈوں سے دبادیا بلکہ ریاست کی قانونی و آئینی ہیئت ِتر کیبی کو بری طرح مسخ کر ڈالا ۔ سب سے بڑی مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ یہی لوگ کشمیر کے چپے چپے کو بیچ کھانے کے بعداب انگلی کٹا کے شہیدوں کی صف میں کھڑا ہونے کے فراق میں ہیں ، ہمارے نام کے ہمدرد اور غم گسا ر ہونے کا ڈرامہ شوق سے کرتے ہیں ، جے ہند اور بھارت ماتا کی جے کا نعرہ بھی دیتے ہیں اور پھر الیکشن بائیکاٹ کا نعرہ بھی الاپتے ہیں ۔ بعض سادہ لوح یا مفاد کے پجاری خود غرض عناصر وقت وقت کی ان ڈفلیوں پہ واری ہوتے ہیں جس کی وجہ سے ریاست عوام بار بار ناکام و نامراد ہو کر سیاسی صحرانوردیوںکی شکار ہوتے رہتے ہیں اور ہزاروں زندگیوں کی قربانی دے کر بھی صفر کے ہندسے آگے نہیں جاتے اور بالآخر کشمیر کاز کو اپنے خون اور پسینہ سے سیراب کر نے کے باوجود سازشی عناصر کے دام ِ ہمرنگ زمین میں پھنس کر رہ جاتے ہیں۔ جب تک ہم اس سیاسی بے بصیرتی اوراستحصالی جادو کے اثرسے نکل باہر نہیں آتے ہم کبھی بھی نہ اپنی اصل منزل کی طرف پیش قدمی کرسکتے ہیں اور نہ آئین ہند کی ان دفعات کا فیض حاصل کر سکتے ہیں ۔ واضح رہے یہ آئینی انتظامات کشمیر مسئلہ حتمی طورحل ہونے تک عبوری دور کے لئے ہمارے لئے لازم وملزوم ہیں۔ 
بہر حال کانگریس اور بھاجپاکی جفاؤں سے فاروق عبداللہ سے زیادہ اور کون واقف ہوسکتا ہے ۔انہوں نے 1996 ء میں وزارت اعلیٰ کا منصب کا حلف اُٹھاتے ہوئے دلی کے ساتھ اپنی غیر مشروط وفاداری پر اپنے گرم گرم آنسوؤں کی مہر تصدیق بھی ثبت کی ، شاید یہ آنسو دلی میڈ گریٹر اٹونومی سنہرے سپنے  دیکھنے سے فاروق کو خاک وخون میں غلطاں کشمیری قوم کے درمیان انتخابی اکھاڑہ سجانے کی خوشی میں بہہ نکلے تھے مگرایک بار فاروق عبداللہ نے اسمبلی میں کافی بحث وتکرار کے بعد باتفاق رائے اٹونامی قرار داد پاس کروائی اور اپنے اُس وقت کے سیاسی حلیف واجپائی جی کے دلی دربار میں بھجوا دی تو وہاں اس قرارداد کو پڑھے بنا ہی ردی کی ٹوکری کی نذر کیا گیا ۔ اُ س سمئے این سی بھیگی بلی بن کر وقت کے سیاسی آقا کے سامنے احتجاج درج کر نے یا بھاجپا حکومت سے چندرا بابو نائیڈو کی طرح لاتعلق ہونے  یااُف تک کہنے کی روادار نہ تھی اور آج ۳۵ ؍ اے کی وکالت میں بڑھ بولی بن بیٹھی ہے ۔ یہ سب سیاسی ڈھکوسلہ نہیںتو اور کیا ہے ؟ کاش ہمارے ان کرم فرماؤں نے عوامی جنگ تو دور کبھی اپنے وقار و غیرت کی جنگ ہی لڑی ہوتی ۔انہیں آج تک مرکز کو خوش رکھنے کے لئے بانڈوں جیسی حرکتیں کر نے ا و ر کاغذی بیانات داغنے کے علاوہ کچھ نہ آیا۔ ہما ری تاریخ اس المیے کی گواہ ہے کہ ریاست کے سارے چیف منسٹر کشمیر میں ہمیشہ دلی کے نمائندے بن کر ہی حکومت کا مزا اُٹھاتے رہے اور دلی کے شکرانے میں ان سب نے اپنی اپنی باری پر۳۷۰ ؍کی درو دیوار میں مرکز کی منشاء کے عین مطابق سیندھ لگانے اور سر نگیں کھودنے میں کوئی مضائقہ نہ سمجھا۔ یہی وجہ ہے کہ آج گورنر ستیہ پال ملک بھی ببانگ دہل اعتراف کرتے ہیں کہ کشمیر کی بد ترین صورت حال کے پس پردہ جہاں دلی کی ’’مس ہینڈلنگ ‘‘ ذمہ دار ٹھہرتی ہے، وہاں این سی ، کانگریس اور پی ڈی پی بھی اس سے بری الذمہ نہیں ٹھہرتیں ۔ پی ڈی پی کا دعویٰ ہے کہ مظفر بیگ اس دفعہ کے دفاع میں سپریم کورٹ میں حاضر تھے اور نیشنل کانفرنس نے اس بات کا ڈھول بجایا کہ ملک کے ایک سرکردہ وکیل مسٹر سبھرا منیم کی خدمات ا س ضمن میں حاصل کی گئی ہیں ۔ افسوس کہ ہر پارٹی نے عدالت عظمیٰ میں یہ کیس پلیڈ کر نے میں وکلاء کی خدمات کا ڈنکا بڑے زور و شور سے بجایا لیکن سابق پردیش کانگریس کے سربراہ سیف الدین سوزؔ واشگاف الفاظ میں سچ کہہ گئے کہ ان سب وکلاء نے اس وقت چپ رہنے کی قسم نہ توڑی جب چُپ کا روزہ رکھنے کی کوئی ضرورت نہ تھی اور جب ان کو بیک زبان سپریم کورٹ میں تمام دفعہ ۳۵؍ الف اور دفعہ ۳۷۰ ؍کے خلاف تمام عرض داشتوں کو خارج کرنے کا مطالبہ کرنا چاہئے تھا ۔ اس طر زعمل سے دوغلے پن کی وہی سڑاند آتی ہے جو ستھر برس لمبے دور پر پھیلے یہاں کی اقتداری سیا ست کا طرہ ٔ امتیا زبنی رہی ہے۔ اس دوغلے پن کی موجودگی میں بھلا اتنا خطرہ آر ایس ایس سے کاہے کو ہمیںنظر آئے جتنا ان اقتداری پارٹیوں کے قول وفعل میں تضاد میں دِکھتا ہے جن کی ساری اُچھل کود اور بیئان بازی کا لیکھا جوکھا یہی ہوتا ہے کہ ہمیں پھر ایک بار مسند نشینی کا موقع دیا جائے ۔ اس قبیل و قماش کے لیڈر نے واجپائی کی آخری رسومات میں دیوانہ وار ’’بھارت ماتا کی جئے‘‘ کا نعرہ بلند کرکے اور واجپائی کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملاتے ہوئے مرکز ی اربابِ اقتدار کو گویاباور کرایا اگر ریاست جموں و کشمیر میں کوئی شخص ہے جو مرکزکا وفادار ہے تو وہ صرف مابدولت ہے،اس لئے لیلائے اقتدار پر صرف میرا حق بنتا ہے۔
 این سی نے سینہ پھلاکر یہ اعلان کیا کہ وہ بلدیاتی اور پنچائتی انتخابات کا بائیکاٹ کرے گی ، ظاہر ہے اس نے یہ موقف اس لئے اختیار کیا تا کہ ۳۵؍A کو نہ چھیڑا جائے ، اسی موقف کی تقلید میں پی ڈی پی نے ان الیکشنوں کا بائیکاٹ کیا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر کل تک یہی پارٹیاں ہر چھوٹے بڑے انتخاب کی کامیابی کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگاتی رہیں، تو آج اچانک ایسا کیا ہواکہ اپنا دیرینہ سٹینڈ بدل دیا ؟  سیاسی بصیرت رکھنے والوں کے لئے یہ کوئی چیستان نہیں کہ گرگٹ کی طرح رنگ بدلنے کی ان اداؤں کو سمجھ پانا کچھ مشکل ہو ، نہیں یہ ٹامک ٹوئیاں سمجھنا بہت آسان ہیں ۔ یہ پارٹیاں دکھاوے کے طور یہ ایک دوسرے کو ایسے کوستی ہیں جیسے یہ خود زم زم سے دُھلے ہوں ۔ دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ کانگریس نے بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے اپنا اصل مکھوٹا پلٹتے ہوئے ان میں شمولیت کی ۔ اس کے مدمقابل بائیکاٹ حامی علاقائی جماعتیں چونکہ گھاٹ گھاٹ کا پانی پی چکی ہیں اور جانتی ہیں کہ ان کے لئے الیکشن میں لوگوں کو رجھانے کے لئے اس وقت کوئی چیز ہاتھ میں ہی ہے نہیں ،اس لئے کیوں نہ اپنی دوغلی سیاست کا بھرم رکھتے ہوئے ۳۵ ؍A کو اپنی دوکان کی متاع وسرمایہ بناکر معصوم عن الخطاء ہونے کا سوانگ کیا جائے۔ یہ الگ بات ہے کشمیر میں ۸ ؍ اکتوبر کوبلدیاتی الیکشن کے پہلے مرحلے پر عوامی عدم شرکت کی وہ تصویر سامنے آئی جو بزبان حال بتاتی ہے کہ دلی نے کشمیر میں بلدیاتی انتخابات کرواکے کوئی تیر نہیں مارا بلکہ صرف ایک غلط موقع پر اپنی غیر معقول وغیر متوازن کشمیر پالیسی کا مظاہرہ کیا ۔ اگر بالفرض اس نے ایک اور کام یہ کیا کہ دفعہ ۳۵؍ الف کے ساتھ کوئی چھوٹی بڑی چھیڑ خوانی کی تو یہ اس کے لئے خسارے کا سب سے بڑا سودا ثابت ہوگا ۔اسی اندیشے کے پیش نظر سیاسی بلوغیت سے کام لیتے ہوئے گورنر ستیہ پال ملک نے ایک منتخبہ حکومت تک مذکورہ دفعہ پر عد التی جرح وتعدیل کو موخر کرا نے کا موقف اپنایا ہواہے۔ 
 rashid.parveen48@gmail.com
9419514537

تازہ ترین